فہرست مجددین اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام میں تجدید اور مجدد کی اصطلاح اس حدیث نبوی کی بنا پر سامنے آئی جس میں پیغمبر اسلام نے کہا تھا کہ "اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی میں ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس امت کے لیے اللہ کے دین کی تجدید کرے گا"۔ تجدید سے مراد یہ ہے کہ دین کو اس حالت میں لوٹا دینا جس حالت میں وہ عہد نبوی میں تھا۔ اس عہد میں اسلام ہر لحاظ سے کامل و مکمل اور خالص و مُخلَص تھا، پھر اس میں کچھ نقائص اور بدعات داخل ہونے لگیں، چنانچہ ان مجددین نے اسلام کو ان تمام نقائص و بدعات سے پاک کرکے اسے حقیقی شکل میں پیش کیا۔ نیز تجدید کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تجدید صرف علم کے احیا کا نام ہے یعنی علم کی نئی نئی پرتوں کو کھولنا اور ظاہر کرنا۔ چنانچہ احمد بن حنبل کی بعض روایتوں میں مذکورہ بالا حدیث تجدید میں "تعلیم الدین" کا لفظ بھی ملتا ہے۔

تجدید کے متعلق علما کے بہت سے اقوال و نظریات ہیں جو احادیث کی کتابوں اور ان کی شروحات اور تراجم و طبقات کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ابن حجر عسقلانی نے تو اس موضوع پر مستقل ایک کتاب تالیف کی ہے لیکن وہ اب مفقود ہے۔ جلال الدین سیوطی کی بھی اس موضوع پر ایک عربی کتاب "التنبئہ بمن يبعثہ اللہ على رأس كل مائة" نام سے ملتی ہے۔ چونکہ تجدید کی اصطلاح، حدیث نبوی سے اخذ کی گئی ہے اس لیے حدیث کی جن کتابوں میں مذکورہ حدیث موجود ہے وہاں تجدید کے تعلق سے علما کی بہت سی آراء کو ذکر کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں سنن ابی داؤد اور اس کی شروحات، ابن اثیر جزری کی کتاب "جامع الاصول فی احادیث الرسول" اور سیوطی کی "الجامع الصغیر" وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس موضوع کا دوسرا میدان اس تعلق سے علما کے افکار و نظریات ہیں جو تراجم و طبقات کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں، مثلاً ابن عساکر کی کتاب "تبیین کذب المفتری فیما نسب الی الامام ابی الحسن الاشعری"، تاج الدین سبکی کی "طبقات الشافعیۃ الکبریٰ"، ابن حجر عسقلانی کی "توالی التاسیس بمعالی ابن ادریس" جو امام شافعی کی حیات پر لکھی گئی ہے اور زین الدین عراقی نے بھی غزالی کی شہرہ آفاق کتاب "احیاء علوم الدین" کی احادیث کی تخریج میں اس موضوع پر مبسوط بحث کی ہے۔ اس کے علاوہ بعض علما نے اس موضوع پر اپنی کتابوں میں مختصر گفتگو کی ہے، مثلاً ابن کثیر نے اپنی کتاب "شمائل الرسول و دلائل النبوۃ" میں مختصراً چند سطروں میں لکھا ہے۔

تجدید و مجدد کے مسئلہ سے مسلمان علما کی دلچسپی بہت پہلے سے رہی ہے، مراجع و مصادر کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ابن شہاب زہری ہیں جنھوں نے پہلی صدی کے مجدد کے بارے میں اپنی رائے پیش کی اور ان کی رائے بہت مشہور ہوئی۔ ان کے بعد احمد بن حنبل کا نام آتا ہے جنھوں نے پہلی اور دوسری صدی کے مجددین کو بیان کیا۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ تیسری صدی ہجری میں فقیہ ابوالعباس ابن سریج کی مجلس میں حدیثِ تجدید سنائی گئی، چنانچہ حاضرین میں سے ایک عالم کھڑے ہوئے اور انھوں نے چند اشعار سنائے جس میں پہلی اور دوسری صدی کے مجددین کا نام شامل تھا اور تیسرے نمبر پر ابن سریج کا نام تھا اور یہی معاملہ حاکم نیشاپوری کی مجلس میں چوتھی صدی میں بھی پیش آیا جہاں انھیں چوتھی صدی کا مجدد شمار کیا گیا۔ تاج الدین سبکی نے اپنی کتاب "طبقات الشافعیۃ" میں بیس اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ لکھا ہے جس میں مجددین کے ناموں کو شمار کرایا گیا ہے۔ اسی طرح سیوطی نے بھی اٹھائیس اشعار پر مشتمل ایک کتابچہ تحریر کیا ہے جس کا نام ہے "تحفۃ المھتدین باخبار المجددین"۔

مجدد[ترمیم]

ہر صدی کے مجددین کی تعیین میں علمائے اسلام کا اختلاف رہا ہے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں: «ہر قوم کا یہی دعوی ہے کہ مذکورہ حدیث سے مراد ان کے پیشوا اور امام ہیں جبکہ حدیث کے ظاہری معنی ہر طبقہ کے علماء اور حاملینِ علم کے لیے عام ہیں، چنانچہ اس حدیث کے مفہوم میں مفسرین، محدثین، فقہا، نحوی، لغوی وغیرہ سبھی داخل ہوں گے۔» احمد بن حنبل نے یقین کے ساتھ بیان کیا ہے کہ پہلی دو صدی کے مجدد عمر بن عبد العزیز اور شافعی ہیں، اس کے بعد علما نے مجدد کے اوصاف و شرائط میں مزید اضافہ سے ہی کام لیا، تاکہ ہر کسی کو یہ نہ کہا جائے کہ فلاں مجدد ہے۔ عبد المتعال صعیدی کی کتاب "المجددون فی الاسلام" میں یہی لکھا ہے، چنانچہ صعیدی نے بسطامی کی رائے کے مطابق بہت سے ایسے ناموں کو شمار کیا ہے جو مجدد کے مرتبہ پر نہیں ہیں۔

مجدد کی شرطیں[ترمیم]

  • علمی کمال و مہارت، علوم میں راسخ و ماہر ہو، یعنی زیادہ سے زیادہ علوم پر مہارت اور قدرت کے ساتھ ساتھ ان علوم کے نقد و تبصرہ پر بھی قادر ہو۔ بعض علما کے مطابق مجدد کا صرف عالم یا فقیہ ہونا کافی نہیں بلکہ مجتہد ہونا بھی ضروری ہے۔
  • مجدد ان تمام کاموں کو بخوبی انجام دے سکے جو تجدید میں داخل ہیں، ان میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ مجدد اسلام کو تمام انحرافات اور اس کی اصل میں داخل ہوئے تمام شکوک و شبہات کا ازالہ کر کے اصل کتاب و سنت سے بحال کر دے، علما نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجدد «سنت کو عام کرنے والا اور بدعت کو مٹانے والا» ہو۔
  • نیز یہ کہ مجدد کا علم اور اس کا نفع اس زمانہ میں عام ہو، اس کی تالیفات و تصنیفات مشہور ہوں اور اس کی اصلاحی کوششوں کا اثر ظاہر ہو، کسی مجدد کی تاثیر کو پہچاننے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اس کے بعد اس کے شاگردوں کے ذریعہ شائع ہونے والی آرا و افکار اور ان کے ذریعہ عام کیے گئے تصنیفی و اصلاحی کاموں کو دیکھا جائے، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ مجدد کے مرتے ہی اس کی تاثیر بھی ختم نہ ہو جائے۔

نیز شبلی نعمانی نے مزید شرطیں بھی بیان کی ہیں جو حسب ذیل ہیں:

  • مذہب، علم یا سیاست میں کوئی مفید انقلاب برپا کرے۔
  • جو خیال اس کے دل میں آیا ہو وہ کسی کی تقلید سے نہ آیا ہو، بلکہ اجتہادی ہو۔
  • جسمانی مصیبتیں اٹھائی ہوں، جان پر کھیلا ہو، سرفروشی کی ہو۔[1]

سیوطی نے اپنے عربی شعری مجموعہ میں مجدد کے شرائط کے متعلق علما کے اقوال کو جمع کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

مجدد کی شرط ہے کہ ایک صدی گزر جائے اور مجدد لوگوں کے درمیان موثر ہو۔ اس کا علم اور مقام و مرتبہ معروف و مسلّم ہو اور وہ اپنی باتوں سے سنت کو عام کرتا ہو۔ ہر فن میں اسے مہارت حاصل ہو، اور اس کا علم زمانہ والوں پر عام ہو۔ ایک حدیث میں یہ بھی مروی ہے کہ وہ اہل بیت رسول سے ہو۔ مجدد ایک صدی میں ایک ہی ہوتا ہے۔ یہی جمہور اور حدیث کی مراد ہے۔

ایک صدی میں کئی مجددین[ترمیم]

مجددین کے ناموں کی تعیین میں اختلاف کے ساتھ ساتھ بعض علما کی یہ بھی رائے ہے کہ ایک صدی میں کئی مجدد نہیں ہو سکتے صرف ایک مجدد ہوتا ہے، ہاں اس صدی کے مجدد کی تعیین میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ سیوطی نے اس رائے کو اپنے منظوم مجموعہ میں جمہور کی طرف منسوب کیا ہے۔ سیوطی نے ایک بات بہت زور دے کر کہی ہے کہ مجدد آل بیت میں سے ہوتا ہے اور وہ اس صدی میں اکیلا مجدد ہوتا ہے، حالانکہ خود سیوطی نے جن مجددین کے ناموں کو اپنے مجموعہ میں شمار کرایا ہے وہ تمام آل بیت سے نہیں ہیں اور سبکی نے تو دوسری صدی کے بعد کے تمام مجددین کے ناموں کو شافعی مسلک کے پیروکاروں میں سے شمار کرایا ہے، مگر ان کی رائے کی مواقفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

دوسری رائے یہ ہے کہ ایک ہی زمانے میں مجدد ایک یا ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں، یہ رائے ابن اثیر جزری، شمس الدین ذہبی، ابن کثیر اور ابن حجر عسقلانی کی ہے۔

جزری کا کہنا ہے کہ عام طور سے دینی معاملات میں امت نے دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ فقہا سے بھی خوب فائدہ اٹھایا ہے، مثلا دین کی حفاظت اور اس کو نافذ کرنے اور عدل و انصاف کو قائم کرنے میں حکام سے، احادیث (جو ادلۂ شرعیہ کا ایک اہم جز ہے) کی حفاظت کرنے میں محدثین اور اصحاب حدیث سے اور قرآت اور اس کی روایات کو محفوظ کرنے میں قراء سے، اسی طرح عابدین، زاہدین، صوفیا اور واعظین وغیرہ سے بھی امت کو خوب نفع ہوا ہے۔ جزری نے مجددین کی فہرست میں بعض اہل تشیع کے ائمہ کو بھی شامل فرمایا ہے، لیکن شمس الحق عظیم آبادی نے ابن اثیر کی اس رائے پر نکیر کی ہے۔

محمد رشید رضا مصری نے اپنی کتاب "موسوعۃ اعلام المجددین فی الاسلام" میں ان مجددین کو بھی شمار کرایا ہے جن کا تجدیدی کارنامہ صرف کسی علاقہ یا کسی قوم تک محدود رہا ہو، بلکہ انہوں نے جنگ میں تجدیدی کارنامہ انجام دینے والے مجددین کو بھی شامل کیا ہے، اسی طرح دیگر میدانوں یا شعبوں میں تجدید کرنے والوں کو بھی اپنی کتاب میں شمار کیا ہے۔

مجددین کی فہرست[ترمیم]

مندرجہ ذیل جدول میں مجددین اسلام کی فہرست ہے، جس میں ہجری صدیوں کے مطابق ناموں کو ترتیب وار لکھا گیا ہے۔ پہلے خانہ میں مجدد کا نام، دوسرے خانہ میں ولادت و وفات کی تاریخ اور پھر تیسرے نوٹ یا کیفیت کے خانہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس نے اس کو مجدد شمار کیا ہے اور تجدید کی کون سی صفت (مثلا: فقیہ، حاکم، زاہد، محدث، قاری وغیرہ) اس میں پائی جاتی ہے۔

فہرست میں موجود مجددین کے نام بعض مراجع و مصادر کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ فہرست کا پہلا ماخذ ابن اثیر کی کتاب "جامع الاصول" اور سیوطی کی کتاب "التنبئۃ بمن یبعثه اللہ علی رأس کل مائۃ" ہے۔ اسی طرح شمس الدین الذہبی کی کتاب "سیر اعلام النبلاء" کے بعض متفرقات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ نیز شمس الحق عظیم آبادی کی کتاب "عون المعبود علی سنن ابی داؤد"، محمد ابن حسن حجوی ثعالبی کی کتاب " کتاب الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی" سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جس میں انھوں نے اپنی رائے سے بعض مجددین کے ناموں کو شامل کیا ہے اور علما سے نقل بھی کیا ہے۔ علاوہ بریں کچھ ناموں کو محمد بن فضل اللہ محبی نے اپنی کتاب "خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر" میں شمار کیا ہے اور بعض علما سے بھی نقل کیا ہے اور تین نام محمد رشید رضا کی تفسیر المنار سے شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ بقیہ ناموں کو دوسری کتابوں سے نقل کیا گیا ہے۔

جدول[ترمیم]

نام زندگی ملاحظات حوالہ جات
پہلی صدی کے مجددین
عمر بن عبد العزیز (61ھ - 101ھ) تمام علما اور مؤرخین اس پر متفق ہیں کہ کہ یہ پہلی صدی کے مجدد تھے۔

صفت تجدید:- خلیفہ۔

[2][3][4]
حسن بصری (21ھ - 110ھ) شمس الدین الذہبی، ابن اثیر جزری اور شمس الحق عظیم آبادی نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[5][3][4]
ابن شہاب زہری (28ھ - 124ھ) ابن اثیر جزری اور شمس الحق عظيم آبادي نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- محدث

[5][3]
القاسم بن محمد (36ھ أو38ھ - 106ھ أو108ھ) ابن اثیر جزری، شمس الدین الذہبی اور شمس الحق عظيم آبادي نے، پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[5][3][4]
سالم بن عبد اللہ (توفي في سنة 106ھ) ابن اثیر جزری اور شمس الحق عظيم آبادي نے، پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[5][3]
محمد بن سیرین (33ھ - 110ھ) ابن اثیر جزری، شمس الدین الذہبی اور شمس الحق عظيم آبادي نے، پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[5][3][4]
محمد باقر (56ھ - 114ھ) ابن اثیر جزری اور شمس الحق عظيم آبادي نے، پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[5][3]
عبد اللہ بن زيد جرمی بصری (توفي في سنة 106ھ أو107ھ) شمس الدین ذہبی نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- محدث

[4]
مجاہد بن جبر (21ھ - 104ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[3]
عکرمہ بربری (توفي في سنة 105ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[3]
عطاء بن ابی رباح (توفي في سنة 115ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[3]
طاؤس بن کیسان (توفي في سنة 106ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[3]
مکحول شامي (توفي في سنة 112ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[3]
عامر بن شراحيل شعبی (21ھ - 100ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- فقیہ

[3]
ابن کثیر مکی (45ھ - 120ھ) ابن اثیر جزری نے انھیں پہلی صدی کے مجددین میں شمار کیا ہے۔

صفت تجدید:- قاری

[3]
ابوبکر صدیق (توفي في سنة 13ھ) محمد الطاهر بن عاشور نے انھیں پہلی صدی کا مجدد قرار دیا ہے۔

صفت تجدید خلیفہ اور ارتداد کا مقابلہ، اسلامی فتوحات وغیرہ بھی شامل ہیں۔

[6]
مجدد القرن الثاني
عد ابو الاعلی مودودی جميع ائمہ اربعہ: ابو حنیفہ ومالک بن انس ومحمد بن ادریس شافعی واحمد بن حنبل، مجددين بداية من القرن الثاني الهجري إلى القرن الرابع الهجري، بوصفهم الأئمة الذين تنتمي إليهم مذاهب الفقه الأربعة في المسلمين.[7] وقد عد محمد الطاهر بن عاشور مالک بن انس مجدداً أيضاً.[6]
محمد بن ادریس شافعی (150ھ - 204ھ) يُجمع كل العلماء والمؤرخين إجماعاً تاماً أنه المجدد الثاني بصفته أحد الفقهاء. [5][3][4][8]
احمد بن حنبل (164ھ - 241ھ) عده ابن اثیر جزری من أحد المجددين الفقهاء وذكر أنه لم يكن مشهوراً في ذلك الوقت. [3][9]
یحییٰ بن معین (158ھ - 233ھ) عده ابن اثیر جزری وشمس الدین الذہبی من المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد المحدثين. [3][4]
يزيد بن هارون (118ھ - 206ھ) عدَّهُ محمد شمس الدين الذهبي أحد المجددين على رأس المائة الثانية. [4]
ابوداؤد طیالسی (133ھ - 204ھ) عدَّهُ محمد شمس الدين الذهبي أحد المجددين على رأس المائة الثانية. [4]
أشهب الفقيه (140ھ - 204ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری ومحمد شمس الدين الذهبي أحد المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد الفقهاء المالكيين. [3][4]
مامون الرشید (170ھ - 218ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد أُولي الأمر. [3]
حسن بن زیاد (توفي في سنة 204ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد الفقهاء الحنفيين. [3]
علی رضا (148ھ - 203ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد الفقهاء. [3]
یعقوب بن اسحاق الحضرمی (توفي في سنة 205ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد القراء. [3]
معروف کرخی (توفي في سنة 200ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثانية بصفته أحد الزهاد. [3]
مجدد القرن الثالث
احمد بن شعیب النسائی (215ھ - 303ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری وشمس الدین الذہبی وشمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد المحدثين. [5][3][4]
ابن سريج (توفي في سنة 303ھ) يُجمع كل والمؤرخين أنه المجدد الثالث إلى جانب الأشعري بصفته أحد الفقهاء الشافعيين. [3][4][10]
ابو الحسن اشعری (260ھ - 324ھ) يُجمع كل والمؤرخين أنه المجدد الثالث إلى جانب ابن سريج، وقد ذكره ابن اثیر جزری مجدداً بصفته أحد المتكلمين. وجعله محمد الطاهر بن عاشور مجدد القرن الرابع لعمله في تجديد علم کلام. [3][6][11]
ابو منصور ماتریدی (توفي في سنة 333ھ) عدَّهُ عبد المجيد بن طه الدهيبي الزعبي من المجددين لعمله على جمع مسائل التوحيد والعقيدة. [12]
ابو جعفر طحاوی (239ھ - 321ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب أبو حنيفة. [3]
الحسن بن سفيان (توفي في سنة 303ھ) عدَّهُ محمد شمس الدين الذهبي أحد المجددين على رأس المائة الثالثة. [4]
المقتدر باللہ (282ھ - 320ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد أُولي الأمر. [3]
أبو بكر الخلال (235ھ - 311ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب احمد بن حنبل. [3]
أحمد بن موسى (245ھ - 324ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد القُرَّاء. [3]
أبو نعيم الأستراباذي (242ھ - 323ھ) عدَّهُ أبو سهل الصعلوكي أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد الفقهاء. [13]
محمد بن يعقوب الرازي (توفي في سنة 329ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الثالثة بصفته أحد فقهاء امامت (اہل تشیع). [3]
ابن أبي زيد القيرواني (310ھ - 386ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين بصفته أحد الفقهاء. [14]
ابن أبي زَمَنِين (324ھ - 399ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين بصفته أحد الفقهاء. [15]
محمد بن اسماعیل بخاری (194ھ - 256ھ) عدَّهُ محمد الطاهر بن عاشور مجدد القرن الثالث بصفته أحد علما الحديث. [6]
مجدد القرن الرابع
الحاكم النيسابوري (321ھ - 403ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد المحدثين. [16]
أبو بكر الباقلاني (338ھ - 402ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری وجلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد المتكلمين. [3][17]
أبو بكر بن فورك (330ھ - 406ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد المتكلمين. [16]
أبو حامد الإسفرايني (344ھ - 406ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری وجلال الدین سیوطی كأحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب محمد بن ادریس شافعی. [3][17]
سهل (توفي في سنة 404ھ) عدَّهُ جلال الدین سیوطی ورجحه الذهبي أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الفقهاء. [17][18]
ابن حزم اندلسی (384ھ - 456ھ) عدَّهُ محمد رشید رضا أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد الفقهاء والأصوليين. [19]
أبو إسحاق الشيرازي (393ھ - 476ھ) عدَّهُ زين الدين العراقي أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الفقهاء. [20]
امام الحرمین جوینی (419ھ - 478ھ) عدَّهُ عبد السلام بن محمد بن عبد الكريم أحد المجددين بصفته أحد الفقهاء. [21]
القادر باللہ (336ھ - 422 هـ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد أُولي الأمر. [16]
الخوارزمي (توفي في سنة 403ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب أبي حنيفة. [16][22]
عبد الغني بن سعيد (332ھ - 409ھ) عدَّهُ شمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الحفاظ. [5]
القاضي عبد الوهاب (362ھ - 422 هـ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب مالك. [16]
ابن حامد الحنبلي (توفي في سنة 403ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب أحمد. [16]
الحمامي (328ھ - 417ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد القُرَّاء. [16]
الدينوري - عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته أحد الزُهاد. [16]
عبد الله بن محمد الهواري (توفي في سنة 401ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين بصفته أحد القضاة والزهاد. [23]
المرتضى الموسوي (355ھ - 436ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الرابعة بصفته فقهاء الإمامية. [16]
عبد الله بن ياسين الجزولي (توفي في سنة 451ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين ووصفه أنه مجدد الإسلام في إفريقيا الشمالية. [24]
مجدد القرن الخامس
امام غزالی (450ھ - 505ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری وجلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب محمد بن ادریس شافعی. [17][25]
صلاح الدین ایوبی (532ھ - 589ھ) عدَّهُ محمد رشید رضا من المجددين، وعدَّهُ عبد المجيد بن طه الدهيبي الزعبي من المجددين. [12][26]
المستظهر بالله (470ھ - 512ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد أُولي الأمر. [25]
المسترشد بالله (485ھ - 529ھ) عدَّهُ أبو الحسن علي بن المسلم السُّلمي أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد أُولي الأمر. [27]
أبو طاهر السلفي (478ھ - 576ھ) عدَّهُ زين الدين العراقي أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد المحدثين. [20]
ابو الفرج ابن جوزی (508ھ - 597ھ) عدَّهُ فؤاد عبد المنعم من المجددين في مقدمة كتاب (لفتة الكبد إلى نصيحة الولد). [28]
شیخ عبد القادر جيلانی (471ھ - 561ھ) عدَّهُ جمال الدین فالح کیلانی من المجددين في كتابه جغرافية الباز الأشهب. [12]
شیخ احمد الرفاعی (512ھ - 578ھ) عدَّهُ جمال الدین فالح کیلانی وزياد حمد الصميدعي في كتابهم (الإمام أحمد الرفاعي المصلح المجدد)، وعدَّهُ كذلك عبد المجيد بن طه الدهيبي الزعبي من المجددين. [12][29]
المروزي (توفي في سنة 512ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب أبي حنيفة. [25]
أبو الحسن الزاغوني (455ھ - 527ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد الفقهاء من أصحاب احمد بن حنبل. [25]
رزين بن معاوية (توفي في سنة 535ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد المحدثين. [25]
أبو العز القلانسي (435ھ - 521ھ) عدَّهُ ابن اثیر جزری أحد المجددين على رأس المائة الخامسة بصفته أحد القراء. [25]
محمود غزنوی (360ھ - 421ھ) جعله محمد الطاهر بن عاشور مجدد القرن الخامس بفتحه بھارت وبسط نفوذ اسلام بها. [6]
مجدد القرن السادس
فخرالدین رازی (544ھ - 606ھ) عدَّهُ جلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة السادسة بصفته أحد الفقهاء. [30]
أبو القاسم الرافعي (555ھ - 623ھ) عدَّهُ جلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة السادسة بصفته أحد الفقهاء. [30]
ابن حاجب (570ھ - 646ھ) عدَّهُ سامح كُريِّم من المجددين في كتابه (أعلام التاريخ الإسلامي في مصر). [31]
عبد الغني المقدسي (541ھ - 600ھ) عدَّهُ شمس الدین الذہبی أحد المجددين على رأس المائة السادسة بصفته أحد علما الحديث. [4]
العز بن عبد السلام (577ھ - 660ھ) عدَّهُ عبد السلام بن محمد بن عبد الكريم أحد المجددين بصفته أحد الفقهاء. [32]
محيي الدين النووي (631ھ - 676ھ) عدَّهُ زين الدين العراقي أحد المجددين على رأس السادسة الخامسة بصفته أحد المحدثين. [20]
زمخشری (467ھ - 538ھ) لم يستبعد محمد الطاهر بن عاشور أن يكون الزمخشري مجدد القرن السادس. [33]
مجدد القرن السابع
ابن دقیق العید (625ھ - 702ھ) عدَّهُ شمس الدین الذہبی وجلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة السابعة بصفته أحد الفقهاء. [30]
ابن عطاء الله السكندري (658ھ - 709ھ) عدَّهُ محي الدين الطعمي في كتابه (طبقات الشاذلية الكبرى). [34]
السلطان إسماعيل فرج (677ھ - 725ھ) عدَّهُ محمد الطاهر بن عاشور من المجددين. [33]
ابن تیمیہ (661ھ - 728ھ) عدَّهُ محمد رشید رضا أحد المجددين على رأس المائة السابعة بصفته أحد الفقهاء. [35]
ابن قیم الجوزیہ (691ھ - 751ھ) عدَّهُ محمد رشید رضا أحد المجددين على رأس المائة السابعة بصفته أحد الفقهاء. [35]
جمال الدين الإسنوي (707ھ - 772ھ) عدَّهُ زين الدين العراقي أحد المجددين على رأس المائة الثامنة بصفته أحد الفقهاء. [20]
أبو إسحاق الشاطبي (توفي في سنة 790ھ) عدَّهُ عبد السلام بن محمد بن عبد الكريم أحد المجددين بصفته أحد الفقهاء. [36]
مجدد القرن الثامن
سراج الدین بلقینی (724ھ - 805ھ) عدَّهُ جلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة الثامنة بصفته أحد الحفاظ. [37][38]
الحافظ زين الدين العراقي (725ھ - 806ھ) عدَّهُ جلال الدین سیوطی أحد المجددين على رأس المائة الثامنة بصفته أحد الحفاظ. [37]
ابن خلدون (732ھ - 808ھ) عدَّهُ علي عبد الواحد وافي من المجددين في كتابه (عبقريات ابن خلدون). [39]
محمد ثانی (835ھ - 885ھ) عدَّهُ عبد المجيد بن طه الدهيبي الزعبي من المجددين. [12]
محمد بن يوسف السنوسي (832ھ - 895ھ) عدَّهُ الدكتور حفناوي بعلي من المجددين في مقال له بعنوان "العلامة ابن يوسف السنوسي التلمساني: خاتمة المحققين وعمدة المجددين". [40][41]
مجدد القرن التاسع
جلال الدین سیوطی (849ھ - 911ھ) عدَّ نفسه أحد المجددين على رأس المائة التاسعة. [37]
زكريا الأنصاري (823ھ - 926ھ) عدَّه عبد القادر العيدروس وعبد الله بن عمر مخرمه (ت 972ھ) أحد المجددين على رأس المائة التاسعة بصفته أحد الفقهاء. [42][43]
محمد بن غازي المكناسي (841ھ - 919ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين بوصفه عالماً ومقاوماً للاحتلال الأجنبي. [44]
طاش كبري زاده (901ھ - 968ھ) اعتبره عليان الجالودي ورائد عكاشة وفتحي ملكاوي وماجد أبو غزالة في كتاب (التحولات الفكرية في العالم الإسلامي) من أبرز العلماء المجددين في سلطنت عثمانیہ، بصفته أحد المؤرخين. [45]
سلیمان اول (900 هـ - 974ھ) عدَّه ابن العماد الحنبلي صاحب كتاب "شذرات الذهب في أخبار من ذهب" أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد أُولي الأمر. [46]
مجدد القرن العاشر
شمس الدين الرملي (919ھ - 1004ھ) عدَّه محمد بن فضل الله المحبي ومحمد بن أبي بكر الشلِّي (ت: 1093ھ) وشمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد الفقهاء. [5][47][48]
ملا علی قاری (توفي في سنة 1014ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين على رأس الألف بصفته أحد الفقهاء. [49]
مجدد الف ثانی (971ھ - 1034ھ) عدَّهُ ابو الاعلی مودودی والنبهاني أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد المصلحين. [50][51]
أحمد المنصور الذهبي (956ھ - 1012ھ) عدَّهُ أبو عبد الله محمد القصار مفتي فاس أحد المجددين، بوصفه أحد الحكام. [52]
علي بن مطير (950ھ - 1041ھ)[53] عدَّهُ الجمال محمد بن عبد السلام النزيلي أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد الفقهاء. [54]
عبد الملك بن دعسين (952ھ - 1006ھ)[55] عدَّهُ عبد القادر بن شيخ أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد الفقهاء. [54]
محمد البهنسي - عدَّهُ عبد القادر بن شيخ أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد الفقهاء. [54]
محمد بن محمود الونكري (بَغْيُع التنبكتي) (930ھ - 1002ھ)[56] عدَّهُ أحمد بابا السوداني أحد المجددين على رأس المائة العاشرة بصفته أحد الفقهاء المالكيين، ونقل عبد اللہ بن صدیق الغماری ذلك أيضاً. [57][58]
عيسى بن عبد الرحمن السكتاني (توفي في سنة 1062ھ) عده تلميذه محمد بن محمد بن سليمان أحد المجددين ونقل محمد بن فضل الله المحبي ذلك، بوصفه أحد الفقهاء. [59][60]
مجدد القرن الحادي عشر
إبراهيم الكوراني (1025ھ - 1101ھ) عدَّه شمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الحادية عشرة. [5]
عبد الله بن علوي الحداد (1044ھ - 1132ھ) عدَّهُ الدكتور مصطفى حسن البدوي من المجددين في كتابه (الإمام الحداد: مجدد القرن الثاني عشر الهجري). [61][62]
محمد بن عبد الباقي الزرقاني (1055ھ - 1122ھ) عدَّهُ الشهاب المرجاني من مجددي المائة الحادية عشر من المالکی. [63]
شاہ ولی اللہ (1114ھ - 1176ھ) عدَّهُ ابو الاعلی مودودی أحد المجددين بصفته أحد المصلحين. [64][65]
الحسن اليوسي (1040ھ - 1102ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين على رأس المائة الحادية عشرة بصفته أحد الفقهاء. [66]
محمد بن إسماعيل الصنعاني (1099ھ - 1182ھ) عدَّهُ ابنه إبراهيم بن محمد الصنعاني أحد المجددين على رأس المائة الثانية عشرة. [67]
مجدد القرن الثاني عشر
سید مرتضی زبیدی (1145ھ - 1205ھ) عدَّهُ شمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الثانية عشرة. [5][68][69]
محمد بن عبد الوہاب (1115ھ - 1206ھ) عده محمد رشید رضا وصالح الفوزان مجدداً على رأس المائة الثانية عشرة بصفته أحد الفقهاء والمصلحين. [35][70]
صالح بن محمد الفلاني (1166ھ - 1218ھ) عدَّهُ شمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الثانية عشرة. [5]
احمد بن عجیبہ (1160ء1224ھ) عدَّهُ حسن عزوزي ومصطفى الحكيم من المجددين. [71][72]
عثمان دان فودیو (1169ھ - 1232ھ) يعده علما بلاد السودان أحد المجددين بصفته أحد الدعاة والمصلحين. [73][74][75][76]
عد ابو الاعلی مودودی: إسماعيل الدهلوي وأحمد البربلوي مجددان بجانب بعضهما البعض بصفتهما مصلحين ومجاهدين، واعتبر المودودي عملهما التجديدي تتمة لعمل شاہ ولی اللہ التجديدي.[77]
الشوكاني (1173ھ - 1255ھ) عدَّهُ عبد الرحمن بن يحيى الآنسي الصنعاني ومحمد رشید رضا أحد المجددين على رأس المائة الثانية عشر. [19][78]
حسن العطار (1180ھ - 1250ھ) عدَّهُ محمود حمدي زقزوق من المجددين في كتابه (الفكر الديني وقضايا العصر). [79]
رفاعة الطهطاوي (1216ھ - 1290ھ) عدَّهُ محمود حمدي زقزوق من المجددين في كتابه (الفكر الديني وقضايا العصر). [79]
مجدد القرن الثالث عشر
نذير حسين الدهلوي (1220ھ - 1320ھ) عدَّهُ شمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الثالثة عشرة. [5]
حسين الأنصاري (1225ھ - 1327ھ) عدَّهُ شمس الحق عظیم آبادی أحد المجددين على رأس المائة الثالثة عشرة. [5]
صديق حسن خان (1248ھ - 1307ھ) عدَّهُ شمس الحق عظیم آبادی ومحمد رشید رضا أحد المجددين على رأس المائة الثالثة عشرة. [5][35]
أبو عبد الله محمد بن المدني جنون (توفي في سنة 1302ھ) عدَّهُ محمد بن الحسن الثعالبي أحد المجددين بوصفه أحد الفقهاء. [80]
محمد عبده (1266ھ - 1323ھ) عدَّهُ محمد رشید رضا وعباس محمود العقاد أحد المجددين. [81][82]
عبد الرحمن الكواكبي (1270ھ - 1319ھ) عدَّهُ محمد عمارة في كتابه من المجددين. [83]
بدیع الزماں (1293ھ - 1379ھ) عدَّهُ أحمد خالد شكري من المجددين. [84][85]
محمد ماضي أبو العزائم (1286ھ - 1356ھ) عدَّهُ فوزي محمد أبو زيد من المجددين. [86]
محمد اقبال (1294ھ - 1357ھ) عدَّهُ توفيق الحكيم ومحمود حمدي زقزوق من المجددين. [79][87]
محمد زاهد الكوثري (1296ھ - 1371ھ) عدَّهُ محمد أبو زهرة من المجددين. [88][89]
محمد الطاهر بن عاشور (1296ھ - 1393ھ) عدَّهُ فتحي حسن ملكاوي من المجددين في كتابه (الشيخ محمد الطاهر ابن عاشور وقضايا الإصلاح والتجديد). [90][91]
محمد مصطفى المراغي (1298ھ - 1364ھ) عدَّهُ محمود حمدي زقزوق من المجددين. [79]
مصطفى عبد الرازق (1304ھ - 1366ھ) اعتبره محمد السني في كتابه (الثورة وبريق الحرية) مجدد للفلسفة الإسلامية في العصر الحديث. [92]
عباس محمود العقاد (1306ھ - 1383ھ) عدَّهُ فؤاد صالح السيد في كتابه (أعظم الأحداث المعاصرة) من المجددين في عربی شاعری، ومن أئمة المجددين في كتابة التراجم والسير. [93]
محمود شلتوت (1310ھ - 1383ھ) عدَّهُ محمود حمدي زقزوق ومحمد رجب البيومي من المجددين. [79][94]
محمد أبو زهرة (1315ھ - 1394ھ) عدَّهُ خالد فهمي إبراهيم وأبوالحسن الجمّال من المجددين في كتابهما (مآذن من بشر... أعلام معاصرون). [95]
مالك بن نبي (1323ھ - 1393ھ) عدَّهُ محمود حمدي زقزوق من المجددين. [79]
عبد الحليم محمود (1328ھ - 1397ھ) عدَّهُ محمد حلمي خالد من المجددين. [96]
مجدد القرن الرابع عشر
شیخ محمد غزالی سقا (1335ھ - 1416ھ) عدَّهُ لمعي المطيعي وثروت الخرباوي من المجددين. [97][98]
محمد متولي الشعراوي (1329ھ - 1419ھ) عدَّهُ أحمد عمر هاشم أحد المجددين. [99][100]
محمد ناصر الدین البانی (1333ھ -1420ھ) عدَّهُ عبد العزيز بن عبد الله ابن باز أحد المجددين. [101]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقالات شبلی جلد پنجم، شبلی نعمانی، مطبع معارف اعظم گڑھ
  2. Empty citation (معاونت)
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و Empty citation (معاونت)
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ Empty citation (معاونت)
  5. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز Empty citation (معاونت)
  6. ^ ا ب پ ت ٹ Empty citation (معاونت)
  7. Empty citation (معاونت)
  8. Empty citation (معاونت)
  9. Empty citation (معاونت)
  10. Empty citation (معاونت)
  11. Empty citation (معاونت)
  12. ^ ا ب پ ت ٹ Empty citation (معاونت)
  13. Empty citation (معاونت)
  14. Empty citation (معاونت)
  15. Empty citation (معاونت)
  16. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح Empty citation (معاونت)
  17. ^ ا ب پ ت Empty citation (معاونت)
  18. Empty citation (معاونت)
  19. ^ ا ب Empty citation (معاونت)
  20. ^ ا ب پ ت Empty citation (معاونت)
  21. Empty citation (معاونت)
  22. Empty citation (معاونت)
  23. Empty citation (معاونت)
  24. Empty citation (معاونت)
  25. ^ ا ب پ ت ٹ ث Empty citation (معاونت)
  26. Empty citation (معاونت)
  27. Empty citation (معاونت)
  28. Empty citation (معاونت)
  29. Empty citation (معاونت)
  30. ^ ا ب پ Empty citation (معاونت)
  31. Empty citation (معاونت)
  32. Empty citation (معاونت)
  33. ^ ا ب Empty citation (معاونت)
  34. Empty citation (معاونت)
  35. ^ ا ب پ ت Empty citation (معاونت)
  36. Empty citation (معاونت)
  37. ^ ا ب پ Empty citation (معاونت)
  38. Empty citation (معاونت)
  39. Empty citation (معاونت)
  40. Empty citation (معاونت)
  41. Empty citation (معاونت)
  42. Empty citation (معاونت)
  43. Empty citation (معاونت)
  44. Empty citation (معاونت)
  45. Empty citation (معاونت)
  46. Empty citation (معاونت)
  47. Empty citation (معاونت)
  48. Empty citation (معاونت)
  49. Empty citation (معاونت)
  50. Empty citation (معاونت)
  51. Empty citation (معاونت)
  52. Empty citation (معاونت)
  53. Empty citation (معاونت)
  54. ^ ا ب پ Empty citation (معاونت)
  55. Empty citation (معاونت)
  56. Empty citation (معاونت)
  57. Empty citation (معاونت)
  58. Empty citation (معاونت)
  59. Empty citation (معاونت)
  60. Empty citation (معاونت)
  61. موقع المستنير: ترجمة الإمام عبد الله بن علوي بن محمد الحداد. وثق شدہ بتاریخ 18 يوليو 2017 در وے بیک مشین
  62. Empty citation (معاونت)
  63. دعوة الحق: محمد بن عبد الباقي الزرقاني ومنهجه في شرح الموطأ. وثق شدہ بتاریخ 26 يناير 2018 در وے بیک مشین
  64. Empty citation (معاونت)
  65. Empty citation (معاونت)
  66. Empty citation (معاونت)
  67. Empty citation (معاونت)
  68. Empty citation (معاونت)
  69. Empty citation (معاونت)
  70. Empty citation (معاونت)
  71. Empty citation (معاونت)
  72. Empty citation (معاونت)
  73. Empty citation (معاونت)
  74. Empty citation (معاونت)
  75. Empty citation (معاونت)
  76. Empty citation (معاونت)
  77. Empty citation (معاونت)
  78. Empty citation (معاونت)
  79. ^ ا ب پ ت ٹ ث Empty citation (معاونت)
  80. Empty citation (معاونت)
  81. Empty citation (معاونت)
  82. Empty citation (معاونت)
  83. Empty citation (معاونت)
  84. Empty citation (معاونت)
  85. Empty citation (معاونت)
  86. Empty citation (معاونت)
  87. Empty citation (معاونت)
  88. Empty citation (معاونت)
  89. Empty citation (معاونت)
  90. Empty citation (معاونت)
  91. Empty citation (معاونت)
  92. Empty citation (معاونت)
  93. Empty citation (معاونت)
  94. Empty citation (معاونت)
  95. Empty citation (معاونت)
  96. Empty citation (معاونت)
  97. Empty citation (معاونت)
  98. Empty citation (معاونت)
  99. Empty citation (معاونت)
  100. Empty citation (معاونت)
  101. Empty citation (معاونت)