لال شہباز قلندر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عثمان مروندی
An original view of Laal Shahbaz Qalandar on 29-04-2012.JPG
مذہب اسلام
سلسلہ سلسلہ قلندری
سلسلہ قادریہ
دیگر اسما لال شہباز قلنددر
ذاتی تفصیل
پیدائش 538ھ بمطابق 1177ء
مروند، افغانستانFlag of افغانستان
انتقال 673ھ بمطابق 1274ء
سیہون شریف، پاکستان Flag of پاکستان
مزید معلومات
شہر سیہون شریف
خطاب شہباز
دور بارہویں/ تیرہویں صدی
پیشرو بہاؤالدین زکریا ملتانی
جانشین بودلہ بہار[1]

لال شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) جن کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ تھے۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری، صدر الدین عارف (فرزند بہاؤ الدین زکریا)، شیخ بو علی قلندر پانی پتی ان کے قریباً ہم عصر تھے۔[2]

ولادت باسعادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 538ھ بمطابق 1143ء آذر بائیجان کے علاقے مروند (موجودہ افغانستان) میں ہوئی۔[3]

سلسلہ نسب[ترمیم]

لال شہباز قلندر کا سلسلہ شجرہ نسب تیرہ واسطوں سے جعفر صادق تک پہنچتا ہے۔آپ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے:
”سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سید محمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق“۔[4]

القاب کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھی اور سرخ کپڑے زیب تن کرنے کی وجہ سے آپ کا لقب لعل ہوا۔شہبازکا لقب امام حسن نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا کہ ہم تمہیں اپنے نانا سے عطا ہوا تھا اس وجہ سے ”شہباز“ لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے۔

القاب:
•لعل (سرخ کپڑوں کی وجہ سے)
•شہباز (خلافت ملنے کے سبب)
•سیف اللسان (جو ارشاد فرماتے پورا ہوجاتا)
•قلندر (سلسلہ قلندری)
•شمس الدین (تبلیغ اسلام کے صلہ میں)
•مہدی[5]
•مخدوم (علوم ظاہری و باطنی میں مہارت کی وجہ سے)

شجرۂ طریقت[ترمیم]

لال شہباز قلندر کا شجرہ طریقت حکیم فتح محمد سیوہانی نے اپنی تصنیف۔”قلندرنامہ“ میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

حضرت قلندر مروندی سیوہانی کا سلسلہ قلندری حضرت امام زین العابدین کے واسطے سے سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔کیونکہ یہ سلسلہ سید جمال سے حضرت علی بن موسیٰ رضا، امام جعفر صادق، امام زین العابدین اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم سے ہوتا ہوا سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتا ہے۔[6]

اس کے علاوہ بہت سے تذکرہ نگاروں نے آپ کا سلسلہ طریقت قادریہ بتایا ہے۔دارالشکوہ کا جو شجرہ طریقت ”تذکرہ الفقرہ“ میں درج ہے۔ وہ عثمان مروندی کے واسطے سے شیخ عبدالقادر جیلانی سے مل جاتا ہے۔

دارالشکوہ مرید ملا شاہ خشی مرید میاں میر سیوہانی حضرت خضر سیوہانی مرید شاہ سکندر مرید خواجہ خانی مرید سید علی قادری مرید حضرت مخدوم سید عثمان مروندی قلندر شہباز مرید شاہ جمال مجرد مرید ابواسحاق ابراہیم مرید مرتضیٰ سبحانی مرید حضرت احمد بن مبارک مرید حضرت سید عبدالقادر جیلانی حمۃ الله علیہم اجمعین۔[7]

حصولِ تعلیم[ترمیم]

حضرت عثمان بن کبیر المعروف شہباز قلندر تعلیم ابتدائی طور پر حسب معمول اسلامی بنیادیں اصول کے تحت تھی۔[8]

شہباز قلندر نے محض سات سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد اپ نے بہت ہی قلیل عرصے میں مروجہ عربی و فارسی علوم میں بھی مکمل دسترس حاصل کرلی۔

لال شہباز قلندر کی قابلیت اور عربی دانی کے سلسلے کا یہ ایک واقعہ بہت مشہور ہے:

حضرت لعل شہباز قلندر جب ملتان میں تشریف لائے تو اس زمانہ میں غیاث الدین بلبن تخت نشین تھا۔غیاث الدین بلبن عارفوں اور علماء کرام کا بہت بڑا قدردان تھا۔ جب اس نے قلندر شہباز کی آمد کی خبر سنی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی تعظیم بجالایا، وہ آپ کے لئے بیش بہا تحائف بھی لایا۔جس سے اس کی عقیدت آپ کے ساتھ بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔تحائف پیش کرنے کے بعد اس نے آپ سے درخواست پیش کی کہ آپ ملتان میں قیام کریں [9][10]۔مگر آپ نے قیام ملتان کے سلسلہ میں معذرت کرلی۔

اس دوران سلطان محمد نے ایک عربی سرود کی مجلس کا اہتمام کیا۔اس مجلس میں حضرت غوث العالم غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی، کے فرزند ارجمند حضرت حضرت صدرالدین عارف ملتانی بھی موجود تھے۔یہ دونوں بزگان یعنی لعل شہباز قلندر اور عارف ملتانی عالم وجد میں رقص کرنے لگے اور خود سلطان محمد کا بھی یہی عالم تھا۔[11][12][13][14]

ابتدائی حالات[ترمیم]

آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ ان کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی بڑی عزت تھی۔ آپ سرخ لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے انہیں لال کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جھولے لال بھی کہا جاتا تھا۔

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ میں ہوا۔[15]لیکن ان کے وصال کو لے کر اختلاف پایا جاتا ہے مختلف کتب میں مختلف تاریخ وصال درج ہیں۔کسی میں 590ھ کسی میں 669ھ، 670ھ لکھا ہے۔ مگر ”فاضل مئولف“ نے اپنی تصنیف میں ”شہباز قلندر“ کے صفحہ 41 پر تاریخِ وصال کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ عثمان مروندی کا سنہ وصال 673ھ ہے، اس سلسلہ میں فاضل مئولف نے ایک شعر بطور ثبوت پیش کیا ہے جو روضہ قلندر پاک کی دیوار پر لکھا ہوا ہے:

چوں رفتہ سری جفاں آں شیخ کو زہدہ آل و پاک نام است
از ھاتف غیبت شنید ند عثمان بہ دروازہ امام است

(661 + 13 = 673ھ بمطابق 1274ء)[16]

مزار اور عرس[ترمیم]

ان کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے۔

مزار پر حادثہ[ترمیم]

16 فروری 2017 کو لعل شہباز قلندر مزار خودکش حملہ میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور 550 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ميمن عبدالغفور سندھی،”عظيم سنڌي انسان“(سندھی کتاب)، عنوان: بـــــودلـــــو بــهــــار رح (1238ع – 1298ع)، مطبوعہ ماڈرن بُک اسٹور لاڑکانہ
  2. سید ارتصیٰ علی کرمانی، سیرت پاك حضرت عثمان مروندی، عنوان؛ حضرت عثمان مروندی کے چند ہمعصر بزرگ۔صفحہ 54، مطبوعہ عظیم اینڈ پبلشرز لاہور
  3. حکیم فتح محمد سیوہانی،”قلندر نامہ“۔صفحہ۔3
  4. خدا داد خان، ”لب تاریخ سندھ“، صفحہ۔6
  5. نواب سید صدیق حسن،کتاب: حج الکرامته فی آثار القیامه
  6. حکیم فتح محمد سیوہانی، ”قلندر نامہ“۔ تمام صفحات
  7. ”تذکرہ الفقرہ“، دارالشکوہ کا شجرہ طریقت
  8. سید ارتضیٰ علی کرمانی، سیرت پاك حضرت عثمان مروندی، صفحہ۔30۔ مطبوعہ لاہور
  9. محمد وحید مراد، The Life of Andworhs of Amirkhusrau۔صفحہ 47
  10. تحفتہ الکرام، جلد سوئم،صفحہ۔36
  11. تاریخ فیروز، شاہی برنی، سید احمد خان ایڈیشن،صفحہ 48 اور 67
  12. تاریخ معصومی،صفحہ۔40
  13. لب تاریخ سندھ، صفحہ۔35
  14. مآثر الکرام، جلد اول، صفحہ 85-287
  15. فیضان عثمان مروندی لعل شہباز قلندر، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی
  16. فاضل مئولف، ”شہباز قلندر“، صفحہ۔41