آگسٹین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اگستین (ہپو کا) سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقدس آگسٹین
Saint Augustine by Philippe de Champaigne.jpg
دیگر اسماء مقدس آسٹن
مقدس آگسٹین
آگسٹن ہیپوی
پيدائش 13 نومبر 354ء
تاگست (اب سوق اہراس، الجزائر)
وفات 28 اگست 430ء
ہیپو ریگس (اب عنابہ، الجزائر)
مدفن پاویا، اطالیہ

مقدس آگسٹین (انگریزی: Saint Augustine of Hippo ؛ لاطینی: Aurelius Augustinus Hipponensis) مسیحیت میں ایک مقدس کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کو مختلف اسماء سے یاد کیا جاتا ہے جس میں مقدس آسٹن،[1] آگسٹین مقدّس اور ہیپو کا اگستین شامل ہیں۔ یہ رومی افریقہ میں ہپو ریگس (اب عنابہ، الجزائر) کے بشپ تھے۔ انہوں نے لاطینی زبان میں فلسفے کی مدد سے مذہبی عمور کو پڑھا۔ ان کی تحریریں مغربی مسیحیت کی ترقی میں بہت بااثر تھیں۔

ان کے معاصر، جیروم، کہتے ہیں کہ مقدس آگسٹین نے "نئے سرے سے مسیحیت کے قدیم عقیدے میں جان ڈالی"۔[2] ابتدائی سالوں میں یہ ساسانی فلسفے اور مانویت سے بہت زیادہ متاثر تھے اگرچہ بعد میں یہ نو افلاطونیت کے پیروکار ہو چکے تھے۔[3] بپتسمہ لے کر مسیحیت اپنانے کے بعد، انہوں نے اپنے انداز میں فلسفے اور دینیت الہیات کو سمجھنے کی کوشش کی جس میں انہوں نے مختلف زاوؤں، حکمت عملی، طور طریقوں اور نقطہ نظر کا استعمال کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ مسیحی فضل انسان کی گناہ سے آزادی کے لیے ناگزیر تھا، اور اسی بنا پر انہوں نے گناہ حقیقا اور جنگ عدل کا فلسفہ پیش کر ڈالا۔

جب مغربی رومی سلطنت ختم ہوتی دکھی تو انہوں نے مسیحی کلیسیا کو اپنی ایک کتاب میں شہر خداوندی کہنا شروع کیا تاکہ مواد پرستی سے کلیسیا کو واضح طور پر الگ رکھ کہ کلیسیائ تصور کو فروغ دیا جا سکے۔ آپکے فلسفے نے قرون وسطی سوچ کو خوب متاثر کیا۔

"اگستین، تاگست کے ایک اسکول میں۔" مصوری برائے بنوزو گزولی۔

زندگی[ترمیم]

بچپن[ترمیم]

اگستین، رومی افریقہ میں تاگست (اب سوق اہراس، الجزائر) کی نگرپالکا میں، 13 نومبر 354ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد پطرس، ایک بت پرست تھے جبکہ ان کی ماں مونیکا، مسیحی تھیں۔ ان کے نسلی ماخذ کے بارے میں، علماء کرام کے درمیان میں اتفاق رائے یہ ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جو شمالی افریقا کی اہم نسلوں کی ملاوٹ تھی جن میں فونیقی، لاطینی اور بربر شامل تھیں۔ انکے خاندانی نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکے آباءواجداد اوریلیہ خاندان کے چھڑاۓ ہوۓ غلام تھے۔ انکے آباءواجداد ایک صدی سے روم کے شہری تھے لیکن مانا جاتا ہے کہ انکی والدہ کا ماخذ بربر قوم سے تھا۔ ان کی پہلی زبان لاطینی تھی۔ 11 سال کی عمر میں ، ان کو تاگست کے جنوب میں 19 میل دور، ماداورا کی بستی کے ایک اسکول میں بھیجا گیا۔ وہاں، یہ لاطینی ادب کے ساتھ ساتھ بتپرست عقائد اور طریقوں سے واقف ہوۓ۔ 369ء سے 370ء تک انہوں نے گھر پر سسرو کے قلام پڑھے، جس نے ان پر ایک دیرپا اثر چھوڑا اور فلسفے میں انکی دلچسپی کو جنم ملا۔

قرطاجنہ میں تعلیم[ترمیم]

17 سال کی عمر میں، ساتھی شہری رومانیس کی سخاوت کے ذریعے، مقدس آگسٹین نے قرطاجنہ میں تعلیم جاری رکھی جہاں انہوں نے بلاغت سیکھی۔ اگرچہ ان کی تربیت ایک مسیحی کے طور پر کی گئی تھی، یہ مانویت پر عمل کرنے لگے۔ گرجاگھر نا جانے پر ان کی ماں بہت مایوس ہوئیں۔ جوانی میں مقدس آگسٹین ایک وقت کے لیے لذت‌ پرستی کی طرز زندگی رکھنے لگے۔ لذت‌پرست نوجوان مرد عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کے دعوے کیا کرتے تھے اور مقدس آگسٹین کی طرح ناتجربہ کار لڑکوں پر زور دیا کرتے تھے کہ خواتین کے ساتھ تعلقات رکھیں اور اگر نہیں رکھ سکتے تو جھوٹی کہانیاں بنا کر اپنا مذاق اڑنے سے بچیں۔ مقدس آگسٹین نے زندگی کے اس مرحلے میں قرطاجنہ کی ایک کمسن عورت کو رکھیل بنا لیا اور انکے تیرہ سالہ رشتے نے ایک بیٹے کو جنم دیا جس کا نام عدیتس پڑا۔

بلاغت کی درس و تدریس[ترمیم]

373ء اور 374ء کے دورانیہ میں، مقدس آگسٹین تاگست میں گرائمر سکھانے کے لیے گئے۔ اگلے سال وہ قرطاجنہ روانہ ہوۓ جہاں انہوں نے بلاغت کی تدریس کیلۓ ایک اسکول کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اس اسکول میں اگلے نو سال تک علم بیاں اور بلاغت پڑھائی۔ قرطاجنہ میں طلباء کی اپددری رویے کی طرف سے پریشان ہوۓ تو انہوں نے 383ء میں روم جانے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا کے بہترین بلاغتی ماشقین میں اٹھ بیٹھ سکیں۔ تاہم، اگستین رومن اسکولوں کے میار اور بےحسی سے مایوس ہی ہوۓ۔ طالب علموں کو جب فیس دینی ہوتی تھی تب وہ غائب ہو جاتے تھے۔ مانوی دوستوں کے ذریعہ، آپ روم کے نگرانی پریفکٹ سے متعارف ہوۓ جس کا نام سمیکس تھا۔ سمیکس نے بتایا کہ اسے میلان کی شاہی عدالت کے لیے ایک بلاغت اور علم بیاں کے استاد کی ضرورت درکار ہے۔

مقدس آگسٹین کو فوراً نوکری مل گئی اور 384ء میں آخرکار یہ شمال کی طرف روانہ ہوۓ جہاں انہوں نے ایک سربراہی عہدہ سمبھالا۔ چنانچہ، تیس برس کی عمر میں، یہ لاطینی دنیا کے سب سے اونچے تعلیمی مقام پر تعینات تھے۔ اس مقام کو استعمال کر کہ جہاں لوگ سیاسی کیریئر بناتے تھے، آپ نے ایسی کوئی خواہش ظاہر نہ کی۔ جوش اور ولولے کے باوجود، مانویت کے تنظیمی ڈھانچے میں بھی یہ سب سے نچلی سطح پر رہے۔ یہ تھی ان کی سادگی۔

میلان میں مقدس آگسٹین کی زندگی تبدیل ہوتی دکھی۔ قرطاجنہ میں تو پہلے ہی یہ مانویت سے الگ اور دور ہوتے رہے تھے لیکن ایک دن مانوی بشپ، فاسطوس، کے نظریہ الہیات کو سن کر انہوں نے مایوسی میں دین چھوڑنے کا منصوبہ بنا لیا۔ میلان میں ان کی ماں نے ان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ پھر سے مسیحیت کی طرف رجوع ہوں۔ نوافلاطونیت کے مطالعہ اور اپنے دوست سمپلسنس سے بھی آپ کو یہی کچھ باتیں سننے اور پڑھنے کو ملیں۔ لیکن بلاغت کے ماہر اور میلان کے مسیحی بشپ یمبروس، کی باتوں کا ان پر سب سے زیادہ اثر ہوا۔

ان کی ماں، جو ان کا پیچھا میلان تک کرتی آگئی تھیں، ان کی اجازت سے ایک سماجی شادی کا انتظام کرنے لگیں۔ چنانچہ، شادی کرنے کے لیے انہیں اپنی رکھیل کو چھوڑنا پڑا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگستین کو اپنی رکھیل سے، جس کے ساتھ یہ عرصہ دراز رہائش پزیر تھے، واقعی محبت ہو چکی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لغت برائے امریکی ہیریٹیج کالجISBN 0-395-66917-0باسٹن: ہاؤٹن مفلن کمپنی، صفحہ 91 (انگریزی)
  2. مقدس جیروم کہتے ہیں کہ، "آپ دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں؛ کیتھولیکی عزت اور احترام بلکہ مسیحیت کے قدیم عقیدے میں نئے سرے سے جان آپ نے ہی ڈالی۔" – یوجین ٹیسیل، 'رسولنامہ، 195'، اگستین کی دینیات الہیاتISBN 0-223-97728-4 – لندن، صفحہ 343 (انگریزی/لاطینی)
  3. کراس، ایف ایل اور لیوینگسٹون، ای (2005)، "افلاطونی،" آکسفرڈ لغت براۓ عیسائی کلیسیا - ISBN 0-19-280290-9 - جامعہ آکسفرڈ: آکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔