خواجہ عبد اللہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خواجہ عبد اللہ انصاری
Stamps of Tajikistan, 2010-09.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 4 مئی 1006[1][2][3][4] اور اپریل 1006[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ہرات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 مارچ 1089 (83 سال)[5][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ہرات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ
سلجوقی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
عملی زندگی
استاذ خواجہ ابوالحسن خرقانی،  ابو بکر بیہقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص خواجہ یوسف ہمدانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر،  الٰہیات دان،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]،  فارسی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تصوف،  شاعری،  حنبلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شیخ ابو اسماعیل عبد اللہ ہروی انصاری یا پیر ہرات (پیدائش: 4 مئی 1006ء — وفات: 8 مارچ 1089ء) گیارہویں صدی میں ہرات (خراسان، موجودہ صوبہ ہرات افغانستان) کے رہنے والے حنبلی فقیہ اور فارسی زبان کے مشہور صوفی شاعر تھے۔ آپ پانچویں صدی ہجری/ گیارہویں صدی عیسوی میں ہرات کی ایک نادر شخصیت، مفسر قرآن، راوی، مناظر اور شیخ طریقت تھے جو عربی اور فارسی زبانوں میں اپنے فن تقریر اور شاعری کے باعث جانے جاتے تھے۔

ہرات میں مزار

حیات[ترمیم]

آپ 04 مئی 1006ء 369ھ کو ہرات کے قدیم قلعہ کھندژ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ابو منصور ایک دکان دار تھے جو جوانی میں کئی سال بلخ میں گزار چکے تھے۔ عبد اللہ، شیخ ابو الحسن خرقانی کے مرید تھے اور اپنے شیخ پر اعتماد اور ان کا بہت احترام کرتے تھے جیسا کہ انہوں نے بیان کیا: "عبد اللہ ایک چھپا ہوا خزانہ تھا اور اس کی چابی ابو الحسن خرقانی کے ہاتھوں میں تھی"۔

آپ سنی فقہ حنبلی کے پیرو تھے۔ آپ کا عہد تیموری میں تعمیر ہونے والا مزار مشہور زیارت گاہ ہے۔

انہوں نے اسلامی تصوف اور فلسفہ پر فارسی اور عربی زبان میں بہت سی کتب لکھیں۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف "مناجات نامہ" ہے جو فارسی ادب کا شاہکار شمار کی جاتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تصانیف کے علاوہ ان کے شاگردوں اور دوسرے لوگوں سے ان کے بہت سے اقوال روایت ہوئے جو تفسیر میبودی، "کشف الاسرار" میں شامل کیے گئے۔ یہ قرآن کریم کی قدیم ترین مکمل صوفی تفاسیر میں سے ہے اور کئی مرتبہ 10 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔

انہوں نے علم حدیث، تاریخ اور علم النسب پر مہارت حاصل کی۔ وہ امیر، قوی اور با اثر لوگوں کی صحبت سے دور رہا کرتے تھے۔ ان کی مجلس وعظ میں شمولیت کے لیے لوگ دور دراز سے آتے تھے۔ جب بھی ان کے مریدین و معتقدین ان کو کوئی تحفہ پیش کرتے وہ غریبوں اور ضرورت مندوں کے حوالے کر دیا جاتا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی شخصیت متاثر کن تھی اور خوش لباس تھے۔

ہرات کے خواجہ عبد اللہ انصاری کا سلسلہ نسب نویں پشت میں مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاری سے جا ملتا ہے۔ خاندان کی تاریخ  کی مثل میں بیان کیا گیا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔

ابو اسماعیل خواجہ عبد اللہ انصاری بن ابو منصور بلخی بن جعفر بن ابو معاذ بن محمد بن احمد بن جعفر بن ابو منصور تابعی بن ابو ایوب انصاری۔

اسلام کے خلفاء راشدین میں سے تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانہ میں ابو منصور تابعی نے خراسان کی فتح میں حصہ لیا اور اس کے بعد ہرات میں رہائش اختیار کی، ان کے فرزند خواجہ عبد اللہ انصاری 1088ء 481ھ میں فوت ہوئے۔

فقیہ ابن قیم جوزی حنبلی نے انصاری کے تصنیف کردہ رسالہ مدارج السالکین کی ایک لمبی شرح تحریر کی ہے۔ اس شرح میں انہوں نے انصاری کے ساتھ اپنی محبت اور ان کی تحسین  میں بیان کیا ہے "یقیناً مجھے شیخ سے محبت ہے، لیکن مجھے سچائی سے زیادہ محبت ہے!"۔ ابن قیم جوزی نے اپنی تصنیف الوابل الصيب من الكلم الطيب میں انصاری کا حوالہ "شیخ الاسلام" کے گرانقدر خطاب سے دیا ہے۔[6]

تصنیفات[ترمیم]

فارسی کتب[ترمیم]

  • کشف الاسرار و عدۃ الابرار
  • مناجات نامہ
  • نصایح* زاد العارفین
  • کنز السالکین* ہفت حصار
  • الہی نامہ
  • محبت نامہ
  • قلندر نامہ
  • رسالہ دل و جان
  • رسالہ واردات
  • صد میدان
  • رسالہ مناقب امام احمد بن حنبل

عربی کتب[ترمیم]

  • انوار التحقیق
  • زیم الکلم
  • منازل السیرین
  • کتاب الفاروق
  • کتاب الاربعین

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • ابو الحسن خرقانی
  • فرنگی محل
  • ابو ایوب انصاری
  • ابن القیسرانی
  • خواجہ عبد اللہ انصاری کا مزار
  • خواجہ
  • خواجگان نقوی
  • خواجہ محمد لطیف انصاری
  • تصوف

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • سوانح الانصاری از شیخ جبریل فواد حداد
  • تصوف کی قیام گاہیں،  عبد اللہ انصاری کے سو میدان، ترجمہ از ناہید عنقا
    www.archetypebooks.com

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/11891099X — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6dr30ns — بنام: Khwaja Abdullah Ansari — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. بنام: ʻAbd Allāh al-Anṣārī Harawī — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/176094 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/49697 — بنام: ʻAbd Allāh ibn Muḥammad Anṣārī al-Harawī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب پ ت http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12086405c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. شرح کلام جامی ڈاکٹر شمس الدین احمدصفحہ1069،مشتاق بک کارنر لاہور