نواز علی شوق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نواز علی شوق
معلومات شخصیت
پیدائش 10 جولا‎ئی 1937 (82 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
كندھ كوٹ،  سندھ،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  پروفیسر،  محقق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ کراچی،  سندھی زبان کا با اختیار ادارہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر نواز علی شوق (پیدائش: 10 جولائی،1937ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان و ادب کے معروف ماہر، شاعر، نقاد، محقق اور جامعہ کراچی کے شعبہ سندھی کے سابق چیئرمین ہیں۔ وہ شاہ عبد اللطیف بھتائی کی شاعری پر تحقیق کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر نواز علی شوق 10 جولائی،1937ء کو کندھ کوٹ، ضلع جیکب آباد، صوبہ سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے[1][2]۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ سندھی کے پروفیسر اور چیئرمین اور شاہ لطیف چیئر کراچی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سندھی زبان کا با اختیار ادارہ حیدرآباد، سندھ کے چیئرمین بھی رہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کی شرح ابیات شاہ لطیف کے نام سے تحریر کی۔ ان کی دیگر تصانیف میں سچل سرمست :تاریخ، تصوف اور شاعری، کلیات علوی، کلیات ناز، ملاوٹ جا ماہر، آویسی اتھی ویا اور سامی سفر ھلیا کے نام شامل ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • ابیات شاہ لطیف
  • سچل سرمست :تاریخ، تصوف اور شاعری
  • 'کلیات ناز
  • کلیات علوی
  • ملاوٹ جا ماہر
  • سامی سفر ھلیا
  • آویسی اتھی ویا
  • فتوح السند (احمد بن یحییٰ البلادی کی کتاب فتوح السند کا سندھی ترجمہ)

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں14 اگست، 2014ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]