حبیب الرحمان (اداکار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


حبیب الرحمان (اداکار)
معلومات شخصیت
پیدائش 26 نومبر 1929  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پنجاب،  پٹیالہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 فروری 2016 (87 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ نغمہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلم ساز،  اداکار،  فلم ہدایت کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

حبیب (انگریزی: Habib) المعروف اداکار (حبیب الرحمن) ہماری فلم انڈسٹری کا ایک جگمگاتا ستارہ تھے۔ وہ اچھے فلمی اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور ٹی وی فنکار بھی تھے۔ اپنے دور میں وہ کامیاب اور معروف ترین فلمی ہیروز میں شمار ہوئے۔ انہوں نے پنجابی اور اردو فلموں میں یکساں مہارت کے ساتھ اپنے فنی جوہر دکھائے۔ حبیب کا شمار فلم انڈسٹری کے چند تعلیم یافتہ فنکاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے تین مضامین انگلش، اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ پہلے انہوں نے ایریگیشن ڈپارٹمنٹ اور بعد ازاں سول ایوی ایشن میں بھی ملازمت اختیار کی۔ ان کے دو بھائی حفیظ الرحمن اور ریاض الرحمن آرمی میں تھے جس کی وجہ سے وہ خود بھی فوج میں جانے کے خواہش مند تھے۔ وہ پائلٹ بننے کے لیے ایٔرفورس میں بھی گئے لیکن ٹیسٹ پاس نہ کر سکے۔ حبیب حادثاتی طور پر فلم انڈسٹری میں آئے تھے۔

معلوماتی زندگی[ترمیم]

حبیب کا تعلق پٹیالہ کی ایک زرعی زمیندار فیملی سے تھا۔ 1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آیا۔ انہوں نے اپنی ساتھی اداکارہ نغمہ سے شادی بھی کی، جن سے ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ نغمہ سے طلاق کے بعد حبیب نے ایک اور شادی کی۔ دوسری بیوی سے بھی ان کی ایک بیٹی ہوئی۔ آئیے حبیب کی زندگی سے جڑی کچھ یادوں کے پردے سرکا کر دیکھتے ہیں۔ گماں نہ تھا کہ ایک خلیق و مہربان انسان اور باکمال اداکار حبیب ہمیں سوگوار چھوڑ کر عدم آباد ہوجائے گا۔ وہ جس قدر اچھا اداکار تھا اس سے کئی درجے نفیس انسان تھا۔ اس سے مل کر اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ جب پاکستان کی فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی ان کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

وہاں ان کا کام عکسبند کیا جانا تھا۔ ان کا شمار تعلیم یافتہ اداکاروں میں ہوتا تھا اس لیے فلم انڈسٹری میں ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ جب ان کی حسِ ظرافت پھڑکتی تو وہ دوستوں سمیت ساتھی فنکاروں کے ساتھ شائستہ ہنسی مذاق بھی کرتے۔ سیٹ پر اداکارہ انجمن اور معروف اداکار الیاس کاشمیری بھی موجود تھے۔ سیٹ غالباً ایک حویلی نما گھر کا تھا جہاں بڑے بڑے ستون بھی بنائے گئے تھے۔ جب شوٹنگ میں کچھ دیر کے لیے وقفہ ہوا تو اداکارہ انجمن سیٹ سے باہر چلی گئی اور الیاس کاشمیری بے چینی کے عالم میں ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ حبیب جو میرے برابر کرسی پر براجمان تھے الیاس کاشمیری کی اضطراری کیفیت بھانپ گئے تھے اور انہیں متوجہ کرتے ہوئے بولے ’’تایا جی ادھر آجائو انجمن واش روم گئی ہے‘‘۔ الیاس کاشمیری یہ سن کر مسکرائے اور بوجھل قدموں سے ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے۔ مگر ان کی ایک کمزوری ہے اگر اس ستون پر دوپٹہ ڈال دیا جائے تو یہ لڑکی سمجھ کر للچائی نظروں سے اسے دیکھنا شروع کر دیں گے۔‘‘ جس پر ہم کھکھلاکر ہنسنے لگے اور الیاس کاشمیری شرمندگی چھپاتے ہوئے اتنا کہہ سکے حبیب صاحب بس آپ بھی…‘‘

حبیب کی یادداشتیں تحریر کرنے جب ان کے گھر جاتا تو اکثر ان کے ماموں سے ملاقات ضرور ہوتی۔ شروع شروع میں وہ ایک تنک مزاج شخص لگے مگر بے تکلفی ہونے پر زندہ دل نکلے۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ بعد میں ہم پہ یہ عقدہ کھلا کہ وہ اپنے زمانے کے فنکار بھی رہ چکے ہیں شاید حبیب اداکاری کے جین ننھیال کی طرف سے ملے تھے۔ ورنہ انہوں نے کبھی اداکاری کے بارے میں سوچا نہ تھا۔ بھاری بھرکم آواز، سر پر کھچڑی بال جو اکثر مہندی کے رنگ میں رنگے ہوتے تھے اور چہرے پر ضرورت سے زیادہ موٹی اور لمبی ناک ان کی پہچان کو منفرد بناتی تھی۔ تمام گھر اور باہر والوں میں وہ ماموں کے نام سے مشہور تھے۔ جب ماموں موڈ میں ہوتے ہمارے ساتھ علیحدگی میں بھانجے کی عادات کو ہدف تنقید بنانا اپنا حق سمجھتے۔ اکثر گھر کی باتیں بھی کرلیتے تھے۔

تو حسب سابق ماموں سے ملاقات ہوئی۔ حبیب گھر پر موجود نہ تھے ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ماموں نے مجھے حبیب کی والدہ کا پیغام دیا کہ اماں جی چاہتی ہیں کہ آپ لوگ حبیب کو شادی پر مجبور کریں کیونکہ وہ ہر بار ان کی بات ٹال دیتا ہے شاید دوستوں کی مان لے، آخر کب تک تنہا رہے گا۔ اس کے بعد ہم گاہے بہ گاہے دبے الفاظ میں انہیں شادی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ایک روز معلوم ہوا کہ انہوں نے شاہین خاتون سے خاموشی سے شادی کرلی ہے۔

حبیب کے ساتھ متعدد مرتبہ شہر اور شہر سے باہر سفر کرنے کے مواقع بھی میسر آئے، ان کے پاس مرسڈیز اور ٹیوٹا گاڑیاں تھیں اور دونوں ان کے اچھے دنوں کی نشانی تھی۔ اکثر ہم انہیں نئی گاڑی خریدنے کے لیے زور دیتے تو وہ کمال ہوشیاری سے ان گاڑیوں کے فوائد گنوانا شروع کردیتے کہ یہ نئی گاڑیوں کے مقابلہ میں زیادہ پائیدار اور مضبوط ہیں اور ہم لاجواب ہو کر رہ جاتے۔ وہ فلمی دنیا میں کنجوس اداکار کے نام سے بھی مشہور تھے تاہم وہ اس رائے سے متفق نہ تھے ان کے خیال میں وہ فضول خرچ نہیں تھے۔ ایک دن انہوں نے مجھے حضرت سلطان باہوؒ کے مزار پر چلنے کی دعوت دی جس کا مقصد پُرآشوب فلمی حالات میں حبیب کو فلمیں ملنے اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کرنا تھا۔ غالباً یہ پروگرام ان کے دیرینہ دوست اور ہدایت کار ثقلین رضوی نے بنایا تھا جو اس سفر میں ہمارے ہم رکاب تھے۔ اسی طرح انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ وہ قصور کے مشہور طبیب المعروف بابا جناں والے سے بھی دعا کرائیں۔ جس پر وہ مجھے اور ذاکر خواجہ کو ساتھ لے کر بابا جی کے مطب پہ پہنچ گئے۔ جہاں ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ بابا جی نے نہ صرف دعا کی بلکہ ہماری مہانداری بھی کی۔ یہ وہ دن تھے جب جنرل ضیاء الحق کے طویل مارشل لا اور اسلامی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان کی فلم انڈسٹری سسک رہی تھی۔ گھٹن کی اس فضا میں سماجی اور اصلاحی موضوعات کی جگہ تشدد اور مار دھاڑ نے لے لی تھی۔ مولا جٹ کی ملک گیر پسندیدگی نے فلمسازوں کو اس قسم کی فلمیں بنانے کی اندھی دوڑ میں شامل کر دیا تھا۔ گنڈاسے اور ایکشن کو فلم کی کامیابی تصور کیا جانے لگا تھا۔ سلطان راہی اور مصطفی قریشی سمیت چند اداکاروں کے علاوہ باقی کی مارکیٹ ختم ہو کر رہ گئی تھی جو رفتہ رفتہ گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

ان حالات میں حبیب ایسے منفرد اداکاری کے حامل اداکار کو بھی سلور اسکرین پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے سخت ہاتھ پائوں مارنے پڑے۔ میرے خیال میں یہ بزرگوں کی دعائوں کا نتیجہ تھا کہ جہاں بڑے بڑے فلمی نام گمنامی کی تاریک راہوں میں گم ہونے لگے تھے وہاں خوش قسمتی سے حبیب کو سلور اسکرین پر کریکٹر ایکٹر کرداروں میں آنے کے مواقع مل رے تھے۔ میں اور ذاکر خواجہ اکثر انہیں ٹیلی ویژن اسکرین پر آنے کا مشورہ دیتے رہتے تھے اور وہ دھیمے انداز میں یہ کہتے ہوئے ہمارے مشورے کو رد کردیتے کہ اتنی بڑی اسکرین سے چند انچ کی اسکرین پر آنا اچھا نہیں لگتا۔ اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن ملک میں واحد ٹی وی چینل تھا، جس کے ڈرامے ناظرین کے بیڈ روم تک گھسے ہوئے تھے۔ بعد میں انہیں اپنے خیالات بدلنا پڑے اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں کام کرنے کی طرف متوجہ ہوئے۔

فلمی یادداشتیں بیان کرتے وقت وہ اکثر ساتھی اداکاروں کی حرمت کا مکمل خیال رکھتے تھے۔ ایک فلم کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک مشہور اداکارہ کے بارے میں ایک آف دی ریکارڈ واقعہ سنایا تو میں حیران رہ گیا۔ میں اسے تاریخ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب مذکورہ اداکارہ فلم انڈسٹری میں کامیابی کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہی تھی اور ایک فلم میں حبیب کے کہنے پر اسے ان کے مقابل ہیروئن کاسٹ کیا گیا تھاکہ ایک روز ہدایت کار نے ایورنیو اسٹوڈیوز کے غسل خانے میں اس اداکارہ کے عریاں مناظر فلمبند کرلئے جس میں اداکارہ کی رضامندی شامل تھی۔ جب اس واقعہ کا حبیب کو علم ہوا تو وہ ہدایت کار پر بہت برہم ہوئے اور اس کی فلم چھوڑ کر چلے گئے، جس پر ہدایت کار کا دماغ ٹھکانے آگیا۔ یہ حبیب کے عروج کا دور تھا۔ اس کا نام فلم کی کامیابی تصور کیا جاتا تھا۔ ہدایت کار نے انہیں منانے کے لیے ان کے پاس مختلف لوگوں کو بھیجا لیکن وہ نہ مانے۔ مجبوراً اسے ایورنیو اسٹوڈیوز کی انتظامیہ کو معاملے کو سلجھانے کی درخواست کرنا پڑی، جس کے نتیجہ میں حبیب اس شرط پر فلم میں کام کرنے کے لیے رضا مند ہوئے کہ اداکارہ کے عریاں مناظر کے نیگٹو کیمرے ہی میں تلف کر دیے جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا وہ اداکارہ اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ذلت و رسوائی کے کنویں میں جانے سے بچ گئی۔ آنے والے وقت میں وہ فلم انڈسٹری کی ایک باصلاحیت اور کامیاب اداکارہ ثابت ہوئی جس نے اداکاری کے یادگار جوہر دکھائے۔

حبیب ایک منکسر المزاج اور شاکر قسم کے انسان تھے۔ قدرت نے انہیں تین شادیوں کے باوجود اولادِ نرینہ سے محروم رکھا مگر انہوں نے کبھی اس محرومی کا ذکر نہیں کیا۔ تکبّر ان کی ذات کو چھوکر بھی نہیں گزرا تھا۔ میں نے کبھی انہیں غصے کی حالت میں نہیں پایا، چھوٹی موٹی باتوں پر خفگی کا اظہار ضرور کرتے۔ وہ خود کہتے تھے کہ غصے سے آشنا نہیں ہوں۔ ان کا سینہ ہمیشہ دوسروں کی محبت کے لیے فراخ پایا۔ ان کا ایک مخصوص انداز آج بھی یاد ہے، اکثر اپنے دنوں بازو پھیلا اور ہونٹوں پر دلپذیر مسکراہٹ بکھیر کر ملاقات کے لیے آنے والے کا ایسا استقبال کرتے تھے کہ کوئی شکوہ شکایت بھی جاتا رہتا۔ وہ ہمیشہ مہمان کے جذبات کا مکمل احترام کرتے۔ چاہے وہ کتنی بے تکی کیوں نہ ہانک رہا ہوتا اس کی بات غور سے سنتے۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک دن ایبٹ آباد سے انہیں ایک پرستار ملنے آیا۔ ملاقات پر اس نے استفسار کیا کہ آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو ملاقاتی نہایت معصومانہ انداز میں بولا ، کمال ہے آپ نے مجھے بھلادیا اور پہچاننے سے انکاری ہیں۔ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں۔ ایک مرتبہ آپ ایبٹ آباد فلم کی شوٹنگ کے لیے آئے تھے اور میں آپ کے برابر کھڑا تھا اس دوران میں نے آپ کے پائوں پر پائوں رکھ کر زور سے دبایا تھا تاکہ آپ کو یاد رہے۔ مگر آپ سب بھول گئے۔ پرستار کی اس شکایت پر انہوں نے اس کی دلجوئی کرتے ہوئے جھوٹ موٹ اپنی یادداشت واپس آنے کا اقرار کرتے ہوئے اسے پہچاننے کا اعلان کیا تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو۔

فلمی کیرئیر[ترمیم]

1929ء میں بھارتی ریاست پٹیالہ میں جنم لینے والے حبیب نے 1956ء میں فلم ’’لختِ جگر‘‘ سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس دوران ان کی فلمیں ریلیز ہونے کے ساتھ فلاپ بھی ہوتی رہیں مگر 1956ء کی فلم ’’آدمی‘‘ نے انہیں پہلی شناخت دی۔ پھر ’’زہرعشق‘‘ (1958ء)، ’’ثریا‘‘ (1961ء)، ’’سپیرن‘‘ (1961ء)، ’’اولاد‘‘ (1962ء)، ’’مہتاب‘‘، ’’ماں کے آنسو‘‘، ’’خاندان‘‘ اور ’’آشیانہ‘‘ (1964ء) انہیں انڈسٹری میں صف اوّل کا اداکار بناگئیں۔ [1] 1965ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم ’’جی دار‘‘ میں حبیب سائیڈ ہیرو تھے۔ بعد ازاں آنے والی حبیب کی مقبول ترین پنجابی فلموں میں ’’دل دا جانی‘‘، ’’یار مار‘‘، ’’بابل دا ویہڑا‘‘، ’’چن مکھنا‘‘، ’’دو مٹیارن‘‘، چن ویر‘‘، ’’مکھڑا چن ورگا‘‘، ’’جینٹلمین‘‘، ’’وریام‘‘، ’’ات خدا دا ویر‘‘، ’’چن پتر‘‘، ’’ٹیکسی ڈرائیور‘‘، ’’رنگو جٹ‘‘، ’’دُنیا پیسے دی‘‘، ’’سجن بے پروا‘‘، ’’بشیرا‘‘، ’’دو پترانارن دے‘‘، ’’خوشیا‘‘ اور ’’ملنگا‘‘ وغیرہ شامل تھیں۔ انہوں نے دو سندھی فلمیں ’’باغی‘‘ اور ’’اللہ بچایو‘‘ کی ہدایات بھی دیں۔ انہوں نے بطور پروڈیوسر ’’پردیس‘‘ اور ’’ہار گیا انسان‘‘ جیسی فلمیں بھی بنائیں مگر کوئی بھی کامیاب فلم ثابت نہ ہو سکی۔

وفات[ترمیم]

دو قومی نظریے کے حامی صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے حامل فلمسٹار حبیب مختصر علالت کے بعد 25 فروری 2016ء کی صبح لاہور میں انتقال کرگئے۔ [2] انہیں چند روز پہلے برین ہیمبرج ہوا جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہیں لاہور کے مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں فلم اندسٹری سے سید نور، الطاف حسین، جاوید رضا، شوکت علی، سرور بھٹی، محسن شوکت، انور رفیع، اچھی خان، غفور بٹ اور دیگر شامل تھے۔ حبیب کا اصل نام حبیب الرحمن تھا اور ان کی عمر 78 سال تھی،

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عاشق علی۔ "اداکار حبیب کی فلمی ویب سائٹ"۔ سی آئی ٹی ڈبلیو ایف۔ آزاد اشاعت۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جنوری 2019۔
  2. عاشق علی۔ "ڈیلی پاکستان گلوبل اخبار - 85 سالہ تجربہ کار اداکار حبیب وفات پا چکے ہیں"۔ ڈیلی پاکستان۔ آزاد اشاعت۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جنوری 2019۔

بیرونی رابطہ[ترمیم]