صارف:Muhammad Tehseen Abidi/ریتخانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسم مفعول (انگریزی: Object pronoun)

ختمہ (۔) کی مثالیں

حوالہ جات[ترمیم]

[1]

[2]



Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 20:58, 16 ستمبر 2016 (م ع و)

زندگی ہو میرے پروانے کی صورت یارب علم کی شمع سے ہومجھ کو محبت یارب
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمریوں ہی تمام ہوتی ہے

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 22:24, 10 ستمبر 2016 (م ع و)

اجزائے جملہ[ترمیم]

اجزائے جملہ مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ مسند

2۔ مسند الیہ

1۔ مسند کا مفہوم

کسی شخص یا چیز کے بارے میں جو کچھ بھی بتایا جائے اسے اردو قواعد کی زبان میں مسند کہتے کہتے ہیں۔

مثالیں

عمران پڑھتا ہے، عرفان بہت لائق ہے، گلاب کا پھول سرخ ہے اِن جملوں میں پڑھتا ہے، لائق ہے، سرخ ہے مسند ہیں۔

2۔ مسند الیہ کا مفہوم

جس چیز یا شخص کی بابت جو کچھ کہا جائے اردو قواعد کی زبان میں اسے مسند الیہ کہتے ہیں۔

مثالیں

عمران پڑھتا ہے، عرفان بہت لائق ہے، گلاب کا پھول سرخ ہے اِن جملوں میں عمران، عرفان،گلاب کا پھول مسند الیہ ہیں۔

جملہ کی اقسام

جملہ کی دو اقسام ہیں۔

1۔ جملہ اسمیہ

2۔ جملہ فعلیہ

1۔ جملہ اسمیہ

جملہ اسمیہ اُس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور جس کے آخر میں فعل ناقص آئے۔

مثالیں

جیسے عمران بڑا ذہین ہے۔ اس جملے میں عمران مسند الیہ بڑا ذہین مسند اور ہے فعل ناقص ہے۔

جملہ اسمیہ کے اجزا

جملہ اسمیہ کے مندرجہ ذیل تین اجزا ہیں۔

1۔ مبتدا

2۔ خبر

3۔ فعل ناقص

1۔ مبتدا

مسند الیہ کو مبتدا کہتے ہیں جیسے عمران بڑا ذہین ہے میں عمران مبتدا ہے۔

2۔ خبر

مسند کو خبر کہا جاتا ہے کیسے عمران بڑا ذہین ہے میں بڑا ذہین خبر ہے۔

3۔ فعل ناقص

فعل ناقص وہ فعل ہوتا ہے جو کسی کام کے پورا ہونے کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔

مثالیں

اسلم بیما رہے، اکرم دانا تھا، عرفان بہت چالاک نکلا، چاند طلوع ہوا اِن جملوں میں ہے، تھا، نکلا اور ہوا ایسے فعل ہیں جن سے پڑھنے، لکھنے اور کھانے پینے کی طرح کسی کام کے کیے جانے یا ہونے کا تصور نہیں ملتا۔

چند افعال ناقص

پے، ہیں، تھا، تھے، تھیں، ہوا، ہوگا، ہوئے، ہوں گے، ہو گیا، ہو گئے، بن گیا، بن گئے نکلا، نکلے اور نکلی وغیرہ۔

چند اسمیہ جملے (مع اجزا)

مسند الیہ (مبتدا) مسند (خبر) فعل ناقص
عمران ذہین ہے
عرفان نیک تھا
امجد کامیاب ہو گیا
ارشد فیل ہوا
اکبر افسر بن گیا

(نوٹ): اسمیہ جملے میں سب سے پہلے مبتدا پھر خبر اور آخر میں فعل ناقص آتا ہے۔

2۔ جملہ فعلیہ

جملہ فعلیہ اس جملہ کو کہتے ہیں جس میں مسند الیہ اسم ہو اور مسند فعل جملہ فعلیہ میں فعل ناقص کی بجائے فعل تام آتا ہے جس سے کام کا تصور واضح ہوجاتا ہے۔

مثالیں

سلیم دوڑا، اسلم آیا، حنا نے کتاب پڑھی، اکرم نے نماز پڑھی وغیرہ۔

جملہ فعلیہ کے اجزا

1۔ فاعل

2۔ مفعول

3۔ فعل تام

1۔ فاعل

مسند الیہ کو فاعل کہا جاتا ہے جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں حمید فاعل ہے۔

2۔ مفعول

مسند کو مفعول کہتے ہیں جیسے سلیم نے نماز پڑھی اس جملے میں نماز مفعول ہے۔

3۔ فعل تام

آخر میں آنے والے فعل کو فعل تام کہتے ہیں جیسے سلیم میں نماز پڑھی اس جملے میں پڑھی فعل تام ہے۔

متعلق خبر اور متعلق فعل

جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق خبر اور فعل سے ہوتا ہے۔ ان الفاظ کو متعلقات کہا جاتا ہے۔

متعلق خبر

عرفان کامیاب ہوا، عرفان امتحان میں کامیاب ہوا،عرفان اِس سال امتحان میں کامیاب ہوا، اِن جملوں کا اگر بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جملے میں صرف عرفان کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، دوسرے جملے میں خبر کی وضاحت کرتے ہوئے خبر میں بتایا گیا ہے کہ عرفان امتحان میں کامیاب ہوا جبکہ تیسرے جملے میں خبر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ عرفان اِس سال امتحان میں کامیاب ہوا۔ ا،ن جملوں میں ”امتحان اور اس سال“ متعلق خبر ہیں۔

متعلق فعل

عرفان نے کتاب خریدی، عرفان نے بازار سے کتاب خرییدی، عرفان نے کل بازار سے کتاب خریدی، اِن جملوں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جملے میں علی فاعل ہے، کتاب مفعول ہے اور خریدی فعل ہے۔ دوسرے جملے مین فعل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کتاب کریدنے کا کام بازار سے کیا گیا ہے جبکہ تیسرے جملے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کتاب آج نہیں بلکہ کل خریدی گئی ہے۔ لہذا وہ تمام الفاظ جو فعل کے معنوں کی وضاحت کرتے ہیں متعلق خبر کہلاتے ہیں۔ اِن جملوں میں” بازار سے “ اور ”کل“ متعلقات فعل ہیں جبکہ ”نے“ علامت فاعل ہے۔

ترکیب نحوی اور اصول

جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کے مختلف اجزا کو الگ الگ بیان کرنے اور اُن کے باہمی تعلق کو ظاہر کرنے کو ترکیب نحوی کہتے ہیں۔

1۔ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ زیر ترکیب جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ ۔

2۔ اگر کسی جملے میں فعل ناقص ہو تو وہ جملہ اسمیہ ہوتا ہے۔ فعل ناقص معلوم کرنے کے بعد جملے میں مبتدا اور خبر معلوم کی جاتی ہے۔

3۔ اگر کسی جملے میں فعل ناقص کی بجائے فعل تام ہو تو اس صورت میں جملہ فعلیہ ہوتا ہے۔ اس جملے میں میں فائل، مفعول اور متعلقات معلوم کرتے ہیں۔

4۔ اگر کسی مصرع یا شعر کی ترکیب نحوی معلوم کرنی ہو تو پہلے اس کی نثر بنا لیتے ہیں۔

5۔ ترکیب نحوی میں جملہ اسمیہ کی ترتیب یہ یونی چاہیے۔

فعل ناقص، مبتدا، خبر، متعلق خبر۔

6۔ ترکیب نحوی میں جملہ فعلیہ کی ترتیب یہ ہونی چاہیے۔

فعل، فائل، مفعول، متعلق فعل۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:33, 22 اگست 2016 (م ع و)

مرکب یا کلام[ترمیم]

مرکب یا کلام کا مفہوم

دو یا دو سے زیادہ بامعنی الفاظ کے مجموعے کو مرکب یا کلام کہتے ہیں۔ جیسے بچہ نیک ہے، میرا بھائی، اللہ ایک ہے وغیرہ

مرکب یا کلام کی اقسام

مرکب یا کلام کی دو اقسام ہیں۔

1۔ مرکب تام یا کلام تام

2۔ مرکب ناقص یا کلام ناقص

1۔ مرکب تام یا کلام تام

دو یا دو سے زیادہ بامعنی الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے کہنے والے کا مقصد پورا ہوجائے اور بات مکمل طور پر سننے والے کی سمجھ میں آجائے اسے مرکب تام یا کلام تام کہتے ہیں۔

یا

مرکب تام یا کلام تام وہ مرکب ہوتا ہے جسے پڑھ کر پورا مطلب سننے والے کی سمجھ میں آجائے۔

مثالیں

اللہ ایک ہے، زمین گول ہے، اچھے بچے ہمیشہ سچ بولتے ہیں، ہمیشہ خدا پر بھروسا رکھو، آم میٹھے ہیں، انگور کھٹے ہیں، ہم دو بھائی ہیں وغیرہ

2۔ مرکب ناقص یا کلام ناقص

دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے کہنے والے کا مقصد پورا نہ ہو اور بات سننے والے کی سمجھ میں پوری طرح نہ آئے تو اسے مرکب ناقص یا کلام ناقص کہتے ہیں۔

یا

مرکب ناقص یا کلام ناقص وہ مرکب ہوتا ہے جسے پڑھ کر مطلب پوری طرح سمجھ میں نہ آئے۔

مثالیں

اسلم کی کتاب، نیک لڑکا، پانچ تربوز، تیز گھوڑا، سست گدھا، کھسیانی بلی وغیرہ

مرکب ناقص یا کلام ناقص کی اقسام

1۔ مرکب اضافی

2۔ مرکب توصیفی

3۔ مرکب عطفی

4۔ مرکب عددی

5۔ مرکب جاری

6۔ مرکب اشاری

7۔ مرکب امتزاجی

8۔ مرکب تابع موضوع

9۔ تابع مہمل

1۔ مرکب اضافی

مرکب اضافی اس مرکب کو کہتے ہیں جو مضاف، مضاف الیہ اور حروف اضافت (کا، کے، کی) سے مل کر بنے۔

مثالیں

حنا کی کتاب، اکرم کا قلم، چمن کے انگور وغیرہ

بعض اوقات مضاف الیہ کی جگہ تیرا، تیرے، تیری، میرا، میرے، میری، تمھارا، تمھارے، تمھاری وغیرہ کی ضمیریں استعمال ہوتی ہیں جیسے میرا قلم، تیرا گھر، میرے دوست، تیرے دوست، میری کتاب، تمھارے کھلونے، تمھاری بلی وغیرہ

فارسی اور عربی مرکب اضافی بھی اردو میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں مضاف پہلے آاتا ہے اور مضاف الیہ بعد میں جیسے قابلِ قدر، رسول اللہ وغیرہ ایسی صورت میں فارسی مرکبات میں مضاف کے آخری حرف کے نیچے زیر ( ِ ) اور عربی مرکبات میں زیر کے علاوہ بعض اوقات مضاف الیہ کے شروع میں ال حرف اضافت کا کام دیتا ہے۔

2۔ مرکب توصیفی

ایسے مرکب جواسم صفت اور موصوف سے مل کر بنتے ہیں۔ انہیں گرامر کی زبان میں مرکب توصیفی کہتے ہیں۔

مثالیں

سرخ پھول، سیاہ رات۔ نیک لڑکا اِن میں سرخ، سیاہ اور نیک اسم صفت، پھول، رات اور لڑکا موصوف ہیں۔

3۔ مرکب عطفی

ایسا مرکب جو معطوف علیہ، حرف عطف اور معطوف سے مل کر بنے اسے گرامر کی زبان میں مرکب عطفی کہتے ہیں۔

مثالیں

پہاڑ اور دریا، جسم و جان، چاند اور سورج، نیک و بد اِن میں پہاڑ، جسم، چاند اور نیک معطوف علیہ اور دریا، جان، سورج، اوربد معطوف جبکہ اور، و حروف عطف ہیں۔

4۔ مرکب عددی

وہ مرکب جو اسم عدد اور اسم معدود سے مل کر بنے اسے گرامر کی زبان میں مرکب عددی کہتے ہیں۔ جیسے پانچ قلم، چھ کرسیاں، سات گھوڑے، آٹھ کتابیں، نو میزیں۔ دس بلیاں وغیرہ یہاں پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس اسم عدد اور قلم، کرسیاں، گھوڑے، کتابیں، میزیں، بلیاں اسم معدود ہیں۔

5۔ مرکب جاری

ایسا مرکب جو حرف جار اور مجرور سے مل کر بنے اسے گرامر کی زبان میں مرکب جاری کہتے ہیں۔ جیسے لاہور تک، کراچی سے، سڑک پر، بازار میں وغیرہ اردو میں مجرور پہلے آتا ہے اور حرف جار بعد میں۔

6۔ مرکب اشاری

مرکب اشاری وہ مرکب ہوتا ہے جو اشارہ اور مشار’‘الیہ کے ملنے سے بنتا ہے۔ جیسے وہ کرسی، یہ قلم، وہ کاغذ، یہ کتاب وغیرہ یہاں ”وہ“ اور ”یہ“ اسم اشارہ اور کرسی، قلم، کاغذ اور کتاب مشار’‘الیہ ہیں۔

7۔ مرکب امتزاجی

وہ مرکب جو دو یا دو سے زیادہ الفاظ سے مل کر بننے والے اسم کو گرامر کی زبان میں مرکب امتزاجی کہا جاتا ہے اکبر علی، محمد عمران، اختر عباس، عرفان احمد خان، فیصل آباد، وزیرآباد وغیرہ۔

8۔ مرکب موضوع

یہ مرکب دو لفظوں کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں ایک بامعنی لفظ کے ساتھ دوسرا بامعنی لفظ بات میں زور پیدا کرنے کے لیے یا دیگر ضروریات کی خاطر استعمال کیا جاتا ہے جیسے چال ڈھال، دیکھ بھال، لٰوٹ مار، دانہ پانی، روکھی سوکھی وغیرہ۔

9۔ مرکب تابع مہمل

مرکب تابع مہمل دو ایسے لفظوں کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں ایک بامعنی لفظ کے ساتھ دوسرا بے معنی لفظ استعمال کیا جاتا ہے جیسے روٹی ووٹی، گپ شپ، جھوٹ موٹ، سودا سلف، پانی وانی وغیرہ اس مجموعے میں بے معنی لفظ تابع، بامعنی لفظ کو متبوع جبکہ ان کے مجموعے کو مرکب تابعی بھی کہتے ہیں۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:48, 17 اگست 2016 (م ع و)

حرف[ترمیم]

حرف کا مفہوم

حرف اس کلمہ کو کہتے ہیں جو نہ کسی چیز کا نام ہو، نہ کسی شخص کا نام ہو، نہ کسی جگہ کا نام ہو، نہ اس سے کوئی کام ظاہرہو اور نہ ہی یہ الگ سے اپنا کوئی معنی رکھتا ہو بلکہ یہ مختلف اسموں اور فعلوں کو آاپس میں ملانے کا کام دیتا ہو۔ جیسے اسلم اور تنویر آئے میں ”اور“ حرف ہے جو دو اسموں کو آپس میں ملا رہا ہے۔ اسی طرح منیر مسجد تک گیا کے جملے میں ”تک“ حرف ہے جو ایک اسم کو فعل سے ملا رہا ہے۔

حروف کی اقسام

حروف کی درج ذیل اقسام ہیں

۱۔ حروف جار

۲۔ حروف عطف

۳۔ حروف شرط

۴۔ حروف ندا

۵۔ حروف تاسف

۶۔ حروف تشبیہ

۷۔ حروف اضافت

۸۔ حروف استفہام

۹۔ حروف تحسین

۱۰۔ حروف نفرین

۱۱۔ حروف علت

۱۲۔ حروف بیان

۱۔ حروف جار

حروف جار وہ حروف ہوتے ہیں جو کسی اسم کو فعل کے ساتھ ملاتے ہیں۔ جیسے کاغذ اور پنسل میز پر رکھ دو اس جملے میں ”پر“ حرف جار ہے،

اردو کے حروف جار

اردو کے مشہور حروف جار مندرجہ ذیل ہیں۔

کا، کے، کی، کو، تک، پر، سے، تلک، اوپر، نیچے، پہ، درمیان ساتھ، اندر باہر وغیرہ

۲۔ حروف عطف

حروف عطف وہ حروف ہوتے ہیں جو دو اسموں یا دو جملوں کو آپس میں ملانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے قلم اور دوات میز پر رکھ دو، حنا کھانا کھا کر اسکول گئی۔ ان جملوں میں ”اور“ اور ”کر“ حروف عطف ہیں۔

اردو کے حروف عطف

اور، و، نیز، پھر، بھی وغیرہ حروف عطف ہیں۔

۳۔ حروف شرط

حروف شرط وہ حروف ہوتے ہیں جو شرط کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ مثلا اگر وہ تیز چلتا تو وقت پر پہنچ جاتا اس جملے میں ”اگر“ حرف شرط ہے۔

اردوکے حروف شرط

اردو کے حروف شرط مندرجہ ذیل ہیں۔

اگرچہ، اگر، گر۔ جوں جوں، جوں ہی، جب، جب تک، تاوقتیکہ وغیرہ

۴۔ حروف ندا

ایسے حروف جو کسی اسم کو پکارنے کے لیے استعمال ہوں ن حروف ندا کہلاتے ہیں۔ جیسے ارے بھائی! جب تک محنت نہیں کرو گے کامیاب نہیں ہوسکو گے۔ اس جملے میں ”ارے“ حرف ندا ہے۔

اردو کے حروف ندا

اردو کے حروف ندا مندرجہ ذیل ہیں۔

ارے، ابے، او، اچی وغیرہ

۵۔ حروف تاسف

حروف تاسف وہ حروف ہوتے ہیں جو افسوس اور تاسف کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ مثلاً افسوس انسان غفلت کا شکار ہو گیاہے اس جملے میں افسوس حرف تاسف ہے۔

اردو کے حروف تاسف

افسوس، صد افسوس، ہائے، ہائے، ہائے، وائے، اُف، افوہ، حسرتا، واحسراتا وغیرہ

۶۔ حروف تشبیہ

ایسے حروف جو ایک چیز کو دوسری چیز کی مانند قرار دینے کے لیے استعمال ہوں حروف تشبیہ کہلاتے ہیں جیسے شیر کی مانند بہادر، موتی جیسے دانت، برف کی طرح ٹھنڈا اِن جملوں میں مانند، جیسے، طرح حروف تشبیہ ہیں۔

اردو کے حروف تشبیہ

مثل، مانند، طرح، جیسا، سا، جوں، ہوبہو، عین بین، بعینہ وغیرہ

۷۔ حروف اضافت

حروف اضافت وہ حروف ہوتے ہیں جو صرف اسموں کے باہمی تعلق یا لگائو کو ظاہر کرتے ہیں۔ مضاف، مضاف الیہ اور حرف اضافت کے ملنے سے مرکب اضافی بنتا ہے۔ مثلاً اسلم کا بھائی، حنا کی کتاب، باغ کے پھول وغیرہ اِن جملوں میں کا، کیی، کے حروف اضافت ہیں۔ ۸۔ حروف استفہام

حروف استفہام اُن حروف کو کہتے ہیں جو کچھ پوچھنے یا سوال کرنے کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔ مثلاً احمد تم کب بازار جائو گے؟ اس جملے میں کب حرف استفہام ہے۔ اس جملے میں کب حرف استفہام ہے۔

اردو کے حروف استفہام

کیا، کب، کون، کیوں، کہاں، کس کا، کس کو، کس کے، کیسا، کیسے، کیسی، کتنا، کتنی، کتنے، کیونکہ، کس لیے، وغیرہ۔

۹۔ حروف تحسین

حروف تحسین وہ حروف ہوتے ہیں جو کسی چیز کی تعریف کے موقع پر بولے جاتے ہیں جیسے سبحان اللہ! کتنا پیارا موسم ہے۔ اس جملے میں سبحان اللہ حرف تحسین ہے۔

اردو کے حروف تحسین

مرحبا، سبحان اللہ، شاباش، آفرین، خوب، بہت خوب، بہت اچھا، واہ واہ، اللہ اللہ، ماشاءاللہ، جزاک اللہ، آہا، وغیرہ حروف تحسین ہیں۔ اِن حروف کو حروف انبساط بھی کہتے ہیں انبساط کے معنی خوشی یا مسرت کے ہیں۔

۱۰۔ حروف نفرین

حروف نفرین ایسے حروف ہوتے ہیں جو نفرت یا ملامت کے لیے بولے جاتے ہیں جیسے جھوٹوں پر اللہ کی ہزار لعنت اس جملے میں ہزار لعنت حرف نفرین ہے۔

اردو کے حروف نفرین

لعنت، ہزار لعنت، تف، پھٹکار ہے، اخ تھو، چھی چھی وغیرہ حروف نفرین ہیں۔

۱۱۔ حروف علت

یہ حروف ہیں جو کسی وجہ یا سبب کو ظاہر کریں جیسے کیونکہ، اس لیے، بریں سبب، بنا بریں، لہذا، پس، تاکہ، بایں وجہ، چونکہ، چنانچہ وغیرہ

۱۲۔ حروف بیان

ایسے حروف جو کسی وضاحت کے لیے استعمال کیے جائیں حروف بیان کہلاتے ہیں جیسے استاد نے شاگرد سے کہا کہ سبق پڑھو اس جملے میں کہ حرف بیان ہے۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:59, 9 اگست 2016 (م ع و)

فعل معروف اور فعل مجہول[ترمیم]

فعل معروف کا مفہوم

ایسا فعل جس کا فاعل معلوم ہو اسے فعل معروف کہا جاتا ہے۔ معروف کے معنی مشہور یا جانا پہچانا کے ہیں روز مرہ زندگی میں بات کرنے کے معمول کے انداز کو فعل معروف کہتے ہیں۔

مثالیں

شاہدہ نمازپڑھتی ہے، عمران نےآم کھایا، عمران کتاب لائے گا، اِن جملوں میں پڑھتی ہے، کھایا اورلائے گا فعل معروف ہیں۔

فعل مجہول کا مفہوم

ایسا فعل جس کا فاعل معلوم نہ ہو اسے فعل مجہول کہا جاتا ہے۔ مجہول کے معنی ہیں نامعلوم یا ایسی بات جس میں جھول پایا جاتا ہویا بات کرنے کے غیر معروف انداز کو فعل مجہول کہتے ہیں۔

مثالیں

نمازپڑھی جاتی ہے، آم کھایا گیا، کتاب لائی جائے گی، اِن جملوں میں پڑھی جاتی ہے، کھایا گیا اورلائی جائے گی فعل مجہول ہیں۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:15, 8 اگست 2016 (م ع و)

بناوٹ کے لحاظ سے فعل کی اقسام[ترمیم]

بناوٹ کے لحاظ سے فعل کی درج ذیل چار اقسام ہیں۔

۱۔ فعل لازم

۲۔ فعل متعدی

۳۔ فعل مثبت

۴۔ فعل منفعی

۱۔ فعل لازم

فعل لازم اس فعل کو کہتے ہیں جو صرف فائل کے ساتھ مل کر جملہ مکمل کر دے۔

یا

فعل لازم وہ فعل ہوتا ہے جو صرف فائل کے ساتھ مل کر بات مکمل کر دے۔

مثالیں

عمران جاگا، طارق سویا، خرگوش دوڑا، سلمان بیٹھا، بچہ رویا، عرفان آیا وغیرہ اِن جملوں میں جاگا، سویا، دوڑا، بیٹھا، رویا اور آیا فعل لازم ہیں۔

نوٹ: تمام فعل لازم ہمیشہ لازم مصادر سے بنتے ہیں جیسے جاگا، سویا، دوڑا، بیٹھا، رویا، آیا کے فعل لازم بالترتیب جاگنا، سونا، دوڑنا، بیٹھنا، رونا اورآنا لازم مصادر سے بنے ہیں۔

۲۔ فعل متعدی

فعل متعدی اس فعل کو کہتے ہیں جس کو پورا کرنے کے لیے فائل کے علاوہ مفعول کی بھی ضرورت ہو

یا

ایسا فعل جو مکمل ہونے کے لیے فائل کے علاوہ مفعول کی بھی ضرورت محسوس کرے اسے فعل متعدی کہتے ہیں۔

مثالیں

سارہ نے نماز پڑھی، حامد نے خط لکھا، عمران نے کھانا کھایا، انیلا نے دودھ پیا، عرفان نے کتاب خریدی، اِن جملوں میں پڑھی، لکھا، کھایا، پیا، خریدی، فعل متعدی ہیں۔

نوٹ: تمام فعل متعدی مصادر سے بنتے ہیں جیسے خریدی، لکھا اورسویا بالترتیب خریدنا، لکھنا اور سونا مصادر متعدی سے بنے ہیں۔

مصدر لازم اور مصدر متعدی کی مثالیں

مصدرلازم مصدر متعدی مصدر لازم مصدر متعدی مصدرلازم مصدر متعدی
سونا سلانا بیٹھنا بٹھانا اٹھنا اٹھانا
ہلنا ہلانا چمکنا چمکانا ہنسنا ہنسانا
رکنا روکنا برسنا برسانا تڑپنا تڑپانا

فعل لازم اور فعل متعدی میں فرق

فعل لازم میں فائل کے ساتھ ”نے“ کی علامت نہیں آتی اور اس میں مفعول کی ضرورت نہیں پڑتی مثلا اختر دوڑا اس جملے میں اختر فائل ہے اور دوڑا فعل لازم ہے۔

فعل متعدی میں فاعل کے ساتھ ”نے“ کی علامت استعمال ہوتی ہے اور اس کے بعد مفعول آتا ہے مثلا انور نے خط لکھا اس جملے میں انور فائل ”نے“ علامت فائل اور خط مفعول ہے۔

۳۔ فعل مثبت

فعل مثبت وہ فعل ہوتا ہے جس میں کسی فعل (کام) کے کرنے یا ہونے کا ذکرہوا ہو۔ مثبت کے معنی جمع کے ہوتے ہیں۔

یا

ایسا فعل یا مثبت جملے وہ جملے ہوتے ہیں جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا ذکر کیا گیا ہو۔

مثالیں

حنا نے نماز پڑھی، عرفان اسکول گیا، عمران نے سیر کی، سیما نے خط لکھا، وغیرہ

۴۔ فعل منفی

فعل منفی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی فعل (کام) کے نہ کرنے یا نہ ہونے کا کا ذکر ہو۔ منفی کے معنی تفریق یا نفی کے ہوتے ہیں۔

یا

فعل منفی یا منفی یا منفی جملے وہ جملے ہوتے ہیں جس میں کسی کام کے نہ کرنے یا نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہو۔

مثالیں

حنا نے نماز نہیں پڑھی، عرفان اسکول نہیں گیا، عمران نے سیر نہیں کی، سیما نے خط نہیں لکھا، وغیرہ

فعل منفی بنانے کا قاعدہ

۱۔ فعل مثبت کو فعل منفی میں تبدیل کرنے کے لیے ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی استمراری اور ماضی شکیہ سے پہلے عام طور پر نہیں لگا دیا جاتا ہے۔

۲۔ فعل ماضی تمنائی اور فعل مضارع کو فعل منفی میں تبدیل کرنے کے لیے ان فعلوں سے پہلے نہ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

فعل منفی اور فعل نہی میں فرق

فعل منفی اور فعل نہی میں ایک باریک سا فرق ہے۔ فعل منفی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ جیسے حنا نے کتاب نہیں پڑھی۔ جبکہ فعل نہی میں کسی کام سے منع کیا جاتا ہے جیسے جھوٹ مت بولو۔

استفہامیہ یا سوالیہ جملے

استفہامیہ یا سوالیہ جملے وہ جملے ہوتے ہیں جن میں کوئی سوال پایا جائے۔

یا

استفہامیہ اُن جملوں کو کہتے ہیں جن میں کوئی سوال کیا گیا ہو۔ استفہام کے معنی پوچھنا کے معنی ہوتے ہیں۔

مثالیں

کون آیا تھا؟، تم کب آئے؟، کیا تم نے نماز بڑھی؟، کیا حنا نے خط لکھا؟، کیا اسلم اسکول جاتا ہے؟، وغیرہ

مثبت جملوں کو منفی اور سوالیہ جملوں میں تبدیل کرنا

۱۔ مثبت جملوں کومنفی جملوں میں تبدیل کرنے کے لیے ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی استمراری اور ماضی شکیہ سے پہلے نہیں کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے حنا نے نماز پڑھی مثبت جملہ ہے اور حنا نے نماز نہیں پڑھی منفی جملہ ہے ۲۔ ماضی تمنائی اور فعل مضارع کے جملوں کو منفی جملوں میں تبدیل کرنے کے لیے ان فعلوں سے پہلے نہ پڑھاتے ہیں جیسے جھوٹ بولو مثبت جملہ ہے اور جھوٹ نہ بولو منفی جملہ بن جاتا ہے۔

۳۔ مثبت جملوں کو سوالیہ جملوں میں تبدیل کرنے کے لیے جملے کے شروع میں کون، کس کیا، کونسا، کونسی، کتنا، کتنی، کب میں سے کوئی سا حرف استفہام لگا دیا جاتا ہے جیسے حنا نے نماز پڑھی مثبت جملہ ہے جبکہ کیا حنا نے نماز پڑھی؟ سوالیہ یا استفہامیہ جملہ ہے۔

مثبت جملے۔ منفی جملے، سوالیہ جملے

مثبت جملے منفی جملے سوالیہ جملے
حنا نے نماز پڑھی حنانے نمازنہیں پڑھی کیا حنا نے نماز پڑھی؟
منتظر نے خط لکھا منتظر نے خط نہیں لکھا کیا منتظر نے خط نہیں لکھا؟
وہ اخبار پڑھتا ہے وہ اخبار نہیں پڑھتا ہے کیا وہ اخبار نہیں پڑھتا ہے؟
میں کتاب خریدوں گا میں کتاب نہیں خریدوں گا کیا میں کتاب نہیں خریدوں گا؟
انیلا نے سبق یاد کیا ہے انیلا نے سبق یاد نہیں کیا ہے کیا انیلا نے سبق یاد کیا ہے؟
وہ اسکول جاتا ہے وہ اسکول نہیں جاتا ہے کیا وہ اسکول جاتا ہے؟
سلیم مجھے کل ملا تھا سلیم مجھے نہیں ملا تھا کیا سلیم مجھے ملا تھا؟
تم بازار جا رہے ہو تم بازار نہیں جا رہے ہو کیا تم بازار جا رہے ہو

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 03:54, 3 اگست 2016 (م ع و)

متفرق افعال[ترمیم]

متفرق افعال کی اقسام

متفرق افعال کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔

۱۔ فعل مضارع

۲۔ فعل امر

۳۔ فعل نہی

۱۔ فعل مضارع

ایسا فعل جس میں موجودہ (حال) اور آنے والا (مستقبل) دونوں زمانے پائے جائیں فعل مضارع کہلاتا ہے۔

یا

وہ فعل جس میں زمانہ حال اور زمانہ مستقبل دونوں زمانوں کا مفہوم پایا جائے اسے فعل مضارع کہتے ہیں۔

یا

فعل مضارع اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا فعل حال یا فعل مستقبل دونوں زمانوں میں پایا جاتا ہے۔

مثالیں

نجمہ کتاب پڑھے، اسلم کھانا کھائے، بشرہ سوئے، احمد اسکول جائے، اختر پھول لائے، اِن جملوں میں پڑھے، کھائے، سوئے، جائے، لائے فعل مضارع ہیں۔

فعل مضارع بنانے کا قاعدہ

۱۔ فعل مضارع بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر کا ”نا“ دور کر کے ”ے“ لگانے سے فعل مضارع بن جاتا ہے جیسے دیکھنا مصدر سے دیکھے، کھانا مصدر سے کھائے وغیرہ

۲۔ مصدر کی علامت ”نا“ دور کرنے سے اگر ”آ“ یا ”وائو“ باقی رہ جائے تو آخر میں ”ئے“ لگانے سے فعل مضارع بن جاتا ہے جیسے آنا مصدر سے آئے۔

فعل مضارع کی گردان

آنا اور دیکھنا مصدر سے فعل مضارع کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آئے وہ آئیں توآئے تم /آپ آئیں میں آئوں ہم آئیں
وہ دیکھے وہ دیکھیں تودیکھے تم/آپ دیکھیں میں دیکھوں ہم دیکھیں

۲۔ فعل امر

ایسا فعل جس میں کام کرنے کا حکم پایا جائے اسے فعل امر کہتے ہیں (امر کے معنی حکم کے ہیں)

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے کا حکم پایا جائے فعل امر کہلاتا ہے۔

یا

ایسا فعل جس میں کسی کام کرنے کا حکم دیا جائے اسے فعل امر کہا جاتا ہے۔

مثالیں

بزرگوں کا ادب کرو، بازار سے دوا لائو، ہمیشہ سچ بولو، نماز پڑھو، اِن جملوں میں کرو، لائو، بولو، پڑھو فعل امر ہیں۔

فعل امر بنانے کا قاعدہ

مصدر کی علامت نا دور کرنے سے فعل امر بن جاتا ہے جیسے پڑھنا سے پڑھ، لکھنا سے لکھ،، سونا سے سو وغیرہ

فعل امر کی گردان

لکھنا، پڑھنا اور کھانا مصدر سے فعل امر کی گردان

مصدر واحد حاضر جمع حاضر
لکھنا تو لکھ تم لکھو
پڑھنا تو پڑھ تم پڑھو
کھانا تو کھا تم کھائو

۳۔ فعل نہی

فعل نہی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام سے منع کیا جائے۔ نہی کے معنی روکنا یا منع کرنے کے ہیں۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام سے منع کیا جائے یا روکا جائے اسے فعل نہی کہتے ہیں۔

یا

ایسا فعل جس میں کسی کام کے کرنے سے روکا جائے فعل نہی کہلاتا ہے۔

مثالیں

مت دوڑ، نہ بول، مت جا، نہ ستا، مت کھا، مت بیٹھو، نہ کرو وغیرہ

فعل نہی بنانے کا قاعدہ

فعل امر سے پہلے نہ یا مت لگا دینے سے فعل نہیں بن جاتا ہے جیسے کھانا مصدر سے کھا فعل امر بنتا ہے اور نہ کھا یا مت کھا فعل نہی بن جاتا ہے۔

فعل نہی کی گردان

مصدر واحد حاضر جمع حاضر
لکھنا تو نہ لکھ تم نہ لکھو
پڑھنا تومت پڑھ تم مت پڑھو
کھانا تونہ کھا تم نہ کھائو

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:09, 30 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

فعل[ترمیم]

فعل کا مفہوم

فعل اُس کلمہ کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا زمانے کے لحاظ سے پایا جائے۔

یا

ایسا کلمہ (لفظ) جو کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا زمانے کے لحاظ سے ظاہر کرے فعل کہلاتا ہے۔

مثالیں

عدیل پڑھتا ہے، عابدہ نے خط لکھا، عرفان مسجد گیا، ہم لاہور جائیں گے وغیرہ

اِن جملوں میں پڑھتا ہے، لکھا، گیا، جائیں گے کے الفاظ فعل ہیں

فعل کی اقسام

فعل کی زمانے کے لحاظ سے تین اقسام ہیں۔

۱۔ فعل ماضی

۲۔ فعل حال

۳۔ فعل مستقبل

۱۔ فعل ماضی

فعل ماضی اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے اسے فعل ماضی کہا جاتا ہے۔

یا

مثالیں

عرفان نے چائے پی، عمران نے کام کیا، عدنان دوڑا، انیلا نے خط لکھا، اختر اسکول گیا، ان جملوں میں چائے پی، کام کیا، دوڑا، لکھا، گیا، فعل ماضی ہیں۔

۲۔ فعل حال

فعل حال اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کس کام کا کرنا، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے اُسے فعل حال کہتے ہیں۔

مثالیں

اسلم کھانا کھاتا ہے، سلیم کھیلتا ہے، اسلم کھانا کھا رہا ہے، طاہر پودا لگاتا ہے، سلمہ فرش دھوتی ہے۔ اِن جملوں میں کھاتا ہے، کھیلتا ہے، کھا رہا ہے، لگاتا ہے، دھوتی ہے فعل ماضی ہیں۔

۳۔ فعل مستقبل

ایسا فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اُسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔

مثالیں

تنویر کل کراچی جائے گا، افضل کرکٹ کھیلے گا، فصیح پھول توڑے گا، سیما خط لکھے گی۔ کسان فصل کاٹے گا، اِن جملوں میں جائے گا، کھیلے گا، توڑے گا، لکھے گی، کاٹے گا فعل مستقبل ہیں۔

فعل ماضی کی اقسام

فعل ماضی کی مندرجہ ذیل چھ اقسام ہیں۔

۱۔ ماضی مطلق

۲۔ ماضی قریب

۳۔ ماضی بعید

۴۔ ماضی استمراری

۵۔ ماضی شکیہ

۶۔ ماضی شرطی یا تمنائی

۱۔ ماضی مطلق

ماضی مطلق وہ فعل ہوتا ہے جو صرف گزرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہے۔

یا

ایسا فعل جو دُور یا قریب کی قید کے بغیر گزرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہے ماضی مطلق کہلاتا ہے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا مطلق گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔

مثالیں

عارف نے کتاب پڑھی، ناصر لاہور گیا، حنا نے خط لکھا، راشدہ نے کھانا کھایا، وغیرہ اِن جملوں میں پڑھی، گیا، لکھا اور کھایا ماضی مطلق ہے۔

ماضی مطلق بنانے کا قاعدہ

یہ فعل مصدر کی علامت ”نا“ دور کر کے ”ا“ یا ”ی“ بڑھا دینے سے بنتا ہے۔

مثالیں

پڑھنا سے پڑھا، کھانا سے کھایا، دیکھنا سے دیکھا، آنا سے آیا، کھیلنا سے کھیلا، پینا سے پیا، وغیرہ

ماضٰی مطلق کی گردان

آنا مصدر سے ماضی مطلق کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا وہ آئے تو آیا تم آئے میں آیا ہم آئے
وہ آئی وہ آئیں تو آئی تم آئیں میں آئی ہم آئیں

ہنسنا اور کھانا مصدر سے ماضی مطلق کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ ہنسا وہ ہنسے توہنسا تم ہنسے میں ہنسا ہم ہنسے
اُس نے کھایا انہوں نے کھایا تونے کھایا تم نے کھایا میں نے کھایا ہم نے کھایا

سونا اور لکھنا مصدر سے ماضی مطلق کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ سویا وہ سوئے توسویا تم سوئے میں سویا ہم سوئے
اُس نے لکھا انہوں نے لکھا تونے لکھا تم نے لکھا میں نے لکھا ہم نے لکھا

۲۔ ماضی قریب

ماضی قریب اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں قریب کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔

یا

ایسا فعل جو قریب کے گزرے ہوئے زمانے میں ہوا ہو اسے فعل ماضی قریب کہا جاتا ہے۔

یا

فعل ماضی قریب وہ فعل ہوتا ہے جس میں کسی کام کا ہونا قریب کے زمانے میں ہو۔

مثالیں

علی کھانا نے کھایا ہے، زاہد نے نماز پڑھی ہے، اسلم فیصل آباد سے آیا ہے، معصومہ نے آم خریدے ہیں، حنا نے سبق پڑھا ہے، سارہ نے خظ لکھا ہے وغیرہ اِن جملوں میں کھایا ہے، پڑھی ہے، آیا ہے، خریدے ہیں، پڑھا ہے، لکھا ہے ماضی قریب ہیں۔

ماضی قریب بنانے کا قاعدہ

ماضی قریب بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر سے ماضی مطلق بنا کر آخر میں ہے بڑھا دیتے ہیں جیسے دوڑنا مصدر سے ماضی مطلق دوڑا بناتے ہیں اور آخر میں ہے کا اضافہ کرتے ہیں تو دوڑا ہے بن جاتا ہے یہ ماضی قریب ہے۔

ماضی قریب کی گردان

آنا اور پڑھنا مصدر سے ماضی قریب کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا ہے وہ آئے ہیں توآیا ہے تم /آپ آئے ہو میں آیا ہوں ہم آئے ہیں
اُس نے پڑھا ہے انہوں نے پڑھا ہے تونے پڑھا ہے تم/آپ نے پڑھا ہے میں نے پڑھا ہے ہم نے پڑھا ہے

لانا مصدر سے ماضی قریب کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لایا ہے وہ لائے ہیں تولایا ہے تم /آپ لائے ہو میں لایا ہوں ہم لائے ہیں
وہ لائی ہے وہ لائی ہیں تولائی ہے تم/آپ لائی ہو میں لائی ہوں ہم لائی ہیں

دوڑنا اور کھانا مصدر سے ماضی قریب کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑا ہے وہ دوڑے ہیں تودوڑا ہے تم /آپ دوڑے ہو میں دوڑا ہوں ہم دوڑے ہیں
اُس نے کھایا ہے انہوں نے کھایا ہے تونے کھایا ہے تم/آپ نے کھایا ہے میں نے کھایا ہے ہم نے کھایا ہے

۳۔ ماضی بعید

ماضی بعید اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں دُورکا زمانہ پایا جائے۔

یا

وہ فعل ہوتا جس میں کسی کام کا ہونا یا کرنا دُور کے زمانے میں پایا جائے۔

یا

وہ فعل جو دُور کے گزرے ہوئے زمانے میں ہوا ہو اسے ماضی بعید کہا جاتا ہے۔

مثالیں

سلمیٰ نے خط لکھا تھا، عرفان نے سبق پڑھا تھا، سیما سیب لائی تھی، اسلم سویا تھا، شاہدہ نے حلوا پکایا تھا، انیلا کرسی پر بیٹھی تھی، اِن جملوں میں لکھا تھا، پڑھا تھا، لائی تھی، سویا تھا، پکایا تھا، بیٹھی تھی، ماضی بعید ہیں۔

ماضی بعید بنانے کا قاعدہ

ماضی بعید بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر سے ماضی مطلق بنا کر آخر میں تھا بڑھا دیتے ہیں جیسے لکھنا مصدر سے ماضی مطلق لکھا بناتے ہیں اور آخر میں تھا کا اضافہ کرتے ہیں تو لکھا تھا بن جاتا ہے یہ ماضی بعید ہے۔

ماضی بعید کی گردان

دوڑنا اور کھانا مصدر سے ماضی بعید کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑا تھا وہ دوڑے تھے تودوڑا تھا تم /آپ دوڑے تھے میں دوڑا ے تھا ہم دوڑے تھے
اُس نے کھایا تھا انہوں نے کھایا تھا تونے کھایا تھا تم/آپ نے کھایا تھا میں نے کھایا تھا ہم نے کھایا تھا

ہنسنا اور سننا مصدر سے ماضی بعید کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ ہنسا تھا وہ ہنسے تھے توہنسا تھا تم /آپ ہنسے تھے میں ہنسا تھا ہم ہنسے تھے
اُس نے سنا تھا انہوں نے سنا تھا تونے سنا تھا تم/آپ نے سنا تھا میں نے سنا تھا ہم نے سنا تھا

آنا مصدر سے ماضی بعید کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا تھا وہ آئے تھے توآیا تھا تم /آپ آئے تھے میں آیا تھا ہم آئے تھے
وہ آئی تھی وہ آئیں تھیں توآئی تھی تم/آپ آئیں تھی میں آئی تھی ہم آئیں تھیں

۴۔ ماضی استمراری

ماضی استمراری اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں گزرا ہوا زمانہ جاری حالت میں پایا جائے۔

یا

ایسا فعل جو گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے بار بار ہونے یا جاری رہنے کو ظاہر کرے اسے ماضی استمراری کہتے ہیں۔

یا

ماضی استمراری وہ فعل ہے جو کسی کام کے بار بار ہونے یا جاری رہنے کو ظاہر کرے اسے ماضی استمراری کہتے ہیں۔

مثالیں

عدیل صبح سویرے اُٹھتا تھا، ارم کھانا کھا رہا تھی، ہم ہر روز سیر کو جایا کرتے تھے، علی پڑھتا تھا، نجمہ لکھتی تھی، اصغر کھاتا تھا، اسلم روزآنہ اسلام آباد جاتا تھا، اِن جملوں میں اُٹھتا تھا، کھا رہا رتھا، جایا کرتے تھے، پڑھتا تھا، لکھتی تھی، کھاتا تھا، جاتا تھا ماضی استمراری ہیں۔

ماضی استمراری بنانے کا قاعدہ

مصدر کی علامت ”نا“ دُور کرکے، ”تا تھا“ یا ”رہا تھا“ لگانے سے ماضی استمراری بن جاتا ہے جیسے کھانا کا ”نا“ دُور کر کے ”تا تھا“ اور ”رہا تھا“ لگانے سے ”کھاتا تھا“ یا ”کھا رہا تھا“ ماضی استمراری بن جاتا ہے۔

ماضی استمراری کی گردان

لکھنا اور پڑھنا مصدر سے ماضی استمراری کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لکھتا تھا وہ لکھتے تھے تولکھتا تھا تم /آپ لکھتے تھے میں لکھتا تھا ہم لکھتے تھے
وہ پڑھ رہا تھا وہ پڑھ رہے تھے توپڑھ رہا تھا تم/آپ پڑھ رہے تھے میں پڑھ رہا تھا ہم پڑھ رہے تھے

آنا مصدر سے ماضی استمراری کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آتا تھا وہ آتے تھے توآتا تھا تم /آپ آتے تھے میں آتا تھا ہم آتے تھے
وہ آ رہا تھا وہ آ رہے تھے توآ رہا تھا تم/آپ آ رہے تھے میں آ رہا تھا ہم آ رہے تھے

کھانا مصدر سے ماضی استمراری کی مثال

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ کھاتا تھا وہ کھاتے تھے توکھاتا تھا تم /آپ کھاتے تھے میں کھاتا تھا ہم کھاتے تھے
وہ کھا رہی تھی وہ کھا رہی تھیں توکھا رہی تھی تم/آپ کھا رہی تھیں میں کھا رہی تھی ہم کھا رہی تھیں

۵۔ ماضی شکیہ

ماضی شکیہ وہ فعل ہے جس میں گزرا ہوا زمانہ شک کے ساتھ پایا جائے۔

یا

ایسا فعل جس میں گزرا ہوا زمانہ شک کے ساتھ پایا جائے ماضی شکیہ کہلاتا ہے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا گزرے ہوئے زمانے میں شک کے ساتھ پایا جائے ماضی شکیہ کہلاتا ہے۔

مثالیں

سیما نے نماز پڑھی ہوگی، عرفان مسجد گیا ہوگا، عرفان نے چاند دیکھا ہوگا، اشرف نے خط لکھا ہوگا، نسرین نے سبق پڑھا ہوگا، قنبر نے کھانا کھایا ہوگا، اِن جملوں میں پڑھی ہوگی، گیا ہوگا، دیکھا ہوگا، لکھا ہوگا، پڑھا ہوگا، کھایا ہوگا، فعل ماضی شکیہ ہیں۔

ماضی شکیہ بنانے کا قاعدہ

مصدرسے ماضی مطلق بنا کر آخر میں ہو گا بڑھا دیتے ہیں جیسے دیکھنا مصدر سے دیکھا ماضی مطللق بناتے ہیں اور آخر میں ہو گا لگانے سے دیکھا ہو گا ماضی شکیہ بن جاتا ہے۔

ماضی شکیہ کی گردان

دوڑنا اور لکھنا مصدر سے ماضی شکیہ کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑا ہوگا وہ دوڑے ہوں گے تودوڑا ہو گا تم /آپ دوڑے ہوگے میں دوڑا ہوں گا ہم دوڑے ہوں گے
اس نے لکھا ہوگا انہوں نے لکھا ہوگا تونے لکھا ہوگا تم/آپ نے لکھا ہوگا میں نے لکھا ہوگا ہم نے لکھا ہوگا

لانا اور پڑھنا مصدر سے ماضی شکیہ کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لایا ہوگا وہ لائے ہوں گے تولایا ہو گا تم /آپ لائے ہو گے میں لایا ہوں گا ہم لائے ہوں گے
اس نے پڑھا ہوگا انہوں نے پڑھا ہوگا تونے پڑھا ہوگا تم/آپ نے پڑھا ہوگا میں نے پڑھا ہوگا ہم نے پڑھا ہوگا

آنا مصدر سے ماضی شکیہ کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا ہوگا وہ آئے ہوں گے توآیا ہو گا تم /آپ آئے ہو گے میں آیا ہوں گا ہم آئے ہوں گے
وہ آئی ہوگی وہ آئیں ہوں گی توآئی ہوگی تم/آپ آئیں ہوں گی میں آیا ہوں گا ہم آئیں ہوں گی

۶۔ ماضی شرطی یا تمنائی

ایسا فعل جس میں گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے ساتھ کوئی تمنا یا شرط پائی جائے اُسے ماضی شرطی یا تمنائی کہتے ہیں۔

یا

وہ فعل جس میں گزرے ہوئے زمانے میں کسی ہونے والے کام کے ساتھ تمنا یا شرط پائی جائے تو ایسے فعل کو فعل ماضی تمنائی یا شرطی کہتے ہیں۔

یا

ایسا فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے میں گزرے ہوئے زمانے میں کوئی تمنا یا شرط پائی جائے اُسے ماضی تمنائی یا شرطی کہتے ہیں۔

مثالیں

کاش وہ سچ بولتا، اگر اسلم محنت کرتا تو کامیاب ہو جاتا، حنا کراچی آتی تو چڑیا گھر دیکھتی، کاش تم سبق پڑھتے، اگر انیلا خط لکھتی، اِن جملوں میں بولتا، کامیاب ہو جاتا، دیکھتی، پڑھتے، لکھتی ماضی شرطی یا تمنائی ہیں۔

ماضی تمنائی یا شرطی بنانے کا قاعدہ

ماضی شرطی یا تمنائی بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر کی علامت ”نا“ کو دور کر کے آخر میں ”تا“ بڑھا دیتے ہیں جیسے کھانا مصدر کا ”نا“ دُور کر کے ”تا“ بڑھا دیتے ہیں تو ماضی شرطی یا تمنائی کھاتا بن جاتا ہے۔

ماضی شرطی یا تمنائی کی گردان

دوڑنا یا جانا مصدر سے ماضی شرطی یا تمنائی کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑتا وہ دوڑتے تودوڑتا تم /آپ دوڑتے میں دوڑتا ہم دوڑتے
وہ جاتا وہ جاتے توجاتا تم/آپ جاتے میں جاتا ہم جاتے

لکھنا اور دیکھنا مصدر سے ماضی شرطی یا تمنائی کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لکھتا وہ لکھتے تولکھتا تم /آپ لکھتے میں لکھتا ہم لکھتے
وہ دیکھتا وہ دیکھتے تودیکھتا تم/آپ دیکھتے میں دیکھتا ہم دیکھتے

آنا مصدر سے ماضی تمنائی یا شرطی کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آتا وہ آتے توآتا تم /آپ آتے میں آتا ہم آتے
وہ آتی وہ آتیں توآتی تم/آپ آتیں میں آتی ہم آتیں

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:19, 15 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

اسم صفت[ترمیم]

اسم صفت کا مفہوم

ایسا لفظ جو کسی شخص یا چیز کی خصوصیات بیان کرے اور اُس کی اچھائی یا برائی کو ظاہر کرے اسے اسم صفت کہا جاتا ہے۔

یا

وہ لفظ جو کسی شخص یا چیز کی خصوصیت یا کسی شخص یا چیز کے اچھے اور برے وصف کو ظاہر کرے اُس کو اسم صفت کہتے ہیں۔

مثالیں

ٹھنڈا، گرم، سرخ، بہادر، بزدل، محنتی، وغیرہ

موصوف

جس چیز کی اچھائی یا برائی بیان کی جائے اُسے موصوف کہتے ہیں۔

مثالیں

بہادر آدمی، سیدھی راہ اور ٹھنڈا پانی میں، بہادر، سیدھی اور ٹھنڈا اسم صفت ہیں جبکہ آدمی، راہ اور پانی موصوف ہیں۔

اسم صفت کی اقسام

اسم صفت کی چھ اقسام ہیں

۱۔ صفت ذاتی

۲۔ صفت تفضیلی

۳۔ صفت نسبتی

۴۔ صفت عددی

۵۔ صفت مقداری

۶۔ صفت مقداری معین

۱۔ صفت ذاتی

ایسا صفت جو اپنے موصوف کی ذاتی خصوصیات کو بیان کرے اُسے صفت ذاتی کہتے ہیں۔

یا

وہ اسم جو اپنے موصوف کی ذاتی فضیلت یا خصوصیات کو بیان کرے اُسے صفت ذاتی کہتے ہیں۔ صفت ذاتی کو صفت مشبہ بھی کہتے ہیں۔

مثالیں

دانا، شریف، شریر، بہادر، بزدل، امیر، غریب، دولت مند، وغیرہ

عمران بہت دانا ہے، جھگڑالو آدمی سے بچو، اکرم محنتی لڑکا ہے، فصیح شریف لڑکا ہے۔

اِن جملوں میں دانا، جھگڑالو، محنتی اور شریف اسم صفت ذاتی ہیں۔

۲۔ صفت تفضیلی

صفت تفضیلی کے تین درجے ہوتے ہیں۔

۱۔ تفضیلِ نفسی

۲۔ تفضیل بعض

۳۔ تفضیل کُل

۱۔ صفت تفضیل نفسی

جب کسی دوسرے شخص یا چیز سے مقابلہ کیے بغیر کسی شخص یا چیز کی ذاتی صفت بیان کی جائے تو ایسے صفت کو تفضیل نفسی کہتے ہیں۔

یا

یہ صفت نفسی کا وہ درجہ ہے جس میں کسی شخص یا چیز کا دوسرے سے مقابلہ کیے بغیر موصوف کی صفت بیان کی جاتی ہے۔

مثالیں

ثاقب بہادر لڑکا ہے، منتظرنیک لڑکا ہے۔

اِن جملوں میں بہادر اور نیک تفضیل نفسی ہیں جو صفت کے پہلے درجات ہیں۔

۲۔ تفضیل بعض

جب دو ہم جنس چیزوں کا مقابلہ کرنے کے بعد ایک کو دوسری سے گھٹایا جائے یا بڑھایا جائے تو ایسے صفت کو تفضیل بعض کہتے ہیں۔

یا

یہ صفت ذاتی کا وہ درجہ ہے جس میں کسی خاص صفت کے لحاظ سے ایک موصوف کا دوسرے موصوف سے مقابلہ کرنے کے بعد ایک کو دوسرے سے گھٹایا جائے یا بڑھایا جائے اسے صفت بعض کہتے ہیں۔

مثالیں

اکرم، اسلم سے زیادہ بہادر ہے، عمران، عرفان سے زیادہ نیک ہے۔

اِن جملوں میں زیادہ بہادر، زیادہ نیک تفضیل بعض ہیں اور یہ صفت کے دوسرے درجات ہیں۔

۳۔ تفضیل کُل

یہ صفت ذاتی کا وہ درجہ پے جس میں کسی خاص صفت کے لحاظ سے ایک موصوف کو سب سے بڑھایا جائے تو صفت ذاتی کے اِس درجے کو تفضیل کُل کہتے ہیں۔

یا

جب ایک چیز کو اُس کی تمام ہم جنس چیزوں سے بڑھایا یا گھٹایا جائے تو اسے تفضیل کُل کہتے ہیں۔

مثالیں

عدیل سب لڑکوں سے لائق ہے، اِس طرح زیادہ لائق، بہت لائق، لائق تر تفضیل کُل ہیں۔

۳۔ صفت نسبتی

صفت نسبتی اُس صفت کو کہتے ہیں جو کسی اسم کا کسی شخص، چیز یا جگہ سے تعلق یا نسبت ظاہر کرے۔

یا

صفت نسبتی وہ صفت ہوتی ہے جو کسی شخص یا چیز کا تعلق کسی دوسرے شخص، مقام یا چیز سے ظاہر کرے۔

مثالیں

ایرانی قالین، ترکی ٹوپی، پاکستانیفوج، عربی لباس، پہاڑی چشمہ، ریشم کا کیڑا، پاکستانی، لاہوری۔ عربی وغیرہ

چند صفات نسبتی

اسم صفت نسبتی اسم صفت نسبتی اسم صفت نسبتی
پاکستان پاکستانی لاہور لاہوری سائنس سائنسی
ایران ایرانی عمل عملی ہوا ہوائی
دریا دریائی دہلی دہلوی علم علمی
دُنیا دُنیاوی جسم جسمانی روح روحانی
نور نورانی ارض ارضی یورپ یورپی

۴۔ صفت عددی

صفت عددی اُس اسم صفت کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی گنتی اُس چیز کے رتبے یا درجے کے لحاظ سے معلوم ہو۔

یا

صفت عددی وہ صفت ہوتی ہے جس میں کسی اسم کی تعداد، گنتی یا ترتیب ظاہر ہو۔

مثالیں

عدنان نے پانچ کلو آم خریدے، منتظر نے دس سوال حل کیے، آج چاند کی گیارھویں ہے، اسلم کے پاس نو کتابیں ہیں، عرفان ساتویں جماعت کا طالب علم ہے، یہ کمرا اُس کمرے سے دو گُنا بڑا ہے، عقیل کو لاہور آئے دسواں سال ہے۔ اِن جملوں میں پانچ، دس، گیارھویں، نو، ساتویں، دو گُنا، دسواں صفت عددی ہیں۔

۵۔ صفت مقداری

ایسے تمام الفاظ جو کسی چیز کی مقدار کو ظاہر کریں صفت مقداری کہلاتے ہیں۔

یا

صفت مقداری وہ صفت ہوتی ہے جس میں کسی اسم کی مقدار کو ظاہر کیا جائے۔

مثالیں

انور نے ایک کلو آم خریدے، نیلم کی طبعیت کچھ خراب ہے، تھوڑا انتظر کرو، ایک لٹر دودھ لائو۔ اِن جملوں میں کلو، کچھ، تھوڑا، لٹر صفت مقداری ہیں۔

۶۔ صفت مقداری معین

صفت مقداری معین وہ اسم صفت ہے جو کسی چیز کی معین مقدار کو ظاہر کرے۔

مثالیں

پائو بھر، سیر بھر، کلو بھر وغیرہ

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 03:28, 10 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

اسم مفعول[ترمیم]

اسم مفعول کا مفہوم

ایسا اسم جو اُس شخص یا چیز کو ظاہر کرے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو اسم مفعول کہلاتا ہے۔

یا

جو اسم کسی شخص، چیز یا جگہ کی طرف اشارہ کرے جس پر کوئی فعل یعنی کام واقع ہوا ہو اُسے اسم مفعول کہا جاتا ہے۔ صفں ت کے معنی خوبی کے ہوتے ہیں۔

مثالیں

دیکھنا سے دیکھا ہوا، سونا سے سویا ہوا، رونا سے رویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، سُننا سے سُنا ہوا، وغیرہ۔

اللہ مظلوم کی مدد کرتا ہے، وقت پر بویا گیا بیج آخر پھل دیتا ہے، رکھی ہوئی چیز کام آجاتی ہے، اِن جملوں میں مظلوم، بویا ہوا، رکھی ہوئی اسم مفعول ہیں۔

عربی کے اسم مفعول

عربی میں جو الفاظ مفعول کے وزن پر آتے ہیں، اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

مثالیں

مظلوم، مقتول، مخلوق، مقروض، مدفون وغیرہ

اسم مفعول کی اقسام

اسم مفعول کی دو اقسام ہیں

۱۔ اسم مفعول قیاسی

۲۔ اسم مفعول سماعی

۱۔ اسم مفعول قیاسی

ایسا اسم جو قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہو اسم مفعول قیاسی کہلاتا ہے۔

یا

ایسا اسم جو مقررہ قاعدے کے مطابق بنایا جائے اُسے اسم مفعول قیاسی کہتے ہیں اور اِس اسم کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد لفظ ”ہوا“ بڑھا لیتے ہیں۔

مثالیں

کھانا سے کھایا ہوا، سونا سے سویا ہوا، جاگنا سے جاگا ہوا، رکھنا سے رکھا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا، وغیرہ

۲۔ اسم مفعول سماعی

ایسا اسم جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنے بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو اُسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔ سماعی کے معنی سنا ہوا کے ہوتے ہیں۔

یا

ایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو بلکہ جس طرح اہلِ زبان سے سنا ہو اسی طرح استعمال ہو اسے اسم مفعول سماعی کہتے ہیں۔

مثالیں

دِل جلا، دُم کٹا، بیاہتا، مظلوم، وغیرہ

فارسی کے اسم مفعول سماعی

دیدہ (دیکھا ہوا)، شنیدہ (سنا ہوا)، آموختہ (سیکھا ہوا) وغیرہ

عربی کے اسم مفعول سماعی

مفعول کے وزن پر، مقتول، مظلوم، مکتوب، محکوم، مخلوق وغیرہ

مفعول اور اسم مفعول میں فرق

مفعول

مفعول ہمیشہ جامد ہوتا ہے اور اُس چیز کا نام ہوتا ہے جس پر کوئی فعل (کام) واقع ہوا ہو۔ جیسے عرفان نے اخبار پڑھا، فصیح نے خط لکھا، ثاقب نے کتاب پڑھی، اِن جملوں میں اخبار، خط اور کتاب مفعول ہیں۔

اسم مفعول

اسم مفعول ہمیشہ قاعدے کے مطابق مصدر سے بنا ہوتا ہے۔ جیسے سونا سے سویا ہوا، کھانا سے کھایا ہوا، پڑھنا سے پڑھا ہوا وغیرہ، عربی میں مفعول کے وزن پر آتا ہے: مظلوم، مخلوق، مکتوب وغیرہ یا پھر فارسی مصدر سے بنتا ہے جیسے شنیدن سے شنیدہ، آموختن سے آموختہ وغیرہ

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 02:17, 9 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

اسم فائل[ترمیم]

اسم فائل کا مفہوم

اسم فائل اُس اسم کو کہتے ہیں جو فائل یعنی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور کسی کا اصل نام نہ ہو ۔

یا

وہ اسم جو فائل یعنی کسی کام کرنے والے کی جگہ استعمال ہو۔

یا

اسم فائل وہ اسم ہوتا ہے جو کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرے اور مصدر سے بنے۔

مثالیں

دیکھنا سے دیکھنے والا، ہنسنا سے ہنسنے والا، رونا سے رونے والا، سُننا سے سُننے والا، لِکھنا سے لِکھنے والا وغیرہ

عربی کے اسم فائل

اُردو میں عربی کے اسم فائل بھی استعمال ہوتے ہیں یہ فائل کے وزن پر آتے ہیں مثلاً قاتل (قتل کرنے والا)، عالم (علم دینے والا)، رازق (رزق دینے والا)، حاکم (حکم دینے والا)، عابد (عبادت کرنے والا)، صابر(صبر کرنے والا) وغیرہ

فارسی کے اسم فائل

ہوا باز، پرہیز گار، کارساز، باغبان، کاریگر وغیرہ

اسم فائل کی اقسام

اسم فائل کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں

۱۔ اسم فاعل مفرد

۲۔ اسم فائل مرکب

۳۔ اسم فائل قیاسی

۴۔ اسم فائل سماعی

۱۔ اسم فائل مفرد

اسم فائل مفرد وہ اسم ہوتا ہے جو لفظِ واحد کی صورت میں ہو لیکن اُس کے معنی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوں۔

مثالیں

ڈاکو( ڈاکا ڈالنے والا)، ظالم (ظلم کرنے والا)، چور (چوری کرنے والا)، صابر (صبر کرنے والا)۔ رازق (رزق دینے والا) وغیرہ

۲۔ اسم فائل مرکب

ایسا اسم جو ایک سے زیادہ الفاظ کے مجموعے پر مشتمل ہو اسے اسم فائل مرکب کہتے ہیں۔

مثالیں

جیب کترا، بازی گر، کاریگر، وغیرہ

۳۔ اسم فائل قیاسی

ایسا اسم جو مصدر سے بنے اُسے اسم فائل قیاسی کہتے ہیں۔

کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا، آنا سے آنے والا، دوڑنا سے دوڑنے والا وغیرہ

۴۔ اسم فائل سماعی

ایسا اسم فائل جو مصدر سے کسی قاعدے کے مطابق نہ بنا ہو، بلکہ اہلِ زبان سے سننے میں آیا ہو، اُسے اسم فائل سماعی کہتے ہیں۔

مثالیں

شتربان، فیل بان، گویا، بھکاری، جادو گر، گھسیارا، پیغامبر، وغیرہ

فاعل اور اسم فاعل میں فرق

فاعل

فاعل ہمیشہ جامد اور کسی کام کرنے والے کا نام ہوتا ہے مثلا حامد نے اخبار پڑھا، عرفان نے خط لکھا امجد نے کھانا کھایا، اِن جملوں میں حامد، عرفان اورامجد فاعل ہیں۔

اسم فاعل

اسم فاعل ہمیشہ یا تو مصدر سے بنا ہوتا ہے۔ جیسا کہ لکھنا سے لکھنے والا، پڑھنا سے پڑھنے والا، کھانا سے کھانے والا، سونا سے سونے والا یا پھر اس کے ساتھ کوئی فاعلی علامت پائی جاتی ہے۔ مثلا پہرا دار،باغبان، کارساز، وغیرہ

[3]

[4]

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:36, 7 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

کلمہ کی اقسام[ترمیم]

کلمہ کی تین اقسام ہیں۔

۱۔ اسم

۲۔ فعل

۳۔ حرف

۱۔ اسم

۱۔ اسم اُس کلمہ کو کہتے ہیں جو کسی جگہ، چیز یا شخص کا نام ہو۔

۲۔ اسم وہ کلمہ ہے جو کسی شخص، جگہ یا چیز کے لیے استعمال ہو۔

۳۔ کسی چیز، جگہ یا شخص کے نام کو اسم کہا جاتا ہے۔

مثالیں

پاکستان، کراچی، لاہور،اسلام آباد، فصیح، ثاقب، شاہدہ، منتظر، حنا، پہاڑ، دریا، سمندر، زمین، آسمان، کرسی، میز، قلم، دوات، گھڑی، کمپیوٹر وغیرہ

۲۔ فعل

۱۔ فعل وہ کلمہ ہے جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا زمانے کے لحاظ سے پایا جائے۔

۲۔ فعل اُس کلمہ کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا زمانے کے تعلق سے پایا جائے۔

۳۔ زمانے کے تعلق سے پایا جانے والا ایسا کلمہ جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا پایا جائے فعل کہلاتا ہے۔

مثالیں

سوتا ہے، سوئے گا، کھائے گا، کھاتا ہے، پیتا ہے، پیئے گا، پڑھا لکھا ہے، پڑھے گا، وہ آتا ہے، اسلم آیا، عرفان گیا وغیرہ

۳۔ حرف

۱۔ حرف اُس کلمہ کو کہتے ہیں جو نہ تو کسی چیز کا نام اسم ہواور نہ فعل (کام) کے معنی دے بلکہ دو اسموں کا آپس میں ملانے اور اسم اور فعل کا آپس میں جوڑنے کے لیے استعمال ہو۔

۲۔ حرف وہ کلمہ ہے جو نہ تو اسم ہو اور نہ ہی فعل ہو مگر اسم اور فعل کوآپس میں ملا کر مطلب پورا کرے۔

۳۔ ایسا کلمہ جو نہ تو کسی چیز کا نام ہو اور نہ ہی کسی کام کے کرنے کرنے یا ہونے کے معنی دے بلکہ اسم اور فعل کو جوڑنے کے لیے استعمال ہو حرف کہلاتا ہے۔

مثالی

کی۔ کا۔ کے، کو، تک، پر، سے وغیرہ

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:49, 4 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

لفظ کی اقسام[ترمیم]

لفظ کی دو اقسام ہیں

ا۔ کلمہ

۲۔ مہمل

۱۔ کلمہ

وہ الفاظ جو کچھ معنی رکھتے ہوں اور سُننے والے کی سمجھ میں آسانی سے آ جائیں کلمہ کہلاتے ہیں۔

یا

کلمہ بامعنی لفظ ہوتا ہے یعنی ایسا لفظ جس کے کچھ معنی ظاہر ہوں اُسے کلمہ کہتے ہیں۔

یا

ایسا لفظ جس کے اپنے کچھ مخصوص معنی ہوں کلمہ کہلاتا ہے۔

مثالیں

سیاہ، سفید، پانی، برف، سچ، جھوٹ، سورج، چاند، ستارے، زمین، آسمان وغیرہ

مہمل

ایسے تمام الفاظ جن کے اپنے کچھ معنی نہ ہوں لیکن جب یہ الفاظ کلمہ سے ملیں تو کچھ معنی بناتے ہوں مہمل کہلاتے ہیں۔

یا

ایسا لفظ جس کا اپنا کوئی معنی نہ ہو لیکن ایسا لفظ جوکسی بامعنی لفظ کے ساتھ بات میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے بولا جائے اُسے مہمل کہتے ہیں۔

مثالیں

پانی وانی، بات چیت، جھوٹ موٹ، سودا سلف، کوڑا کرکٹ وغیرہ

اِن میں وانی، چیت، موٹ، سلف، کرکٹ مہمل ہیں جو کوئی معنی نہیں رکھتے۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 00:56, 2 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

=== حروف تہجی ===لفظ

حروف تہجی

الفاظ مختلف حروف سے مل کر بنتے ہیں، اِن حروف کو حروف تہجی کہا جاتا ہے۔

مثال

ا، ب، بھ، پ، پھ، ت، تھ، ٹ، ٹھ، ث، ج، جھ، چ، چھ، ح، خ، د، دھ، ڈ، ڈھ، ذ، ر، ڑ، ڑھ، ز، ژ، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق، ک، کھ، گ، گھ،ل، لھ، م، مھ۔ ن۔ نھ، و ہ، ھ، ء، ی، ے

عربی میں پ، ٹ، چ، ڈ، ڑ، گ، کے حروف تہجی شامل نہیں ہیں۔

اُردو کے حروف تہجی کی تعداد باون ہے۔

انگریزی میں حروف تہجی کی تعداد چھبیس ہے

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:59, 1 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

لفظ[ترمیم]

لفظ

چند حروف کو آپس میں ملانے سے لفظ بنتا ہے۔

یا

چند حروف کو آپس میں ملا کر بولنے یا لکھنے سے لفظ بنتا ہے۔

مثالیں

۱۔ پاکستان لفظ بنتا ہے پ۔ ا، ک، س، ت، ا۔ ن کے حروف کو آپس میں ملانے سے ۔

۲۔ مسلمان لفظ بنتاہے م، س، ل، م،ا، ن کے حروف، کو آپس میں ملانے سے ۔

۳۔ منتظر لفظ بنتا ہے م، ن، ت، ظ، ر کے حروف کو آپس میں ملانے سے۔

۴۔ ایران لفظ بنتا ہے ا، ی، ر، ا، ن کے حروف کو آپس میں ملانے سے ۔

۵۔ شیر لفظ بنتا ہے ش، ی، ر کے حروف کو آپس میں ملانے سے ۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:59, 1 جولا‎ئی 2016 (م ع و)

اسم موصول[ترمیم]

اسم موصول

اسم موصول وہ اِسم ہے جب تک اُس کے ساتھ کوئی جملہ نہ ملایا جائے تب تک اُس کے پورے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔

یا

اسم موصول وہ اسم ہوتا ہے کہ اُس سے بننے والے نامکمل جملے کے ساتھ جب تک دوسرا جملہ نہ ملائیں، جملہ کا مفہوم واضع نہیں ہوتا۔

یا

وہ اسم ہے جب تک اُس کے ساتھ دوسرا جملہ نہ پڑھا جائے جملہ پورے معنی نہیں دیتا۔

مثالیں

جو کچھ، جو کوئی، جس کو، جس نے، جیسے، جس کا، جس کی، جیسا، جن کا، جونسا وغیرہ

مثالیں

جسے بلائو گے وہ آاجائے گا۔

جو چوری کرے گا اُس کا خانہ خراب ہوگا۔

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

جونسی کتاب چاہو لے لو

جس نے محنت کی کامیاب ہوا۔

اِن مثالوں میں جسے، جو، جیسا، جونسی، جس اسم موصول ہیں۔

صلہ

اسم موصول کے بعد جو جملہ آتا ہے اُسے صلہ کہتے ہیں۔

مثالیں

جو کچھ بوئو گے، وہی کاٹو گے۔

جس نے محنت کی، کامیاب ہوا۔

ان جملوں میں بوئو گے اور محنت کی اور کامیاب ہوا صلہ ہیں۔

جواب صلہ

اسم موصول اور صلہ کے بعد جو اگلا جملہ بات کو مکمل کرنے کے لیے آتا ہے اُسے جواب صلہ کہتے ہیں۔

مثالیں

جو کچھ بوئو گے، وہی کاٹو گے

جس نے محنت کی، کامیاب ہوا۔

اِن جملوں میں وہی کاٹو گے اور کامیاب ہوا جواب صلہ ہیں۔

[5]

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:09, 25 جون 2016 (م ع و)

اسم اشارہ[ترمیم]

اسم اشارہ

اسم اشارہ وہ اسم ہے جسے کسی چیز، شخص یا جگہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

یا

اسم اشارہ اُس اسم کو کہتے ہیں جس کو کسی شخص، جگہ یا چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہو۔

یا

اسم اشارہ ایسا اسم ہوتا ہے جس کو کسی چیز، جگہ یا شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مثالیں

یہ لڑکا۔ وہ عورت، یہ میرا قلم ہے، وہ کس کی کتاب ہے؟، وہ کرسی ہے، اُس بچے کا باپ کیا کرتا ہے؟

اِن جملوں میں یہ، وہ اور اُس کے الفاظ لڑکا۔ عورت۔ قلم، کتاب، کرسی اور بچے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں اِن الفاظ کو اسم اشارہ کہتے ہیں۔

مشار“ الیہ

جس چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اُسے مشار“ الیہ کہتے ہیں مثلاٌ اوپر کی مثالوں میں لڑکا، عورت۔ قلم، کتاب، کرسی اور بچہ مشار“ الیہ ہیں۔

اسم اشارہ کی اقسام

اسم اشارہ کی دو قسمیں ہیں۔

۱۔ اشارہ قریب

۲۔ اشارہ بعید

۱۔ اسم اشارہ قریب

نزدیک کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے جو کلمہ استعمال ہوتا ہے اپسے اسم اشارہ قرہب کہتے ہیں۔

یا

وہ کلمہ جو نزدیک کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو اسم اشارہ قریب کہلاتا ہے۔

یا

ایسا کلمہ جو قریب کی چیز، شخص یا جگہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو اسم اشارہ قریب کہلاتا ہے۔

مثالیں

یہ، اِس، اِن، اِسے وغیرہ

یہ بلی ہے۔ اِسے پھل کہتے ہیں، اِن کا نام اسلم ہے، اِس کو چوزہ کہتے ہیں۔

اِن جملوں میں یہ، اِسے، اِن اور اِس قریب کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

۲۔ اسم اشارہ بعید

دُور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے جو کلمہ استعمال ہوتا ہے اُسے اسم اشارہ بعید کیتے ہیں۔

یا

وہ کلمہ جو دُور کی چیزوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو اسم اشارہ بعید کہلاتا ہے۔

یا

ایسا کلمہ جو دُورکی چیز، شخص یا جگہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہو اسم اشارہ بعید کہلاتا ہے۔

مثالیں

وہ، اُس، اُنہیں وغیرہ

وہ کتاب ہے، اُس کی گاڑی کہاں ہے؟، اُنہیں عمارات کہتے ہیں۔

اوپر دیے گئے جملوں میں وہ، اُس، اُنہیں اسم اشارہ بعید ہیں۔

اسم اشارہ اور اسم ضمیر میں فرق

اسم میں ضمیر اور اسم اشارہ میں ایک باریک سا فرق یہ ہے کہ اسم اشارہ میں کسی شخص یا چیز کی طرف آنکھ یا ہاتھ سے اشارہ کیا جاتا ہے جبکہ اسم ضمیر میں کسی چیز کی طرف دِل سے اشارہ کیا جاتا ہے نیز اسم اشارہ کے بعد اس اسم کا لانا ضروری ہے جس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہوتاہے۔ اُسے مشار’‘الیہ کہتے ہیں۔ اسم ضمیر کے بعد کوئی اور اسم نہیں آتا بلکہ وہ خود اسم کی جگہ پر استعمال ہوتی ہے۔

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 01:52, 23 جون 2016 (م ع و)

اسم ضمیر[ترمیم]

اسم ضمیر

ایسے الفاظ جو کسی دوسرے اسم کی جگہ استعمال کیے جائیں اسمائے ضمیر کہلاتے ہیں۔

یا

وہ اسم جو کسی چیز شخص یا نام کی بجائے بولا جائے اسم ضمیر کہلاتا ہے۔

یا

ایسے تمام الفاظ جو کسی اسم کی جگہ بولے جائیں یا انہیں زبان سے بول کردل میں کسی شخص یا چیز کی طرف اشارہ کیا جائے اسم ضمیر کہلاتے ہیں۔

مثالیں

خدا ایک ہے وہ، سب کا مالک ہے۔

اِس مثال میں وہ اسم ضمیر ہے اور خدا مرجع ہے۔

انورایک محنتی لڑکا ہے۔ وہ صبح سویرے اُٹھتاہے۔ اُس نے کبھی غیر حاضری نہیں کی۔ اُسے تمام اساتذہ پیار کرتے ہیں۔

اِس ،ثال میں وہ، اُس نے، اُسے اسمائے ضمیر ہیں جبکہ انور مرجع ہے۔

مرجع

اسم ضمیر جس اسم کی بجائے بولا جائے اسے مرجع کہتے ہیں، اوپر دی گئی مثالوں میں خدا اور انور مرجع ہیں۔

ضمیر شخصی

اسم ضمیر جب کسی شخص کے لیے استعمال ہو تو اسے ضمیر شخصی کہتے ہیں۔

یا

وہ اسم ضمیر جو کسی شخص کے لیے بولا جائے ضمیر شخصی کہلاتا ہے۔

مثال

عرفان آیا اور وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

اس جملے میں وہ کا لفظ ضمیرشخصی ہے۔

ضمیرشخصی کی صورتیں

ضمیر شخصی کی تین صورتیں ہیں۔

۱۔ ضمیر غائب

یہ ضمیر اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہمارے سامنے موجود نہ ہو یعنی غائب ہو۔

یا

یہ ضمیر ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو ہمارے سامنے حاضر نہ ہو یعنی غائب ہو۔

مثالیں

وہ، اُس، اُن، اُنہوں وغیرہ

۲۔ ضمیر حاضر یا ضمیر مخاطباا

یہ ضمیر اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس سے بات کی جائے اِس ضمیر میں ہمارا مخاطب ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے اِس لیے اِس ضمیر کو ضمیر مخاطب بھی کہتے ہیں۔

یا

یہ ضمیر اُس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے ساتھ بات کی جائے اِس ضمیر میں چونکہ ہم بات کرنے والا مخاطب ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے یعنی حاضر ہوتا ہے اِس لیے ا،س ضمیر کو ضمیر حاضر یا ضمیر مخاطب کہتے ہیں۔

مثالیں

تُو، تُم، آپ وغیرہ

۳۔ ضمیر متکلم

یہ ضمیر ہے جس میں بات کرنے والا شخص (متکلم) اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔

یا

ضمیر متکلم اُس ضمیر کو کہتے ہیں جس میں بات کرے والا شخص یعنی متکلم اپنی ذات کے لیے کرتا ہے۔

مثالیں میں، ہم وغیرہ

ضمیر شخصی کی حالتیں

اسم ضمیر شخصی کی مندرجہ ذیل تین شخصی حالتیں ہیں۔

۱۔ حالتِ فاعلی

۲۔ حالت مفعولی

۳۔ حالتِ اضافی

۱۔ حالتِ فاعلی

جب کوئی ضمیر اپنے فاعل کی جگہ استعمال کیا جائے تو ضمیر کی ااِس حالت کو حالتِ فاعلی کہتے ہیں۔

یا

جب کوئی ضمیر اپنے بجائے فاعل کی جگہ پر استعمال ہوتا ہو تو ضمیر کی اِس حالت کو ضمیر کی فاعلی حالت کہتے ہیں۔

مثالیں

وہ، اُس نے، میں، ہم وغیرہ

اکبر کہتا ہے”میں کراچی جائوں گا“

اِس جملے میں ”میں“ ضمیر کی فاعلی حالت ہے۔

طاہربہت نیک ہے وہ بزرگوں کا ادب کرتا ہے۔

اِس جملے میں ”وہ“ ضمیر کی فاعلی حالت ہے۔

ضمیر کی فاعلی حالت کے صیغے

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ، اُس وہ، اُن، انہوں نے تو آپ، تُم میں ہم

گ

۲۔ حالت مفعولی

جب کوئی ضمیر اپنے مفعول کی جگہ استعمال ہوتویہ ضمیر کی حالت مفعولی کہلاتی ہے۔

یا

جب کوئی ضمیر مفعول کی جگہ استعمال ہو تو ضمیر کی اِس حالت کو حالتِ مفعولی کہا جاتا ہے۔

مثالیں

اُسے، اُس کو، تمھیں، تُم کو، مجھے، مجھ کو وغیرہ

وسیم بہت اچھا لڑکا ہے، سب اُسے بہت پیار کرتے ہیں۔

میں تمھارا بھائی ہوں، مجھے صحیح بات بتائو۔

اِن جملوں میں ”اُسے “ اور ”مجھے“ ایسے اسمائے ضمیر ہیں جو مفعول کی جگہ پر استعمال ہوئے ہیں۔ اِس لیے اُنہیں ضمیر کی حالت مفعولی کہتے ہیں۔

ضمیر کی مفعولی حالت کے صیغے

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
اُسے اُنہیں تجھے تُمھیں مجھے ہمیں
اُس کو اُن کو تُجھ کو تُم کو، آپ کو مجھ کو ہم کو

۳۔ حالتِ اضافی

جب کوئی کسی اسم کا کسی شخص یا چیزسے تعلق ظاہر کرے اُسے ضمیر کی حالتِ اضافی کہتے ہیں۔

یا

جو ضمیر کسی شخص یا چیز کا تعلق کسی اسم سے ظاہر کرے اُسے ضمیر کی حالِتِ اضافی کہتے ہیں۔

مثالیں

اُس کا، اُس کے، اُس کی، اُن کا۔ اُن کے، میرا، میرے، ہمارے وغیرہ

۱۔ انور نہایت ذہین لڑکا ہے ”اُس کا حافظہ بہترین ہے“

۲۔ علامہ اقبال عام شاعر نہیں تھے ”اُن کے استاد مولوی میر حسن تھے“

ارشد نے کہا کہ ”میرا بھائی اسکول گیا ہے“

اِن تینوں مثالوں میں ”اس کا“ ”اُن کے “ ”میرا“ ایسے ضمیر ہیں جو مرجع سے اپنا تعلق ظاہر کر رہے ہیں۔ انہیں ضمیر کی اضافی حالت کہتے ہیں۔

ضمیر کی حالتِ اضافی کے صیغے

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
اُس کا اُن کا تیرا تمھارا، آپ کا میرا، ہمارا
اُس کے اُن کے تیرے آپ کے میرے ہمارے
اُس کی اُن کی تیری آپ کی میری ہماری

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیال

شراکتیں) 01:14, 18 جون 2016 (م ع و)

اسم[ترمیم]

اسم کا مفہوم

کسی جگہ شخص یا چیز کے نام کو اسم کہتے ہیں۔

یا

وہ کلمہ جو کسی جگہ، کس شخص یا کسی چیز کا نام ہو اسم کہلاتا ہے۔

یا

اسم وہ کلمہ ہے جو کسی جگہ، چیز یا شخص کا نام ہو۔

مثالیں</big

جگہوں کے اسم

دُنیا، پاکستان، کراچی، لاہور، امریکہ۔ جھنگ، سمندر، دریا، مسجد وغیرہ

اشخاص کے اسم

انور، امجد، اختر۔ رضوان، عمران، سیما، عابدہ، شاہدہ، حنا، انیلا وغیرہ

اشیاء یا چیزوں کے اسم

کرسی، میز، قلم، دوات۔ پینسل، ربڑ، گندم، چاول، کمپیوٹر، ہاکی، پنکھا وغیرہ

اسم کی اقسام

۱۔ اسم جامد

۲۔ اسم مشتق

۳۔ اسم مصدر

۴۔ اسم معرفہ (خاص)

۵۔ اسم نکرہ (عام)

۱۔ اسم جامد

اسم جامد وہ اسم ہے جو نہ تو خود کسی اسم سے بنا ہو اور نہ کوئی اسم اُس سے بن سکے۔

یا

جامد کے معنی ٹھوس یا جما ہوا کے ہوتے ہیں۔ جامد اُس اسم کو کہتے ہیں جو نہ تو خود کسی اسم سے بنا ہو اور نہ ہی اُس سے کوئی اسم بن سکے

یا

وہ اسم ہے جو نہ تو خود کسی کلمہ سے بنا ہو اور نہ ہی کوئی اور کلمہ اُس سے بن سکے۔

مثالیں

میز، کرسی، پنسل، کتاب، قلم، چٹان، چاندی وغیرہ

اسم مشتق

مشتق کے معنی نکلا ہوا کے پوتے پیں۔ اسم مشتق اُس اسم کو کہتے ہیں جو کسی مصدر سے نکلا ہو۔

یا

اسم مشتق وہ اسم ہوتا ہے جو کسی مصدر سے بنا ہو ۔

یا

ایسا اسم جو کسی قاعدے کے مطابق مصدر سے بنایا جائے اُسے اسم مشتق کہتے ہیں۔

مثالیں

پڑھنا سے پڑھائی، پڑھے گا، پڑھتا ہے، لکھنا سے لکھائی، لکھے گا، لکھتا ہے، کھیلنا سے کھیل، کھیلے گا، کھیلتا ہے، دوڑنا سے دوڑنے والا، دوڑے گا، دوڑتاہے وغیرہ

اشعار کی مثالیں

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بھر لانے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

اوپر دیے گئے اشعار میں پانے والا، لانے والا، کھانے والا، آنے والا اسم مشتق ہیں۔

اسم مصدر

اسم مصدر وہ اسم ہوتا ہے جو خود تو کسی اسم سے نہ بنا ہو مگر اُس سے مقررہ قاعدوں کے مطانائبق بہت سے الفاظ بنائے جاسکیں۔ (مصدر کے معنی ہیں نکلنے کی جگہ)

یا

یا

اسم مصدر وہ اسم ہے جو خود تو کسی اسم سے نہ بنا ہو مگر اُس سے مقررہ قاعدوں کے مطابق کئی الفاظ بنائے جاسکیں۔

یا

وہ اسم جو خود تو کسی کلمہ سے نہ بنا ہو لیکن اُس سے بہت سے الفاظ بنائے جاسکیں۔

مثالیں

پڑھنا سے پڑھو، دیکھنا سے دیکھو، بڑھانا سے بڑھائو، بنانا سے بناوٹ، سونگھنا سے سونگھو وغیرہ

اِن میں پڑھنا، دیکھنا، بڑھانا، بنانا، سونگھنا اسم مصدر ہیں

تُم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا

کسی کو خدا کا بیٹا نہ بنانا

قدر کھو دیتا ہے روز کا آنا جانا

اِن میں کھانا، بنانا، آنا، جانا مصدر ہیں۔

مصدر کی پہچان

مصدر وہ اسم ہوتا ہے جو کام کے معنی دیتا ہے لیکن اُس میں کوئی زمانہ نہیں پایا جاتا، اِس سے مقررہ قاعدوں کے مطابق کئی اسم اور فعل بن سکتے ہیں۔ مصدر کی علامت یہ ہے کہ اِس کے آخر میں نہ آتا ہے۔ جیسے پڑھنا، لکھنا، سننا، دیکھنا، رونا، گانا وغیرہ

مصدر کی اقسام بلحاظ بناوٹ

مصدر کی بلحاط بناوٹ دو اقسام ہیں۔

۱۔ مصدر اصلی یا مصدر وضعی

۲۔ مصر جعلی یا مصدر مرکب

۱۔ مصدر اصلی یا مصدر وضعی

جو مصدر خاص مصدری معنوں کے لیے وضع کیے جاتے ہیں۔ انہیں مصدر اصلی یا مصدر وضعی کہا جاتا ہے۔

مثالیں

سونا۔ جاگنا، کھانا، پینا، پڑھنا، لکھنا، دوڑنا، بھاگنا وغیرہ

۲۔ مصدر جعلی یا مصدر مرکب

ایسے تمام مصادر کو جو دوسری زبانوں کے الفاظ کے آخر میں مصدر کی علامت ”نا“ زیادہ کر کے یا دوسری زبانوں کے الفاظ کے بعد اُردو مصدر لگا کر بنا لیے جاتے ہیں۔ انہیں مصدر جعلی یا مصدر مرکب کہتے ہیں۔

مثالیں

تشریف لانا، فلمانا، سیر کرنا، گرمانا، کفنانا وغیرہ

مصدر کی اقسام بلحاظ معنی

مصدر کی بلحاط معنی دو اقسام ہیں۔

۱۔ مصدر لازم

۲۔ مصدر متعدی

۱۔ مصدر لازم

جب کسی مصدر سے بننے والا فعل اپنی تکمیل کے لیے صرف فاعل کو چاہے تو ایسے مصدر کو مصدر لازم کہتے ہیں۔

مثالیں

جیسے آنا، جانا، سونا، دوڑنا وغیرہ اِن مصادر سے یہ جملے بنیں گے۔ اسلم آیا، رضوان گیا، عرفان سویا، لڑکا دوڑا وغیرہ

۲۔ مصدر متعدی

جب کسی مصدر سے بننے والا فعل، فاعل کے علاوہ مفعول کو بھی چاہے تو ایسے مصدر کو مصدر متعدی کہتے ہیں۔

مثالیں

جیسے کھانا، لکھنا، پڑھنا، خریدنا وغیرہ، اِن مصادر سے یہ جملے بنیں گے۔

اختر نے سیب کھایا۔

بشرہ نے خط لکھا۔

ثاقب نے کتاب پڑھی۔

فصیح نے کتاب خریدی۔

متعدی بالواسطہ

ایسے مصادر جو لازم سے متعدی بنا لیے جاتے ہیں۔ انہیں متعدی بالواسطہ کہا جاتا ہے۔

مثالیں

گرنا سے گرانا، جلنا سے جلانا، لکھنا سے لکھانا، پڑھنا سے پڑھانا، کھانا سے کھلانا، دیکھنا سے دیکھانا، سننا سے سنانا وغیرہ

لازم سے متعدی

لازم متعدی لازم متعدی لازم متعدی لازم متعدی لازم متعدی
لڑنا لڑانا اُکھڑنا اُکھاڑنا بُھولنا بُھلانا جلنا جلانا لُٹنا لُٹانا
اُترنا اُتارنا بِکھرنا بِکھیرنا گِرنا گِرانا سمجھنا سمجھانا اُبلنا اُبالنا
برسنا برسانا اُگنا اُگانا نہانا نہلانا گُزرنا گُزارنا بننا بنانا
اُٹھنا اُٹھانا لگنا لگانا جاگنا جگانا چمکنا چمکانا پکنا پکانا
چبھنا چبھونا جھکنا جھکانا لِیٹنا لِٹانا اُچھلنا اُچھالنا بھاگنا بھگانا
ٹوٹنا توڑنا نِکھرنا نِکھارنا اُلجھنا اُلجھانا بیٹھنا بیٹھانا کٹنا کاٹنا
چلنا چلانا دیکھنا دکھانا پِگھلنا پِگھلانا ہنسنا ہنسانا سنورنا سنوارنا
پھرنا پھرانا بچنا بچانا بِکنا بِکانا بولنا بلانا ڈُوبنا ڈُبونا
مرنا مارنا مہکنا مہکانا دوڑنا دوڑانا پھٹنا پھاڑنا ہلنا ہلانا
رونا رُلانا رُکنا روکنا سونا سلانا سلگنا سلگانا پھرنا پھیرنا
سکڑنا سکیڑنا ٹلنا ٹالنا تھکنا تھکانا تڑپنا تڑپانا تیرنا تیرانا
پُھوٹنا پُھوڑنا ڈرنا ڈرانا ملنا ملانا مٹنا مٹانا پہنچنا پہنچانا

متعدی المتعدی

بعض مصادر ایسے ہوتے ہیں جنہیں متعدی سے دوبارہ متعدی بنا لیا جاتا ہے ایسے مصادر کو متعدی المتعدی کہا جاتا ہے۔

مثالیں

سننا سے سنانا، پڑھنا سے پڑھانا، کھانا سے کھلانا، چکھنا سے چکھانا، لکھنا سے لکھوانا، دیکھنا سے دیکھانا، مارنا سے مروانا وغیرہ

متعدی متعدی المتعدی متعدی متعدی المتعدی متعدی متعدی المتعدی
دیکھنا دیکھانا گننا گنانا پکانا پکوانا
مانگنا منگوانا بنانا بنوانا رلانا رلوانا
بلانا بلوانا کہنا کہلانا اُٹھانا اُٹھوانا
دھونا دھلانا اُتارنا اُتروانا کرنا کرانا
پڑھنا پڑھانا کھانا کھلانا بدلنا بدلوانا
مارنا مروانا سُننا سُنانا لکھنا لکھوانا
لوٹنا لٹانا روکنا رکوانا بخشنا بخشوانا
لگانا لگوانا پیسنا پسوانا کاٹنا کٹوانا
چکھنا چکھانا جلانا جلوانا سیکھنا سکھانا

۴۔ اسم معرفہ (خاص)

وہ اسم جو کسی مخصوص شخص، جگہ یا چیز کو ظاہر کرے اسم معرفہ یا اسم خاص کہلاتا ہے۔

یا

اسم معرفہ کو اسم خاص بھی کہتے ہیں، ایسا اسم جو کسی مخصوص شخص، جگہ یا چیز کا نام ہو اسے اسم معرفہ کہتے ہیں۔

یا

یا ایسا اسم جو کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کے لیے بولا جائے اسم معرفہ کہلاتا ہے۔

مثالیں

قائداعظم، تاج محل، مسجد اقصٰی۔ ابن مریم، غارحرا، کراچی، لاہور وغیرہ

شعر کی مثال

اِک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو

لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند

اس شعر میں لاہور، بخارا اور سمرقند اسم معرفہ ہیں۔

اسم معرفہ کی اقسام

۱۔ اسم علم

۲۔ اسم ضمیر

۳۔ اسم اشارہ

۴۔ اسم موصول

۵۔ اسم نکرہ (عام)

ماخذ

عربی زبان کالفظ اِس + مے + نَکِرَہ۔ اسم عام۔

تعریف

وہ اسم جو غیر معین شخص یا شے (اشخاص یا اشیا) کے معانی دے اسم نکرہ کہلاتا ہے ــ

یا

وہ اسم جو کسی عام جگہ، شخص یا کسی چیز کے لیے بولا جائے اسم نکرہ کہلاتا ہے اس اسم کو اسم عام بھی کہتے ہیں۔

مثالیں

اشخاص: لڑکا، لڑکی، گلوکار، مالی،اسلم، انور وغیرہ۔

جانور: بلی، چوزے، مرغی، بطخ، چڑیا وغیرہ۔

چیزیا شے : کتاب، کرسی، میز، پنکھا، گھڑی، ٹیلی فون وغیرہ۔

جگہ: پہاڑ، دریا، شہر، قصبہ، گاؤں، وغیرہ۔

اسم نکرہ کی اقسام

۱۔اسم ذات

۲۔ اسم حاصل مصدر

۳۔ اسم حالیہ

۴۔ اسم فاعل

۵۔ اسم مفعول

۶۔ اسم استفہام

Muطابقhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 00:29, 22 جون 2016 (م ع و)

اسم علم[ترمیم]

اسم علم

علم کے لغوی معنی علامت اور نشان کے ہیں علم کے ایک اور معنی جاننا کے بھی ہیں لیکن گرائمر کی زبان میں علم سے مراد وہ خاص نام ہیں جو مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے بولے جاتے ہیں اور مختلف اشخاص کی پہچان کے لیے علامت کا کام دیتے ہیں۔

یا

وہ خاص نام جس سے کوئی شخص جگہ یا چیز پکاری جائے اسم علم کہلاتا ہے۔

مثالیں

سید الشہدا، شمس الملعاء، کلیم اللہ، قائداعظم، ابن مریم، حمیرا، اسلام آباد، پنجاب، کلو، کلن وغیرہ

ااسم علم کی اقسام

۱۔ خطاب، ۲۔ تخلص، ۳۔ لقب، ۴۔ عرف، ۵۔ کنیت

خظاب

خطاب سے مراد وہ اعزازی نام ہے جو کسی شخص کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان یا قوم کی طرف سے دیا جائے۔

یا

خطاب سے مراد وہ نام ہے جو کسی شخص کی عزت بڑھانے کے لیے اُس کی خاص خوبی کی بنا پر قوم یا حکومت کی طرف سے دیا جائے۔

مثالیں

قائد اعظم، علامہ، شمس العلماء، کلیم اللہ وغیرہ

شمس العلماء مولوی نذیر احمد نے اصلاحی ناول لکھے۔

قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی تھے۔

رستم الزماں گاما پہلوان ایک نامور پہلوان تھا۔

انِ مثالوں میں شمس العلماء، قائد اعظم، رستمِ الزماں خطاب ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی طرف سے خطابات کی بجائے اعزازات دیے جاتے ہیں۔

مثالیں نشانِ حیدر، ہلالِ جرات، ستارہ جرات، ستارہ خدمت، ستارہ پاکستان وغیرہ

تخلص

تخلص اُس نام کو کہتے ہیں جو شاعر اپنے اصلی نام کی بجائے شعروں میں استعمال کرتے ہیں۔

یا

تخلص ایسا مختصر نام ہوتا ہے جو شاعر اپنے اصلی نام کی جگہ شعروں میں استعمال کرتے ہیں۔

تخلص عموماٌ آخری شعر میں استعمال ہوتا ہے۔

مثالیں

اسد اللہ غالب، مولانا الطاف حسین حالی، مولانا محمد حسین آزاد وغیرہ

اِن مثالوں میں غالب، حالی اور آزاد تخلص ہیں۔

لقب

وہ خاص نام جو کسی خاص خوبی کی وجہ سے مشہور ہوجائے اسے لقب کہتے ہیں۔

یا

لقب ایسا خاص نام ہوتا ہے جو کسی خاص خوبی یا وصف کی وجہ سے مشہور ہوجائے۔

مثالیں

خلیل اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لقب ہے آپ اللہ کے دوست تھے۔

کلیم اللہ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے آپ اللہ سے کوہ طور پر ہمکلام ہوئے۔

ذبیح اللہ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا لقب ہے، آپ نے اللہ کی راہ میں ذبح ہونا قبول کیا۔

سید الشہدا، حضرت امام حسین علیہ السلام کا لقب ہے آپ اللہ کی راہ میں میدانِ کربلا میں شہید ہوئے۔

داتا گنج بخش، سید علی ہجویری کا لقب ہے۔

بت شکن، محمود غزنوی کا لقب ہے جس نے ہندوستان میں سترہ حملے کیے اور سومنات کے مندر میں بُتوں کو توڑا۔

عرف

وہ نام جو اصلی نام کی جگہ محبت یا حقارت کی وجہ سے مشہور ہوجائے عرف کہلاتا ہے۔

ہا

ایسا نام جو کسی محبت یا حقارت کی وجہ سے لوگ، اہلِ محلہ یا گھر والے پکارتے ہیں عرف کہلاتا ہے۔

مثالیں

کالے خان کو کلن، غلام محمد کو گاما، معراج دین کو ماجھا، نعمان کو مانی، کاشان کو کاشی، شاہدہ کو شادو وغیرہ

اِن مثالوں میں کلن، گاما، ماجھا، مانی، کاشی، شادو عرف ہیں۔

کنیت

وہ نام جو باپ، ماں، بیٹے، بیٹی یا کسی اور تعلق کی وجہ سے بولا جائے اُسے کنیت کہتے ہیں۔

ایسا نام جو باپ، ماں، بیٹا، بیٹی کی نسبت سے پکارا جائے کنیت کہلاتا ہے۔

مثالیں

حضرت ابوطالب کے بیتے کا نام طالب تھا، آپ بیتے کی وجہ سے طالب کہلائے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا نام مریم تھا، اِس لیے آپ ابنِ مریم کہلائے۔

ام سلمیٰ اور ام حبیبہ بھی کنیت ہیں۔

[6]

Muhammad Tehseen Abidi (تبادلۂ خیالشراکتیں) 23:54, 16 جون 2016 (م ع و)

  1. آئینہ اردو قواعد و انشاء پرزادی
  2. آئینہ اردو
  3. اسم
  4. اسم نکرہ
  5. اسم معرفہ
  6. اسم بلحاظ قسم