سیرت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

فہرست

سیرت کا لغوی مفہوم [ترمیم]

اردو اور فارسی سیرت ، عربی سیرۃ کا لفظ عربی زبان کے جس مادے اور فعل سے بنا ہے اس کے لفظی معنی ہیں چل پھرنا، راستہ لینا، رویہ یا طریقہ اختیار کرنا، روانہ ہونا، عمل پیرا ہونا وغیرہ۔ اس طرح سیرت کے معنی حالت، رویہ، طریقہ، چال، کردار، خصلت اور عادت کے ہیں۔ اس سے اردو میں تعمیر سیرت، سیرت سازی، پختگی سیرت، نیک سیرت، بد سیرت اور حسن سیرت وغیرہ کے الفاظ مستعمل ہیں۔
لفظ سیرت واحد کے طور پر اور بعض دفعہ اپنی جمع سیر کے ساتھ اہم شخصیات کی سوانح حیات اور اہم تاریخی واقعات کے بیان کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ مثلاً کتابوں کے نام سیرت عائشہ یا سیرت المتاخرین وغیرہ۔
کتب فقہ میں السیر جنگ اور قتال سے متعلق احکام کے لیے مستعمل ہے۔
چونکہ آنحضرت کی سیرت کے بیان میں غزوات کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے اس لیے ابتدائی دور میں کتب سیرت کو عموماً مغازی و سیر کی کتابیں کہا جاتا تھا جبکہ لفظ مغازی مغزی کی جمع ہے جس کے معنی جنگ(غزوہ) کی جگہ یا وقت کے ہیں لیکن اب سیرت کی ترکیب ہی مستعمل ہے۔

لفظ سیرۃ قرآن میں [ترمیم]

قرآن کریم میں لفظ سیرۃ صرف ایک جگہ آیا ہے۔
سَنُعِيدُھَا سِيرَتَھَا الْاُولَیO سورۃ طہ:آیت نمبر 21
ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گےo ترجمہ از عرفان القرآن
اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا (لاٹھی) کے سانپ بن جانے کے بعد دوبارہ اصلی حالت میں آجانے کی طرف اشارہ ہے لہذا یہاں لفظ سیرۃ حالت اور کیفیت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

سیرت کا اصطلاحی مفہوم [ترمیم]

لفظ سیرت اب بطور اصطلاح صرف آنحضرت کی مبارک زندگی کے جملہ حالات کے بیان کے لیے مستعمل ہے جبکہ کسی اور منتخب شخصیت کے حالات کے لیے لفظ سیرت کا استعمال قریباً متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر مطالعہ سیرت یا کتب سیرت جیسے الفاظ کے ساتھ رسول، نبی، پیغمبر یا مصطفی کے الفاط نہ بھی استعمال کیے جائیں تو ہر قاری سمجھ جاتا ہے کہ اس سے مراد آنحضرت کی سیرت ہی ہے بلکہ بعض دفعہ لفظ سیرت کو کتاب کے مصنف کی طرف مضاف کر کے بھی یہی اصطلاحی معنی مراد لیے جاتے ہیں جیسے سیرت ابن ہشام کہ اس کا مطلب ابن ہشام کے حالات زندگی نہیں بلکہ آنحضرت کے حالات ہیں جو کتاب کے مصنف ابن ہشام نے جمع کیے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دور میں جلسہ سیرت، سیرت کانفرنس، مقالات سیرت، اخبارات و رسائل کے سیرت نمبر وغیرہ بکثرت الفاظ مستعمل ہیں۔ ان تمام تراکیب میں لفظ سیرت کے معنی ہمیشہ سیرت النبی ہی ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ادب و احترام کے اظہار کے لیے اس لفط کے ساتھ کسی صفت کا اظہار کر دیتے ہیں جیسے سیرت طیبہ، سیرت مطہرہ اور سیرت پاک وغیرہ۔

سیرت طیبہ کے مآخذ و مصادر [ترمیم]

کسی علم خصوصاً جس کا تعلق تاریخ سے ہو ، اس کے مآخذ سے مراد وہ کتابیں ، روایات اور آثار وغیرہ ہیں جن میں اس علم کے متعلق سب سے پہلے بات کی گئی ہو یا جن میں اس علم کے متعلق معلومات سب سے پہلے جمع کی گئی ہوں۔ کسی تاریخی شخصیت کے بارے میں معلومات کا اہم مآخذ وہ کتاب یا کتابیں ہوں گی جو اس کی زندگی میں لکھی گئی ہوں یا اس کے بعد قریب ترین زمانے میں لکھی گئی ہوں اور جن میں زیادہ سے زیادہ مواد یکجا جمع کیا گیا ہو یا اس مواد کے جمع کرنے میں علمی تگ و دو اور تحقیقی چھان بین سے کام لیا گیا ہو۔ اس لحاظ سے سیرت طیبہ کے اہم بنیادی مآخذ حسب ذیل بنتے ہیں۔

قرآن مجید [ترمیم]

سیرت طیبہ کا اصل اور سب سے زیادہ صحیح اور مستند مآخذ قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید دو طرح سے سیرت کے مآخذ کا کام دیتا ہی۔ الف۔ اس میں آنحضرت کی مبارک زندگی کے متعدد واقعات ، غزوات اور بعض دیگر پیش آمدہ حالات کا ذکر ہے۔ کہیں تفصیل اور کہیں اجمالی اشارات موجود ہیں۔ بعض لوگوں نے صرف قرآن کریم میں صراحتہً یا کنایتہً بیان کردہ واقعات سیرت کی ترتیب و جمع سے سیرت پر کتابیں تالیف کی ہیں۔ مثلاً محمد عزت دروازہ کی کتاب [[سیرۃ الرسول (صورۃ مقتبسہ من القرآن) جو دو جلدوں میں ہے۔

ب۔ قرآن کریم میں وہ تمام تعلیمات ہیں جن کو آحضرت نے عملاً نافذ کیا۔ اسی طرح معاصر کفار کے بعض اعتراضات اور ان کے جوابات مذکور ہیں۔ قرآن کریم کی اس قسم کی آیات کی تفصیل اور زمانہ یا موضع نزول کے بارے میں سیرت طیبہ کے واقعات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہی۔ گویا قرآن کریم سیرت طیبہ کے بارے میں کچھ تفصیلی معلومات بھی دیتا ہے اور اجمالی اشارات کے ذریعے سے واقعات سیرت کی اصل کی نشاندہی کر کے اس کی تفصیلات جاننے پر آمادہ بھی کرتا ہے۔

کتب حدیث [ترمیم]

قرآن کریم کو رسول اللہ نے کس طرح سمجھا اور اسے کس طرح نافذ کیا ، اس کی تفصیلات ہی کتب حدیث کا اصل موضوع ہے لیکن قرآن کریم میں آنحضرت کے احکام، تعلیمات، خطبات، مواعظ اور قضایا یعنی قانونی فیصلے وغیرہ ہی بیان نہیں ہوئے بلکہ بعض نہایت اہم واقعات سیرت بھی بیان ہوئے ہیں۔ چونکہ حدیث کی روایت و نقل میں عام کتب تاریخ کی نسبت زیادہ تحقیق و چھان بین سے کام لیا جاتا ہے ، اس لیے کتب حدیث میں بیان کردہ واقعات سیرت قرآن کے بعد باقی تمام مآخذ سیرت سے زیادہ مستند اور زیادہ قابل اعتماد ہیں۔

تواریخ حرمین [ترمیم]

حرمین سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ اسلام میں ان دونوں شہروں کو جو اہمیت حاصل ہے اس کی بناء پر بعض علماء نے خاص ان شہروں کی تاریخ اور ان کے اہم تاریخی مقامات سے متعلق معلومات کو مستقل تالیفات کا موضوع بنایا ہی۔ اس قسم کی کتابوں میں بعض مقامات کے ذکر کی مناسبت سے سیرت طیبہ کے بعض اہم واقعات بھی ملتے ہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تواریخ حرمین پر لکھی گئی کتابوں میں سیرت نبوی سے متعلق ایسی معلومات بھی مل جاتی ہیں جو عام کتب تاریخ و سیرت میں مذکور نہیں ہوتیں۔

ہرچند کہ اس قسم کی کتابیں اب بھی لکھی جارہی ہیں تاہم اس فن کی اہم بنیادی کتابیں حسب ذیل ہیں۔

تاریخ اسلام یا تاریخ عالم پر کتابیں [ترمیم]

مسلمانوں نے فن تاریخ نویسی کو بڑی ترقی دی اور عالمی تاریخ کو عموماً اور تاریخ اسلام کو خصوصاً بڑی بڑی ضخیم کتابوں میں جمع کیا۔ اس قسم کی کتابوں میں سیرت طیبہ کا مذکور ہونا لازمی تھا۔ اس قسم کی چند نمایاں اور بنیادی کتابیں، جو سیرت طیبہ کے لیے بھی اہم مآخذ و مصدر ہیں، درج ذیل ہیں۔

طبقات مشاہیر [ترمیم]

عام اور مسلسل تاریخ اسلام (سن وار) لکھنے کے علاوہ بعض مسلمان اہل علم نے مشہور شخصیتوں کی اقسام الگ الگ کر کے ہر گروہ یا طبقے کے مشاہیر کے حالات الگ الگ کتابوں میں جمع کیے مثلاً صحابہ، حفاظ و قراء، شعراء، علمائے لغت و نحو، اطباء وغیرہ۔ اس قسم کی کتابیں عموماً طبقات کے نام سے لکھی گئی ہیں مثلاً طبقات ابن سعد، طبقات القراء، طبقات الاطباء وغیرہ۔ اس قسم کی کتابوں، جن کا تعلق بالخصوص صحابہ کرام سے ہے، ان میں سیرت طیبہ پر بھی بہت کچھ مواد ملتا ہے۔

اولین کتب سیرت [ترمیم]

اولین کتب سیرت جو یا تو آنحضرت کے قریب ترین دور میں لکھی گئیں اور آنے والوں کے لیے مآخذ و مصادر بنیں یا اِن اولین کتب سیرت کی بنیاد پر تالیف کی جانے والی اولین ضخیم اور جامع کتب سیرت جن میں شامل مواد متعدد کتب سے جمع کیا گیا۔ ان میں سے بہت سی کتب سیرت ناپید ہو چکی ہیں تاہم ان کا ذکر اور ان سے اخذ کردہ مواد کے حوالے بعد کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ اسی طرح بہت سی ایسی ابتدائی کتب سیرت ہیں کہ جن کے قلمی نسخے بعض بڑے کتب خانوں میں ملتے ہیں لیکن تاحال وہ شائع نہیں ہو سکیں۔

ایسی اولین کتب سیرت جو زمانے کی دست برد سے محفوظ ہیں اور چھپی ہوئی مل جاتی ہیں یا چھپ ضرور چکی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت [ترمیم]

مسلم و غیر مسلم ہر اس شخص کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہشمند ہے۔

اہل اسلام کے حوالے سے مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت کے نکات حسب ذیل ہیں:

  • اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے لہذا سیرت نبوی کو جانے بغیر آنحضرت کے اسوہ حسنہ پر عمل ممکن نہیں۔
  • اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرت کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔
  • دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے تاکہ ایک تو ہر مبلغ تبلیغ کے اس مسنون طریقہ کار سے آگاہ ہو جس پر عمل پیرا ہو کر آنحضرت نے عرب کی کایا پلٹ دی اور دوسرا اس مطالعہ کے ذریعے مخاطب کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ سے متعارف کروا کر اور موقع بہ موقع سیرت کے واقعات سُنا کر اسے متاثر کیا جا سکے۔
  • قرآن کا فہم مطالعہ سیرت کے بغیر نا ممکن ہے کیونکہ آ پ ہی قرآن کی عملی تصویر اور کامل تفسیر ہیں۔

مسلمانوں کے لیے سیرت کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ ہی نہیں بلکہ اہم دینی ضرورت ہے جبکہ غیر مسلموں کے لیے سیرت کے مطالعہ کی نوعیت اس سے کچھ مختلف ہو سکتی ہے۔

  • غیر مسلم کا سیرت کے مطالعہ کا مقصد ان حالات اور اسباب سے آگاہی ہو سکتا ہے کہ جس کے ماتحت آنحضرت نے تئیس سال کے قلیل عرصہ میں دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا اور عرب کی جاہل اور اجڈ قوم سے ایک ایسی امت تیار کر دی کہ جس کے کارنامے مورخین عالم کے لیے انتہائی دلچسپ اور موجب صد حیرت ہیں۔
  • وہ غیر مسلم جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں، ان کے مطالعہ سیرت کا مقصد اصل حقائق سے آگاہی حاصل کر کے انہی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور حقیقت کے برعکس ان واقعات کو اپنے رنگ میں پیش کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

جمع و تدوین سیرت کی مختصر تاریخ [ترمیم]

آنحضرت کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کی جملہ معلومات آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت کے پاس منتشر صورت میں موجود تھیں۔ چونکہ آپ بطور رسول اللہ ان سب کی توجہ کا مرکز تھے اس لیے یہ تمام اصحاب باہمی میل ملاپ اور گفت و شنید سے آنحضرت کی ذات گرامی سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے جیسے کسی تازہ ترین وحی، کسی واقعہ یا کسی فرمان کا باہمی تبادلہ وغیرہ۔

آنحضرت کے وصال فرمانے کے بعد آپ کے پیروکاروں کے دل میں اپنے ہادی و پیشوا کی ذاتِ مبارک، آپ کے اخلاق و عادات اور آپ کی زندگی سے متعلق باتیں دریافت کرنے کا شوق بڑھتا چلا گیا۔ اس شوق و جستجو سے رفتہ رفتہ روایات کا ایک وسیع ذخیرہ ہونا شروع ہو گیا۔ صحابہ کے بعد تابعین کے دور نہ صرف روایات جمع کرنے کا کام ہوا بلکہ ان روایات کو مختلف طریقوں سے منظم کرنے کا کام بھی شروع ہو گیا مثلاً ایک تابعی مختلف صحابہ کرام سے آنحضرت کے وعظ، تقریر اور نصائح کے حوالے سے عام روایات کو یاد کرتا یا لکھ لیتا تو دوسرا تابعی اپنے ملنے والے صحابہ کرام سے آنحضرت کے غزوات اور دیگر واقعات دریافت کر کے لکھ لیتا۔ اس طرح ایک ایک تابعی کے پاس دس بیس یا پچاس صحابہ کرام کے ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات جمع ہوتی گئیں۔ فتوحات کے نتیجہ میں جب صحابہ کرام ایران، عراق، شام اور مصر وغیرہ میں پھیلے تو ان سے معلومات جمع کرنے کا کام ان علاقوں میں بھی جاری رہا۔

تابعین کے بعد تبع تابعین کے دور میں صحابہ کرام اور تابعین سے جمع شدہ روایات اور بیسیوں چھوٹی چھوٹی کتابوں میں ذخیرہ شدہ معلومات کو مناسب تقسیم اور ترتیب دے کر بڑی اور جامع کتب مرتب ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اسی نسل کے زمانے میں قرآن، حدیث اور فقہ کے بنیادی علوم کے ماتحت ان کے ذیلی علوم اور ان علوم میں مہارت کے حامل مخصوص افراد سامنے آئے۔ ان افراد نے جب تفسیر، حدیث، تاریخ، مغازی و سیرت کے بڑے بڑے مجموعات مرتب کئے تو ان کی مقبولیت کے باعث ماقبل کے چھوٹے چھوٹے مجموعے متروک ہوتے چلے گئے تاہم ان چھوٹے مجموعوں کے حوالے بڑے مجموعوں اور جامع کتب میں بکثرت ملتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جامع کتب کی تدوین کے زمانے تک یہ چھوٹے، مختصر مگر اصل مآخذ موجود تھے اور پڑھے پڑھائے جاتے تھے۔

اسی پسِ منظر میں تدوین سیرت کا کام بھی یوں شروع ہوا کہ جب مسلمانوں نے اپنے ہادی برحق کے اقوال و افعال اور احوال کو اختیار کیا اور تفصیل سے جمع و محفوظ کرنا شروع کیا تو بعض بزرگوں نے صرف واقعات سیرت سے متعلق مواد جمع کرنے کو ہی اپنا دینی و علمی مشغلہ اور میدانِ اختصاص بنا لیا اور اس فن میں خاصی شہرت پائی۔

تابعین اور تبع تابعین میں سے جن لوگوں نے سیرت و مغازی پر مواد جمع کیا اور ابتدائی کتابیں لکھیں جن کا ذکر بعد کی لکھی ہوئی کتابوں میں ملتا ہے، ان میں سے مشہور لوگوں کے نام سنین وفات کی ترتیب سے پیش کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے کہ کس طرح سیرت نگاری کا عمل ایک تسلسل سے جاری رہا اور تفسیر، حدیث اور تاریخ کی طرح تیسری صدی ہجری کے آخر تک مکمل ہوا۔

نام سن وفات
عروہ بن زبیر 92ھ
ابان بن عثمان بن عفان 105ھ
شعبی 109ھ
وہب بن منبہ 114ھ
عاصم بن عمر بن قتادہ 121ھ
شرجیل بن سعد 123ھ
ابن شہاب زہری 124ھ
یعقوب بن عتبہ ثقفی 128ھ
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم 125ھ
موسیٰ بن عقبہ 141ھ
ہشام بن عروہ بن زبیر 146ھ
محمد بن اسحاق 150ھ
معمر بن راشد 152ھ
عبد الرحمن بن عبد العزیز 162ھ
محمد بن صالح بن دینار 168ھ
ابو معشر نجیح المدنی 170ھ
عبداللہ بن جعفر مخزومی 170ھ
عبدالملک بن محمد انصاری 176ھ
زیاد بن عبداللہ البکائی 173ھ
سلمہ بن الفضل 191ھ
یحییٰ بن سعید بن ابان 194ھ
ولید بن مسلم القرشی 195ھ
یونس بن بکیر 199ھ
محمد بن عمر الواقدی 207ھ
یعقوب بن ابراہیم زہری 208ھ
عبد الملک بن ہشام 213ھ/218ھ
علی بن محمد المدائنی 225ھ
محمد بن سعید 230ھ
ابراہیم بن اسحاق 285ھ
ابو بکر احمد البغدادی 277ھ

اس کے بعد سے تاحال سیرت کے انہی بنیادی مآخذ و مصادر اور دیگر علوم کی کتب سے استفادہ کرکے زیادہ بڑی، مفصل اور جامع کتب لکھنے کا کام مسلسل جاری و ساری ہے۔ نئی تالیفات لکھنے کے ساتھ ساتھ نایاب قلمی نسخوں کی اشاعت، سیرت کی بنیادی کتب یا مشہور کتب کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم، اہم ترین کتب سیرت کی شروحات یا خلاصے لکھنے کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے۔

سیرت پر کام [ترمیم]

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگو لیوتھ (S. Margoluth) نے 1905ء میں آنحضور کے حالات پر مبنی ایک کتاب Muhammad and The First Rise of Islam میں اعتراف کیا کہ

حضرت محمد کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اس میں جگہ پانا باعث شرف ہے۔

اقوام متحدہ کے ثقافت و تہذیب اور تعلیم و تمدن سے متعلق ایک ذیلی ادارے یونیسکو UNESCO کے چند سال پہلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق:

جس قدر کتب نبی اسلام کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس کا عشرِ عشیر بھی کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھا گیا۔

کتب سیرت کی کثرت [ترمیم]

1963ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں کتب سیرت کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں پیش کردہ کتب کی فہرست کالج نے شائع کی تھی۔ اس میں دنیا کی گیارہ زبانوں کی آٹھ سو سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

سال 1974ء-1975ء میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں سیرت کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش کتب سیرت منعقد کرائی جس میں موجود کتابوں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز تھی۔

ایک اور بین الاقوامی نمائش کتب سیرت میں صرف چودھویں صدی ہجری میں لکھی جانیوالی کتب سیرت رکھی گئی تھیں جن کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔

بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے ارمغان حق کے نام سے دو جلدوں میں کتب سیرت کی ایک فہرست شائع کی تھی جس میں پندرہ زبانوں کی دو ہزار سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

سیرت پر ہونیوالا یہ کام نظم اور نثر دونوں میں دستیاب ہے۔ اگرچہ زیادہ کتب سیرت نثر میں ہی ہیں تاہم مختلف زبانوں میں منظوم کتب سیرت بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور اگر صرف نعت کی کتابوں کو ہی لیا جائے تو ان کی فہرست پر بھی ایک رسالہ یا کتابچہ تیار ہو سکتا ہے۔

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=سیرت&oldid=625952’’ مستعادہ منجانب