حماد بن ابو حنیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امام حماد بن امام اعظم بلند پایہ فقیہ، تقوی و پرہیزگاری، فضل وکمال، علم و دانش اور جود سخا میں اپنے والد ماجد کا عکس جمیل تھے۔ امام اعظم نے آپ کی تعلیم و تربیت نہایت اہتمام سے فرمائی، مشہور ہے کہ الحمد کے ختم پر آپ کے معلم کو ایک ہزار درہم عنایت فرمائے۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کے بعد امام حماد نے حدیث و فقہ کی تحصیل والد ماجد سے کی اور اس میں کمال مہارت پید اکی۔ جب امام اعظم نے اپنے اس لائق اور ہونہار لخت جگر کو علوم و فنون میں کامل پایا تو مسند افتاء پر متمکن ہو نے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ آپ نے نہ صرف فتوی نویسی کے اہم فریضہ کو بڑی خوش اسلوبی سے سر انجام دیا بلکہ تدوین کتب فقہ میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا اور امام ابو یوسف، امام محمد، امام زفر، امام حسن بن زیاد وغیرہ ارشد تلامذہ امام اعظم کے طبقہ میں شمار ہوئے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آپ نہایت متقی و متورع انسان تھے، جب امام اعظم نے وصال فرمایا تو گھر میں لوگوں کی بہت سی امانتیں ایسی بھی تھیں جن کے مالک مفقود الخبر تھے، آپ نے وہ تمام مال و اسباب امانتوں کی صورت میں قاضی وقت کے سامنے پیش کر دیا۔ قاضی صاحب نے بہت اصرار کیا کہ ابھی اپنے پاس رہنے دیجیئے، آپ امین مشہور ہیں اور بہتر طریقے سے اس کی حفاظت کر سکتے ہیں، مگر آپ نے قاضی سے اعتذار کرتے ہوئے تمام مال و اسباب کی فہرست پیش کر دی اور ساتھ ہی فوری عمل در آمد کے لیے کہہ دیا تاکہ ان کے والد ماجد بری الذمہ ہوں، کہتے ہیں کہ جب تک وہ امانتیں قاضی نے کسی اور کے اہتمام میں نہیں دیں،آپ نظر نہیں آئے۔

امام حماد نے اپنی عمر تعلیم و تعلم میں صرف فرمائی، آپ سے آپ کے بیٹے اسمعیل نے تفقہ کیا جن سے عمرو بن ذر، مالک بن مغول، ابن ابی ذئب اور قاسم بن معین وغیرہ جلیل القدر فقہا و محدثین فیض یاب ہوئے۔ امام اسماعیل بن حماد بن امام اعظم پہلے بغداد بعدہ بصرہ اور پھر رقہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ احکام قضا، وقائع و نوازل میں ماہر باہر اور عارف بصیر تھے۔ محمد بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ عمر کے زمانے سے آج تک کوئی قاضی اسمعیل بن حماد سے اعلم نہیں ہوا۔ آپ بہ عہد خلیفہ مامون الرشید 212 ھ میں جوانی کے عالم میں فوت ہوئے، اسی فرزند ارجمند کے نام سے امام حماد نے ابو اسمعیل کنیت پائی۔ امام حماد قاسم بن معین کی وفات کے بعد کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔

وفات[ترمیم]

ماہ ذی القعدہ 176 ھ میں انتقال فرمایا۔ قطب دنیا 176 ھ آپ کی تاریخ وفات ہے، آپ نے عمر، اسماعیل ابو حبان و عثمان چار صاحبزادے چھوڑے جو علم و فضل میں یگانہ روز گار تھے۔ تصانیف میں مسند الامام الاعظم آپ کی یادگا ر ہے ۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انوار امام اعظم۔ مصنف مولانا محمد منشا تابش قصوری
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔