میاں شیر محمد شرقپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شیر محمد شرقپوری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
میاں شیر محمد شرقپوری
معلومات شخصیت
مقام پیدائش شرقپور شریف، برطانوی ہند
مقام وفات شرقپور شریف، برطانوی ہند،
(موجودہ ضلع شیخوپورہ، پنجاب، پاکستان)
رہائش شرقپور شریف، برطانوی ہند،
(موجودہ ضلع شیخوپورہ، پنجاب، پاکستان)
مذہب اہل سنت
عملی زندگی
دور 1865ء1928ء
وجۂ شہرت سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ

میاں شیر محمد شرقپوری المعروف شیرِ ربانی (پیدائش: 1865ء— وفات: 20 اگست 1928ء) سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے اجل اور صاحب کرامت ولی اللہ ہو گزرے ہیں پنجاب کے ان اولیا کرام میں سے ہیں جنہوں نے سلسلہ نقشبندیہ میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔

میاں شیر محمد بن میاں عزیز الدین بن محمد حسین بن حافظ محمد عمر بن محمد صالح بن حافظ محمد بن حافظ ہاشم 1282ھ/ 1865ء کو شرقپور میں پیدا ہوئے۔ انہیں سائیں شیر محمد شرقپوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میاں شیرمحمد شرقپوری پاک و ہند کے ان صوفیا کرام میں سے تھے جنہوں نے اس صدی میں اپنی قوت روحانی اور عظمت کردار کی بدولت لاکھوں گم کردہ راہ لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا ان کا ہر لمحہ سنت نبوی کے مطابق گذرتا تھا۔خلا ف سنت و شریعت فعل انہیں دیکھنا بھی برداشت نہ ہوتا تھا پاکستان میں جن بزرگوں کی علمی و باطنی تبلیغ سے نقشبندی سلسلہ کو آخری دور میں فروغ حاصل ہوا ان میں میاں شیر محمد شرقپوری کا بڑا حصہ ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے چچا میاں حمیدالدین سے حاصل کی اور اس کے بعد طریقہ نقشبندیہ مجددیہ میں خواجہ امیر الدین سے بیعت ہوئے ۔ان کا سلسلہ طریقت حضرت مجددالف ثانی تک پہنچتا ہے۔

میاں صاحب کی ساری زندگی اتباع شریعت کی تبلیغ میں صرف ہوئی ۔ سائیں صاحب نے 3 ربيع الأول 1347ھ/ 28 اگست 1928ء بروز پیروفات پائی۔[1]

ولادت[ترمیم]

میاں شیر محمد شیرربانی آپ پیدائشی ولی تھے۔ 1282ھ 1865ء میں پیدا ہوئے ولادت کے ساتویں دن آپ کا نام شیر محمد رکھا گیا۔ ذات کے ارائیں تھے۔ کھیتی باڑی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ میاں شیر محمدکی ولادت سے قبل ایک مجذوب بزرگ شر قپور شریف میں تشریف لائے اور اکثر آپ کے گھر کے گرد چکر لگاتے ہوئے لمبے لمبے سانس لیتے جیسے کہ کوئی خوشبو سونگھتا ہے جب اُن سے پوچھا جاتا تو کہتے کہ اس گھر سے دوست کی خوشبو آ رہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہوگا اسی طرح آپ کی ولادت سے قبل خواجہ امیر الدین نے اکثر شرقپور شریف جانا شروع کر دیا تاکہ اس با برکت بچے کو نسبت نقشبندیہ سے مستفیض فرمائیں۔

آباؤ اجداد[ترمیم]

میاں شیر محمد المعروف شیرربانی کے آباؤ اجداد کابل افغانستان سے ہجرت کر کے پنجاب ہندوستان آئے اور پہلے وہ دیپالپور میں مقیم ہوئے پھر زمانے کے انقلاب نے خاندان کے بعض بزرگوں نے شہر قصور میں رہائش اختیار کی۔ آپ کے جد اعلیٰ مولوی غلام رسول جن دنوں حجرہ شاہ مقیم میں سکونت رکھتے تھے ویدیوؤں نے اس علاقہ پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا اس دوران مولوی غلام رسول کو بھی گرفتار کر لیا گیا ان کی قید سے جب رہائی ملی تو حجرہ شاہ مقیم سے شرقپور شریف تشریف لے آئے اور اس مقام پر مستقل سکونت اختیار کی۔۔ آپ کے والد ماجد کا نام میاں عزیز الدین تھا۔ قادری طریق میں بیعت تھے نہایت نیک سیرت اور پاک طینت بزرگ تھے رہتک میں ملازمت کرتے تھے اور وہیں پر ان کا انتقال ہوا۔ علم وہنر کے سبب شہر کے روسا ان کے حلقہ بگوش ہو گئے اور انہیں مخدوم کے لقب سے یاد کرنے لگے۔ دین کی تدریس و تبلیغ کے سوا اس خاندان کا کوئی مشغلہ نہیں تھا۔۔ وہ محنت و مشقت کی روزی پر یقین رکھتے تھے اس لیے اپنی کتابوں اور قرآن پاک کی کتابت کرتے تھے۔ قرآن پاک کا حفظ اس خاندان کی روایت تھی۔ حالات کچھ معمول پر آئے تو ان میں چند بزرگ دیپال پور واپس چلے گئے مگر خاندان کے باقی لوگوں کو قصور کی آب وہوا اور اس کے لوگ ایسے پسندآئے کہ وہ وہیں کے ہوکے رہ گئے۔ میاں عزیز الدین کے نانا مولوی غلام رسول کو قصور کے باشندے بے حد عزیز رکھتے تھے۔ مولوی غلام رسول تپاک، انکسار، دیانت اور زہد وتقوی میں ایک مثال تھے۔ وہ حافظ ہونے کے علاوہ خطاط بھی تھے۔ لوگ اپنے دینی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ان ہی سے رجوع کرتے تھے۔

القاب و خطابات[ترمیم]

میاں شیر محمد کوعاشق ربانی ،شیر یز دانی، عارفِ اکمل اور شیر ربانی کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے

بچپن[ترمیم]

میاں شیر محمدشرقپوری مادر زاد ولی اللہ تھے جو کوئی آپ کو دیکھتا تو بے اختیار کہہ دیتا کہ آپ مادرزاد ولی اللہ ہیں۔ آپ کا بچپن عام بچوں کی طرح نہ تھا آپ بچپن سے ہی گوشہ نشینی کو پسند فرماتے تھے بچوں کے ساتھ کھیلتے کودتے نہ تھے آپ کی حیا کا یہ عالم تھا کہ چھوٹی سی عمر میں بھی جب کبھی محلّہ سے گزرتے تو سر مبارک پر چادر اوڑھے ہوئے ہوتے محلّہ کی عورتیں آپ کی نگاہ کی پاکیزگی اور حیاء کی قدر کرتی تھیں۔ بچپن سے ہی آپ کی پیشانی مبارک سے نور ولایت ہویدا تھا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کو قرآن حکیم پڑھنے کی غرض سے مکتب میں داخل کرایا گیا تو آپ نے بہت جلد قرآن حکیم پڑھ لیا ماں اور چچا کی نگرانی میں آپ نے گھر میں ناظرہ قرآن ختم کیا۔ چچا نے آپ کو شرقپور کے اسکول میں داخل کروایا۔ اسکول کی فضا آپ کے لیے نئی تھی، ماں اور چچا کی خواہش پر آپ پابندی سے اسکول تو چلے جاتے مگر وہاں آپ کا جی نہیں لگتا تھا۔۔ چچا آپ کی بے دلی پر ہراساں ہو گے۔ آپ کے اساتذہ بتاتے کے آپ جماعت میں گم صم بیٹھے رہتے ہیں۔ آپ کا عجب عالم تھا چھٹی کی گھنٹی بجتی تو سب بچے کھیل کود میں مشغول ہو جاتے لیکن آپ مسجد کا رخ کرتے اور وہاں جاکر سرجھکائے تنہا بیٹھے رہتے۔ بہر صورت کسی نہ کسی طرح آپ نے پانچویں جماعت پاس کر لی۔ چچا کو احساس ہو گیا کہ مدرسہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے مستقل طور پر آپ کے نگاہوں کے سامنے رکھنا شروع کر دیا اور فارسی کی درسی کتب سے ابتدا کی۔ دادا حافظ محمد حسین نے بھی توجہ کی اور قرآن کا آموختہ کرایا۔ آپ کا یہ حال تھا کہ جب سپارہ پڑھنے کو دیا جاتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے سپارہ بھیگ بھیگ کر چند روز میں خستہ ہو جاتا۔ دادا آپ کی اشک فسانی کی وجہ پوچھتے تو جواب سکوت کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ دادا اور چچا کی درخواست پر شہر کے ایک عالم حکیم شیر علی نے آپ کو کتابوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے اب بھی کتابوں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہ کیا۔ ہاں آپ کو خوشنویسی سے ضرور کسی قدر رغبت ہوئی۔ مدرسے ہی میں آپ حروف و الفاظ کو ایک کہنہ مشق خطاط کی طرح نئی نئی شکلیں دینے لگے تھے۔ آپ نے مختلف خطوں میں قرآن پاک لکھنے کی مشق کی۔ آپ کی مکتوبہ بیاضیں اور قرآنی نسخے دیکھ کر بڑے بڑے کاتب نقاش اور خطاط انگشت بہ لب رہ جاتے تھے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کام نو مکتب کا کیا ہوا ہے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

بابا امیر الدین نقشبندی کوٹلہ سے شرقپور آتے اکثر آپ کے والد صاحب کے ہاں ٹھہرتے ان کے روحانی تصرف کے زیر اثر آپ نے ان سے بیعت کی اور کافی عرصہ تک جذب و سکر کی کیفیت طاری رہی جب مرشد نے عروج دیکھا تو خلافت بھی عطا فرمانے کا ارادہ کیا لیکن آپ کافی عرصہ تک انکاری رہے بالاخر مرشد کے اصرار پر قبول فرمایا اور ان کے حکم پر ہی شرقپور کو اپنی قیام گاہ بنایا اور روحانی سلسلہ آج تک قائم ہے

اتباع سنت[ترمیم]

میاں شیر محمد شرقپوری زندگی کے تمام معمولات میں شریعت مطہرہ کی پیروی کا خاص طور پر خیال رکھا کرتے تھے اگر کوئی آپ کی مجلس پاک میں آلتی پالتی مار کر بیٹھتا تو آپ اس پر خفا ہوتے اور فرماتے لوگوں کو بیٹھنے کا طریقہ بھی نہیں آتا پہلے بیٹھنے کا طریقہ تو سیکھنا چاہیے آپ دو زانو ہوکر بیٹھنے کو پسند فرماتے تھے۔ آپ اتباع نبوع ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اتباع سنت میں گزاری اور اپنے پیروکاروں کی بھی یہی درس دیا کہ زندگی کے ہر فعل میں سنت نبوی کی اتباع کرو۔ آپ جامع علوم ظاہری وباطنی تھے۔ آپ علم، ریاضت، مجاہدہ، زہد، جودوسخا اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ گویا کہ آپ اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور ولی کامل تھے۔ آپ کی برکت سے کئی مردہ دل نور الہی سے منور ہوئے ہیں اور آج بھی آپ کا ذکر اور نام بڑی عقیدت وارفتگی سے لیا جاتا ہے۔

ارشادات عالیہ[ترمیم]

میاں شیر محمد کے ارشادات عالیہ سے بھلائی اور اچھائی کا درس ملتا ہے آپ کا معمول تھا کہ آپ ہر آنے والے کو تلقین و ہدایت فرمایا کرتے تھے اور شریعت مطہرہ کے مطابق زندگیاں گزارنے کا سبق دیتے تھے ذیل میں اسی حوالے سے آپ کے چند ارشادات عالیہ بیان کیے جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ

  • 1۔ اپنے سالن کی وجہ سے ہمسایہ کو تکلیف نہ دو اگر کوئی لذیذ سالن پکاؤ تو پہلے ہمسایہ کے گھر بھیج دہ جس شخص سے اس کا ہمسایہ ناراض ہو اس سے اللہ اور رسول ناراض ہو جاتے ہیں۔
  • 2۔ لوگوں کو لا الہ اِلا اللہ پر پورا یقین نہیں ہے اگر یقین ہو تو اعمال درست ہوجائیں۔
  • 3۔ ہر کام کو کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔
  • 4۔ توجہ یہ چیز ہے کہ مرید صادق کا خیال مرشد کی طرف ہو اور شیخ کا خیال مرید کی طرف ہو یہ ضروری نہیں کہ سامنے بٹھا کر خیال کیا جائے۔
  • 5۔ جب کسی طالب صادق کی طرف خیال کیا جاتا ہے خواہ وہ طالب کہیں ہو ہوا میں سے گزرتا ہوا وہ خیال اُس تک پہنچ جاتا ہے۔
  • 6۔ دیوار کی ایک ایک اینٹ بھی صاحب فکر کے لیے بڑا وعظ ہے مگر انسان غفلت میں غرق ہے۔
  • 7۔ جو پیر جبراً مریدوں کے گھر میں قیام کرتے ہیں وہ ظالم تھانیداروں سے کم نہیں ہیں۔
  • 8۔ توکل بڑی مشکل چیز ہے کوئی ہم سے پوچھے کہ توکل کے راستہ میں کون کون سے امتحان ہوتے ہیں۔
  • 9۔ عید تو تب ہے جب دل اللہ تعالیٰ کی طرف عود کرے ورنہ عید کیسی۔

وفات[ترمیم]

میاں شیر محمد شرقپوری سوموار 3 ربیع الاول 1347ھ 20 اگست 1928ء بعد نماز عصر اس عالم فانی سے عالم باقی کی طرف رحلت فرما گئے۔ نصف شب کے وقت آپ کو غسل دیا گیا اور صبح کے وقت آپ کا جنازہ اٹھایا گیا نماز جنازہ صاحبزادہ محمد مظہر قیوم جانشین مکان شریف نے پڑھائی ہزاروں عقیدت مند نماز جنازہ میں شامل تھے آپ کو دوہڑاں والے قبرستان شرقپور شریف میں دفن کیا گیا۔ آپ کے مزار اقدس پر روزانہ لاتعداد عقیدت مند حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور روحانی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسلامی انسائیکلوپیڈیا، جلد 22، صفحہ 990
  2. تذکرہ مشائخ نقشبند،نور بخش توکلی صفحہ 732تا 746 ناشر مشتاق بک کارنر لاہور
  3. تاریخ و تذکرہ خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ شرقپور شریف،ص 34 تا77 محمد نذیر رانجھا،پورب اکادمی اسلام آباد