سونی تارا پور والا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سونی تارا پور والا
Sooni Taraporevala.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1957 (عمر 64–65 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی
ٹیش اسکول آف دی آرٹس  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منظر نویس،  فلمی ہدایت کارہ،  فوٹوگرافر،  فوٹوگرافر صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سونی تارا پور والا (پیدائش 1957) بھارتی فوٹوگرافر ، منظر نگاراور فلمساز ہیں۔ انہوں نے میسیسیپی مسالہ، دی نیمسیک اور آسکر کے لیے نامزد سلام بومبے کی منظر نگاری کی تھی۔ ان سب کی ہدائتکارہ میرا نائر تھیں۔[5] انہوں نے روہنٹن مستری کے ناول سچ اے لانگ جرنی (2000) کو بھی فلم کی کہانی میں ڈھالا۔ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکار ان کی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم تھی۔ لٹل زیزو کے ساتھ ساتھ ان کی تازہ ترین فلم یہ بیلے (2020) جو بنیادی طور پر نیٹ فلکس کے لیے بنی اس فلم کی کہانی بھی انہوں نے لکھی اور پھر اس کی ہدایتکاری بھی انہوں نے خود ہی کی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

تارا پور والا 1957ء میں بھارت کے شہر ممبئی میں ایک پارسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی اسکول کی تعلیم کوئین میری اسکول ممبئی سے مکمل کی۔ انہیں انڈر گریجویٹ پروگرام کے لیے ہاورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے وظیفہ ملا۔ اگرچہ انہوں نے انگریزی اور امریکی ادب میں گریجوئیشن کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلم سے متعلق بے شمار کورس کیے اور الفریڈ گزیٹی سے فلم سازی کا بھی کورس کیا۔ اس دوران ان کی ملاقات میرا نائر سے ہوئی جب وہ گریجوئیشن کر رہی تھیں۔ یہ ملاقات ان کی طویل المدت دوستی اور دونوں کی مشترکہ تخلیقات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ گرییجوئیشن کے بعد انہوں نے نیویارک یونیورسٹی کے شعبہ تعلیمات سینیما میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1981ء میں فلمی نظریہ اور تنقید میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد وہ ہندوستان لوٹ آئیں اور فری لانس ساکت عکاس (فری لانس اسٹل فوٹو گرافر)کی حیثیت سے کام شروع کیا۔

وہ 1988ء میں واپس لاس اینجلس آ گئیں اور یہاں انہوں نے منظر نگاری شروع کی۔ انہوں نے بہت سے اسٹوڈیو کے لیے مکالمے اور منظر نامے لکھے جن میں یونیورسل، ڈزنی اور ایچ بی او جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔ 1992ء میں وہ ایک بار پھر سے ہندوستان واپس لوٹ آئیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6fb6tst — بنام: Sooni Taraporevala — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. Photographers' Identities Catalog ID: https://pic.nypl.org/constituents/389127 — بنام: Sooni Taraporevala — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. Le Delarge artist ID: https://www.ledelarge.fr/27609_artiste_TARAPOREVALA_Sooni — بنام: Sooni TARAPOREVALA — ISBN 978-2-7000-3055-6
  4. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 7 مارچ 2020
  5. Viets، Alexandra (12 October 1994). "From Hollywood Back to Bombay". نیو یارک ٹائمز.