بو علی شاہ قلندر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بو علی شاہ قلندر
Shah Sharaf bu ali qalander Chiniot pakistan.jpg
پیدائش 605ھ رمضان المبارک جمعہ
مدینہ منورہ
وفات 724ھ شعبان منگل 3 شنبہ۔ (کل عمر :119 سال)
پانی پت، کرنال، بھارت
دیگر نام حسینی، فخری اور ہاشمی
عنوان رہبر القلندرین، رہبر الفقراء
والدین سّید شاہ ابوحسن (سید محمد ابوحسن شاہ فخرالدین)

بو علی شاہ قلندر امام زین العابدین ابن امام حسین ابن امام علی علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔آپؒ کے والد سّید شاہ ابوحسن (سّید محمد ابوالحسن شاہ فخرالدین) فخر عالم، محمد ثانی محبوبی مدینہ منورہ کوچہ ہاشمی سے نجف (عراق) پھر (ایران) خسروی، کرمانشاہ، ہمدان، کرمان ماحان، خراسان میمہ (جہاں آپ کے والد محترم حضرت السیّد ابوالقاسم یحییٰ کا مقبرہ ہے) سے (افغانستان) ہرات، بلخ (مزار شریف) سے سالنگ راستے سے ہو کر کابل، ولایت لوگر اریوب سے ہوتے ہوئے پارہ چنار، کرم ایجنسی (جس کا پرانا نام طلا و خراسان تھا) کے ایک گاؤں کڑمان (قدیمی نام کرمان) میں ہمراہ دو فرزند حضرت السیّدشاہ انورؒ اور حضرت بو علی شاہ قلندرؒ آباد ہوۓ۔ آپؒ کمسنی عمر میں شیخ مجتہد العصر (المرجع) بنے۔ ہمیشہ بڑے بھائی حضرت السیّد شاہ انور کے ساتھ علم روحانیت (الشریعتہ و طریقتہ) میں تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔ پدر بزرگوار کی وصیت کے مطابق اُنکے وصال کے بعد ہمراہ ایک پوتے غوث ہندوستان پانی پت تشریف لے گئے۔

وہاں ہندوستان کے بادشاہ کو ایک مسئلہ درپیش تھا۔ اور بادشاہ نے اس دور کے علماء کو حکم دیا کہ ہفتے کے اندر اس مسئلےکا حل تلاش کرکے نہ لائے تو سب کی گردنیں اُڑا دئیے جائینگے، علماء بے حد پریشان تھے۔

السیّد شاہ ابو شرف الدینؒ اپنے ہمراہ سات اُونٹ لدھے ہوئے خلیج گنگنا جمنا کے کنارے بیٹھے ہوئے ہر دن ایک ایک اُونٹ کتابیں دریا میں پھینکتے جا رہے تھے، اور کسی بھی کتاب میں حل نظر نہیں آرہا تھا۔ اور آخری یعنی ساتویں دن آپؒ کے لبوں سے بےساختہ ایک جملہ نکلا کہ “تکبر عزازیل را خار کرد“ چونکہ آپؒ کتابی و مادی علم پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔

حضرت السیّد شاہ ابو شرف الدینؒ خلیج میں اتر کر وضو کررہے تھے کہ اچانک ایک پتا (مُہنڈہ) کا اپنی طرف آتے دیکھا، پتا آکر آپؒ کے سامنے روکھا، آپؒ بزرگوار نے دیکھا کہ یہ پتا تو ہمارے گاؤں باغ لیلیٰ دُراوی شلوزان کی ہے۔ پتا اٹھا کر دیکھا تو مسئلے کا حل تحریر تھا، اور نیچے برادر بزرگوار حضرت السیّد شاہ انورؒ کا مہرنگین تھا، دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ عہد و پیمان کیا تھا، کہ ہم دونوں میں سے جس کا بھی علم افضل ہوگا تو وہ مرشد اور دوسرا مرید ہوگا۔ آپؒ نے وہ پتا بار بار چھوما اور پڑھا جس پر سارا ماجرا لکھا ہوا تھا، کہ “اے برادر و مرید من، نا راحت نا باشید“ یہ لڑکی جس سے بادشاہ کی شادی ہوئی ہے، یہ لڑکی اس بادشاہ خدا بندہ کی اپنی صاحبزادی (دختر) ہے، قدرت کو منظور نہیں کہ وہ ان سے ہم بستری (جماع) کرے، آپؒ نے آواز دی کہ مبارک ہو مسئلے کا حل مل گیا، علماء دوڑے، پوچھا کیسے مسئلے کا حل مل گیا، آپؒ نے فرمایا کہ پانی پر پتا آیا مجھے میرے مرشد بھائی نے سابقہ سارے حالات تحریر فرمائیں ہیں، لڑکی بادشاہ سلامت کی دختر عظیم ہے، اسی دن سے اس جگہ کا نام پانی پتا (پانی پت) پڑگیا۔[1] آپؒ کے لا تعداد اولاد پاراچنار میں موجود ہیں۔جن کے پا س شجرہ نسب قدیمی موجود ہیں۔ [2] [3] [4] [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کتاب: انوارالاوصیآء
  2. از کتاب قدیمی چاپ سنگی
  3. تاریخ شیعیان عالم صفحہ 204
  4. کتاب قدیمی حضرت سید حسن ولیؒ دیوان چاپ سنگی
  5. شجرہ قدیمی پدر بو علی قلندر