لاہور کی عزاداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لاہور میں عزاداری کے واضح اور مستند شواہد حضرت داتا گنج بخش اور بیبیاں پاکدامناں کے علاوہ شاہ حسین زنجانی اور حضرت میاں میر کے عہد میں بھی ملتے ہیں اور پھر ملا احمد ٹھٹھوی اور قاضی نور اللہ شوشتری کے عہد میں بھی عزاداری پورے اہتمام سے تھی۔ تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہونے کی بجائے اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو لاہورمیں پرانے شہر میں اندرون موچی دروازے کا علاقہ اہمیت کا حامل ہے، جہاں کا محلہ شیعاں دنیا بھر میں عزاداری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ موچی دروازے ہی کی نثار حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے جہاں قزلباش خاندان نے 1800 کے اوائل میں محرم کی مجالس کرنا شروع کیں اور اب ماڈل ٹاؤن کے جامعہ المنتظر اور اس سے آگے راۓ ونڈ روڈ تک پھیلی نئی آبادیوں میں قائم عزا خانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں علم اور ماتمی جلوس نکالے جا رہے ہیں۔

تفصیل[ترمیم]

نواب خاندان میں نواب مظفر علی قزلباش کو مقبولیت ملی کیونکہ وہ پنجاب کے وزیر اعلی بھی رہے۔ اس خاندان کی اہم شخصیت نواب رضا خان تھے جن کے اجداد میں سر نوازش علی خان نواب آف لاہور قرار پائے اور انکا انتقال 1890ء میں ہوا اور عزاداری کا کام انکے چھوٹے بھائی نواب ناصر علی کے ذمے آیا جو 1898ء میں انتقال کر گئے، جسکے بعد یہ انتظام نواب فتح علی کے ذمے تھا اور یہیں سے لاہور میں عزاداری کا عروج شروع ہوتا ہے۔ آج بھی لاہور میں نثار حویلی کا جلوس وقت کے اعتبار سے طویل ترین جلوس ہے جو 24 گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے کے بعد بھاٹی دروازے میں گامے شاہ پر ختم ہوتا ہے۔ مصطفیٰ علی ہمدانی نے ریڈیو پاکستان کے لئے تیار کئے جانے والے دستاویزی پروگرام میں بتایا تھا کہ گامے شاہ اور مائی گاماں دراصل دونوں مجذوب تھے، جو عاشور کے دن سر پر گتے کا تعزیہ رکھ کر کرشن نگر سے داتا دربار تک آتے تھے جہاں اس وقت دریائے راوی بہتا تھا اور یہاں تعزیہ ٹھنڈا کر دیتے تھے۔ جب بابا گامے کا انتقال ہوا تو اسے داتا دربار کے عقب میں دفن کیا گیا اور اس کا نام گامے شاہ پڑ گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نواب ناصر علی خان کے علاوہ اردو ادب کے ایک شہنشاہ مولانا محمد حسین آزاد کا بھی مزار موجود ہے۔

لاہور کا دوسرا بڑا تاریخی مرکز وسن پورہ میں ہے جہاں عزاداری کی بنیاد مولانا سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا جامعہ المنتظر کھلا تھا جو بعد میں ماڈل ٹاؤن منتقل ہو گیا۔ کیسے کیسے نابغہ روزگار علماء اور ذاکرین تھے جو کسی مفاد اور تمنا کے بغیر ذکر امام کرتے تھے۔ خطابت اور ذاکری میں کمرشل ازم نہیں آیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ شیعہ سُنی کا کوئی فرق معلوم نہیں تھا۔ سب مسلمان کیا بلکہ غیر مسلم بھی کربلا والوں کا غم مل کر منایا کرتے تھے۔ جب علامہ حائری مجلس پڑھتے علامہ اقبال سننے آتے۔ پرانے دریائے راوی کے کنارے سے کچھ دور آباد ہونے والی اس بستی میں لاہور کی اہل تشیع کی پہلی جامعہ مسجد علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم نے تعمیر کروائی تھی۔ علامہ سید علی الحائری کا خاندان عشروں تک یہاں رہا ہے۔ مصطفیٰ ہمدانی کے فرزند صفدر ہمدانی کہتے ہیں کہ وسن پورہ میں ہمارے گھر کا دروازہ اور مسجد علامہ حائری کا دروازہ بالکل آمنے سامنے تھے اور اسکے میناروں سے 5 وقت اذان کی آواز دور دور تک مسلمانوں کو حیی علی الفلاح اور حیی علی الصلٰوۃ کی دعوت دیتی تھی۔ یہ کوئی صدیوں پہلے کی بات نہیں بلکہ چند عشروں پہلے کی بات ہے جب ہم ابھی بچے تھے اور نوجوانی کی طرف قدم بڑھا رہے تھے کہ وسن پورہ سمیت لاہور کے کتنے ہی ایسے علاقے تھے جہاں عزاداری فروغ پا رہی تھی اور ان تمام علاقوں میں سُنی اور شیعہ کا کوئی فرق نہیں تھا۔ سب مسلمان شیعہ سُنی مل کر نواسہ رسول کا غم مناتے تھے۔

علامہ حافظ کفایت حسین قبلہ کی مجالس میں بعض اوقات اہل تشیع سے زیادہ تعداد اہل سنت کی ہوتی تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی؟ شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی نے تو یہ سچی بات یہاں تک کہی تھی کہ ‘‘ کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین‘‘۔ ہم اس بات میں کیوں اچنبھا محسوس کرتے ہیں کہ کربلا والوں کی یاد میں ہونے والی مجالس میں اہل سنت بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ صفدر ہمدانی کہتے ہیں کہ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے محلے میں ایک مسیحی خاندان رہا کرتا تھا جس کے سربراہ مرحوم ماسٹر رلیا رام تھے اور پھر انکے بیٹے آر سی سوڈھی پورے محلے میں ایک استاد کے طور پر بڑی عزت سے دیکھے جاتے تھے اور انہی سوڈھی مرحوم کا بھائی ‘‘جان کرسٹوفر‘‘ جو بعد میں میجر ہو کر پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوا اور آج کل برطانیہ میں ناٹنگھم کے علاقے میں مقیم ہے وہ جان کرسٹوفر بھی، ہم سب شیعہ سنی افراد کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتا تھا اور کبھی کبھی اہل تشیع دوستوں کے ساتھ ماتم بھی کیا کرتا تھا۔ یہی نہیں جان کرسٹوفر رمضان میں ہمارے ساتھ مل کر روزہ بھی رکھتا تھا۔

یہ تو صرف ایک مثال ہے جس کا گواہ میں خود ہوں اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہوں گی جہاں مختلف مسالک کے لوگ نہیں بلکہ سب مسلمان مل کر نواسہ رسول کی قربانی کی یاد مناتے ہوں گے۔ یہ ساری تباہی اور بربادی جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں پروان چڑھی، جس نے اپنی حکومت بچانے کے لئے مسالک کے درمیان نفرتوں کو فروغ دیا اور پھر یہ نفرتیں اس قدر بڑھیں کہ صحابہ اور آلِ محمد کی تعلیمات کے برعکس سپاہ صحابہ بنی جنہوں نے اسلام کی وہ خدمت کی کہ غیر مسلم کہنے لگے کہ مسلمانوں کے خلاف رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ خود ہی اپنے آپ لڑ لڑ کے مر جائیں گے۔ یہ ساری تفرقہ بازی کس نام پر ہوئی؟ اسلام کے نام پر کہ جس کا خمیر ہی امن و سلامتی سے اٹھا ہے۔[1]۔[2]. [3]

علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلماء مولانا ابوالقاسم کو دراصل پہلی بار نواب قزلباشوں نے ہی مجلس خوانی کے لئے لاہور مدعو کیا تھا اور یہ بات 1800ء کے درمیانی عشروں کی ہے۔ پھر اسی زمانے میں وسن پورہ میں جو ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا، علامہ حائری کے والد ابوالقاسم نے وسن پورہ کی زمین خریدی تھی اور یہیں پر اہل تشیع کی لاہور میں باقاعدہ پہلی جامع مسجد علامہ حائری کا قیام عمل میں آیا اور علامہ قاسم نے مختصر پیمانے پر ایک مدرسہ اور کتب خانہ بھی قائم کیا اور اسی مسجد میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا جہاں 9 محرم کو ذوالجناح کا جلوس نکلنا شروع ہوا اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔ شمس العلماء مولانا ابوالقاسم کی وفات 1906ء میں ہوئی جس کے بعد یہ سب انتظام انکے بیٹے علامہ سید علی الحائری نے سنبھالا اور انکی وفات کے بعد علم کا یہ در اس خاندان میں بند ہو گیا لیکن علامہ حائری کے بیٹوں نے مسجد میں نماز اور عزاداری کا سلسلہ قائم رکھا۔

علامہ حائری کے بیٹوں میں آغا سید رضی، آغا سید ذکی اور آغا سید تقی سب وفات پا چکے ہیں اور اب یہ خاندان لگ بھگ سارے کا سارا وسن پورہ چھوڑ کر لاہور کی جدید آبادیوں میں مقیم ہو چکا ہے۔ علامہ سید علی الحائری کی تین بیٹیاں تھیں جن میں محترمہ سائرہ جن کے شوہر آغا سید رضی تھے جو کالا شاہ کاکو کے حادثے میں فوت ہوئے تھے۔ محترمہ ذکیہ جن کے شوہر آغا سید حامد حسین تھے انہوں نے 70 کے عشرے میں لاہور گلبرگ میں مجالس کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ علامہ حائری کی سب سے چھوٹی بیٹی عالیہ تھیں جنکے شوہر سید تقی تھے جنہیں ہم سب آغا بابا کہتے تھے۔ صفدر ہمدانی کہتے ہیں کہ یہاں ایک اور تاریخی حقیقت کی طرف صرف اشارہ کرتا چلوں جو مجھے میرے والد مرحوم مصطفی علی ہمدانی نے بتائی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے لاہور کی عزاداری کی تاریخ کے موضوع پر بنائی جانے والی ریڈیو لاہور کے اس واحد دستاویزی پروگرام میں کیا تھا جو شاید اب ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں بھی موجود نہ ہو حالانکہ اس پروگرام کو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سنٹرل پروڈکشن کے آرکائیو رجسٹر میں درج کیا تھا۔

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ لاہور کے 10 محرم کے تاریخی جلوس کا جو راستہ ہم گذشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں دراصل یہ وہ (روٹ) راستہ نہیں ہے جو ابتداء میں تھا۔ 1850ء کے عشرے میں موچی دروازے سے 10 محرم کے ذوالجناح کا پہلا جلوس مبارک حویلی سے نکلا تھا کیونکہ اس وقت نثار حویلی الگ نہیں تھی۔ یہ تو بعد میں 1928ء میں خاندانی تنازعوں اور جائیداد کی تقسیم کی وجہ سے عمل میں آئی اور یہ جلوس نثار حویلی سے نکلنے لگا۔ بر سبیل تذکرہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے عرض ہے کہ کوہ نور ہیرا ایک زمانے میں اس مبارک حویلی میں بھی رکھا گیا تھا۔ مرحوم شاہد نقوی نے بھی اپنی تحقیقی کتاب‘‘عزاداری‘‘ میں اس تاریخی جلوس کا جو راستہ لکھا ہوا ہے وہ بھی موجودہ راستہ ہے۔ ابتدا میں 10 محرم کی نصف شب میں نثار حویلی سے برآمد ہو کر نماز فجر تک محلہ شیعاں میں پہنچتا، جہاں فجر کی نماز ادا کی جاتی اور پھر یہاں سے لال کھوہ سے ہوتا ہوا جلوس کیلیاں والی سڑک پر نکل جاتا جسے آج کل برانڈرتھ روڈ کہا جاتا ہے۔

اس کیلیاں والی سڑک سے جلوس سیدھا انار کلی کے باہر سے ہوتا ہوا بھاٹی دروازے پہنچتا تھا جہاں سے داتا دربار کے عقب میں کربلائے گامے شاہ میں اسی جگہ اختتام پذیر ہوتا تھا جہاں آج تک ہوتا ہے۔ اس طرح اس بڑے اور کشادہ راستے پر اس تاریخی عظیم الشان جلوس کی شان ہی کچھ اور ہوتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ 1958ء میں جب وہ اس وقت کے مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے تو حکومت کے ارباب بست و کشاد نے انہیں اس راستے کو تبدیل کرنے کو کہا۔ سیاست اور سیاست دانوں کی اپنی دنیا اور اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ نواب مظفر علی خان قزلباش نے اپنی چیف منسٹری کے زمانے میں اس راستے کو تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور آج یہ تاریخی جلوس اندر ہی اندر تنگ و تاریک گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا کربلائے گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور باہر دنیا کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا بڑا اور کیسا تاریخی جلوس ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد خاندان نواباں کے نواب مظفر علی خان واحد آدمی تھے جو سیاست میں آنے کے باعث معروف ہوئے اور انکے بعد انکی بیٹی افسر رضا قزلباش، نواب مظفر علی سیاستدان کے طور پر پہلے یونینسٹ، پھر مسلم لیگی اور پھر ریپبلکن پارٹی میں رہے اور اسی پارٹی کے جھنڈے تلے 1957ء میں وزیراعظم اسماعیل چندریگر کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔ اسی سن میں وزیراعظم فیروز خان نون کی حکومت میں صنعت، تجارت اور پارلیمانی امور کے وزیر رہے اور 18 مارچ 1958ء میں مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے اور سکندر مرزا کے مارشل لاء تک اس عہدے پر تھے۔ پھر ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل یحییٰ کے مارشل لاء میں نواب مظفر علی خان 4اگست 1969ء سے 22 فروری 1971ء تک وزیر خزانہ رہے۔[4].[5]

1958ء کے بعد سے اب تک اس جلوس کا راستہ یہ ہے کہ نثار حویلی سے نکلنے کے بعد محلہ چہل بیبیاں سے ہوتا ہوا محلہ شیعاں کی مسجد میں پہنچتا ہے جہاں اذان اور نماز فجر کے بعد زنجیر زنی ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ جلوس چوہٹہ مفتی باقر، چوک مسجد وزیر خان، کشمیری بازار، ڈبی بازار، چوک رنگ محل، گمٹی بازار، پانی والا تالاب، تحصیل بازار اور بازار حکیماں سے ہوتا ہوا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔ بازار حکیماں وہی جگہ ہے جہاں 1933ء اور 1935ء کے درمیان سر مراتب علی شاہ نے امام باڑہ سیدہ مبارک بیگم تعمیر کروایا جہاں لاہور کی قدیمی اور معروف مجالس منعقد ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔ اسی علاقے میں کوچہ فقیر خانے میں امام باڑہ فقیر سید حسن الدین بھی معروف ہے۔ شہر کے اندر ہی اندر اس جلوس کے نکلنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ 3 یا 4 بار بہت شدید شیعہ سنی فسادات اسی جلوس کے موقع پر اندرون شہر میں ہوئے۔ 1963ء میں بھاٹی دروازے کی اونچی مسجد سے ذوالجناح پر اینٹوں کی بارش کی گئی جس سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور لاہور شہر کی فضا کافی عرصے تک خراب رہی۔

ایک زمانہ تھا جب لاہور میں واحد ذوالجناح نوابین کا تھا لیکن پھر الف شاہیوں اور آغا شاہ زمان نے بھی ذوالجناح رکھنے شروع کئے اور 2008ء میں لاہور میں 60 سے زیادہ ذوالجناح تھے اور شہر میں 7 محرم کو 7 ذوالجناح نکلنے کی روایت بدستور قائم ہے۔ لاہور شہر کے طول و عرض میں 1000 سے زیادہ مقامات پر مجالس امام حسین کا سلسلہ محرم کی پہلی شب سے شروع ہو کر چہلم امام تک جاری رہتا ہے اور اسی طرح لاہور میں کربلا گامے شاہ بھی محرم کی مجالس کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ موچی دروازہ میں مبارک اور نثار حویلی اور وسن پورہ کی مسجد علامہ حائری کے علاوہ ہزاروں عزاء خانوں میں سے چند نام اس طرح ہیں۔ رباط حیدریہ موچی دروازہ، حسینہ حال جس کا پرانا نام امام باڑہ تکیہ نتھے شاہ تھا، امام باڑہ ارسطو جاہ رجب، امام باڑہ سید واجد شاہ، امام باڑہ کشمیریاں، امام باڑہ شیر گڑھیاں، امام باڑہ غلام علی اور ڈپٹی غلام حسن، امام باڑہ رضا شاہ صفوی، امام باڑہ ایوب شاہ، امام باڑہ لال حویلی، امام باڑہ خواجگان نارووالی، امام باڑہ جعفر علی میر، امام باڑہ قصر سکندر، امام باڑہ غریب نینوا، امام باڑہ امیر پہلوان اور اکبر شاہ، امام باڑہ سیدے شاہ اور خواجہ علی محمد، امام باڑہ بازار حکیماں اور تکیہ میراثیاں، امام باڑہ مائی عیداں، حسین منزل، مبارک بیگم، کاشانہ رضویہ، گامے شاہ، ایرانیاں، حسینیہ پاک نگر، مرزا نتھا، ڈاکٹر ریاض علی شاہ (جہاں لاہور میں صبح کی سب سے پہلی مجلس ہوتی ہے) امام باڑہ علی مسجد، قصر حسن، مسجد نور، رشی بھون، شیخ سعادت علی، سید اظہر حسن زیدی، عطیہ اہلبیت، دربار حسینی، بھوگیوال، ریلوے بیرکس، بی بی پاک دامناں، قصر زہرہ، آغا شاہ زمان، امام باڑہ مظفر علی شمسی، حافظ کفایت حسین، کرنل فدا حسین، سجادیہ، خواجہ ذوالفقار علی، امامیہ ہال، خیمہ سادات، بیت السادات، باغ گل بیگم، قصر بتول، سید شوکت حسین رضوی، سادات منزل، گلستان زہرا، خانہ زینبیہ، نجف منزل، شاہ نجف گلبرگ، اسد بخاری، میڈم نور جہان، مراتب علی شاہ، علی رضا آباد، کلسی ہاؤس، زیدی ہاؤس، پانڈو اسٹریٹ، بلاک سیداں، بلتستانیہ، جامعۃ المنتظر، سیٹھ نوازش علی، کوٹھے پنڈ، مرزا محمد عباس، مومن پورہ، باٹاپور، سید حسن عباس زیدی، وجاہت عطرے، عالم شاہ، سیدن شاہ، جیا موسٰی، کٹرہ ولی شاہ، الف شاہ دلی دروازہ، سوڈیوال، شاہ خراسان، محلہ داراشکوہ، حویلی میاں خان، لال پُل مغلپورہ اور کاشانہ شیخ دولت علی۔

لاہور میں اردو مجالس کے علاوہ فارسی، عربی، پنجابی اور کشمیری مجالس کا بھی رواج رہا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ختم ہو چکا ہے یا پھر شاید کسی ایک جگہ پر جاری ہو۔ کشمیری مجالس کا رواج تو ابھی ستر کے عشرے کے آواخر تک خوب تھا اور کشمیری ذاکرین میں موسیٰ شاہ اور احمد علی کو بہت مقبولیت تھی۔ اسی طرح لاہور میں جن علماء نے اپنے علم و فضل کے چراغ روشن کئے ان میں مہدی خطائی، ملا ابراہیم، ملا معصوم، ملا فقیر اللہ، عماد الدین، راجو بن حامد، ابوالقاسم حائری، سید علی الحائری، شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی، آغائے بارھوی، ارسطو جاہ سبزواری، شمس العلماء سید سردار حسن، علامہ ابن حسن نو نہروی، علامہ ہندی، سید کلب حسین، ضمیر الحسن نجفی، حافظ کفایت حسین اور لکھنؤ کے علامہ نقی عرف نقن میاں، حافظ ذوالفقار علی، مولانا اظہر حسن زیدی، فاتح ٹیکسلا مولانا بشیر، ابن حسن نجفی، مرزا یوسف حسین اور ضامن حسین، مولانا ظفر مہدی، حافظ سیف اللہ، اسماعیل دیوبندی، مرتضیٰ حسین فاضل، نصیر الاجتہادی، مفتی جعفر حسین، مولانا اختر عباس، علامہ طیب الجزائری، مولانا اکبر عباس اور افسر عباس، سید محمد جعفر زیدی، محبوب ہمدانی اور سید ظفر حسین کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی فہرست میں ایک نام غلام الحسنین ‘‘پنڈت نیک رام‘‘ کا ہے جنہیں سننے کی سعادت ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ عشق شبیر کی لو کب اور کہاں بھڑک اٹھے کچھ علم نہیں ۔ اسی کا اعجاز پنڈت نیک رام تھے جو ہندو سے شیعہ ہوئے تھے اور پھر انہوں نے اپنی ساری زندگی فضائل و مصائب آل محمد بیان کرنے میں گزار دی۔

اسی طرح سے لاہور میں، ذاکرین، مرثیہ نگاروں، شعرائے اہلبیت، سلام ،سوز اور نوحہ خوانوں کی بھی ایک نہایت طویل فہرست ہے جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ منظور حسین برا، ریاض حسین موچھ، سائیں اختر حسین، حامد علی بیلا، بشیر علی ماہی، رجب علی، سید ناصر جہان، نذر حسین، پرویز مہدی، میر ناظم حیسن ناظم، شکور بیدل، اداکار محمد علی، منظور جھلا، سید نازش رضوی، آفتاب حسین لکھنوی، فیروز علی کربلائی، مشیر کاظمی، فیروز علی کربلائی، ظہور حیدر جارچوی، کاظمی برادران، سہیل بنارسی، سید جرار حسین، سید محسن علی، امانت علی، فتح علی، پیارے خان، حسین بخش گلو، چھوٹے غلام علی، شوکت علی، غلام علی، ڈاکٹر صفدر حسین، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، حکیم احمد شجاع، قیصر بارھوی، وحید الحسن ہاشمی، پروفیسر مسعود رضا خاکی، میر ناظم حسین ناظم، سیف زلفی، ظفر شارب، جعفر طاہر، جوش ملیح آبادی اور ایسے ہی کتنے ناموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

مرثیہ تحت اللفظ کے بعد اب جیسے علماء اور جید خطبا کا عہد ختم ہو چکا ہے اور مجالس پڑھنے والوں میں کمرشل ازم کے رواج نے علمی اور فکری مجالس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب محرم کی مجالس میں مقبول ذاکروں، نوحہ خوانوں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز بڑی تعداد میں رواج پا گئی ہیں اور پہلی محرم سے کیبل آپریٹرز نے چند چینلوں کو دن رات کے لیے مسلسل مجالس اور نوحہ خوانی کے پروگراموں کے لیے مخصوص کر دیا ہے جو محرم کی تقریبات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اسی طرح ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی ریکارڈ شدہ مجالس کے ساتھ ساتھ براہ راست یعنی لائیو مجالس کا نشر کرنا بھی رواج پا گیا ہے۔ محرم کی مجالس کا بنیادی پہلو تو مذہبی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کہ لاہور شہر کی تہذیبی روایات بھی اس میں گہری پیوست ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی نذر نیاز اور لاکھوں لوگوں کے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے کاروبار کو جو فروغ ملتا ہے وہ اس کا ضمنی پہلو تو ہے لیکن کم اہم نہیں۔[6].[7]

حوالہ جات[ترمیم]