پاکستان میں شیعیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

ہندوستان میں مسلمان افغانستان، ایران اور بحر ہند کے راستے داخل ہوئے۔ آنے والوں کو دو بنیادی چیلنج درپیش تھے۔ اول یہ کہ اقلیت ہونے کے سبب مقامی ہندو اکثریت کے درمیان اپنا تشخص کیسے قائم رکھیں دوم یہ کہ خود مسلم سماج کے اندر سماجی، سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ تضادات کو کیسے قابو میں رکھیں۔

تاریخ[ترمیم]

اس تناظر میں ہندوستان میں شیعہ اسلام کی تاریخ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

ابتدائی دور[ترمیم]

شیعہ اسلام کا برصغیر سے تعلق اسلام کے اوائل میں ہی پیدا ہو گیا تھا۔ چنانچہ اسلامی تاریخ میں حضرت علی کی اجازت سے حارث بن مرہ عبد ی کا 36 ہجری[1] یا 38 ہجری کے آخر میں آنا اور فوجی کامیابیوں کی بدولت مکران قندابیل اور قیقان کے علاقوں تک چلے جانا، نیز 42 ہجری میں ان کا قتل مذکور ہے۔[2]

ابن خلدون کے بقول خلیفہ منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔ محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازی[3] کے نام سے جانا جاتا ہے،400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انھیں خاصے احترام سے نوازا۔ حاکم عباسی منصور کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کے قلع قمع کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازی شہید ہوئے اور ان کے زیر تسلط علاقہ ان کے قبضے سے نکل گیا[4] ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے[5] طبری نے یہ واقعات 151ہجری میں نقل کیے ہیں۔[6]ان واقعات کی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ 151 ہجری میں یا اس کے آس پاس زیدیوں کی موجودگی شیعیت کے رواج کا باعث بنی۔

جب نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتب ( حنفی، حنبلی، مالکی، شافعی ) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں ( زیدی، اثنا عشری، اسماعیلی ) میں بٹ چکے تھے۔ شیعوں میں چھٹے امام جعفر صادق کے مرتب کردہ فقہ جعفریہ کے اثنا عشری پیروکار زیادہ تھے۔
اسماعیلی مبلغین ملتان تک پھیل گئے چنانچہ دسویں صدی کے وسط میں وہاں اسماعیلی قرامطہ حکومت قائم ہوئی مگر گیارہویں صدی کے شروع میں محمود غزنوی کے دو حملوں میں ملتان سے سیہون تک پھیلی قرامطہ حکومت ختم ہو گئی[7]۔ ان حملوں میں ملتان کی اسماعیلی آبادی کا قتلِ عام ہوا۔ قرامطہ حکمران ابوفتح داؤد کو قیدی بنایا گیا۔ ملتان کے شہریوں سے لگ بھگ دو کروڑ دینار تاوان وصول کیا گیا اور بچے کچھے اسماعیلی بالائی پنجاب اور زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ محمود غزنوی کے بعد قرامطہ حکومت پھرمختصر عرصے کے لیے قائم ہوئی تاہم بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری نے اس کا مستقل خاتمہ کر دیا اور بعد ازاں صوبہ ملتان دہلی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
لگ بھگ اسی دور میں شمس الدین عراقی اور ان کے پیروکاروں نے کشمیر میں قدم رکھا۔ انہوں نے چک خاندان کی مدد سے ہزاروں ہندوؤں کو شیعہ اسلام میں داخل کیا۔ ایک ترک جنگجو سردار مرزا حیدر دگلت نے پندرہ سو چالیس میں کشمیر پر حملہ کیا اور شیعہ فرقے کا قتلِ عام کیا۔ مرزا دگلت کی واپسی کے بعد چک خاندان کا اقتدار پھر سے بحال ہو گیا۔ چک حکمرانوں کے تبلیغی جوش وخروش کے ردِ عمل میں سن سولہ سو بائیس سے سولہ سو پچاسی تک کشمیر میں چار بڑے شیعہ سنی بلوے ہوئے۔
آج بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صرف کارگل اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بلتستان اور گلگت ہی وہ علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے۔

مغلیہ دور[ترمیم]

بابر اور ہمایوں ایرانی صفوی بادشاہوں کے قریب ہونے کی وجہ سے شیعہ سنی تعصب سے پاک تھے۔ اکبر دور میں ایک شیعہ عالم قاضی نور الله شوستری ۔[8] ایران سے آگرہ آئے اور ہر فقہ کے ماننے والے کے لیے اس کی فقہ کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے سبب بادشاہ کا اعتماد حاصل کر لیا۔ اس زمانے میں شیخ احمد سرہندی نام کے ایک سنی عالم اپنے آپ کو قاضی القضاۃ کے منصب کا زیادہ حقدار سمجھتے تھے مگراکبر نے نور الله شوستری صاحب کوقاضی القضاۃ   کا درجہ دیا۔ جب کشمیر کی شیعہ چک سلطنت میں زیادتیوں کے شکار سنی علما نے شکایت کی تو اکبر نے حالات معلوم کرنے کے لیے قاضی نور اللہ شوستری کو ہی بطور شاہی ایلچی کشمیر بھیجا۔ البتہ اکبر کے زمانے میں بعض سنی علما کی سفارش پر متعدد شیعہ رہنما قتل بھی ہوئے[9]اکبر کی وفات کے بعد شیخ احمد سرہندی۔[10] اور دوسرے سنی علما کے مطالبے پر جہانگیر نے قاضی نور الله شوستری کو کوڑے لگانے کی سزا سنائی جس کے نتیجے میں ستر سال کی عمر میں انکا انتقال ہو گیا[11] اپنے والد کے برعکس شاہجہاں نے شیعوں کے خلاف کوئی تعصب نہیں برتا البتہ اورنگزیب نے اپنے بھائی داراشکوہ اور دکن کی شیعہ ریاست کے خلاف لشکر کشی کے لیے شیعہ سنی نفرت کو کامیابی سے استعمال کیا۔ اس خطرناک حکمت عملی نے معاشرے پر جو اثرات چھوڑے ان کا اندازہ اس واقعے سے ہو جاتا ہے کہ1707ء میں اورنگزیب کی وفات کی خبر سن کر لاہور میں مشتعل افراد نے شیعہ امام بارگاہوں اور مساجد کو آگ لگا دی۔[12] اورنگزیب کی اس مہم کے اثرات شاہ ولی الله کی طرف سے شیعہ سنی اتحاد کی کوششوں سے زائل ہو گئے۔[13]

سلطنتِ اودھ[14][ترمیم]

آصف الدولہ کے زمانے میں ایران سے اصولی شیعہ علما کی آمد شروع ہوئی جنہوں نے اخباری شیعہ رواج کے برعکس دینی رہنمائی کی مرکزیت پر زور دیا جس کے مطابق فقہی حوالے سے کسی ایک مرجع ( وہ عالم جس سے فقہی رہنمائی لی جا سکے ) کی تقلید ضروری ہے۔ آصف الدولہ کے وزیرِ اعظم حسن رضا خان نے شیعہ مبلغین کی نا صرف خصوصی سرپرستی کی بلکہ عراق میں نجف اور کربلا کی دیکھ بھال کے لیے بھی اودھی خزانے سے لگ بھگ دس لاکھ روپے سالانہ بجھوائے جانے لگے جبکہ پانچ لاکھ کے صرفے سے دریائے فرات سے نہرِ ہندی نکلوائی گئی جس نے نجف تا کربلا کا علاقہ سرسبز کر دیا۔ خانہ بدوش عراقی قبائل یہاں سکونت اختیار کرنے لگے اور شیعیت فروغ پانے لگی۔ 1818ء سے 1821ء کے دوران سید احمد بریلوی نے شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کے عقائد کی تبدیلی کی مہم چلائی، وہ لکھنؤ  اور اودھ بھی گئے۔ وہ ان مہمات کے دوران مقامی صوفی مسلک کے اہلسنت اور اہل تشیع کے عقائد پر تندوتیز تنقید کیا کرتے تھے۔[15][16] جس پر سلطنت اودھ کی حکومت نے کوئی روک نہ لگائی۔ چنانچہ لکھنؤ میں شیعہ مجتہد علامہ سید دلدار علی نقوی [17] نے ان سے   ایک مناظرہ بھی کیا۔  اس قسم کے بین المسالک مکالمے مسلمانوں کی تہذیبی زندگی کا خاصہ رہے ہیں۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کاحصہ بننے کی وجہ سے اس سلطنت کا خاتمہ ہو گیا[18]

انگریز دور[ترمیم]

انگریز دور میں یو پی کو چھوڑ ہندوستان کے دیگر علاقوں بالخصوص رجواڑوں میں شیعہ سنی کشیدگی زیادہ تر زبانی حد تک ہی رہی۔ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے مغربی تعلیم یافتہ سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے کو اپنی سیاست اور انا کا محور بنانے سے گریز کیا۔ اس دور میں کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست دانوں، عام لوگوں اور بڑے علما کی زیادہ توجہ انگریزی اقتدار کے خلاف بڑی لڑائی پر ہی مرکوز رہی۔ البتہ انگریز دور میں لکھنؤ میں فسادات ہوئے جن کے اثرات پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔ ان کا ذکر آگے آئے گا۔

پاکستان[ترمیم]

یوں تو تحریک پاکستان میں سبھی اہل تشیع نے حصہ لیا لیکن کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے بغیر پاکستان کی تاریخ نامکمل رہتی ہے۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح جنہیں قائد اعظم اور بابائے قوم کے لقب سے نوازا گیا،25 دسمبر 1876ء کو وزیر مینشن، کراچی، سندھ کے اسماعیلی شیعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بعد میں آپ نے اثنا عشری مکتب کو قبول کیا [19]۔[20][21]دوسری اہم ترین شخصیت سر آغا خان سوم کی ہے جو 1906ء سے 1912ء تک مسلم لیگ کے پہلے صدر رہے۔1906ء میں انہوں نے 35 نامور مسلمانوں کے ایک ممتاز وفد کی شملہ میں قیادت کی اور برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے ایک یادداشت پیش کی۔ اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے برطانوی وائسرائے پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ایک جداگانہ قوم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کی تکریم کی جائے نیز انہیں لوکل باڈیز اور قانون ساز کونسل دونوں میں نمائندگی دی جائے۔ 1930ء اور1931ء میں گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ سر آغا خان کولندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس کے لیے مسلمانوں کے ترجمان کے طور پر مدعو کیا گیا جہاں علامہ اقبال ؒنے مسلمانوں کے لیے سر آغا خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے کانفرنس کے روبرو یہ مطالبات آغا خان کی رہنمائی میں پیش کیے ہیں جنہیں ہم سب دل سے سراہتے ہیں اور برصغیر کے مسلمان ان سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔ تیسری اہم ترین شخصیت راجہ امیر حسن خان آف ریاست محمود آباد(جس کی آمدنی کا اندازہ ان دنوں ماہانہ 40لاکھ روپیہ تھا) کی بھر پور مالی مدد سے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند امیر احمد خان راجہ بنے اور مسلم لیگ کے کم عمر ترین ممبر بنے۔ سن 1937میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ لکھنؤ اجلاس اوربعدکی رابطہ عوام مہم کا خرچہ راجہ صاحب نے اٹھایا۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی اور اس کے صدر رہے نیز اسی فیڈریشن کی کاوشوں کی بدولت 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ مرزا ابوالحسن اصفہانی بھی تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھے۔ حبیب بینک والے سیٹھ محمد علی نے بھی متعدد موقعوں پر تحریک پاکستان کی مالی مدد کی 1948میں نو زائیدہ ریاست کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے 80 ملین روپے کا چیک قائد اعظم کو دیا۔ پی آیٔ اے کی بنیاد رکھنے والے مرزا احمد اصفہانی ہو؛ مسلم کمرشل بینک کے بانی سر آدم جی؛ راجہ غضنفر علی خان ؛ نواب فتح علی خان قزلباش؛ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی اور چودھری رحمت علی تک شیعہ رہنماؤں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح خواتین میں سے فاطمۂ جناح مادر ملت، ملکۂ اوَدھ، صغریٰ بیگم،لیڈی نصرت ہارون اور لاہور کے سیکریٹریٹ کی عمارت پر پاکستان کا پرچم لہرانے والی شیر دل خاتون فاطمۂ صغریٰ کے اسما قابل ذکر ہیں۔

انیس سو سینتالیس میں جن علاقوں میں پاکستان بنا وہاں صوبہ سرحد کو چھوڑ کر ہر جگہ سنی بریلوی مکتبہِ فکر کے پیروکاروں کی اکثریت تھی۔ چونکہ بریلوی مسلک میں تصوف کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور تصوف کا روحانی سلسلہ حضرت علی سے شروع ہوتا ہے۔ لہذا بریلویوں اور اہلِ تشیع کے درمیان کم و بیش مذہبی رواداری کی فضا ہی رہی۔

پاکستان میں شیعہ کشی[ترمیم]

وادی سندھ میں دہشت گردی کا آغاز[ترمیم]

پاکستان میں فرقہ واریت کی تاریخ پر صحیح طرح توجہ نہ دینے کی وجہ سے تجویز کیے جانے والے حل عملی نتائج دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ وادی سندھ میں قیام پاکستان سے پہلے ہی کئی طرح کی مذہبی ثقافتیں پائی جاتی تھیں۔ یہاں اکثریت مسلمانوں کی تھی جو اختلافات کے باوجود صدیوں سے ساتھ ساتھ رہ رہے تھے۔ عوام کو دہشت زدہ کر کے صرف ایک قسم کی مذہبی ثقافت میں ڈھالنے کی کوشش سب سے پہلے 1826ء میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی نے کی۔،[22] ان دو شخصیات کا کردار اس خطے کی مذہبی تاریخ میں بہت اہم ہے، جس کا اثر آج بھی بھارت کے صوبوں اترپردیش،اور ہریانہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پختون اور مہاجر اکثریت والے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پورے ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی مگر پنجاب اور پختون خواہ کے علاقوں میں سکھوں کا دور چل رہا تھا۔ سکھ مغل بادشاہوں کے دور میں  زیادتیوں کا شکار رہے تھے اور اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے۔ سید احمد بریلوی حج  کے   دوران شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک توحید والعدل ،جو وہابیت کے نام سے معروف تھی، سے متاثر ہوئے  اور حجاز کے سفر سے واپس آتے ہوئے شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دروس کی کتاب،  ''کتاب التوحید''[23] [24]ساتھ لیکر آئے۔ اس کتاب کا تصور خدا شیعی تصور خدا کے بالکل برعکس تھا[25] اور سوچ کے اس فرق نے ان حضرات کی تحریک کے شیعوں کے   ساتھ تعلقات پر گہرا اثر ڈالا۔ مولانا محمد ابن عبد الوہاب کی کتاب  التوحید کے مفاہیم کو ان حضرات  نے اپنی کتابوں  ''تقویۃ الایمان  '' اور''صراط مستقیم''   میں پیش کیا۔ ان کتابوں کو انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے شایع اور تقسیم کرنے میں مدد دی نیز  انگریزوں نے مسلمانوں میں پائی جانے والی محرومیوں کو سکھوں کے خلاف استعمال کر نے کے لیے سید احمد بریلوی اورشاہ اسماعیل دہلوی کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں لشکر سازی کی مکمل آزادی دی ۔[26] [27] [28] 

دار العلوم دیوبند کا قیام اور ذہن سازی[ترمیم]

1831ء میں سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کی حکومت سے اکتائے ہوئے مسلمانوں اور سکھوں کے اشتراک عمل کے نتیجے میں بالاکوٹ کے مقام پر ان کے قتل کے بعد ان حضرات کی تحریک کا دوبارہ ظہور 30 مئی 1867ء میں دار العلوم دیوبند کے قیام کی شکل میں ہوا۔ دیوبندی مکتب فکر میں شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کے خیالات کو اپنانے اور ان کی طرفداری کرنے کا رجحان اس کی تشکیل کے ابتدائی دنوں سے موجود تھا۔ ان  کے نظریات کے ساتھ وابستگی دار العلوم دیوبند کے بانیوں کی تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اگرچہ یہ تحریک بھی شرک کے سخت گیر مفہوم کی پرچارک اور صوفی سنی اور شیعوں کے خلاف تھی، لیکن عوام میں مقبولیت پانے کے لیے علماے دیوبند کے لیے کرامات کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ مثال کے طور پر مولانا قاسم نانوتوی کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ انہیں خواب آیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گود میں بیٹھے ہیں۔[29] ایک اور خواب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا جسم مبارک مولانا قاسم نانوتوی کے جسم میں سما گیا[30] مولانا عطاء اللہ بخاری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب قرآن پڑھتے تھے تو پرندے اور جانور رک جاتے تھے۔ مولانا احمد علی لاہوری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ ان کو حلال مال سے خریدا گیا ہے یا حرام مال سے، اسی طرح لوگوں کو دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ یہ جنتی ہے یا جہنمی؟[31] یہاں تک کہ لال مسجد کے مولانا عبد العزیز نے مسلح افراد کو اعتماد میں لینے کے لیے کہا تھا کہ مجھے رسول اللہ (ص) نے خواب میں آ کر بشارت دی ہے کہ میرے شہید ہونے کے بعد پاکستان میں میرے خون کی برکت سے اسلامی انقلاب آ جائے گا۔ بہت سے حضرات یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مولانا عبد العزیز لوگوں کو رسول (ص) کی زیارت کرواتے ہیں۔ گویا اس تحریک میں ایک طرح کا تصوف اور کرامات کا سلسلہ بھی رہا ہے مگر ان کرامتوں کی نشر و اشاعت کا مقصد صوفیا کے مسلک کی طرف مائل کرنا نہیں تھا۔ اس کا مقصد دیوبندی اکابر کو عوام کے عقائد کا حصہ بنانا تھا تاکہ انھیں شرک و بدعت کے خلاف جہاد لگ لیے اعتماد میں لیا جا سکے، یعنی لوہے کو لوہے کے ذریعے کاٹا جانا مقصود تھا۔

شیعہ ثقافت پرحملوں کا آغاز[ترمیم]

بانی دار العلوم دیوبند مولانا رشیداحمد  گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ :۔

"محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے"۔[32]   اسی دوران مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے بھی عزاداری پر شرک کا فتویٰ لگایا اور شیعوں کو اسلام کے آنگن میں پڑی نجاست قرار دیا۔[33][34] عزاداری پر سب سے پہلا حملہ مولانا قاسم نانوتوی کی قیادت میں دار العلوم دیوبند کے طلبہ نے کیا۔ دیوبند قصبے کے رہائشی اہل سنت محرم میں یاد کربلا مناتے تھے۔ مولانا قاسم نانوتوی نے طلبہ کا جتھہ بنا کر دیوبند کے رہائشی اہل سنت کو دہشت زدہ کیا اور کربلاکی یاد منانے سے روک دیا۔[35] دیوبند مکتب کی اس سوچ کاپہلا نتیجہ افغانستان کے شاہ امیر عبد الرحمن کی طرف سے 1891ء سے 1893ء تک کی جانے والی ہزارہ قبائل کی نسل کشی اور انکی جائداد کی پشتونوں میں تقسیم اورانکو غلام اورلونڈیاں بناکر فروخت کرنے کا عمل تھا جس  کے نتیجے میں افغانستان کے   ہزارہ قبیلے کی آبادی میں 60فیصد تک کمی آ گئی ۔[36] امیر عبد الرحمن خان نے اپنی  حکومت کا نظام چلانے کے لیے ہندوستان سے دیوبندی علما منگوائے تھے جنہوں نے شیعوں کے کافر ہونے اور ان کی جان و مال کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا۔  یہ جدید انسانی تاریخ کی پہلی نسل کشی تھی جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ انسان لقمۂ اجل بنے۔ اسی دوران میں کچھ ہزارہ خاندان ہجرت کر کے   کوئٹہ میں آ گئے جو انگریزوں کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے ان کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوا۔  کرم ایجنسی کے شیعہ قبائل  افغان شاہ کی ایسی فرقہ وارانہ کاروائیوں کے خوف سے ہندوستان سے ملحق ہو گئے اور یوں فاٹا کا بندوبست عمل میں آیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کے قانون کی مساوات  اور بہتر انتظامی  اقدامات کی بدولت  اس سوچ کو قتل عام کا دائرہ وادی سندھ تک پھیلانے کا موقع نہ مل سکا۔

لکھنؤ میں اشتعال انگیزی[ترمیم]

1906ء میں لکھنؤ   کے عزاداری کے جلوسوں  مقابلے میں دیوبندی علما  کی طرف سے مدح صحابہ کے نام سے جلوس نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا[37]۔ ان جلوسوں کو نکالا تو صحابہ کے نام پر جاتا لیکن ان میں کربلا کے واقعے پر گفتگو  اور نعرے بازی ہوا کرتی جس میں  یزید اور دیگر بنی امیہ وکالت کی جاتی۔ عاشورا کے دن یہ سب کرنے سے   شیعوں  میں اشتعال پھیل گیا۔ انگریزحکومت نے فرقہ وارانہ فساد  کے خطرے کے پیش نظر ان  جلوسوں پر پابندی لگا دی۔ لکھنؤ  کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ شہر اس وقت ہندوستان میں شیعوں  کا ثقافتی مرکز تھا۔ لکھنؤ میں اس اشتعال کے بعد فرقہ وارانہ لٹریچر چھپنے لگا، جو لکھنؤ تک محدود نہ رہا بلکہ وادی سندھ میں بھی آیا۔ 1920ء میں مرزا حیرت دہلوی نے "کتاب شہادت" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں حضرت علی و حسنین کی شان میں گستاخی اور ملوکیت بنی امیہ کی وکالت کی گئی تھی۔۔[38] لکھنؤ شہر میں تو انگریز حکومت کے حسن انتظام اور قانون کے مساوی نفاذ نے قتل و غارت تک نوبت نہیں آنے دی، لیکن پنجاب اور پختون خواہ کے بعض علاقوں میں محرم کے جلوسوں پر حملے ہوئے۔ 1931ء میں دیوبندی عالم مولانا عبد الشکور لکھنؤی نے لکھنؤ میں ایک دیوبندی مدرسہ قائم کیا اور  دوبارہ مدح "صحابہ" کے   سلسلے  کا آغاز کر دیا۔ اس اشتعال انگیزی کا نتیجہ اس وقت سامنے آیا جب 1938 میں اس جلوس کے   رد عمل کے طور پر لکھنؤ کے شیعہ حضرات نے  بنی امیہ  پر تبرے کے جلوس نکالنے شروع کر دیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی آزادی کے تاریخی لمحات قریب آ چکے تھے اور یہاں مسلمان آپس میں لڑپڑے تھے۔ اکتوبر 1939 ءکومولانا ابو الکلام آزاد کلکتہ سے لکھنؤ تشریف لائے اور سات دن تک مختلف شیعہ سنی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں۔ اس کوشش  کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیعہ حضرات نے تبرے کے جلوس نکالنا بند کر دیے[39] البتہ مولانا عبد الشکور لکھنؤی  پھر بھی صحابہ کے نام پر فتنہ انگیزی سے باز نہیں آ ئے اور نتیجتا حکومت کو اس سلسلے پر پابندی لگانا پڑی۔ مولانا عبد الشکور  1942ءمیں سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو  گئے۔[40]

تحریک پاکستان اورفرقہ وارانہ ذہنیت[ترمیم]

جنگ عظیم دوم  کی وجہ سے کمزور ہونے والے انگریزوں کے ہندوستان سے جانے  اور   مسلم لیگ کی تحریک کے نتیجے میں  ہندوستان کے شمال مغرب  میں ایک مسلمان ریاست کے ممکنہ قیام کی آہٹ پا کر علما دیوبند میں سے کچھ نے اس وجہ سے قیام پاکستان کی مخالفت کی کہ اس تحریک کو چلانے والے محمد علی جناح[41][21] اور اخراجات برداشت کرنے والے  راجہ صاحب محمود آباد شیعہ تھے[19]۔،[42] چنانچہ مولانا عطا اللہ بخاری نے جہاں مولانا آزاد کے غیر متعصب سیاسی موقف کو نقل کیا وہاں گاہے بگاہے  اپنی مخالفت کی اصلی وجہ بھی بیان کی۔  مولانا صاحب کے الفاظ میں  محمد علی[43][44] غضنفر  علی اور دوسرے علی نام والے لوگ نیا ملک  اس لیے نہیں بنا رہے کہ اس کو ہمارے حوالے کر دیں۔ البتہ کچھ دیگر سخت گیر علما نے قیام پاکستان کو ناگزیر سمجھتے ہوئے وادی سندھ  کی طرف ہجرت  شروع کی اور دوبارہ سے   سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی  یک ثقافتی  ریاست کے قیام کی کوششیں شروع کر دیں۔ 26  اگست 1941ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا۔[45] مولانا مودودی اگرچہ روایتی فرقہ پرست عالم  نہیں تھے مگر اپنی جماعت اسلامی کے پیغام کو قبول نہ کرنے والوں کو نام نہاد مسلمان سمجھتے تھے۔ اس طرح جماعت اسلامی بھی ایک قسم کا فرقہ بن گئی۔  البتہ  جماعت اسلامی محدود تعداد مگر  منظم  ارکان  کا حامل   فرقہ ہے، جس کو انگریزی زبان میں کلٹ[46] کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ 1944ء میں لاہور کے نواحی قصبے امرتسر میں تنظیم اہل سنت  کے نام سے ایک شیعہ مخالف دیوبندی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 26اکتوبر 1946ءکو مولانا شبیر احمد عثمانی نے جمعیت علمائے اسلام قائم کی جو مسلم لیگ کے متوازی سیاسی جماعت تھی،کیونکہ دیوبندی علما محمد علی جناح کے جدید نظریات پر مبنی تصورپاکستان کو غلط سمجھتے تھے[47]۔ جب قائد اعظم نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں ریاست کی نظر میں سب شہریوں کوبلا تفریق مذہب مساوی قرار دیا تو 1 ستمبر 1947ء کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے اخبارات میں ایک بیان جاری کیا جس کا ایک ایک لفظ قائد اعظم کی اس تقریر کی مخالفت پر مبنی تھا[48]، یوں ایک سرد جنگ شروع ہو گئی۔ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی دیوبندی علما نے شیعوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو حرام قرار دے رکھا تھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شیعوں کے لیے یہی سوچ رکھتے تھے[40]- لہٰذا قائد اعظم کی پہلی نماز جنازہ گورنر ہاؤس میں ان کے اپنے مسلک کے مطابق پڑھی گئی[41] مگر جب عوام میں نماز جنازہ پڑھانے کی باری آئ تو مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی[43]۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی تو انہوں نے اپنے فتووں سے رجوع کرنے کی بجائے ایک خواب سنا کر سوال کو ٹال دیا۔[49] دوسری طرف تکفیری علما مولانا نور الحسن بخاری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الستارتونسوی دیوبندی وغیرہ نے پاکستان بھر میں شیعہ مخالف جلسے کیے اور لوگوں کو فسادات کے لیے اکسایا۔[50] لہٰذا قیام پاکستان سے بعد  ہی شیعوں پر حملے شروع ہو گئے۔

1948ء میں روزنامہ احسان نے اپنے اداریے میں شیعوں کے عقائد اور ثقافت پر تنقید کی اور ان  کو تلقین کی کہ انگریز دور کو بھول کر نئے ملک میں مسلمانوں کی طرح رہنا سیکھیں۔  اس اخبار کو سرکاری اداروں میں بھی منگوایا جاتا تھا، چنانچہ اس اداریے کے خلاف شیعوں  نے ملک گیر احتجاج کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے نفرت پھیلانے کے جرم میں اخبار پر تین ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا۔ 1949ء میں چوٹی زیریں اور 1950ء میں نارووال میں عزاداری پر حملے ہوئے۔ 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں شیعہ امیدواروں کے خلاف فرقہ وارانہ بنیادوں پر مہم چلائی گئی اور انھیں کافر قرار دیا گیا[39]۔ ستم ظریفی  یہ  کہ 24جنوری 1951ء میں کراچی میں سب مکاتب فکر بشمول شیعہ کے علما نے پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لیے 22 نکات ترتیب دیے،[51] جبکہ عملی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے تھے۔ 1953ء میں قادیانیوں  کے خلاف چلنے والی مہم میں شیعہ رہنما بھی شامل ہوئے۔  دو سالوں کے لیے دیوبندی علما کی توجہ ختم نبوت کے معاملے پر مرکوز رہنے کی وجہ سے شیعوں  پر کوئی حملہ نہ ہوا۔ شیعہ مخالف حملوں کا دوبارہ آغاز 1955ء میں ہوا جب پنجاب میں پچیس مقامات پر عزاداری کے جلوسوں اور امام بارگاہوں  پر حملے کیے گئے جن میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔  اسی سال کراچی میں ایک مولانا صاحب نے افواہ اڑائ کہ شیعہ ہر سال ایک سنی بچہ ذبح کر کے نیاز پکاتے ہیں، اس افواہ کے زیر اثر کراچی میں ایک بلتی امامبارگاہ پر حملہ ہوا اور بارہ افراد شدید زخمی ہو گئے[39]۔

پاکستان میں شیعہ کشی کاآغاز[ترمیم]

پاکستان میں شیعہ کشی کی پہلی واردات 1957ء میں  ملتان کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں سیت پور میں ہوئی جہاں  جلوس پر حملہ کر کے تین عزاداروں کو قتل کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے عدالتی کمیشن  قائم کیا گیا اور اس واردات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئی۔ اسی سال احمد پور شرقی میں عزاداری کے جلوس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق اور تین شدید زخمی ہوئے۔ جون 1958ء میں بھکر میں  ایک شیعہ خطیب آغا محسن کو  قتل کر دیا گیا۔ قاتل نے اعترافی بیان میں  کہا کہ مولانا نور الحسن بخاری کی تقریر  نے اس کو اس جرم پر اکسایا تھا جس میں شیعوں کو قتل کرنے  والے کو غازی علم دین شہید سے نسبت دی گئی تھی اور جنت کی بشارت دی گئی تھی[39]۔ مولانا نور الحسن بخاری کوکوئی سزا نہ ملی۔ جوں جوں پاکستان میں نفاذ  اسلام کی تحریک زور پکڑتی گئی، معاشرے کو دیوبندی قسم کے مذہبی سانچے میں ڈھالنے کے عمل میں اضافہ ہوتا گیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ شیعہ علما بھی نفاذ اسلام کی تحریکوں کا ساتھ دیتے رہے۔

پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں 1963ء کا سال سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔ اسی سال جنرل ایوب نے علما کے احتجاج کے دباؤ میں آ کر پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا۔ 3 جون 1963ء کو بھاٹی دروازہ لاہور میں عزاداری کے جلوس پر  پتھروں اور چاقوؤں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دو عزادار قتل اور سو کے قریب زخمی ہوئے۔[52] نارووال، چنیوٹ اور کوئٹہ میں بھی عزاداروں پر حملے ہوئے ۔  اس سال دہشت گردی کی بدترین واردات سندھ کے ضلعے خیر پور کے گاؤں ٹھیری میں پیش آئ جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 عزاداروں کو کلہاڑیوں اور تلواروں کی مدد سے ذبح کیا گیا۔[53][54]  متعدد زخمیوں نے خود کو مردہ ظاہر کر کے جان بچائی۔ یہ  لوگ   ایک چھوٹے سے امام بارگاہ میں یوم عاشور  کی مناسبت سے ماتم اور گریہ و زاری کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جھنگ، کراچی، لاہور، چکوال، ڈیرہ غازی خان، ملتان، شیخوپورہ، پاراچنار اور گلگت میں عزاداروں پر حملے ہوئے۔ بات صرف قتل و غارت تک محدود  نہیں تھی، فرقہ وارانہ لٹریچر کا تنور بھی دہک رہا تھا جس میں اکثر شیعوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ مرزا حیرت دہلوی  اور  عبد الشکور لکھنؤی  کی کتابیں کم تھیں کہ  محمود احمد عباسی۔[55] اور ابو یزید بٹ[56] کی کتابوں نے اشتعال انگیزی کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔  بعد میں علامہ احسان الہی ظہیر نے جلتی پر مزید تیل چھڑکا[57] ان لوگوں کی گندی زبان کا رد عمل  قیام پاکستان کے تقریباً تیس سال بعد  اس صورت میں آیا جب پنجاب کے ایک دیہاتی شیعہ مولوی غلام حسین نجفی نے بعض صحابہ کرام (رض) کے بارے میں بھی ایسی ہی زبان استعمال کی[58][59]۔

قیام پاکستان سے ہی یہ تاثر عام تھا کہ دیوبندی علما قادیانیوں کے بعد شیعوں کے خلاف مہم چلائیں گے۔1965ء سے 1977ءتک کے سالوں میں شیعہ کشی کی مہم دیوبندی علما کے پیپلز پارٹی کے سوشلزم، بنگلہ دیش کی تحریک آزادی اور بعد میں ختم نبوت کی تحریک جیسے مسائل میں الجھ جانے کی وجہ سے ماند پڑ گئی۔  1974ء میں جب قومی اسمبلی میں قادیانی مسلہ زیر بحث آیا تو مرزا ناصر صاحب کی طرف سے شیعہ عقائد پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ شیعہ ایم این اے سید عبّاس حسین گردیزی نے اپنے مکتب فکر کے علما سے رابطہ کر کے 2 ستمبر 1974ء کو دس صفحات پر مشتمل وضاحتی بیان داخل کرایا۔[60]

جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے، شیعہ کشی اور نفاذ اسلام کی کوششوں میں راست تناسب ہے۔ چنانچہ جب جولائی 1977ء میں جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو اگلے محرم، فروری 1978ء میں لاہور میں 8 جبکہ کراچی میں 14 شیعہ قتل ہوئے۔[61] ستم ظریفی دیکھیے کہ نہ صرف 1971ء کے انتخابات میں شیعہ علما نے جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کا ساتھ دیا تھا بلکہ پی این اے کی تحریک میں بھی اپنا وزن نفاذ اسلام کا دم بھرنے والی جماعتوں کے پلڑے میں ڈالا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت میں  سرکاری سکولوں میں شیعہ بچوں کے لیے منظور کی جانے والی شیعہ دینیات کے مضمون پر پابندی لگا دی۔

افغانستان میں عدم استحکام[ترمیم]

دہشت گردی کے واقعات میں شدت اس وقت آئ جب27 اپریل 1978ء کو افغانستان میں انقلاب ثور آیا[62] اور اس سے اگلے سال  کمیونسٹ حکومت نے روس کو مداخلت کی دعوت دی۔ اس اقدام کے نتیجے میں افغانستان غیر مستحکم ہو گیا۔ جب کوئی ریاست ٹوٹتی ہے تو وہ ڈاکووں اور دہشت گردوں کے لیے جنت بن جاتی ہے۔ پختون قبائل میں پہلے ہی امیر عبد الرحمن خان کے زمانے سے شیعہ اور بریلوی مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔  اگلے سال فروری 1979ء میں ایران میں انقلاب آیا جس نے شیعہ مسلک کو ایک مسلمان مسلک کے طور پر متعارف کرایا۔ پاکستان میں شیعہ ثقافت کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والی  تنظیم اہل سنت اب سپاہ صحابہ کی شکل میں زیادہ متحرک ہو گئی۔ گزشتہ سو سال میں اردو زبان میں لکھا گیا نفرت انگیز لٹریچر کافی مقدار میں پھیل چکا تھا۔ تحریر و تقریر کے ذریعے شیعہ مسلک کو کافر قرار دینے کی مہم اب جہاد افغانستان کے ضمن میں ملنے والے فنڈز کی بدولت زیادہ تیز ہو گئی اور اس کے ساتھ ساتھ شیعہ کشی بھی بڑھنے لگی۔ پاکستان کے کونے کونے میں دیوبندی مدارس کھلنے لگے۔ ایک اندازے کے مطابق  آج کل ان مدارس میں طلبہ کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی زمانے میں پاکستان کے در و دیوار پر کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے درج ہو گئے۔ اسی کی دہائی میں پاکستان بھر میں ایک ہزار کے لگ بھگ شیعہ قتل ہوئے، جن میں سے آٹھ سو کے قریب لوگ 1988ءمیں گلگت کی شیعہ آبادیوں پر حملے کے نتیجے میں قتل ہوئے[63]۔  ضیاء دور میں ہی بریلوی مسلک کی مساجد پر قبضوں کی مہم کا آغاز ہوا۔

یہ سب آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا، اگر روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد تمام تنظیموں کو غیر مسلح کیا جاتا۔ لیکن شومئی قسمت، جس وقت روس افغانستان سے نکلا اسی وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے تنگ عوام نے احتجاجی مظاہروں  کا آغاز کر دیا۔ پاکستان کی انتظامیہ نے افغان جہاد کے بچے ہوئے جہادیوں کو کشمیر میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ان جہادیوں نے کشمیر جا کر مقامی آبادی کوبدعتی سمجھا، مزارات پر حملے کیے اور بریلوی اور شیعہ کشمیریوں کے گھروں میں لوٹ مار کی۔ بعد ازاں کشمیر جہاد وہاں کی مقامی آبادی کے جہادیوں سے خوفزدہ ہو جانے کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔

ضیاء دور میں بھٹو دور کے منظور کیے گئے ختم نبوت کے قانون کو مزید شرح اور شدت کے ساتھ آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔  اسی طرح توہین مذہب کے قانون میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آتی گئی جس کے نتیجے میں پاکستانی حکومت پر عالمی اداروں کا دباؤ بڑھنے لگا۔ اس دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعوں کو کافر قرار دینے کا قانون منظور نہ ہو سکا۔ نہ صرف یہ بلکہ شیعہ ملکی آبادی کا پندرہ فیصد ہیں اور ان کے خلاف ایسا قانون منظور کرنا معاشرے میں خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا قانون منظور نہ ہو سکنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر اہل سنت شیعوں کو مسلمان بھائی سمجھتے ہیں۔ نوے کی دہائی میں سپاہ صحابہ نے شیعوں پر کئی خونریز حملے کیے۔[64] ادھر   افغانستان میں روس کے جانے کے بعد  مجاہدین کے گروہ اقتدار کی خاطر آپس میں لڑتے رہے یہاں تک کہ پاکستانی حمایت یافتہ تحریک طالبان افغانستان نے  مجاہدین کے باقی گروہوں کو ملک کے   شمالی علاقوں تک محدود کر دیا۔

افغان  طالبان نے پاکستان  میں دیوبندی انقلاب لانے کی غرض سے دیوبندی تنظیموں کے کارکنان  کو فراخدلی سے   پناہ اور ٹریننگ  فراہم کی۔ پاکستان میں   شیعہ قتل کر کے یہ لوگ افغانستان بھاگ جاتے۔ ملک کے کئی  نامور ڈاکٹر، انجنیئر اور قانون دان محض شیعہ ہونے کی وجہ سے قتل کر دیے گئے۔ انکی عورتیں بیوہ، والدین بے سہارا  اور بچے یتیم ہو گئے۔ افغانستان اور کشمیر میں نام نہاد  جہاد کی بدولت تکفیری  عفریت کے ہاتھوں میں پتھروں اور چاقوؤں کی جگہ دستی بم اور کلاشنکوف آ گئے تھے۔ اسی کی دہائی میں  مولانا نور الحسن بخاری کی وفات کے بعد شیعہ کشی کی سرپرستی کا بیڑا اٹھانے  والے  مولانا حق نواز جھنگوی اور ان کے پیشرو مولانا ایثار القاسمی کو جھنگ میں سیاسی خطرہ بننے کے باعث شیخ اقبال ایم این اے نے قتل کرا دیا، جو خود بعد میں سپاہ صحابہ کی انتقامی کارروائی میں قتل ہو گئے۔[65] 1993ء میں لاہور میں سپاہ محمد کے نام سے ایک شیعہ دہشت گرد تنظیم کا قیام ہوا جس نے سپاہ صحابہ کے حملوں کے جواب میں دیوبندی حضرات پر حملے کرنا شروع کیے۔ چنانچہ اگر کسی شیعہ مسجد پر حملہ ہوتا تو کچھ ہی دنوں میں کسی دیوبندی مسجد میں بے گناہ لوگ قتل کیے جاتے۔ حکومت نے صورت حال خطرناک ہوتے دیکھ کر دونوں تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہا تو مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے سپاہ صحابہ کے عسکری حصے کو لشکر جھنگوی کا نام دے کر لا تعلقی کا اعلان کر دیا، اگرچہ لشکر جھنگوی کے کارکنوں کی گرفتاری کی صورت میں سپاہ صحابہ ہی قانونی اور دیگر امداد مہیا کرتی۔ لشکر جھنگوی کے بانی مولانا ضیاء الرحمن فاروقی جنوری 1997 میں ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔[66] ادھر لاہور پولیس نے آپریشن کر کے سپاہ محمد کا خاتمہ کر دیا[39]۔ نوے کی دہائی میں ہی کراچی میں  سپاہ صحابہ اور جماعت اسلامی کی طرف سے بریلوی مساجد پر قبضے کے خلاف سنی تحریک کے نام سے ایک اور مزاحمتی گروہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ چنانچہ تکفیری علما نے اب بریلویوں پر قاتلانہ حملے کرنے کا آغاز کر دیا۔   بریلویوں پر پہلا نمایاں حملہ 2001ء میں ہوا جب سنی تحریک کے بانی  جناب  سلیم قادری کو کراچی میں قتل کر دیا گیا۔[67]

مفتی شامزئی کا فتویٰ اور تحریک طالبان پاکستان[ترمیم]

  7  اکتوبر 2001ءکو امریکا نے افغان طالبان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں امریکا کو پاکستان کی حکومت نے زمینی راستہ دینے کا فیصلہ کیا۔ کراچی میں رہائش پزیر دیوبندی مفتی نظام الدین شامزئی  صاحب نے  ملک گیر بغاوت پر اکساتے ہوئے فتویٰ جاری کیا۔[68] مفتی شامزئی سوات سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے فتوے کو قبائلی علاقہ جات میں بہت پزیرائی ملی۔ پنجاب اور سندھ میں چونکہ مدارس کے پاس اتنا اسلحہ نہیں تھا کہ وہ پولیس اور فوج سے لڑ سکتے، لہٰذا اس فتوے کا  کوئی اثر ان علاقوں پر نہ ہو سکا۔ افغان طالبان چند دنوں میں امریکا کے   ہاتھوں شکست کھا گئے اور بہت سے طالبان اور القاعدہ کے جنگجو پاکستانی  علاقوں میں آ گئے۔ امریکا نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ یا تو القاعدہ کے ان فراری ارکان کو خود گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کرے یا امریکی مداخلت کا انتظار کرے۔ 2004ء میں پاکستانی فوج نے قبائلی علاقہ جات میں ان فراری طالبان کی گرفتاری کے لیے آپریشن شروع کیا تو پاکستان بھر کے دیوبندی علما کی طرف سے فتاویٰ اور احتجاج  کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ادھر سن 2002ء کے الیکشن میں خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت اور کراچی کی شہری حکومت متحدہ مجلس عمل کے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ ان حکومتوں نے سرکاری نوکریاں متعصب افراد کو دیں جو دہشت گردی کی کاروائیوں میں  طالبان کے سہولت کار بنے۔ ہمیشہ کی طرح متحدہ مجلس عمل میں شیعہ علما بھی شریک تھے۔ بظاھر جنگ صفین کے حکمین کی طرح کے اتحاد کی ایک فضا سی بن گئی۔ اسلام کے نفاذ کی ہر لہر کی طرح یہ لہر بھی شیعہ عوام کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوئی۔

مفتی شامزئی کے فتوے کی وجہ سے پاکستان بھر سے دہشت گرد اب قبائلی علاقوں میں جمع ہو کر تحریک طالبان پاکستان نامی ایک منی سٹیٹ قائم کر چکے تھے۔  ان طالبان نے پاکستانی فوج  پر پے در پے حملے شروع کر دیے۔ اس دوران میں پاکستان میں شیعوں اور بریلویوں پر حملوں کی خونریزی میں نیا اضافہ خودکش حملوں کی شکل میں دیکھنے میں آیا۔ 11اپریل 2006ء کو نشتر پارک میں دھماکا کر کے سنی تحریک کے قائدین سمیت 47 لوگ شہید کر دیے گئے۔  12جون 2009ء کو لاہور میں مفتی سرفراز نعیمی کو خودکش بمبار کی مدد سے شہید کر دیا گیا۔ 2 جولائی 2010ء کو لاہور میں داتا دربار پر حملہ کر کے پچاس افراد کو قتل اور دو سو کو شدید زخمی کر دیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق سن 2000ء سے اب تک تقریباً تین ہزار شیعہ قتل ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہو کر زندہ لاش بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ کوئٹہ[69] اور ڈیرہ اسماعیل خان[70] کے شیعہ ہیں۔

حکومت نے پاکستانی طالبان کو رام کرنے  کی غرض سے متعدد امن معاہدے کیے مگر وہ سب طالبان کو مزید مضبوط کرنے پر منتج  ہوئے[71]۔ طالبان مفتی شامزئی صاحب کے فتوے کی برکت سے روز بروز طاقتور ہوتے جا رہے تھے۔ طالبان  اب کمزور طبقات سے آگے بڑھ کر پورے ملک کو خوفزدہ کر کے سرنڈر کروانا چاہتے تھے۔  طالبان کے خیال میں اب  زندگی کے تمام شعبہ جات کو اپنے نظریات کے مطابق ڈھالنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ پاکستانی کی  سیاسی قیادت، میلے اور کھیل کے میدان، تعلیمی ادارے، پولیو مہم  اور صحت عامہ کے دیگر منصوبے، صوفیا کے مزارات، بری  فوج، فضائیہ اور بحریہ، عدلیہ و پولیس، غرض قومی  زندگی کا ہر شعبہ  دہشت گردی کے نشانے پر  تھا۔    میڈیا پر جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام  ان حملوں کی اصلی وجہ، یعنی مفتی شامزئی صاحب کے فتوے، کو چھپایا کرتے۔   2007 ء کے بعد سے اب تک  سوات  اور وزیرستان میں متعدد آپریشن ہو چکے ہیں۔ مفتی شامزئی کے فتوے کے بعد پنجاب اور سندھ میں تکفیری مدارس نے مسلح ہونے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ کئی مرتبہ تبلیغی جماعت کے سامان میں چھپایا گیا بارود پھٹ چکا ہے[72][73] جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ قبائلی علاقہ جات سے پنجاب اور سندھ کے قصبوں میں  بارود اور اسلحے کی منتقلی کا عمل کس تیزی سے جاری ہے۔ انگریزوں کے جانے کے بعد مولانا نور الحسن  بخاری،  مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الستارتونسوی  دیوبندی اور مولانا مودودی جیسے علما کی طرف سے شروع کیے گئے فسطائی سلسلے کو تاریخ کے علم کی روشنی میں نہ سمجھنے اور انتظامیہ کے  غیر ذمہ دارانہ کردار نے معاشرے کو  دلدل میں پہنچا دیا ہے۔گزشتہ دوسو سال میں  عزاداری  اور میلاد النبی کے جلوس ایک کامیاب مزاحمت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ غیر مسلح اور عدم تشدد پر مبنی اس مزاحمت نے تکفیریت کو پہلے محاذ پر ہی ناکام کر دیا ہے۔ سیداحمدبریلوی اورشاہ اسماعیل دہلوی سے لے کر مولانا نور الحسن بخاری اور مولانا اورنگزیب فاروقی تک کئی تکفیری علما کی کوششوں کے باوجود شیعہ  اور بریلوی عوام نے دہشت زدہ ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جبر کے ذریعے کوئی بھی ثقافت ختم نہیں کی جا سکتی۔

مسلمانان ہندنے ایک فلاحی ریاست کے قیام کاجوخواب دیکھاتھاوہ ہنوزتعبیر نہیں پاسکاہے۔ پاکستان کے ساتھ ترقی کا آغاز کرنے والے جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں اپنامقام پیدا کر چکی ہیں جبکہ جناح اور اقبال کا پاکستان دہشت گردی کے بھنور میں پھنس چکا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خلیفہ بن خیاط عصفری، تاریخ خلیفہ بن خیاط ص139 سن 36 ہجری کے واقعات کا آخر۔
  2. بلاذری ،فتوح البلدان، ج3 صص،531،530 فتوح السند کے ذیل میں دیکھیں۔ ذہبی ،تاریخ الاسلام بشار ج2 ص331۔ عاملی،اعیان الشیعہ، ج4 صص374/375
  3. عبداللہ شاہ غازی
  4. تاريخ ابن خلدون - ابن خلدون - ج 3 - صص 198، 199۔
  5. ذہبی - تاريخ الإسلام - ج 9 ص 352 - - أبو الفرج الأصفہانی، مقاتل الطالبيين ص 207 - 208
  6. طبری ،تاريخ الطبری - ج 6 - ص 291
  7. Daftary, "The Ismailis: their history and doctrines", pp. 125, 180.
  8. نور اللہ شوشتری
  9. Rizvi, "A Socio-Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India", Vol. I, pp. 178–80, 212.
  10. مجدد الف ثانی
  11. Rizvi, ""A Socio-Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India"", Vol. I, pp. 377–83.
  12. Rizvi, "A Socio-Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India", Vol. II, pp. 39–41.
  13. Qureshi, Ulema in Politics, pp. 115–16
  14. ریاست اودھ
  15. Rizvi, "Shah Abd al-Aziz", pp. 478–9.
  16. Rizvi, ""A Socio-Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India"", Vol. II, pp. 89، 305–7.
  17. دلدار علی نقوی
  18. Cole, Roots of North Indian Shi’ism, p. 271.
  19. ^ 19.0 19.1 Abul Hassan Isphani, "Quaid-e-Azam Jinnah, as I Knew Him "، Forward Publications Trust Karachi (1967)۔
  20. کتاب "محمد بن قاسم سے محمد علی جناح تک" صفحہ 501، نفیس اکیڈمی، کراچی۔
  21. ^ 21.0 21.1 مسلک دیوبند کے اکابر میں سے مفتی کفایت ﷲ دہلوی صاحب کے مطابق قائد شیعہ تھے- حوالہ: کتاب " کفایت المفتی"، جلد نہم، کتاب السیاسیات، فتاویٰ نمبر: ٥٣٩، ٥٣٨، ٥٥٤، ٥٥٥.
  22. ڈاکٹر مبارک علی، "المیہ تاریخ، حصہ اول، باب 11جہاد تحریک" تاریخ پبلیکیشنز لاہور (2012) 
  23. Kitab At-Tawhid
  24. https://books.google.dk/books/about/The_Book_of_the_Unity_of_God.html?id=MaJ8AQAAQBAJ&redir_esc=y
  25. بطور مثال ملاحظہ ہو نہج البلاغہ کا خطبہ نمبر 150: "وہ ایک ہے لیکن نہ ویسا کہ جو شمار میں آئے۔ وہ پیدا کرنے والا ہے لیکن نہ اس معنی سے کہ اسے حرکت کرنا اور تعب اٹھانا پڑے۔ وہ سننے والا ہے لیکن نہ کسی عضو کے ذریعہ سے اور دیکھنے والا ہے لیکن نہ اس طرح کہ آنکھیں پھیلائے۔ وہ حاضر ہے لیکن نہ اس طرح کہ چھوا جاسکے وہ جدا ہے نہ اس طرح کہ بیچ میں فاصلہ کی دوری ہو۔ وہ ظاہر بظاہر ہے مگر آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ذاتا پوشیدہ ہے نہ لطافت جسمانی کی بنا پر۔ وہ سب چیزوں سے اس لیے علاحدہ ہے کہ وہ ان پر چھایا ہوا ہے اور ان پر اقتدار رکھتا ہے۔ اور تمام چیزیں اس لیے اس سے جدا ہیں کہ وہ اس کے سامنے جھکی ہوئی اور اس کی طرف پلٹنے والی ہیں۔ جس نے (ذات کے علاوہ) اس کے لیے صفات تجویز کیے اسنے اس کی حد بندی کر دی اور جس نے اسے محدود خیال کیا۔ وہ اسے شمار میں آنے والی چیزوں کی قطار میں لے آیا۔ اور جس نے اسے شمار کے قابل سمجھ لیا اس نے اس کی قدامت ہی سے انکار کر دیا۔ اور جس نے یہ کہا کہ وہ کیسا ہے وہ اس کے لیے (الگ سے ) صفتیں ڈھونڈھنے لگا۔ اور جس نے یہ کہا کہ وہ کہاں ہے اس نے اسے کسی جگہ میں محدود سمجھ لیا"۔ https://www.al-islam.org/urdu/khutbaat/
  26. حیات طیبہ‘ مطبوعہ مکتبتہ الاسلام‘ ص 260
  27. مولانا جعفر تھانیسری، حیات سید احمد شہید‘ ص 293
  28. مقالات سرسید حصہ نہم 145-146
  29. سوانح قاسمی، جلد اول، صفحہ 132
  30. سوانح قاسمی، جلد دوم، صفحہ 129
  31. ‫مولانا احمد علی لاہوری رح کے عجیب واقعات اور کرامات‬‎ - YouTube
  32. فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی
  33. روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 233 اور 423 تا 428
  34. روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 193
  35. دار العلوم دیوبند اور ردِّشتوٹ
  36. Afghanistan: Who are the Hazaras? | Taliban | Al Jazeera
  37. Shereen Ilahi (2007) Sectarian Violence and the British Raj: The Muharram Riots of Lucknow، India Review, 6:3, 184-208, DOI: 10.1080/14736480701493088
  38. مرزا حیرت دہلوی، "کتاب شہادت"، کرزن پریس دہلی، (1920)۔
  39. ^ 39.0 39.1 39.2 39.3 39.4 Andreas Rieck, "The Shias of Pakistan: An Assertive and Beleaguered Minority"، Oxford University Press, (2015)۔
  40. ^ 40.0 40.1 جامعہ فاروقیہ کراچی ۔۔ انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی
  41. ^ 41.0 41.1 آپ کا پہلا جنازہ گورنر ہاؤس میں شیعہ طریقے پر ہوا، آپ کی جائداد بھی محترمہ فاطمہ جناح کو شیعہ طریقے پر منتقل کی گئی، تفصیل اس کتاب میں: Khalid Ahmed, "Sectarian War: Pakistan's Sunni-Shia Violence and its links to the Middle East", Oxford University Press, 2011.
  42. راجہ صاحب محمود آباد
  43. ^ 43.0 43.1 "فتاویٰ مفتی محمود" میں شیعہ حضرات کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتووں ذیل میں قائد اعظم کے شیعہ ہونے کی وجہ سے علامہ شبیر احمد عثمانی کی طرف سے ان کا جنازہ پڑھنے کو غلطی قرار دیا گیا ہے۔ مفتی محمود ستر کی دہائی میں جمیعت علمائے اسلام کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے والد تھے۔
  44. مسلک دیوبند کے اکابر میں سے مفتی کفایت ﷲ دہلوی صاحب کے مطابق قائد شیعہ ہونے کی وجہ سے رسمی مسلمان ہیں، حقیقی نہیں- حوالہ: کتاب " کفایت المفتی"، جلد نہم، کتاب السیاسیات، فتاویٰ نمبر: ٥٣٩، ٥٣٨، ٥٥٤، ٥٥٥.
  45. جماعت اسلامی پاکستان
  46. Cult - Wikipedia
  47. "قائد اعظم لکھنؤ تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لیے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں؟ جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا۔ اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گذرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کے لیے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے"۔ عبید الرحمن، ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘، صفحہ 49، طبع کراچی
  48. "میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم کی یہ فتح مبین (قیام پاکستان) مسلمانوں کے ضبط و نظم کی مرہوں احسان ہے۔ مسلمانوں کی افتاد طبع مذہبی واقع ہوئی ہے اور دو قوموں کے نظریے کی بنیاد بھی مذہب ہے۔ اگر علمائے دین اس میں نہ آتے اور تحریک کو مذہبی رنگ نہ دیتے تو قائد اعظم یا کوئی اور لیڈر خواہ وہ کیسی قابلیت و تدبر کا مالک ہی کیوں نہ ہوتا یا سیاسی جماعت مسلم لیگ مسلمانوں کے خون میں حدت پیدا نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم علمائے دین اور مسلمان لیڈروں کی مشترکہ جہد و سعی سے مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور ایک نصب العین پر متفق ہو گئے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام مساعی پاکستان کے دستور اساسی کی ترتیب پر صرف کریں اور اسلام کے عالمگیر اور فطری اصولوں کو سامنے رکھیں کیونکہ موجودہ مرض کا یہی ایک علاج ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مغربی جمہوریت اپنی تمام برائیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اسلام کی بین الاقوامیت کی جگہ تباہ کن قوم پرستی چھا جائے گی" مولانا شبیر احمد عثمانی، 1 ستمبر 1947ء
  49. قائد اعظم کی نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں پڑھائی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قائد اعظم کا جب انتقال ہوا تو میں نے رات رسول اکرم ﷺ کی زیارت کی۔ رسول قائد اعظم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے۔“
  50. مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ | مولانا زاہد الراشدی
  51. https://juipak.org.pk/22-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%AA/
  52. Sharaabtoon: 'The Most Unfortunate Incident': The Theri Massacre and Fifty years of Sectarian Violence in Pakistan
  53. Shaheed Foundation Pakistan
  54. 6 جون 1963 Martyrs of Therhi (Khairpur) – Saneha e Therhi – YouTube
  55. محمود احمد عباسی، "تحقیق مزید بسلسلہ خلافت معاویہ و یزید"، الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی
  56. ابو یزید محمد دین بٹ، "خلافت رشید ابن رشید امیر المومنین سیدنا یزید"، طبع لاہور
  57. احسان الہی ظہیر، "الشیعہ و اہل بیت"
  58. غلام حسین نجفی، "قول سدید در جواب وکلا یزید" https://books.shiatiger.com/2016/03/Qol-e-Sadeed.html
  59. غلام حسین نجفی، "کیا ناصبی مسلمان ہیں" https://books.shiatiger.com/2016/03/Kya-Nasbi-Musalmaan-Hain.html
  60. [Urdu]Shia_Stance_on_Qadiani_Issue_in_National_Assembly
  61. http://www.thefridaytimes.com/tft/shiaphobia/
  62. Saur Revolution – Wikipedia
  63. In May 1988, low-intensity political rivalry and sectarian tension ignited into full-scale carnage as thousands of armed tribesmen from outside Gilgit district invaded Gilgit along the Karakoram Highway. Nobody stopped them. They destroyed crops and houses, lynched and burnt people to death in the villages around Gilgit town. The number of dead and injured was in the hundreds. But numbers alone tell nothing of the savagery of the invading hordes and the chilling impact it has left on these peaceful valleys https://www.outlookindia.com/website/story/the-aq-khan-proliferation-highway-iii/261824
  64. Sectarian Violence in Pakistan
  65. Hassan Abbas, "Pakistan's Drift Into Extremism: Allah, the Army, and America's War on Terror"، Routledge, (2015)۔
  66. CNN – Blast kills at least 26 outside Pakistani courtroom – Jan. 18, 1997
  67. محمد سلیم قادری
  68. مفتی شامزئی رحمہ اللہ کا فتویٰ جس کی بنا پر انھیں شھید کیا گیا | sada e haqq-صدائے حق
  69. 'Hell on Earth': Inside Quetta's Hazara community – BBC News
  70. لہولہو دیرہ ’’پھُلاں دا سہرا‘‘ (قسط 3) – UNN News
  71. جان آر شمٹ، "گرِہ کھلتی ہے: جہاد کے دور کا پاکستان" ترجمہ: اعزاز باقر http://mashalbooks.org/product/the-unraveling-pakistan-in-the-age-of-jihad/
  72. Blast at Swat Tableeghi Markaz kills 22 – The Express Tribune
  73. Blast at Peshawar Tablighi centre kills ten, injures more than 60 – Pakistan – DAWN.COM