Jump to content

"حزقی ایل" کے نسخوں کے درمیان فرق

3,604 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
مضمون میں اضافہ کیا ہے
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
حضرت حزقیل عرصہ دراز تک بنی اسرائیل میں تبلیغ حق کرتے اور ان میں دین و دنیا کی راہنمائی کا فرض انجام دیتے رہے۔
 
=== قرآن اور حزقیل (علیہ السلام) ===
قرآن عزیز میں حزقیل نبی کا نام مذکور نہیں ہے لیکن سورة بقرہ میں بیان کردہ ایک واقعہ کے متعلق سلف صالحین سے جو روایات منقول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق حضرت حزقیل (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہے۔
کتب تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور بعض دوسرے صحابہ سے یہ روایت منقول ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت سے جب ان کے بادشاہ یا ان کے پیغمبر حزقیل (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ فلاں دشمن سے جنگ کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ اور اعلائے کلمۃ اللہ کا فرض ادا کرو تو وہ اپنی جانوں کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے اور یہ یقین کر کے کہ اب جہاد سے بچ کر موت سے محفوظ ہوگئے ہیں دور ایک وادی میں قیام پذیر ہوگئے۔
اب یا تو پیغمبر نے ان کے اس فرار کو خدا کے حکم کی خلاف ورزی یا قضا و قدر کے فیصلہ سے روگردانی سمجھ کر اظہار ناراضی کرتے ہوئے ان کے لیے بددعا کی یا خود اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ حرکت ناگوار ہوئی۔ بہرحال اس کے غضب نے ان پر موت طاری کردی اور وہ سب کے سب آغوش موت میں چلے گئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ان پر حضرت حزقیل (علیہ السلام) کا گزر ہوا تو انھوں نے ان کی حالت پر اظہار افسوس کیا اور دعا مانگی کہ الٰہ العٰلمین ان کو موت کے عذاب سے نجات دے تاکہ ان کی زندگی خود ان کے لیے اور دوسروں کے عبرت و بصیرت بن جائے۔ پیغمبر کی دعا قبول ہوئی اور وہ زندہ ہو کر نمونہ عبرت و بصیرت بنے۔ ٣ ؎
<ref>(٣ ؎ تفسیر ابن کثیر جلد ٢ ص ١٣٤ و روح المعانی جلد ٢ صفحہ ١٣٠ و تفسیر کبیر جلد ٢ صفحہ ٢٨٣)</ref>
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ اسرائیلی جماعت داوردان کی باشندہ تھی جو شہر واسط سے چند کوس پر اس زمانہ کی مشہور آبادی تھی اور یہ فرار ہو کر انیح کی وادی میں چلے گئے تھے وہیں ان پر موت کا عذاب نازل ہوا۔
قرآن عزیز میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :
{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ ھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِص فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْاقف ثُمَّ اَحْیَاھُمْط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ } <ref>(البقرۃ : ٢/٢٤٣)</ref>
(اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے ہزاروں کی تعداد میں نکلے پھر اللہ نے فرمایا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ کردیا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “