مندرجات کا رخ کریں

سروپلی رادھا کرشنن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سروے پلی رادھاکرشنن سے رجوع مکرر)
سروے پلّی رادھاکرشنن
ذاتی تفصیلات
پیدائش5 ستمبر 1888(1888-09-05)
وفات17 اپریل 1975ء(1975-04-17) (86 سال)
مدراس، تمل ناڈو، بھارت
(اب چینائی)
جماعتآزاد
زوجیتSivakamu, Lady Radhakrishnan
مادر علمیMadras Christian College
مدراس یونیورسٹی
 

سروپلی رادھا کرشنن (پیدائش 5 ستمبر 1888ء-وفات 17 اپریل 1975ء) ایک بھارتی سیاست دان، فلسفی اور آزاد بھارت کے دوسرے نائب صدر (1952–1965) تھے۔ بعد ازاں بھارت کے دوسرے صدر بھی منتخب ہوئے (1962–1967)۔

بیسویں صدی کے ایک ممتاز بھارتی مفکر تھے۔ تعلیمی و تدریسی میدانوں میں کنگ جارج پنجم چئیر آف مینٹل اینڈ مورل سائنسس، کلکتہ یونیورسٹی (1921–1932) سے منسلک رہے۔ نیز جامعہ اوکسفرڈ کے مشرقی ادیان اور شعبہ اخلاقیات کے پروفیسر بھی رہے (1936–1952)

بھارتی صدر سروپلی رادھاکرشنن ریاستہائے متحدہ کے صدر جان ایف کینیڈی کے ساتھ، 1963ء

سوانح

[ترمیم]

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

سروپلی رادھاکرشنن ایک تیلگو برہمن خاندان میں مدراس پریسی ڈینسی میں واقع تھیروتانی کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں ریاست آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحد پر واقع ہے۔ ان کے والد کا نام سروپلی ویرا سوامی اور ماں کا نام سیتاما تھا۔ ان کی ابتدائی زندگی تروتنی اور تروپتی میں گذری۔ ان کے والد زمیندار کے یہاں مالیات کے نائب افسر تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم تروتانی کے بورڈ ہائی اسکول میں ہوئی۔ 1896ء میں رادھاکرشنن ہرمانس برگ ایونجیلیکل مشن اسکول تروپتی میں منتقل ہوئے۔

یوم اساتذہ

[ترمیم]

جب وہ صدر بھارت ہوئے تو ان کے کچھ شاگردوں اور دوستوں نے ان سے درخواست کی کہ انھیں ان یوم پیدائش منانے کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے جوابا لکھا؛

میرے یوم پیدائش منانے کے بجائے اگر 5 ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جائے تو مجھے زیادہ فخر ہوگا[1]

اسی دن سے رادھاکرشنن کا یوم پیدائش بھارت میں یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔[web 1]

شادی اور خاندان

[ترمیم]

ان کی شادی شیواکامو سے ہوئی جو ان کی دور کی کزن تھیں۔ اس وقت ان کی عمر محض 16 برس تھی[note 1] رواج کے مطانق یہ طے شدہ شادی تھی۔ ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا سروپلی گوپال پیدا ہوئے۔

مجلس دستور ساز میں ان کا کردار[2]

[ترمیم]

وہ ایسی تنظیموں کے خلاف تھے جو مذہب کے نام تقسیم باعچ بنیں کیونکہ ان کے نزدیک ایسی تنیموں کی تشکیل کرنا سیکولریت کی روح کو مجروح کرنا ہے۔[3]

اکیڈمک کیرئر

[ترمیم]
hand made portrait of Mr. President.
Sarvepalli Radhakrishnan drawn by Bujjai and signed by Radhakrishnan in تیلگو زبان as "Radhakrishnayya"۔

1909ء میں ان کا تقرر مدراس پرزیڈینسی کالج کے شعبہ فلسفہ میں ہوا۔ 1918ء میں یونیورسٹی آف میسور میں وہ پروفیسر ہو گئے جہاں وہ مہاراجا کالج میسور میں پڑھانے لگے۔[web 2][4]

1921ء میں وہ کلکتہ یونیورسٹی میں مقرر ہوئے اور کنگ جارج پنجم کی کرسی پر بیٹھے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Philosopher, teacher, president: Remembering Dr S Radhakrishnan"۔ دی اکنامک ٹائمز۔ 5 ستمبر 2017۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2018
  2. "CADIndia"۔ cadindia.clpr.org.in۔ 2019-05-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-20
  3. "CADIndia"۔ cadindia.clpr.org.in۔ 2018-12-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-20
  4. Murty, Kotta Satchidananda؛ Vohra, Ashok (1990)۔ "3. Professor at Mysore"۔ Radhakrishnan: His Life and Ideas۔ SUNY Press۔ ص 17–26۔ ISBN:978-1-4384-1401-0

بیرونی روابط

[ترمیم]
  1. "Teachers' Day"۔ Festivalsofindia.in۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-10-02
  2. "Maharaja's royal gift to Mysore"۔ The Times of India۔ 25 جولائی 2010۔ 2013-12-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-07-11

  1. Radhakrishnan's wife's name is spelled differently in different sources, perhaps because a common Telugu spelling is Sivamma. It is spelled Sivakamu by Sarvepalli Gopal (1989); Sivakamuamma by Mamta Anand (2006); and still differently by others.[حوالہ درکار]