جہازیوں کی بغاوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Royal Indian Navy revolt
مضامین بسلسلہ تحریک آزادی ہند
تاریخ 18–23 فروری 1946
مقام برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
اہداف کام کے لیے بہتر حالات
طریقہ کار General strike
فریق تنازع
سرکردہ رہنما
تعداد
66 جہازاور 10,000 جہازی

18 سے 22 فروری 1946 کو رائل انڈین نیوی کے ملازمین کی اچھا کھانا نہ ملنے اور انگریز افسر کے برے رویے کے خلاف شروع ہونے والی بھوک ہڑتال جو بغاوت میں بدل گئی۔ جہازیوں نے ہڑتال کی قیادت کے لیے متفقہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی۔ ایم ایس خان (سگنلر، پیٹی آفیسر) اور مدن سنگھ (ٹیلی گرافسٹ) کو بالترتیب صدر اور نائب صدر منتخب کیا گیا۔ ان دونوں کا تعلق پنجاب سے تھا۔ دیگر کمیٹی ارکان میں بیدی بسنت سنگھ، ایس سی سین گپتا،اسکول ماسٹر نواز، اشرف خان، ایبلے گومز اور محمد حسین شامل تھے۔ کمیٹی نے جو مطالبات پیش کیے ان میں معاشی سہولتوں کے علاوہ آزاد ہند فوج کے پکڑے جانے والے افراد سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، مصر اور انڈونیشیا سے ہندوستانی فوجوں کی واپسی کی مانگ شامل تھی۔ 20 فروری کو رائل انڈین ائیر فورس کے 1200 اہلکار ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہڑتال پر چلے گئے جن کے ساتھ نیول اکاؤنٹ کے سویلین افراد بھی شامل ہو گئے۔ رائل انڈین ائیر فورس نے جہاز اڑانے اور ہڑتالیوں کے بحری جہاز پر بم گرانے سے انکار کر دیا۔ ٹرانسپورٹ یونٹ نے ہڑتالی جہازیوں سے لڑنے کے لیے فوجیوں کو لے جانے سے سے معذرت کرلی۔ کراچی، گجرات، کلکتہ، مدراس، وشاکھا پٹنم، احمد آباد، جبل پور، آسام اور دہلی میں بھی موجود جہازیوں اور فوجیوں نے بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔ بغاوت ساحلوں پر موجود 74 بحری جہازوں، 20 بیڑوں اور 22 بیرکوں میں موجود 20 ہزار جہازیوں تک پھیل گئی تھی۔[1] کراچی میں بغاوت کو کچلنے کے لیے بھیجے جانے والے بلوچ سپاہیوں نے ہم وطنوں پر گولی چلانے سے انکار کر دیا تو یہ ذمہ داری انگریز فوجیوں کو سونپ دی گئی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں چھہ جہازی مارے گئے اور 30 کے قریب زخمی ہوئے۔ اگلے دن کراچی میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی مقامی شاخ کی کال پر ہڑتال کی گئی۔ عید گاہ میدان میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 30 ہزارکے قریب شہری اکٹھے ہو گئے جن پر پولیس نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 25 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ بمبئی میں بھی شہری جہازیوں کی حمایت میں سڑکوں پرنکل آئے۔ کراچی کے بعد کلکتہ میں ایک لاکھ مزدوروں نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ اس وقت کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کانگرس اور مسلم لیگ نے جہازیوں کی حمایت نہیں کی تھی بلکہ انھوں نے ہتھیار ڈالنے پر زور دیا۔ کانگرس نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جہازیوں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہندوستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مخالفانہ رویے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے جہازیوں نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]