بھارت میں ہجومی تشدد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہجومی تشدد اور قتل کے خلاف ایک خاتون کے ہاتھ میں احتجاجی بینر معنی: (ہم ہندوستان کو لینچستان نہیں بننے دیں گے ہم آخر تک انسانیت کا دفاع کریں گے۔)

بھارت کی تاریخ میں ہجومی تشدد کی وارداتیں عرصہ قدیم سے چلی آرہی ہیں جن کی وجوہات ہر دور میں مختلف رہیں۔ چونکہ بھارت کی سرزمین پر ایک ایسا تکثیری معاشرہ آباد رہا ہے جس میں ذات پات اور چھوت چھات کے نظام کو اہل مذہب کی پشت پناہی حاصل رہی، لہذا اعلیٰ ذات کے اشخاص یا شرفا چھوٹی امت کے افراد کو ان کی معمولی لغزشوں کی بنا پر بے جا تشدد کا نشانہ بناتے اور انہیں سخت زدوکوب کرتے۔ بسا اوقات یہ معمولی لغزشیں کوئی غلطی نہیں بلکہ ایک انسانی عمل ہوتا جس کی پاداش میں مبینہ ملزم کو پیٹ پیٹ کر ابدی نیند سلا دیا جاتا۔ ہجومی تشدد کی کچھ وجوہات قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہیں اور بعض جدید دور میں سیاسی مفادات کے تحت سامنے آئی ہیں۔ قدیم وارداتوں میں توہمات یا سماجی روایتوں کے زیر اثر اور مخصوص انداز میں کسی گروہ کے تشدد پر اتر آنے کے واقعات ملتے ہیں جبکہ موجودہ دور میں بچوں کی چوری، سماجی نفرت، ناجائز جنسی تعلقات، مذہبی عداوت اور اسی قسم کی دیگر فرضی خبروں کی سماجی ذرائع ابلاغ پر نشر و اشاعت سے برپا ہونے والے تشدد کے واقعات زیادہ ہیں۔ نیز موجودہ دور کے بھارت میں مخصوص برادری کے افراد پر مزعومہ گاؤ کشی یا گایوں کی خرید و فروخت کا الزام عائد کرکے انہیں وحشیانہ ہجومی تشدد کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتارنے کی سینکڑوں وارداتیں بھی سامنے آئی ہیں۔

ہجومی تشدد کی ایک اور قسم ذات پات پر مبنی تشدد ہے۔ اس میں پسماندہ طبقات پر کیا جانے والا تشدد یا قبائلی آبادی کو ڈرانے دھمکانے اور ان کی جائداد ہتھیانے سے جڑا تشدد شامل ہے۔ کبھی کبھی کسی معمولی جرم کے رد عمل کے طور پر بھی تشدد دیکھا گیا ہے، مثلاً کسی چور کے پکڑے جانے پر کسی ہجوم کا اس پر ٹوٹ پڑنا یا اسی طرح کسی پر جھوٹا الزام لگانے یا لگنے کے بعد لوگوں کا کسی پر حملہ کرنا۔ بھارت میں ہجومی تشدد کے شکار بیشتر افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اگر یہ افراد زندہ بچ جائیں تو شدید زخمی ہو جاتے ہیں۔

خبروں کے مطابق بھارت میں نریندر مودی کی پہلی حکومت کے قیام کے بعد ہجومی تشدد کی وارداتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔[1] بعض مبصرین کے نزدیک اس اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ ان وارداتوں کے مجرم یا ملزمان عموماً تھانوں اور عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے تشدد کا ایک انتہائی گھناؤنا اور غیر انسانی پہلو یہ بھی ہے کہ تشدد پر آمادہ ہجوم میں سے کچھ افراد اس پورے تشدد کی مکمل ویڈیو بناتے ہیں اور بعد میں انہیں سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پورے بھارت میں نشر کرتے ہیں۔

فہرست

روایتی تشدد[ترمیم]

کالا جادو[ترمیم]

مزید دیکھیے: کالا جادو
کالا جادو کے ذریعے پیشن گوئی کرنے والی ایک آسامی خاتون

عرصہ دراز سے بھارت کے دیہی علاقوں میں کالا جادو کے شک میں لوگوں کا اجتماعی طور پر تشدد کر کے قتل کرنا بہت عام رہا ہے۔[2][3][4]

  • جھارکھنڈ کے گوملا ضلع میں 7 جولائی 2019ء کو چار افراد اسی طرح سے ہجومی تشدد کی وجہ سے مارے گئے تھے۔ اکیلے کثیر القبائل ریاست میں گزشتہ دو دہوں میں 1,000 سے زائد لوگ کالے جادو کے استعمال کے شک و شبہہ میں ہجومی تشدد کی وجہ سے مارے جا چکے ہیں، اگر چیکہ اس طرح کا تشدد ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔[5] جدید دور میں اس قسم کے واقعات دیکھے تو جاتے ہیں، مگر ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

ناموسی قتل[ترمیم]

ناموسی قتل کی ایک علامتی تصویر

اس کے بعد بھارت میں ناموسی قتل کے بھی کئی واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہو چکے ہیں۔ ہجومی قتل کے یہ واقعات ذات برادری میں معاشقے یا شادی کو لے کر ہوئے یا پھر مبینہ ناجائز جنسی تعلقات کا اجتماعی رد عمل تھے۔ کچھ اہم واقعات ذیل میں درج ہیں:

  • بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں ناموسی قتل رضوان الرحمان کا قتل ہے جس کا مردہ جسم 21 ستمبر، 2017ء کو ریل کی پٹریوں پر پایا گیا تھا۔ وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی متمول ہندو لڑکی پرینکا ٹوڈی سے شادی کر چکے تھے جو صنعت کار اشوک ٹوڈی کی بیٹی ہے۔ اشوک لکس کوزی انڈر گارمنٹس کے مالک ہیں۔ یہ واقعہ قومی سرخیوں کا حصہ بنا تھا، تاہم خاصی رد و کد کے بعد اسے خود کشی کا معاملہ سمجھ کر ختم کر دیا گیا۔[6]
  • 2018ء میں دہلی کے ایک ہندو فوٹوگرافر انکیت سکسینہ کا اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ ایک مسلمان لڑکی سے عشق کر رہا تھا۔ تاہم لڑکے کے باپ یشپال سکسینہ نے اسے ہندو مسلمان تنازع کا روپ دینے سے انکار کر دیا[7] اور انہوں نے اسی سال رمضان کے مہینے میں ایک افطار پارٹی کا اہتمام بھی کیا تھا جس میں تمام مذاہب کے افراد شریک تھے۔[8]

مذہبی مبلغین اور بالخصوص مسیحی اقلیتوں پر ہجومی تشدد[ترمیم]

بھارت میں مسیحیت کی تبلیغ میں لگی لڑکیوں کی ایک 1900ء کی تصویر

مسیحی مبلغین بھی کچھ ہجومی تشدد کی وجہ سے ہلاک ہو چکے یا ہجومی تشدد کے شکار ہوئے ہیں۔ان افراد میں آسٹریلیائی مسیحی مشنری گراہم اسٹینس سرفہرست ہیں جنہیں 23 جنوری 1999ء کو اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مبنیہ طور پر بجرنگ دل کے ارکان کی جانب سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ [10] اسی طرح کرسچن ننوں کی بھی اجتماعی آبرو ریزی کی جا چکی ہے، جن میں سے ایک زبان زد عام واقعہ 2015ء میں پیش آیا جب مغربی بنگال کے ایک گرجا گھر میں ڈاکا ڈالا گیا اور 70 سالہ نن کی آبرو ریزی بھی کی گئی۔[11] حالانکہ مذہبی تبلیغ کسی بھی مذہب کی ہو سکتی ہے، تاہم چونکہ مسیحی برادری کے لوگ اس معاملے کافی آگے ہیں، اس لیے اکثر تبلیغ کے رد عمل کے اجتماعی حملوں کا یہی لوگ زیادہ شکار بنتے ہیں۔ 2019ء کے پہلے چھ مہینوں کے دوران مسیحیوں پر تشدد کے 158 واقعات ملک کی 23 ریاستوں میں پیش آئے۔ ان حملوں میں 110 اور 89 بچے زخمی ہوئے۔ ان معاملات میں سے پولیس نے صرف 24 ایف آئی آر درج کیے اور باقی معاملوں میں کوئی شروعاتی پیش رفت بھی نہیں ہوئی۔[12] بھارت کی مسیحی آبادی پر حالانکہ مذہبی نفرت پر مبنی حملے نئے نہیں ہیں، تاہم یہ حملے اور ان کی تعداد 2014ء کے بعد کافی بڑھ گئی ہے۔ یہ حملے جان لیوا بھی رہے ہیں، جسمانی زخم پہنچانے والے بھی رہے ہیں، جائدادوں اور مذہبی مقامات پر توڑ پھوڑ بھی کر چکے ہیں۔ ان حملوں میں عام مسیحی اور مبلغین میں فرق عمومًا دیکھا نہیں گیا۔ حملہ آوروں نے اپنی غارت گری میں عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا۔

کیتھولک نیوز ایجنسی کے مطابق بھارت میں مسیحیوں پر بڑھتے تشدد کے بارے میں یونائٹیڈ کرسچن فورم اور ایلائنس ڈیفینڈنگ فریڈم کی اس مشترکہ اطلاع سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2019ء کے ایک ہی مہینے میں 29 "ہجومی متشدد حملے" مسیحیوں پر ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں مسیحی مذہبی اجتماعات گھس کر حاضرین کی پٹائی، جس میں خواتین اور بچے متاثر ہوئے؛ حملوں ہجومیوں نے گالیوں اور ہراساں کرنے والی چیزوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم پادریوں کو ہی جبری تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔[13]

بھارت کی نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی مرکزی حکومت کے بارے میں اکثر یہ دعوٰی کیا گیا ہے حکومت گھر واپسی کو فروغ دے رہی ہے جب کہ اسی حکومت کے مختلف اقدامات میں مذہبی تبلیغ اور مشنری کاموں پر راست یا بالواسطہ بیخ کنی کرنا شامل ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال اوڈیشا ریاست کے گجپتی ضلع میں واقع علی گنڈا علاقہ ہے، جہاں موبائل نیٹ ورک کی پہنچ عملًا مفقود ہے، سڑکیں خراب ہیں اور یہاں کے مکین آبی سربراہی کے نظام کے آج متمنی ہیں۔ تاہم ایک ہسپانوی کیتھولک نن اینیڈینا کوسٹیلا کی کوششوں کی وجہ سے علاقے میں چار اسکول اور ایک ڈسپنسری قائم کیے گئے تھے۔ یہ نن اس علاقے میں 1971ء سے برسر خدمت رہی تھی اور یہاں کی مقامی زبان اڑیہ سے واقف تھی۔ طویل عرصے سے خدمت کی وجہ سے وہ یہاں کے لوگوں کو نام سے مخاطب کر سکتی تھی اور تقریبًا سبھی لوگوں سے واقف تھی۔ وہ 86 سال کی ہو چکی تھی۔ حکومت ہند نے اگست 2019ء میں اچانک اس نن کو اطلاع دی کہ اس کے ویزے کی میعاد ختم ہو چکی اور اسے 10 دن میں ملک چھوڑنا ہوگا۔ یہ بھی مرکزی حکومت نے دعوٰی کیا کہ اس کے پاس کسی بھی شخص کے داخلے کو روکنے، واپس جانے یا ویزا جاری کرنے اور ویزے کی میعاد بڑھانے یا نہ بڑھانے کا اختیار ہے۔ بہر حال نن اینیڈینا کوسٹیلا 86 سال کی عمر اور تقریبًا 50 سال کی عوامی خدمت اپنے وطن ہسپانیہ روانہ ہو گئی۔ جاتے جاتے اس نے اپنے رابطے کے لیے کوئی پتہ، فون نمبر وغیرہ نہیں چھوڑا۔ اس کے قائم کردہ چار اسکول اور ڈسپنسری ہی اس کی یادگار کی طرح اس گاؤں میں بنے رہے۔ اچھی خدمت کے باوجود یکایک ملک بدری کچھ حلقوں میں بالواسطہ مذہبی تبلیغ کو روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا جس کی سرکاری سرپرستی جاری ہے۔ [14] جہاں یہ کوشش عملًا قانون کے دائرے میں پر امن طریقے سے انجام پائی ہے، وہیں گراہم اسٹینس اور کچھ اور مبلغین ہجومی تشدد کا شکار ہوئے اور ان میں کچھ تو اپنی جان بھی گنوا چکے ہیں۔

اجتماعی آبرو ریزی[ترمیم]

جرمنی میں بھارت کے قونصل خانہ کے باہر کٹھوعہ میں جنسی زیادتی کا واقعے میں ہلاک آصفہ بانو کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کیے جا چکے ہیں۔

بھارت میں اگر چیکہ قدیم زمانے سے آبرو ریزی اور اجتماعی آبرو ریزی دونوں بہت عام رہی ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں اس میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اجتماعی آبرو ریزی کے مضمرات کا تجزیہ کرتے ہوئے ابھیے ویدیا نے فرسٹ ہوسٹ میں لکھا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا میں مخالف فحش نگاری کے فعالیت پسندوں نے مشی گن ریاستی پولیس کے جاسوس ڈاریل پوپ کی تحقیق کا حوالہ دیا کہ 38,000 جنسی حملوں کے تجزیے میں جو 1956–1979 کے بیچ رونما ہوئے ہیں، 41% معاملوں میں جرم کے ارتکاب سے کچھ وقت پہلے یا جرم کے دوران میں فحش مواد دیکھا گیا تھا۔ اسی بات کا ثبوت نفسیاتی علاج کے ماہر ڈیوڈ اسکاٹ کے اس خیال سے بھی ملا ہے کہ "آدھے آبرو ریزی کرنے والے فحش نگاری کو خود کو متاثرہ کو دبوچنے سے پہلے مشتعل کرنے کے لیے کرتے آئے ہیں۔" اس طرح سے ملک میں آسانی دستیاب فحش مواد انفرادی اور اجتماعی آبرو ریزی کے معاملوں کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ مضمون نگار کے بموجب ایسے جرائم میں رشوت اور سیاسی رسوخ کافی معنی رکھتا ہے، علاوہ ازیں اجتماعی آبرو ریزی کی صورت ایک گینگ کا وجود بھی لوگوں کو عدالتی پکڑ سے بچا سکتا ہے۔ [15]

  • بھارت کی تاریخ میں حالانکہ اجتماعی آبرو ریزی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، مگر 2012ء دہلی میں اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جس کے خلاف پورے ملک میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ 16 دسمبر 2012ء کو بھارت کے دار الحکومت دہلی میں ایک طالبہ جیوتی سِنگھ پانڈے کے ساتھ بعض نوجوانوں نے ایک نجی ملکیت کی عوامی بس میں اجتماعی زیادتی کی اور اسے اور اس کے دوست لڑکے کو برہنہ سڑک پر پھینک دیا۔ پوشیدہ اعضاء میں زبردست چوٹوں اور شدید پھٹن کے سبب سنگاپور شفاخانہ میں داخل کی گئیں، جہاں 29 دسمبر کو انتقال ہو گیا ۔ اس سے قبل طالبہ کو صفدرجنگ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں مصنوعی آلات تنفس کے ذریعہ علاج کیا گیا لیکن 13 دن بعد 26 دسمبر کو طالبہ کی نازک حالت کے پیش نظر سنگاپور ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ شدید عوامی احتجاج کے پیش نظر حکومت ہند کے مجرمانہ قانون (ترمیم) قانون 2013ء بھارت کے پارلیمان سے منظور کروایا جس میں خواتین پر جنسی حملے کے معاملوں میں قوانین سخت کر دیا گیا، نئی تعریفیں اور جرائم کو شامل کیا گیا اور کئی باتیں شامل کی گئیں۔[16] اس قانون کو عرف عام میں نِربھیا قانون کہا جانے لگا ہے کیونکہ اسی نام سے اس واقعے میں مقتول لڑکی کو اس کی زندگی میں ذرائع ابلاغ میں مخاطب کیا جاتا تھا۔[17]
  • کٹھوعہ جنسی زیادتی کا معاملہ ایک اور سنسی خیز معاملہ ہے جو ملک کی سرخیوں میں چھایا رہا۔ یہ ایک 8 سالہ بچی آصفہ بانو کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل سے متعلق ہے۔ یہ معاملہ بھارت کی ریاست جموں و کشمیر میں کٹھوعہ کے گاؤں رسانہ میں جنوری 2018ء کو پیش آیا۔ مقدمے کی چارج شیٹ پیش کر دی گئی ہے اور ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور مقدمے کی سماعت کے دوران میں پیش کیے بھی گئے۔ مقتول بچی خانہ بدوش قبیلے بکروال سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی گمشدگی کے ایک ہفتے بعد اس کی لاش ملی۔ اس کے گاؤں والوں کو اس کی لاش ایک کلومیٹر دور ملی تھی۔ اس واقعے کا جب اپریل 2018ء میں آٹھ افراد پر الزام عائد کیا گیا تو ملک گیر خبر بن گئی۔ ملزمان کی گرفتاری پر مختلف جماعتوں کی طرف سے احتجاج شروع ہوا جن میں سے ایک احتجاج میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو وزرا بھی شامل ہوئے۔ دونوں نے اب استعفی دے دیا ہے۔ بعد ازاں بھارت کی سپریم کورٹ نے پینتھرز پارٹی کے سربراہ بھیم سنگھ کی طرف سے سی بی آئی سے آزادانہ تحقیقات کروانے کی درخواست کی سماعت کی، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا۔[18][19][20] اگر چیکہ اس جرم میں عدالت نے کچھ ملزموں کو سزا سنائی، تاہم جنسی زیادتی اور قتل کے علاوہ ملزمان کے لیے حمایت کے خلاف وسیع پیمانے پر ملک بھر ناراضی پھیل گئی تھی۔[21][22][23] سماجی میڈیا کے ویب سائٹوں جیسے کہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام وغیرہ پر #JusticeforAsifa (آصفہ کے لیے انصاف) کا ہیش ٹیگ بہت مقبول ہو چکی تھا، جس کے ذریعے عوامی غصے کا کافی اظہار کیا گیا۔ [24]

جدید ہجومی تشدد[ترمیم]

حالیہ عرصے میں مذہبی یا ثقافتی سوچ پر مبنی تشدد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یہ تشدد عموماً جذباتی اور مذہبی نعروں پر مبنی ہے۔ اس کی قسمیں ذیل کے قطعوں میں درج کی گئی ہے۔

سماجی میڈیا سے ہجومی تشدد اور نفرت کا فروغ[ترمیم]

بھارت کی مختلف ریاستیں جہاں 31 جولائی 2018ء تک ہجومی قتل کے واقعات رو نما ہو چکے ہیں۔

بھارت میں جدید ہجومی ہجومی تشدد کے واقعات کا ایک بڑا سبب سماجی میڈیا کے ذریعے ارسال کردہ پیامات کی تیزی سے ترسیل اور ان کا متشدد عوامی رد عمل ہے۔ سماجی میڈیا میں فیس بک، ٹویٹر، بلاگ اور واٹس ایپ جیسے ذرائع سے عوام کے بیچ فرضی خبروں، توہمات، نفرت، غصہ، خوف اور ایک عمومی بے چینی اور شورش کی کیفیت برپا کرنا شامل ہیں۔

فیس بک بھارت کے صدر انکور مہرا ٹیک فیسٹ 2017ء میں خطاب کرتے ہوئے۔ فیس بک ملک میں کاروبار سے لے کر کئی نجی معاملوں میں بھارت پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔

بھارت کے شہر پونے میں ایک جوان آئی پیشہ ور شخص فیس بک سے پھیلنے والے ہجومی تشدد کا پہلا نشانہ بنا۔ محسن صادق شیخ جو اصلًا مہاراشٹر کے ضلع شولاپور سے تعلق رکھتا ہے، پونے میں ایک نجی کمپنی میں آئی ٹی مینیجر تھا۔ وہ ایک یکم جون 2014ء کو ایک شام کام کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ اس وقت شہر میں فیس بک پر مراٹھا حکمران شیواجی اور بال ٹھاکرے کی مسخ شدہ تصویریں کسی نے فیس بک پر اپلوڈ کر رکھی تھی۔ اس بات پر بھڑکنے والی ایک ہندو تنظیم کے ارکان نے اس کا قتل کر دیا، حالانکہ متنازع تصاویر سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔[25]

سماجی بلاگ نگاری کے انٹرنیٹ کے ذریعے بغیر کسی روک تھام کے نفرت اور ہجومی تشدد کے فروغ پانے کے جاری رکھ پانے کے بارے ایک بد ترین مثال سنجیو سبھلوک نے 2015ء میں پیش کی جس میں انہوں نے یہ ثابت کیا گیا کہ بیرون ملک رہنے والے بھارتی منفی ذہنیت کے حامل لوگ انتہا پسندانہ رائے رکھ سکتے ہیں اور وہ ایسے خیالات کی تائید بلاگوں اور فیس بک پوسٹ کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں جن میں کہ ملک کی آبادی کے ایک حصے کو گائے کے گوشت کا کھانے والا یا اسلام پسند دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ لوگ خود کے خلاف آواز کو برداشت نہیں کرتے، بالخصوص ان لوگوں کی آواز جو ملک کی طرز حکمرانی اور پالیسی سازی میں اصلاح چاہتے ہیں۔[26] سنجیو سبھلوک 1982ء میں ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس میں شامل ہوئے۔ وہ بعد میں آسام اور میگھالیہ میں مختلف عہدوں پر فائز بھی رہے اور حکومت ہند کے جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔[27]

بھارت میں خواتین اور بچوں کی بہودگی کی وزیر مینکا گاندھی ٹویٹر کی ٹیم سے محو گفتگو ہوتے ہوئے

نفرت اور تشدد کا فروغ سماجی میڈیا کے سب سے مختصر پیامات کے ارسال کی سائٹ ٹویٹر پر بھی کافی شدومد سے کیا جاتا ہے۔ جولائی 2019ء میں بہار کے ریاستی دار الحکومت پٹنہ میں ایک شخص اس بات پر نالاں تھا کہ ایک گائے اس کے گھر کے قریب باندھی ہوئی ہے اور وہ اس جگہ کو گندہ بھی کر چکی ہے۔ اسی غصے میں اس نے گائے پر اپنے کتے کو چھوڑا۔ یہ معاملہ ایک اور ہی رخ اختیار کر گیا جب ایک صحافی نے اپنے ٹویٹر سے یہ دعوٰی کر دیا کہ کتا دراصل ایک مسلمان شخص کا ہے۔ اس کی وجہ سے شہر کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں کشیدگی کا ماحول پھیل گیا۔ شہر کی پولیس کو متحرک ہونا پڑا اور یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ مثاہرہ گائے اور کتے کا مالک، دونوں ہندو ہیں اور یہ معاملے کو ٹویٹر کے ذریعے خواہ مخواہ ہندو مسلمان تنازع کا رنگ دینے کی کوشش تھی، حالانکہ ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔ پھر بھی یہ زہریلا ٹویٹ کم از کم 2000 بار ری ٹویٹ کیا گیا۔[28]

جدید دور میں واٹس ایپ شخصی اور گروہی پیغامات کے ارسال کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ تاہم یہ بناوٹی خبروں کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ بن گیا اور اس سے کئی ہجومی تشدد کے واقعات، ملک بھر میں نفرت اور قتل کے واقعات میں بھی رونما ہوئے ہیں۔ کئی لوگ محض شک اور مشتبہ افراد کی تصویروں کے گشت ہونے کی وجہ سے عوامی تشدد کی زد میں آ گئے۔ آسام سے تمل ناڈو تک ان میں سے کئی لوگ چندے میں جمع ہوئی مار پیٹ کی وجہ سے بری طرح سے زخمی ہوئے اور کئی لوگ مارے بھی گئے ہیں۔ [29] [30]

جون 2018ء تک نیوز 18 نے ملک میں پیش آئے بے شمار واٹس ایپ اموات کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کی وجوہ لکھی تھی، جو حسب ذیل زمروں میں درج کی جا سکتی ہیں۔ یہ پیامات انگریزی کے علاوہ کئی بھارتی زبانوں میں بھی گشت کر رہی ہیں:

  • بچوں کی چوری یا ان کا اغوا
  • غیر مقامیوں پر ڈاکوؤں کی گینگ سے وابستگی کا اندیشہ
  • تمل ناڈو میں بطور خاص شمالی ہند کے شہریوں سے نفرت اور ان پر بچوں کے اعضا کی بازارکاری کا اندیشہ [31]

مذکورہ بالا زمروں کے علاوہ واٹس ایپ مذہبی منافرت کے فروغ میں بھی کافی معاون بے جس کا راست یا بالواسطہ طور پر عوام میں غصہ، کدورت اور تشدد کے فروغ میں ہاتھ ہے۔ ہف پوسٹ کی اطلاع کے مطابق دہلی کی ریزی ڈینشیل ویلفیر سوسائٹی میں جہاں کے سبھی باشندے ملک کی اکثریت سے تعلق رکھتے ہیں، اکثر مخالف مسلم ویڈیو اور پیامات برادری کے واٹس ایپ گروپ میں گشت کرتے رہتے ہیں۔ یہاں مقیم ایک سپریم کورٹ کے جج نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں ایک ٹھیلے پر غذائی سامان بیچ رہا مسلمان جھجک کے ساتھ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہے کہ وہ ملاوٹی اشیا فروخت کر رہا ہے۔[32]

فیس بک اور واٹس ایپ کو شامل کرتے ہوئے موزیلا انٹرنیٹ صحت 2019ء کی رپورٹ۔ رپورٹ کے کئی انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ عملًا ناراض آوازوں کو دبانے کا کام کر رہے ہیں اور ایک مہم جو انداز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی کی حمایت میں لگے ہیں۔

بھارت کی سبھی سیاسی جماعتوں میں آئی سیل اور سماجی میڈیا پر قبضہ کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم بھارت میں سب سے زیادہ اور وسیع ترین پھیلا ہوا سیاسی آئی ٹی سیل حکمران بی جے پی کا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ریاست ہر ضلع کے ہر بلاک کے لیے سیل میں افسر موجود ہیں۔ یہ افسر خبروں کو اشتہاری پیاموں کو علاقے کی بولیوں اور لوگوں کی حساسیت کے مد نظر پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ بی جے پی کا نشانہ ملک کے اکثریتی ووٹر ہیں، اس لیے یہ سیل کئی بار ایسے پیامات کا فروغ دیتا ہے جو اگر چیکہ اکثریت کو بھاتے ہیں، مگر اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مرکوز ہوتے ہیں۔ اس میں سچی اور جھوٹی دونوں خبروں کی آمیزش ہوتی ہے۔ مثلًا یہ خبر کہ کس طرح سے کشمیر میں ہندو لڑکیوں کو اٹھا لیا گیا یا پھر یہ فرضی خبر کا پوسٹر کہ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے خاطی اجمل عامر قصاب کو اس کے نام کے ہندی حروف کے مطابق 'ک' سے 'کمپیوٹر'، 'س' سے 'اسمارٹ فون' اور 'ب' سے 'بہنوں کے ڈھیر سارے منصوبے' مراد لیتی ہیں اور ملک کے بلند تر مفاد سے بے حس ہیں؛ اس طرح سے یہ آئی ٹی سیل دوسری سیاسی پارٹیوں اور اقلیتوں سے نفرت پھیلاتا ہے اور اکثریت سے بی جے پی کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ گروپوں کا استعمال ہوتا ہے۔[33] 9 فروری 2015ء کو بی جے پی آئی ٹی سیل کے بانی پرودیوت بورا نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا۔ ان کے مطابق بی جے پی اب کوئی امتیازی خصوصیت کی پارٹی نہیں رہی۔ اس پر جنون طاری ہو چکا ہے۔ ہر حال میں جیتنے کی خواہش پارٹی کے بنیادی اصولوں ہی کو تباہ کر چکی ہے اور اب یہ وہ پارٹی نہیں رہی جس میں انہوں نے 2004ء میں شمولیت اختیار کی تھی۔[34]

ریاستہائے متحدہ امریکا کے مشی گن نو جوانوں میں تشدد کی روک تھام کے مرکز (Michigan Youth Violence Prevention Center) نے سماجی میڈیا کے نوجوانوں میں پر تشدد رجحانات کے فروغ میں پلیٹ فارم کی طرح کام کرنے کی بات کو کافی پر زور انداز میں اپنی ویب سائٹ پر رکھی ہے۔ مرکز کے مطابق سائبر ہراسانی کی طرح ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب اسی منفی پہل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس بات کے لیے ویب سائٹ نے اے بی سی نیوز کا حوالہ دیا جس میں ایک حقیقی واقعے کی منظر کشی کی گئی تھی جس میں ایک شکاگو کے مقیم شخص کے مطابق ان ویب سائٹوں کا استعمال بدنام گینگ کے ارکان تشدد کو پھیلانے کے لیے کر رہے ہیں۔ یہ بھی آشکارا ہوا ہے کہ کیسے گینگ سماجی میڈیا کو دھمکیاں دینے، متصادم گینگوں کو للکارنے، فاش تشدد پھیلانے اور اپنی ٹولی کے ارکان میں اضافہ کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ اس سب سے حقیقی کچلنے، گولیاں چلانے اور حقیقی اموات دیکھنے میں آئے ہیں۔[35] بھارت کے قومی سیاق و سباق میں سماجی میڈیا کی منفی اثر انگیزی کی تصدیق اسی ملک میں نو جوانوں کے کیریئر سے جڑی ویب سائٹ ویزڈم جابز کی طرف سے بھی کچھ ثقافتی ترامیم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق جدید سماجی دور کا سماجی میڈیا اچھے سے زیادہ برے نقوش چھوڑ رہا ہے۔ بیش تر نو جوان انٹرنیٹ پر کافی وقت گزار رہے ہیں اور وہ ایک یا اس بڑھ کر کھاتہ جات کو دیکھتے رہتے ہیں۔ اس سے طلبہ، نو جوانوں اور کار کردگی کی افادیت ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے خطرات میں دماغی صحت کا متاثر ہونا، سائبر ہراسانی، متواتر پیام رسانی (texting)، پیچیدہ اور غیر قانونی مواد سے رو شناسی اور نجی معلومات کے افشا جیسے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔[36] تاہم 2019ء میں نریندر مودی وزارت میں بنے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 2014ء میں جب وہ وزیر خارجہ تھے، سب سے پہلے واضح اندار میں اعتراف کیا کہ سماجی میڈیا ملک میں خاص طور پر نو جوانوں میں تشدد کو فروغ دینے کا کام کر رہا ہے، اگر چیکہ وہ اپنی گفتگو کو صرف داعش جیسی تنظیموں کے جہادی تشدد تک ہی محدود کر رہے تھے، جو ان کے مطابق ملک کے امن اور اس کی صیانت کے لیے بہت بڑے خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے ہجومی تشدد یا سماجی میڈیا کے ذریعے نفرت کے فروغ پر کچھ نہیں کہا۔ [37] اس واقعے کے گزرنے کے تین سال بعد 2017ء میں راج ناتھ سنگھ نے اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی تعریف کی کہ تمام تر کوششوں کے باوجود داعش بھارتی مسلمانوں کو لبھانے میں ناکام رہا ہے، اسی وجہ سے صرف کوئی 90+ لوگ داعشی پروپگنڈا سے متاثر معلوم ہوئے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔[38] 2018ء میں ہجومی تشدد پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بحث کے دوران میں راج ناتھ سنگھ نے ہجومی تشدد کو ریاستوں کا موضوع قرار دیا جسے مقامی طور طور پر ہی سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ وہ اسے قومی مسئلہ نہیں قرار دیا اور نہ ہی جہادی تشدد کی طرز پر، بالخصوص سماجی میڈیا پر نو جوانوں میں نفرت کے فروغ پر اپنی کسی تشویش کا اظہار کیا۔ہجومی تشدد کے موضوع پر اس طرح سے ملک کی مرکزی حکومت کی مکمل براءت اور بے نیازی اور اس کی روک تھام کا بار صرف ریاستی حکومتوں پر ڈالنے پر عدم اتفاق کی وجہ سے ملک کے حزب اختلاف کی جماعتیں پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر گئی تھیں۔[39]

حکومت اور حکمران کی کارکردگی اورسماجی میڈیا کے غلط استعمال پر مزید روشنی گلوبل وائسیس کی نگارشات سے ملتی ہے۔ گلوبل وائسیس بلاگ نگاروں، مترجمین اور شہری صحافیوں کا بین الاقومی نیٹ ورک ہے جو بلاگوں کی دنیا کو نزدیکی سے دیکھتے ہیں، اس پر لکھتے ہیں اور خلاصے اور تجزیے لکھتے ہیں۔ یہ ایک غیر منافع بخش منصوبہ ہے جس کا آغاز ہارورڈ یونیورسٹی کے برکمین سنٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی نے 1998ء میں کیا تھا۔[40] [41]

اسکرائبڈ ڈاٹ کام پر اپنے ایک پوسٹ میں اسی گلوبل وائسیس سے وابستہ وشال نے کئی حوالہ جات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بر سر اقتدار بی جے پی راست یا بالواسطہ طور پر ہجومی تشدد کے فروغ اور سماجی میڈیا کے بے جا استعمال کے ذریعے نفرت کا فروغ دے رہی ہے۔ اس کے لیے بہت سی مثالوں میں وی لاگر دھروو راٹھی کا بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے ایک سابق رکن کا انٹرویو موجود کا ربط موجود ہے جس میں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے سیاسی مفادات کے لیے متعدد فیس بک کے صفحات اور واٹس ایپ گروپوں کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے۔ وشال نے مزید ایک مقولہ فعالیت پسند شبنم ہاشمی کا نقل کیا جن کے بھائی صفدر ہاشمی 1989ء میں غازی آباد میں ہجومی تشدد کی وجہ مارے چکے تھے۔ ان کے 2018ء کے بیان کے مطابق جو اصلًا ڈٹریبیون انڈیا میں شائع ہوا تھا :

پچھلے چار سالوں میں ہم نے جو تشدد کو دیکھا ہے، وہ ایک رجحان پر مبنی ہے۔ ہجومی تشدد ایک سیاسی آلہ ہے جس سے سماج کو ایک جانب جھکایا جا سکتا ہے۔ قانون کا نفاذ ان حملوں کا حصہ اور اس کی اُپَج بن گیا ہے۔ غیر جانب داری سے کام کرنے والے پولیس افسروں کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔ ترکیب یہ ہے کہ خوف کا ماحول اس طرح تیار کیا جائے ک ہجوم کے لوگوں کو کسی مخصوص فرقے کو نشانہ بنانے دیا جائے۔ یہ صورت خال 2019ء کی آمد کے ساتھ اور بھی خراب ہوتی جائے گی۔[42][43]

گاؤ کشی[ترمیم]

بھارت میں گاؤ کشی کے قانونی موقف کا نقشہ

2015ء میں مملکتی وزیر برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے گاؤ کشی پر پابندی کی حمایت کی اور کھانے والوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا۔[44] ان کے اس بیان کا جواب ان ہی کے کابینہ کے ساتھی اور مملکتی وزیر برائے داخلہ کرن ریجیجو نے یہ کہہ کر دیا کہ میں گائے کا گوشت کھاتا ہوں، کون ہے جو مجھے روکے گا۔ کِرن شمال مشرق سے وابستہ ہیں جہاں گائے کا گوشت عام بات ہے۔ [45] گووا کے مرحوم وزیر اعلیٰ منوہر پریکر نے بھی گائے کے گوشت کے کاروبار کی حمایت کی تھی۔ [46] تاہم اور بی جے پی قائدین جیسے کہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے گاؤ کشی کی مخالفت کی اور مسلمانوں سے گائے کا گوشت نہیں کھانے کے لیے کہا۔ [47] ملک میں حد درجہ گاؤ کشی کی مخالفت اور مبینہ گاؤ کشوں کے خلاف جذبہ ان بیانات سے بڑھنے لگا۔ اُسی سال تشدد اور قتل کے واقعات میں اضافہ اور اولین قتلوں میں ہماچل پردیش میں نعمان اختر نامی شخص کا قتل کر دیا گیا۔

2019ء کی فروری تک سے متعلق جاری کردہ رپورٹ میں ایک اندازے کے مطابق مبینہ گاؤکشی کے خلاف ہجومی تشدد میں گزشتہ تین سالوں میں 44 لوگ ہلاک اور 280 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ان تین سالوں میں 100 ایسے حملے ہوئے تھے۔اس ہجومی تشدد کا شکار اقلیتی فرقے کے لوگ ہی نہیں بلکہ کچھ دلت بھی مارے گئے ہیں، حالانکہ مقتولین کی اکثریت مسلمان تھی۔[48] کچھ دلتوں کو مردہ گائے کے چمڑے نکالنے کی وجہ سے زد و کوب کے شکار ہوئے۔ [49] کچھ لوگ مردہ بیلوں کا چمڑا نکالنے کی وجہ سے بھی مار دیے گئے۔ ایسے معاملے میں کم از کم ایک مسیحی شخص ہلاک ہوا۔[50]

گاؤ کشی سے جڑے تشدد میں بھارت مین کئی لوگ زخمی بھی ہوئے اور ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ سماجی میڈیا، میڈیا اور کئی علمی حلقوں میں اس تشدد کو گئو تنگ واد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جس کے معنی گاؤ دہشت گردی یا گائے سے جڑی دہشت گردی ہے۔ [51][52][53][54][55]

گایوں کی منتقلی پر تشدد[ترمیم]

بھارت میں گایوں کی منتقلی کی ایک تصویر

گائے کی حمل و نقل میں پکڑے گئے لوگوں کو کئی مقامات پر پیٹا گیا اور کچھ افراد کا قتل بھی کیا گیا[56] اور ان میں سے کچھ سے جبراً ایک نعرہ گئو ماتا کی جے کا نعرہ کہلوایا گیا۔ [57]

  • ایسے ہی ایک واقعے میں نعمان اختر نام شخص مار دیا گیا۔ اس کا تعلق بھارت کی ریاست اترپردیش کے سہارنپور سے تھا۔ اسے 14 اکتوبر 2015ء کو جنونی ہجوم کی جانب سے ہماچل پردیش کے نِہان علاقے میں اس لیے قتل کیا گیا تھا کیونکہ اس پر الزام تھا کہ وہ گایوں کی غیر قانونی حمل و نقل میں ملوث تھا۔ پولیس نے نعمان کے ساتھیوں کے خلاف جانوروں سے سختی کی روک تھام قانون (Prevention of Cruelty to Animals Act) اور انسداد گاؤکشی قانون (Prevention of Cow Slaughter Act) کے تحت مقدمات درج کیے۔ اس حملے میں شامل افراد کے خلاف پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا جو قتل سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ پولیس نے اس واقعے کے پیچھے سیاسی وابستگیوں کو فوری طور پر تسلیم یا تردید کرنے سے انکار کر دیا۔[58]

جے شری رام[ترمیم]

جے شری رام کے نعرے کو فروغ کرنے والا ایک پوسٹر

قدیم زمانے سے شمالی ہند میں ہندو عوام کے بیچ رام رام ایک طرح سے گفتگو سے پہلے سلام کرنے کا طریقہ رہا ہے۔ اس کی ایک اور شکل جے سیا رام بھی ہے، جس میں متکلمین پہلے سیتا کو یاد کرتے ہیں، پھر رام کو یاد کرتے ہیں۔ جے شری رام ایک احتجاجی نعرے کے طور پر 1990ء کے دہے میں شروع ہوا جب لال کرشن اڈوانی سومناتھ مندر سے ایک رتھ یاترا نکال کر ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کا سیاسی مطالبہ شروع کیے۔ تاہم یہ نعرہ بطور خاص 2014ء کے بعد احتجاج، جبری جاپ، حملوں اور قتل جیسے واقعات کے لیے کثرت سے استعمال ہوتے دیکھا گیا، جس کا بالکلیہ سیاسی اور مؤقت سماجی بگاڑ کا نتیجہ رہا ہے اور جس کا اصالتًا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔[59]

2019ء کے بعد سے ہجومی تشدد کی وارداتوں میں مسلمانوں سے جبراً جے شری رام کہلوانے کے کئی واقعات رو نما ہوئے ہیں۔نیز کچھ ہندوؤں پر بھی اس کا نعرہ لگانے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا۔ 2019ء میں پونے کے ایک ہندو ڈاکٹر ارون گاڈرے کو بھی ان کی مرضی کے خلاف دہلی میں جے شری رام کہنا پڑا۔[60] ذرائع ابلاغ میں جے شری رام جبراً کہلوانے کی بدترین مثال جھارکھنڈ میں ملی جہاں ایک مسلمان نوجوان تبریز انصاری کو دو پہیا گاڑیوں کی چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔ بعد ازاں مقامی باشندوں نے مل کر اس سے جبراً جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے اور گھنٹوں زد و کوب گیا جس کے نتیجے میں وہ سخت زخمی ہو گیا اور بالآخر پولیس تھانے میں انتقال کر گیا۔[61] اسی طرح کے کئی اور واقعات ملک کے مختلف مقامات میں پیش آئے۔[62]

جے شری رام کہلوانے پر زور اور ایسا نہ کہنے پر تشدد کے واقعات مسلمان مذہبی شخصیات اور مدارس اسلامیہ سے جڑے افراد کے ساتھ بھی پیش آئے ہیں۔[63]

ہجومی تشدد کی اور قسمیں[ترمیم]

دلتوں پر تشدد[ترمیم]

بھارت کے دلتوں پر 2001ء سے 2012ء تک مسلسل بڑھ رہے ہیں جرائم کے اعداد و شمار کا گراف۔ اس میں ظاہر ہوتا ہے دلتوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار سال در سال عملًا یکسانی کی کیفیت دیکھی گئی ہے، جیسا کہ گراف کی آسمانی رنگ والی لکیر سے ظاہر ہوتا ہے۔

مزکورہ بالا تشدد کی اقسام ذات پات کی بنیاد پر تشدد اور فرقہ وارانہ تشدد کے علاوہ ہیں، جن کی بھارت میں اپنی ایک الگ تاریخ رہی ہے۔ دلت عوام مار پیٹ اور قتل کے علاوہ کئی اور مظالم کے شکار ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ مظالم ایسے ہیں جو صرف ان پر ڈھائے جاتے ہیں۔ مثلًا دلت خواتین کو وقتاً فوقتاً برسر عام برہنہ کیا گیا جاتا رہا ہے[64][65][66]، دلتوں کو اعلیٰ ذات کے کنویں سے پانی نکالنے سے روکا جاتا رہا ہے[67]، ٓٓٓانہیں وقت وقت پر انسانی فضلات جیسے کہ پیشاب اور پاخانہ نگلنا پڑا ہے اور خود ان پر پیشاب بھی کیا گیا ہے[68]، انہیں نامناسب مقامات پر بیٹھنے پر مجبور ہونا پڑا ہے[69]، انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا رہا اور کئی بار مار پیٹ اور قتل جیسے واقعات رو نما ہوئے ہیں۔ انڈیا ٹائمز ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق 2018ء کے بعد سے ان جرائم اور تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ویب سائٹ نے کئی عجیب واقعات درج کیے ہیں جن سے عوام کے ایک طبقے کی جانب سے دلتوں کے لیے منفی رویے کی تصدیق ہوتی ہے:

  • ایک دلت عورت کو اتر پردیش کے ایک گاؤں میں بکریاں چَراتے ہوئے غلطی سے ایک کھیت میں داخل ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔
  • گجرات کے مہسانہ ضلع میں ایک دلت کی حجامت کی وجہ سے ایک نائی کا قتل کر دیا گیا۔
  • مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ میں سرپنچ کے گھر کے پاس سے موٹر سائیکل پر گزرنے کی وجہ سے ایک دلت کو مار دیا گیا۔
  • بھوپال میں ایک دلت کو اس لیے مار دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی زمین پر ناجائز قبضے پر احتجاج کیا تھا۔
  • مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع میں تین کم عمر دلت لڑکوں کو ننگا کیا گیا، پیٹا گیا اور اس لیے مار دیا گیا کیونکہ انہوں نے گاؤں کے ایک کنویں میں ڈبکی لگائی تھی۔
  • گجرات میں ایک دلت لڑکے کو گھڑسواری کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
  • راجستھان میں ایک دلت لڑکے کو وہاں کے روایتی جوتے پہننے کی وجہ سے مقامی راجپوتوں کی جانب سے مار دیا گیا۔
  • 2015ء کے دستیاب مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک دلت کے خلاف کوئی جرم انجام دیا جاتا ہے اور 6 دلتوں عورتوں کی ہر روز آبرو ریزی کی جاتی ہے[70]۔

فرقہ وارانہ فسادات[ترمیم]

2012ء میں فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات کا گراف

مذہبی تشدد کے بھی بھارت میں کئی واقعات پیش آئے ہیں، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، نیز املاک کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ یہ فسادات بالعموم انیسویں صدی کی ابتدا میں غیر منقسم ہندوستان میں وقفے وقفے سے پیش آتے رہے ہیں۔ اگر چیکہ کہ فرقہ وارانہ فسادات بھی ایک طرح سے ہجومی تشدد کا ہی ایک روپ ہوتے ہیں، تاہم ان میں اور عام ہجومی تشدد میں کچھ فرق کی باتیں ہوتی ہیں۔ عمومی ہجومی تشدد عام طور سے کسی ایک شخص پر کئی افراد کا اچانک حملہ ہوتا ہے۔ اس میں مؤقت غصہ ہو سکتا ہے اور کوئی منصوبہ بند حکمت عملی نہیں ہوتی۔ اسی لیے کم از کم ابتدائی پولیس کی کار روائی کی حد تک ہی صحیح ملزم افراد کے خلاف ایف آئی آر اور مقدمے شروع کیے جاتے ہیں۔ کچھ معاملوں میں کار روائی اس کے آگے بھی بڑھتی ہے اور سزائیں بھی ممکن ہیں۔ تاہم فرقہ وارانہ فسادات کئی بار کافی منظم ہوا کرتے ہیں۔ اس میں عام طور سے نشانہ ایک فرد کی بجائے کسی فرقے کے کئی افراد ہوتے ہیں۔ کئی لوگوں کی جان، مال اور جائداد کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور روپے پیسوں کی لوٹ مار بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ کچھ فرقہ وارانہ فسادات میں عورتوں کی عصمت دری، بالخصوص اجتماعی آبرو ریزی بھی کی جا چکی ہے۔ ملک کے طویل فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ سے چند اہم نکات یہاں ذیل میں درج ہیں:

  • 1987ء میں 22 اور 23 مئی کی درمیانی شب کو رمضان کے مہینے میں ہاشم پورہ سے فوج کی نگرانی میں پچاس مسلمان نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔ بعد میں پی اے سی کے جوانوں نے انہیں غازی آباد ضلع کے مراد نگر قصبے کے نزدیک گنگا نہر پر اور دلی یوپی بارلار پر واقع ماکن پور گاؤں کے نزدیک ہنڈن ندی میں گولی مار کو بہا دیا۔[71]
  • 2002ء میں بھارت کی ریاست گجرات میں بڑے پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے۔ گجرات کے مسلم اکثریتی علاقوں ہود ، ضلع آنند، شیخ محلہ، سردار پورہ، گلبرگ سوسائٹی ، نرودا گاؤں، نرودا پاٹیااور کالو پورہ میں منظم طور پر مسلمانوں کی نسل کشی شروع ہوئی۔ تقریبًا پچیس ہزار کے قریب مسلمانوں کے گھر اجاڑ دیے گئے اور آج بھی پانچ سو کے قریب لوگ لاپتہ ہیں لیکن حکومت کے ریکارڈ کے مطابق ان کی تعداد دو سو ہے۔[72] بھارت کی ایک عدالت نے 2016ء میں 2002ء میں ریاست میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے ایک واقعے پر 24 ملزمان کو قصوروار قرار دیا جن میں 11 پر قتل کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ یہ لوگ اس ہجوم کا حصہ تھے جس نے احمد آباد میں گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھس کر 69 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جن میں سابق پارلیمانی رکن احسان جعفری بھی شامل تھے۔[73]
  • بھارت میں سال 2004ء سے 2017ء کے درمیان میں فرقہ وارانہ تشدد کے 10,399 واقعات ہوئے۔اس میں 1,605 لوگ مارے گئے اور 30,723 لوگ زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ 943 واقعات 2008ء میں ہوئے جس میں 167 لوگ مارے گئے اور 2,354 لوگ زخمی ہوئے۔ تشدد کے سب سے کم 580 معاملے 2011ء میں درج کیے گئے۔ ان میں 91 لوگوں کی موت ہوئی اور 1899 لوگ زخمی ہوئے۔ 2017ء میں فرقہ وارانہ تشدد کے 822 معاملے درج کیے گئے، جس میں 111 لوگ مارے گئے اور 2,384 زخمی ہوئے۔ جبکہ 2016ء میں 703 معاملے درج کیے گئے تھے، 86 لوگ مارے گئے تھے اور 2,321 زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح 2015ء میں 751 معاملے سامنے آئے، 97 لوگ مارے گئے اور 2264 زخمی ہوئے۔ جبکہ 2014ء میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے 644 معاملے سامنے آئے، 95 لوگ مارے گئے اور 1,921 لوگ زخمی ہوئے۔[74][75]
  • بھارت میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے جڑے کئی معاملے متنازع ہیں اور یہ دعوٰی کیا جاتا رہا ہے کہ صحیح تحقیقات اور مجرموں کو سزا دلانے کا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کیا گیا۔ 2007ء میں ہوئے گورکھپور کے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملے میں الٰہ آباد ہائی کو رٹ کے فیصلہ کو غیر قانونی قرارا دیتے ہوئے معروف ایڈوکیٹ فرمان احمد نقوی نے کہا کہ اس درخواست میں سب سے پہلے یہ گزارش کی گئی تھی متنازع فرقہ وارانہ فساد کی غیر جانبدارانہ جانچ کر وائی جائے۔کیوں کہ جو سی بی سی آئی ڈی کی ٹیم اس پورے معاملے کو دیکھ رہی تھی، اس نے کام ٹھیک سے نہیں کیا تھا۔ وکیل موصوف نے 2018ء اس معاملے کو سپریم کورٹ سے رجوع کروانے کا اعلان کیا تھا۔[76]

قبائلی لوگوں پر تشدد[ترمیم]

مزید دیکھیے: چپکو تحریک
مدھیہ پردیش کے اوماریا ضلع کی قبائلی خواتین

دلتوں اور اقلیتوں کے علاوہ بھارت میں درج فہرست قبائل کے لوگ بھی وقتًا و فوقتًا قتل اور مظالم کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ اکثر قبائل عام شہری علاقوں سے دور آباد ہوتے ہیں۔ ان کے علاقوں میں حکومتوں کے نسبتًا کم ہی ترقیاتی کم ہوتے ہیں، مثلًا سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں اور کالجوں کا قیام، ہسپتالوں اور سرکاری دفتروں، پوسٹ آفسوں اور ہوٹلوں کی موجودگی۔ اس کی وجہ سے اکثر قبائلی آبادی کم ہوتی ہے اور ان کے اطراف و اکناف زمین زیادہ تر خالی ہوتی ہے یا ان پر پختہ عمارتیں کم ہی بنی ہوتی ہیں۔ اس وجہ کئی کاروباری شخصیات اور صنعت کار قبائلیوں سے زمین زور زبر دستی کے ذریعے ہتھیانے یا ان کی غربت کا استحصال کرتے ہوئے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک میں قبائلی لوگوں کے تحفظ کے لیے کئی قوانین بنائے جا چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود بااثر، بارتبہ اور متمول کاروباری لوگ موقعوں کی تاک رہتے ہیں کہ کسی طرح سے قبائلی لوگوں کی زمین پر قبضہ کیا جائے۔

  • ایسے ہی ایک معاملے میں 2019ء میں اترپردیش کے سون بھدر قبائلی علاقے میں مسلح افراد داخل ہوئے اور انہوں نے دس قبائلیوں کا زمین ہتھیانے کی کوشش کے تحت قتل کر دیا۔ اس کے علاوہ کئی لوگ زخمی بھی ہو گئے۔[77][78]

ہجومی تشدد کی حوصلہ افزائی کرنے والے اقدامات[ترمیم]

چار ہجومی بلوہ گروں کی علامتی تصویر

جدید دور میں بی جے پی، آر ایس ایس اور ان کے ہمنوا ہندوتوا حامی تنظیمیں گائے کے تحفظ اور اس کے تقدس کی پر زور حمایت حمایت کرتی آئی ہیں۔ 2019ء میں بھوپال سے لوک سبھا سے منتخب ہونے والی پرگیا سنگھ ٹھاکر نے جو پستانوں کے کینسر کی مریضہ رہی ہیں، یہ دعوٰی کر چکی ہیں کہ گومُترا (گائے کا پیشاب) ان کا علاج کر گیا ہے۔ یہ باجود اس کے کہ وہ تین آپریشنوں سے پستانوں کے جزوی کا کلی تقطع کے مرحلے سے بھی گزر چکی ہیں۔ طبی ماہرین نے بی جے پی رکن پارلیمان کے گومترا اور گایوں کی افادیت کے ان کے بیانات کا مکمل بُطلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2008ء کے سلسلہ وار مالے گاؤں بم دھماکوں کی ملزمہ بھی ہیں اور وہ طبی بنیادوں پر رہا ہوئیں تھیں۔ اسی اثنا وہ انتخاب لڑ کر منتخب بھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح بی جے پی اور آر ایس ایس قائدین گائے، گومترا اور گئو رکشا کی باتیں اپنی تقاریر میں کر چکے ہیں۔ناگپور میں اپنے ایک خطاب کے دوران آر ایس ایس کے سر سنگھچالک یاصدر موہن بھاگوت نے ایک موقع پر کہا ہے کہ "یہ ناانصافی ہو گی اگر گئو رکشکوں یا گائے کے تحفظ کی مکمل سرگرمی کو پر تشدد واقعات یا فرقہ وارانہ جذبات سے جوڑا جائے۔ یہ مذموم کوشش ہے کہ حقائق کو نہ جانا جائے یا ان کی ان دیکھی کی جائے..." [79] ایک اور موقع پر انہوں نے میڈیا اور دانشور طبقوں پر دہرے معیاروں کا الزام عائد کیا جس میں بطور خاص گئو رکشکوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ "چوپایوں کی غیر قانونی نقل حرکت کرنے والے حملے کرتے ہیں۔ ہجومی قتل پر شور ہوتا ہے۔ مگر جب گائے کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے والے حملہ کرتے ہیں اور تشدد برپا کرتے ہیں، تب اس پر کوئی شور نہیں ہوتا۔ ہم کو اس طرح کے دہرے معیاروں کو ترک کرنا چاہیے۔"[80] اس کے ساتھ ہی بھاگوت نے گائے کے تحفظ کو دستور کے رہنمایانہ اصولوں سے جوڑ دیا۔ اس طرح سے انہوں نے بالواسطہ طور پر گئو رکشا کے لیے اپنے فطری جھکاؤ کا اظہار کیا، اگر چیکہ انہوں نے تشدد کی صحافیوں کے روبرو مذمت کی، چاہے وہ کسی گوشے سے کیوں نہ ہو۔ انہوں نے ان واقعات کی تفصیلات نہیں بتائی جن میں گایوں کے غیر قانونی منتقل کرنے والے تشدد پر اتر آئے، نہ ہی ایسے کسی پرتشدد واقعے کی تفصیلات سنائی۔ اسی طرح کا کوئی بھی واقعہ کہیں بھی میڈیا میں شائع نہیں ہوا، قریب قریب یہی رویہ دیگر سنگھ پریوار کے کئی سرکردہ قائدین کا رہا ہے کہ وہ اپنے بیانات میں گئو رکشا کی پر زور تائید میں رہے اور گایوں کے تحفظ اور اس کے تقدس کے حامی رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں بھارت کی تحریک آزادی کے فعالیت پسند، سیاست دان، وکیل، مصنف اور ہندو فلسفے کے نظریہ ساز سمجھے جانے والی ونایک دامودر ساورکر کے کئی نظریات جدید دور میں بی جے پی، آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا سمیت سنگھ پریوار کے مقدم سمجھے جاتے رہے ہیں۔ وہ 1923ء میں اپنی کتاب جس کا عنوان ہندتوا تھا، اس کتاب میں وہ گائے کی پوجا کی سخت مخالفت کر چکے ہیں۔ حالانکہ وہ گائے کو ایک مفید جانور مانتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اس کی پرستش کو عقل سے پرے بتایا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ انسانوں کو کسی ایسی چیز یا شخص کی پرستش کرنا چاہیے جو ماورائے انسان ہو یا اس میں مافوق البشر صفات کا حامل ہو، نہ کہ ایک اظہر من الشمس (“out-and-out”) جانور کو جو بنی نوع انسان سے کم تر ہے۔ وہ اس عجیب و غریب رسم (“naïve practice”) کے ترک کیے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ یہ ان کے مطابق "بُدھی ہَتْیا" (قتلِ دانش) ہے، حالانکہ وہ گایوں کی دیکھ بھال کے خلاف نہیں تھے اور در حقیقت اس بات کو "قومی فریضے" کے طور فروغ دیتے تھے۔ جب تک کہ وہ وسیع تر معاشی اور سائنسی اصولوں پر مبنی ہو – جس کے لیے وہ امریکا کی مثال دیتے تھے۔ وہ یہ زور دے چکے تھے کہ امریکا ہی کی وجہ سے گایوں کی افادیت میں اضافہ ہوا ہے۔[81] اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حالانکہ آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا جڑے ساورکر حالانکہ گائے کے تحفظ اور اس کی پرستش کے حامی نہیں تھے، تاہم آر ایس ایس، بی جے پی اور دیگر ہندوتوا سے جڑی تنظیمیں نہ صرف یہ کہ گائے کے تحفظ، تقدس اور اس کی پرستش کی حامی ہیں، بلکہ یہ لوگ راست اور بالواسطہ طور پر تحفظ و تقدس کو کافی حد کوشش میں ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کوششیں بڑی حد تک گائے کے نام پر تشدد کو فروغ دینے کا کام کر رہی ہیں۔

سماجی میڈیا میں قبرستان بھیجنے کی وکالت[ترمیم]

مولانا ابو الکلام آزاد کی اہلیہ زلیخا بیگم کی قبر کی تصویر۔ متوفی بھارتی مسلمانوں کو قبرستانوں میں دفنایا جا تا ہے۔

یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر ایک گیت بہت مقبول ہوا اور کچھ لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا اور متاثر ہوئے۔ وہ گیت یہ تھا کہ "جو نہ بولے جے شری رام اس کو بھیجو قبرستان"۔ اس گیت کے گایک ورون اپادھیائے عرف ورون بہار ہیں۔ جنتا کا رپورٹر ویب سائٹ پر دی گئی 26 جولائی 2019ء کی اطلاع کے مطابق انہیں ان کے متنازع گیت کی وجہ سے اتر پردیش پولیس گرفتار کر چکی ہے[82][83]، حالانکہ یہ گیت گرفتاری کے بعد بھی سماجی میڈیا اور واٹس ایپ کے کچھ حلقوں مقبول رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں متوفی مسلمانوں کو قبرستانوں میں دفن کیا جاتا ہے جب کہ متوفی ہندوؤں کو عموماً شمشان بھومی میں سپرد آتش کیا جاتا ہے۔[84]

ہجومی تشدد کے سزا یافتگان کی گلپوشی[ترمیم]

بھارت کے مرکزی وزیر جینت سنہا ایک خطاب کے دوران۔ انہوں نے 29 جون 2017ء کو جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع کے بازار تانڈ علاقے میں گائے کے نام پر مارے گئے علیم الدین انصاری قتل میں سزا یافتہ لوگوں کے ضمانت رہا ہونے پر ان کی گلپوشی کی تھی، جس کی وجہ سے ان کے والد نے انہیں نالائق قرار دیا تھا۔

29 جون 2017ء کو جھارکھنڈ کے رام گڑھ ضلع کے بازار تانڈ علاقے[85] میں ایک شخص علیم الدین انصاری کو کئی افراد نے، جن کا تعلق بجرنگ دل سے تھا، گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں ہلاک کر دیا۔[86] ریاست کی ایک نچلی عدالت نے اس واقعے میں آٹھ افراد کو خاطی پایا۔ تاہم یہ معاملہ اونچی عدالت میں پہنچا اور قصور واروں کو رہائی ملنے پر نریندر مودی میں شامل وزیر جینت سنہا نے جاکر ان کی گلپاشی کی اور خیر مقدم کیا۔ [87] برسر خدمت وزیر کے اس اقدام پر ان کے اپنے والد اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے فرزند کو نالائق کہ دیا۔[88]

ملزمان سے نرم سلوک[ترمیم]

2015ء میں دہلی سے کچھ فاصلے پر دادری کے مقام پر ایک معمر مسلمان شخص محمد اخلاق سیفی کو گاؤ کشی کے الزام قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد خبروں کے مطابق مقامی بی جے پی قیادت کی پر زور جستجو کی وجہ سے اس واقعے میں ملزم پائے گئے 15 افراد کو 2017ء میں نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن لمیٹڈ یا این ٹی پی سی کے پاور پلانٹ میں ملازمت دی گئی جو دادری میں واقع ہے۔[89]

اخلاق سیفی کا بیٹا سرتاج سیفی بھارتی فضائیہ میں برسر خدمت ہے۔ اس کے باوجود وہ اس بات سے بہت ہی دل برداشتہ رہے ہیں کہ گرفتار شدہ ملزمان میں سے ایک روی سیسودیا کی جب گرفتاری کے دوران میں ہی میں موت واقع ہوئی، تب گاؤں والوں نے تابوت پر قومی ترنگا پرچم بچھا دیا اور اسے شہید قرار دیا۔[90]

اس موقع پر مرکزی وزیر سیاحت مہیش شرما اور مشرقی اترپردیش کے سردھانہ اسمبلی حلقے کے ریاستی رکن مقننہ سنگیت سوم موجود تھے۔ ایک ہزار سے زائد گاؤں والے آئے تھے۔ روی سیسودیا کے اہل خانہ اس کی موت کو سانس لینے میں دشواری سے نہیں بلکہ پولیس زیادتی بتا رہے تھے۔ وہ ایک کروڑ روپے معاوضہ اور مرنے والے کی بیوی کے لیے سرکاری ملازمت کا مطالبہ کر رہے تھے، ورنہ انتِم سنسکار سے انکار کر رہے تھے۔ تاہم مہیش شرما کی مداخلت کے بعد وہ لاش کو سپرد آتش کرنے کے لیے راضی ہوئے۔ ان لوگوں نے اخلاق سیفی کے بھائی جان محمد پر بھی کار روائی کا مطالبہ کیا۔ اس ماحول میں بھڑکاؤ تقاریر بھی سنی گئیں۔[91] تاہم مہیش شرما نے اہل خانہ سے کیا مفاہمت کی، اس کی تفصیلات ذرائع ابلاغ میں موجود نہیں ہیں۔

اخلاق سیفی کے قتل کے فوری بعد 2015ء ہی میں ان کے گھر سے دستیاب گوشت کے لیب معائنے سے پتہ چلا کہ وہ گائے کا گوشت نہیں بلکہ بکرے کا ہے۔[92][93] تاہم اس کے ایک سال گزر جانے کے بعد 2016ء میں متھرا کی ایک لیب میں پھر سے اسی گوشت کا معائنہ کروایا گیا، جس میں اسے کسی گائے یا بچھڑے کے گوشت ہونے کی بات کہی گئی۔ خاندان نے اسی سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جبکہ ان کے دفاعی وکیل رام شرن ناگر نے اس رپورٹ کو ملزموں کی ماخوذیت کو مدھم کرنے والی کوشش قرار دیا کہ "وہ جذباتی طور بِپھرے ہوئے تھے" کیونکہ گاؤ کشی ہندوؤں کے لیے ایک جذباتی معاملہ ہے۔ [94]

2016ء میں اخلاق سیفی کے ایک پڑوسی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر دیا گیا تھا۔ شکایت کے مطابق اخلاق کے خاندان نے ایک بچھڑے کو مار دیا تھا۔ یہ بھی دعوٰی کیا گیا کہ اخلاق کا بھائی جان محمد اس جانور کا حلق کاٹتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایف آئی آر میں خاندان کے سات ارکان کا نام لکھا گیا، جس میں اخلاق کی بیوی اِکرامًا اور ماں اصغری بھی شامل ہیں۔[95]

2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے دوران میں اخلاق سیفی کے قتل کا ایک ملزم وشال سنگھ بساڈا گاؤں کے سنگرام سنگھ کالج گراؤنڈ میں منعقدہ ایک ریالی میں پہلی صف میں موجود تھا، جس سے ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خطاب کر رہے تھے۔ وشال زور سے "یوگی، یوکی" کہ کر چلا رہا تھا۔[96]

2017ء میں راجستھان کے ایک 55 سالہ شخص پہلو خان گاؤ رکشکوں کے تشدد کی وجہ سے مارا گیا تھا۔ تاہم اس کے اور اس کے بیٹوں ارشاد اور عارف نیز ایک اور شخص کے خلاف مئی 2019ء میں فرد جرم داخل کر دیا گیا۔[97] تاہم اگست 2019ء میں پہلو خان کے قتل کے سبھی 6 ملزمان عدالت میں بری کر دیے گئے۔[98]

بھارت میں جہاں ہجومی تشدد کے ملزمان سے نرمی برتی گئی ہے، وہیں کئی بار مقدمہ بازی بھی ان ہی مظلومین پر کی گئی ہے جو متشدد حرکتوں سے متاثر ہوئے ہیں۔[99] اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہے کہ بیشتر متاثرین غریب ماحول سے تعلق رکھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ [100]

اترپردیش میں بلند شہر کے پولیس انسپکٹر سبودھ کمار 3 دسمبر 2018ء کو ایک جنونی ہجوم کی جانب گائے کے ذبح ہونے کی افواہ سے بپھری ہوئی بھیڑ کے تشدد کی جانب سے بے رحمانہ انداز میں قتل کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے اخلاق قتل کی شروعاتی تحقیق بھی کی تھی۔[101] اس تشدد کے ملزم جب ضمانت پر جیل سے باہر آئے تو ان لوگوں نے جے شری رام، بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعروں کے بیچ ان کا شان دار استقبال کیا گیا۔ جیل سے باہر آئے ملزموں کے ساتھ لوگوں نے پھولوں کی مالا پہنائی اور ان کے ساتھ سیلفی بھی لی۔ اترپردیش پولیس نے 38 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ 38 میں سے 6 ملزمان ضمانت پر رہا ہوکر سنیچر کو باہر نکلے۔ رہا شدگان میں شِکھر اگروال بی جے پی یُووا مورچہ (جوانوں کی شاخ) کے سیانا (بلند شہر) کے سابق شہر کے صدر ہیں۔ جبکہ اوپیندر سنگھ راگھو انترراشٹریہ ہندو پریشد کی شاخ کے صدر ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر تین کی پہچان جیتو فوجی، سورو اور روہت راگھو کے روپ میں ہوئی تھی۔ اس دوران میں پورے واقعے کا ویڈیو بھی کسی نے بنا لیا۔ یہ ویڈیو سماجی میڈیا پر تیزی سے وائرل کر دیا گیا۔[102]

ریاستی وزیر کی جے شری رام کہلوانے کی کوشش[ترمیم]

جولائی 2019ء میں جھارکھنڈ کے وزیر برائے شہری ترقی سی پی سنگھ نے ایک دوستانہ گفتگو کے دوران میں ریاست کے ایک کانگریسی ایم ایل اے عرفان انصاری کے بغل میں اپنے ہاتھ ڈال دیے۔ پھر انہوں نے جو کہا اس سے انصاری چوکنا ہو گئے اور میڈیا حلقوں میں بے چینی پھیل گئی:

ایک بار زور سے جے شری رام بول دیجیے۔ آپ رام سے ہیں۔ بابر، تیمور، محمود غزنوی یا محمد غوری آپ کے آبا و اجداد نہیں ہیں۔

اس پر عرفان انصاری نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ رام کو بدنام مت کیجیے۔ رام سب کے ہیں۔ لوگوں کو ملازمتیں، سڑکیں، بجلی چاہیے۔[103]

غور طلب ہے کہ بھارت بھر میں ہجومی تشدد کے بہت سے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی رہا ہے کہ لوگوں سے جے شری رام کا نعرہ جبراً لگوایا گیا تھا اور ایسا نہیں کرنے والوں مارا پیٹا اور قتل کیا جا چکا ہے۔[104] ایسے میں کسی ریاستی وزیر کا اپنے سیاسی ساتھی سے جے شری رام کہنے پر زور دینا جنونی ہجومیوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

ملک میں سو ہجومی قتل مکمل[ترمیم]

یوٹیوب پر ایک مشہور صحافی اور حالات حاضرہ کے تبصرہ نگار آکاش بنرجی نے 3 اگست 2019ء کو اپنے چینل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی جو باحوالہ ہے، اس میں حالیہ عرصے میں بھارت میں ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات اور تشدد کے اس رجحان کو بطور خاص 2014ء سے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے مطابق ملک اُس تاریخ تک 100 افراد مختلف وجوہات سے ہجومی تشدد کی وجہ سے اپنی جان گنوا چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ حالاں کہ مرنے والوں کی تعداد میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں، تاہم اس فہرست میں ہندو اور مسیحی بھی ہیں اور کئی دلت بھی ہجوم کا شکار ہوئے ہیں۔ [105]

ملک کے سماجی پس منظر کے اصلاح کی کوششیں[ترمیم]

قومی اعزازات کی واپسی 2015ء[ترمیم]

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کا عکس

2015ء میں بھارت میں رونما ہونے والے عدم رواداری کے واقعات کے خلاف تقریبًا کئی زبانوں کے ادیبوں نے انہیں حاصل ساہتیہ اکیڈمی انعام اعزازات لوٹا دیے تھے۔ اعزازات لوٹانے والوں کی اکثریت کا تعلق بھارت کے اکثریتی فرقے سے رہا ہے۔

میرے نام پر نہیں تحریک 2017ء[ترمیم]

مزید دیکھیے: میرے نام پر نہیں
میرے نام پر نہیں (Not in my name) مہم کا لوگو

میرے نام پر نہیں یا ناٹ ان مائی نیم (انگریزی: Not in my name) بھارت بھر میں 2016ء اور 2017ء کے دوران میں مسلمان اقلیت پر حملوں، قتل و غارت گری کے واقعات کے خلاف احتحاج ہے۔ یہ احتجاج کچھ بیرونی ممالک اور سماجی رابطے کی ویب سائٹوں جیسے کہ فیس بک اور ٹویٹر پر بھی دیکھا گیا۔ احتجاج کا ایک پہلو مسلمانوں پر حملے کے علاوہ بعض گورکشکوں (گاؤ کشی مخالفین) کی جانب سے دلت طبقے پر کیے جانے والے حملے پر بھی احتجاج کرنا تھا۔ یہ احتجاجی مظاہرے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 2017ء کی ملاقات کے فوری بعد منظم ہوئے، جس سے حکومت کو عالمی برادری کے رو بہ رو اور بھی شرمندہ ہونا پڑا تھا۔

وزیر اعظم سے گزارشی خط[ترمیم]

شیام بینیگل کی ایک 2016ء کی تصویر

بھارت کی 49 مشہور فلمی اور فن کار شخصیات نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط 24 جولائی 2019ء کو لکھا۔ خط پر دستخط کنندوں میں شیام بینیگل، منی رتنم، انوراگ کشیپ اور رام چندر گوہا شامل تھے۔ اس خط میں مطالبہ کیا گیا کہ ایک سخت تر قانون ملک میں ہونا چاہیے جو دلت اور مسلمان لوگوں پر ہجومی تشدد کے واقعات پر روک لگا سکے۔[106]

کنگنا رناوت کی ایک 2014ء کی تصویر۔ کنگنا بھی حکومت کی حمایت میں آنے والی شخصیات میں سے ایک تھی۔

اس خط کے جواب میں 62 مشہور شخصیات نے وزیر اعظم کو ایک کھلا خط لکھا جس میں مبینہ طور پر "چنندہ احتجاج" اور "غلط بیانی" پر تاسف کا اظہار کیا گیا۔ ان کے مطابق 49 خود ساختہ ملک کے 'محافظین' اور 'ضمیر اور جمہوری اقدار کے رکھوالوں' نے ایک بار پھر اپنی چنندہ رد عمل کا اظہار کیا ہے جس سے مظاہرہ ہوتا ہے کہ ایک واضح سیاسی جھکاؤ اور مقصد براری اس میں مضمر ہے۔ ان شخصیات میں کنگنا راناوت، پائل روہتگی اور پرسون جوشی شامل تھے۔[107]

بھارت کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کھادی ہاٹ کا 2018ء میں افتتاح کرتے ہوئے۔

بھارت کی مرکزی حکومت میں شامل جانوروں کی افزائش نسل کے وزیر گری راج سنگھ نے 49 مشہور فلمی اور فن کار شخصیات کے خط کو مودی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایوارڈ واپسی گینگ کی اسی سوچ کی ایک اور کوشش قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیوں یہ لوگ کیرانہ کے ایم ایل اے ناہید حسن کے بارے کچھ نہیں کہتے جنہوں نے مسلمانوں سے ہندو دکانداروں کے بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔[108] تاہم وزیر موصوف نے وشوا ہندو پریشد کی قائد سادھوی پراچی کے بیان پر کچھ نہیں کہا جنہوں نے اسی طرح سے شیو بھکتوں سے اسی طرح سے مسلمانوں کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ نہ ہی انہوں نے ایس سادھوی کے اُس بیان کی مذمت کی جس میں اس نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے آزادی کے بعد اس ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، انہیں شہریوں کی طرح رہنا ہوگا، ان کے غرانے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔[109] یہ قابل ذکر ہے کہ سادھوی پراچی اسی وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی قد آور رہنما ہے جو بی جے پی ہی کی طرح سنگھ پریوار کا حصہ ہے۔ سنگھ پریوار میں آر ایس ایس، بی جے پی، وی ایچ پی، بجرنگ دل اور کچھ ذیلی تنظیمیں شامل ہیں۔[110]

ذرائع ابلاغ میں رسمی اور غیر رسمی ایسے کئی معاملات پر بحثیں شروع ہو گئی جن میں غیر مسلم شخصیات متاثر ہوئے۔ ان میں معترضین سے یہ سوالات پوچھے گئے کہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے قتل پر انہوں نے تاسف کیوں نہیں کیا، کشمیر میں لاکھوں پنڈتوں کے نقل مکانی پر انہوں نے مذمت کیوں نہیں کی۔ داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں پر ان لوگوں نے مذمت کیوں نہیں کی۔ ایک طرح سے اس کا کیا کی کئی حجتیں آگے کرنے کی کوشش کی گئی جن سے بھارت میں ہجومی تشدد کے معترضین کے اعتراضات کو یک طرفہ ثابت کیا جا سکے۔

پہلے خط کو، جسے 49 لوگوں نے دستخطوں کے بعد جاری کیا تھا، ایک مجرمانہ شکایت کی نذر ہوا جس میں 9 دستخط کنندوں کے خلاف معاملہ لکھا گیا۔ اس پر انوراگ کشیپ نے اپنے ٹویٹر کھاتے سے انگریزی زبان میں جو انہوں نے جو لکھا، اس کا نچوڑ اس طرح ہے:

اگر ایک خط کا یہ اثر ہو سکتا ہے تو ہمیں ایک مکمل ٹرول فوج کی ضرورت ہے جو چن چن کر غلط بیانیوں کو ڈھونڈ نکالے اور دستخط کنندوں پر مختلف الزامات عائد کرے تو سوچیے کیا ہو گا اگر ہم اس حکومت کے خود کو نفع پہنچانے والے ہر اقدام پر سوال پوچھنے لگیں۔[111]

وزیر اعظم کو جن 49 لوگوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے خط لکھا تھا، ان میں اداکار کوشیک سین بھی شامل رہے ہیں، جنہیں اس کے کچھ ہی دن کے اندر ٹیلی فون پر موت کی دھمکی دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اس کی اطلاع پولیس کو دے گئی ہے اور پولیس کو دھمکی آمیز کال کا نمبر بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔[112]

فلمساز انوراگ کشیب کی تصویر

ایک اور خط کے دستخط کنندے اور فلمساز انوراگ کشیپ کو ہجومی تشدد اور حکومت کے خلاف گویائی کی وجہ سے ٹویٹر پر ٹرول کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے والدین اور ان کی بیٹی کو دھمکیاں وصول ہو رہی تھی۔ ان کی بیٹی کو عصمت دری کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے ٹویٹر کھاتے اسے دیے جانے والے اخیر کے دو ٹویٹوں میں کیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنا ٹویٹر کھاتہ حذف کر دیا۔ انوراگ اکثر بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے ناقد بھی رہے ہیں اور انہوں نے دستور کی دفعہ 370 کی حذف شدگی اور کئی اور اہم موضوعات پر حکومت سے شدید اختلاف رائے رکھتے آئے ہیں اور ان باتوں کا بھی انہوں نے ٹویٹر پر کھل کر اظہار کیا تھا۔ [113]

کاروباری شخصیات کا رد عمل[ترمیم]

13 جولائی 2019ء کو انفوسیس کے معاون بانی ناراینا مورتی نے سینٹ زیوئرس کالج، ممبئی میں ایک پینل مباحثہ کے دوران میں کہا کہ:

ملک کے مختلف حصوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو یہ بے ساختہ کہہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ وہ ملک نہیں ہے جس کے لیے ہمارے آبا و اجداد نے آزادی حاصل کی۔[114]
گوڈریج گروپ کے صدرنشین آدی گودریج

اسی دن اور اسی مقام پر ایک اور صنعت کار گودرج گروپ کے آدی گودرج نے کہا کہ:

اگر بڑھتی ہوئی عدم روا داری، سماجی عدم استحکام، نفرت پر مبنی جرائم، خواتین کے خلاف تشدد، اخلاقی پولیس کی کار روائیاں، ذات پات اور مذہبی تشدد اور دیگر قسم کی عدم روا داریاں روکی نہیں گئی معاشی ترقی بری طرح سے متاثر ہو سکتی ہے۔[63]

اکثریتی فرقے کے خلاف ہی تشدد میں اضافے کا الزام[ترمیم]

دھولاگڑھ میں سیمینٹ فیکٹری کی ایک تصویر

2019ء میں چینج ڈاٹ او آر جی پر ایک دستخطی مہم شروع کی گئی ہے جس میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ 2014ء سے بھارت میں ہندوؤں کے خلاف ہی تشدد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔[115] اس کی کئی مثالوں میں سے ایک مثال یہ بتائی گئی ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جے شری رام کے نعرے لگانے والوں کو مجرم، غیر ریاستی اور بی جے پی کار کن قرار دیا۔ [116] اور اس نعرے کے متبادل کے طور پر انہوں نے جے بنگلہ اور جے ہند جیسے نعروں کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ [117] کچھ لوگوں نے ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا ہے جو ان کے مطابق بھارت کے اکثریت ہندو وقتاً فوقتاً ہجومی تشدد کا شکار ہوتے آئے ہیں ہیں مگر ذرائع ابلاغ ان واقعات کو یا تو بالکلیہ نظر انداز کر دیتا ہے یا نمایاں انداز میں انہیں نہیں پیش کرتا۔ اس کی مثال یہ لوگ 2016ء میں مبینہ طور پر دھولاگڑھ کے ہجومی تشدد کو پیش کرتے ہیں جس میں ہندوؤں کے گھروں پر حملہ کیا گیا اور ان گھروں کو جلایا گیا، مگر پولیس نے ان ہی کے فرقے کے لوگوں کو گرفتار کیا۔ [118] ان خبروں کو ملک کے سرکردہ اخبار اور میڈیا ذرائع نے نمایاں طور پر پیش نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تو پورے واقعے کی تردید کی۔ [119]

ہجومی تشدد کو روکنے کے لیے انفرادی کوششیں اور غیر سرکاری کوششیں[ترمیم]

ہیلپ لائن نمبر کا آغاز[ترمیم]

15 جولائی کو سماجی میڈیا پر (یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ) United Against Hate یا نفرت کے خلاف متحدہ کے نام سے جانے جانے والے ادارے نے دہلی کے پریس کلب میں ایک ٹول فری نمبر 1800-313360000 کا آغاز کیا جس کا مقصد ہجومی تشدد کو روکنا اور اس کے شکار افراد کو قانونی امداد فراہم کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق یہ نمبر بطور خاص ہندی گو ریاستوں میں کام کرے گا جہاں پر ہجومی تشدد کے بیش تر واقعات پیش آئے ہیں۔ تدیم خان جو ادارے کی کمیٹی کے کلیدی رکن ہے، نے ایک مثال سے اس نو تشکیل شدہ نمبر کی افادیت کو سمجھائی۔ انہوں 2018ء میں جھارکھنڈ کے کوڈا علاقے میں ہجومی تشدد کی مثال دی جہاں پر دو مسلمان آدمیوں کو چو پایوں کی چوری کے الزام میں ایک مجمع نے بے تحاشا مارا۔ اس وقت پولیس مقام واقعہ تک پہنچنے میں دو کھنٹے کا وقت لگا اور اس دیر کی وجہ سے یہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ندیم کے مطابق اگر ان کی ہیلپ لائن پر ایسے کسی ناگہانی موقع پر کال ملے تو وہ فوری سرکل آفیسر کو فون کر سکتے ہیں، ریاست اور قومی میڈیا کو پہنچ سکتے ہیں، مقامی پولیس افسروں کے نمبروں سے ان کے ویب سائٹ اور سماجی میڈیا پر عوام کو واقف کروا سکتے ہیں۔ ان سب کوششوں کے ذریعے ارباب مجاز سے بر وقت کروائی کرنے پر زور ڈالا جا سکتا ہے۔[120]

جمعیت علمائے ہند کی جانب سے امن-ایکتا سمیلن[ترمیم]

مزید دیکھیے: جمعیت علمائے ہند
دہلی کے تالکٹورا اسٹیڈیم کا باہری منظر

5 اگست 2019ء کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی کے تالکٹورا اسٹیڈیم میں امن و آشتی کے مذاکرے کا انعقاد کیا جس کا عنوان امن-ایکتا سمیلن رکھا گیا۔ اس اجلاس میں کئی مسلمان اور غیر مسلم شخصیات نے شرکت کی، جس میں جمعیت کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری، مولانا محمود مدنی، پرمرتھ نکیتن آشرم کے سوامی چیدانند سرسوتی مہاراج، انیل جوزف تھامس، گیانی رنجیت سنگھ اور کئی شخصیات نے اسٹڈیم میں مخاطبت کی، ہجومی تشدد پر تشویش کا اظہار کیا اور ہجومی تشدد پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت نے ضلعی سطح پر بین مذاہب مذاکرات کے لیے جمعیت سدبھاونا منچ (جمعیت کی ہم آہنگی کی فورم) کی شاخیں بنانے کا فیصلہ کیا۔ [121]

فعالیت پسندوں کی کوششیں[ترمیم]

تیستا سیتلواد، جنہوں نے 2002ء کے گجرات کے فسادات کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے تنہا کافی جد و جہد کیا۔ وہ کئی محاذوں پر ایک فعالیت پسند خاتون رہی ہیں اور ہجومی تشدد پر بھی کافی بیانات دے چکی ہیں۔

21 جولائی 2019ء کو ممبئی بائیں محاذ سے وابستہ فعالیت پسند شخصیت پریتی شیکھر نے نفرت پر مبنی جرائم میں مملکتی وابستگی کے خلاف قومی کنوشن (National Convention against State Complicity in Hate Crimes) کا انعقاد کیا جس میں اداکار نصیر الدین شاہ، دیگر فعالیت پسند جیسے کہ تیستا سیتلواد اور رام پونیانی کے علاوہ ہجومی تشدد کی وجہ سے جان کھونے والے انسپکٹر سوبود کمار سنگھ، جنید خان اور محسن شیخ کے پس ماندگان، نیز 2016ء کے اونا میں کوڑے برسانے کے واقعے کے متاثرین کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے محض دو دنوں کے اندر پریتی کے گھر پر ممبئی پولیس نے تقریب کے انعقاد کنندہ پریتی شیکھر اور سنیتا پوار کے خلاف 2013ء میں بے روزگار کے خلاف احتجاج کے واقعے کو دلیل بناتے ہوئے ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا ۔ اگرچیکہ یہ قابل ضمانت وارنٹ تھا، تاہم اسے تقریب کے انعقاد کنندوں کی جانب سے جمہوری اور احتجاجی آوازوں کو کچلنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ [122]

بھارت میں ہمہ صلاحیت کے حامل فلمی ادا کار نصیر الدین شاہ نے ملک میں بڑھ رہے ہجومی تشدد پر اس لیے تشویش طاہر کی کیونکہ انہوں اپنے بچوں کو کسی بھی ایک مخصوص مذہبی تعلیم نہیں دی تھی۔ وہ حالانکہ ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئے، ان کی بیوی رتنا پاٹھک شاہ ایک ہندو ہے۔ اس وجہ سے گھر میں ماحول کسی ایک مذہب کی جانب مرکوز نہیں تھا۔

نفرت پر مبنی جرائم میں مملکتی وابستگی کے خلاف قومی کنوشن کے شرکاء میں سے ایک نصیر الدین شاہ اس تقریب سے ایک سال پہلے ہی یعنی 2018ء اس وقت شدید تنازع کا حصہ بن چکے تھے جب انہوں نے ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے بھی فکر مند ہیں کیونکہ ان کے بچے کسی بھی مخصوص مذہب کے پیروکاروں کے طور پر پرورش نہیں پائے تھے، اس لیے وہ ان کے مستقبل کے لے کر پریشان ہیں۔ اس ایک بیان پر ملک میں شاہ کے خلاف شدید احتجاج ہوا اور اسی سال اجمیر میں لٹریری فیسٹیول (ادبی تہوار) کے دوران ان کے ایک کلیدی خطاب کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔ [123] نصیر الدین شاہ کی گئو رکشکوں کے تشدد کے خلاف بیان بازی کو ان کے ساتھی فن کار انوپم کھیڑ نے مذمت کی تھی اور ان سے استفسار کیا تھا کہ انہیں کتنی آزادی کی ضرورت ہے؟ [124]

متاثر شخص اور ہجومی بلوہ گر کی جانب سے اتحاد کی کوشش[ترمیم]

2002ء کے گجرات فسادات کے دوران اور اس کے بعد ایک لمبے عرصے تک بھارت کے میڈیا میں دو تصویریں بہت چھائے ہوئے تھے۔ ان میں ایک تصویر اشوک پرمار کی تھی، جس میں اس کے سر زعفرانی پٹی باندھی ہوئی تھی، ہاتھ میں لوہے کا راڈ تھا اور چہرے پر غصہ اور جنونی جوش صاف چھلکتا تھا۔ ایک اور تصویر اسی گجرات کے ایک مسلمان شخص قطب الدین انصاری کی تھی۔ اس میں قطب الدین کے چہرے پر خوف اور حواس باختگی، رونے اور رحم کی بھیک مانگتی تصویر صاف عیاں تھی۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگتا ہوا دکھائی پڑتا تھا۔ میڈیا میں ان دو تصویروں کو فسادات اور ہجومی تشدد کے وقت ایک ہی جگہ بے رحمی اور لاچاری کے اجتماع ضدین کے طور پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم میڈیا میں بہت کم ان تصویروں کے پیچھے کے چہروں کی کہانیاں شائع ہوئی ہیں۔ اشوک پرمار ایک موچی ہے۔ وہ اس قدر بے یار و مدد گار تھا کہ وہ ایک اسگول میں قیام پزیر تھا۔ 2002ء کے فسادات کے دوران وہ گمراہ کن سیاسی پروپگنڈا سے متاثر ہوا تھا اور ایک فسادی ہجوم کا حصہ بنا تھا۔ اس کے بر عکس قطب الدین ایک درزی تھا۔ وہ احمد آباد شہر کے نروڈا پاٹیا میں اپنی ایک خیاطی کی دکان چلاتا تھا۔ فسادات سے بڑی مشکل سے اپنی جان چھڑا کر وہ کمیونسٹ رہنما محمد سلیم کی مدد سے کولکاتا منتقل ہو گیا۔ تاہم کچھ وقت کے بعد جب ماحول راس نہیں آیا تو وہ احمد آباد لوٹ آیا۔ 2014ء میں پہلی بار قطب الدین اور اشوک آمنے سامنے آئے جب اپنی نفرت انگیز وابستگی پر پشیمان اشوک پرمان نے قطب الدین کی خود نوشت سوانح عمری I am Qutubuddin Ansari (میں قطب الدین انصاری ہوں) کے ملیالم ترجمے کا اس نے اجرا کیا۔ دونوں میں یہ حیرت انگیز تب سے بدستور دوستی قائم رہی۔ 2014ء سے متواتر انداز میں ملک بھر میں بے شمار ہجومی تشدد کے واقعات کے باوجود 7 ستمبر 2019ء کو جوابی دوستانہ کار روائی کے طور پر قطب الدین نے اشوک کی دکان کا افتتاح کیا جس کا نام ایکتا چپل گھر رکھا گیا تھا۔ اس موقع پر اشوک نے کہا کہ ملک میں ایکتا (اتحاد) ہی مستقبل کا راستہ ہو سکتا ہے۔[125][126] اس طرح سے فسادات اور ہجومی شدد کے ایسے دور میں جب کچھ سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں سے لوگوں کو پر تشدد کار روائیوں کے لیے اکسایا جاتا رہا ہے، ایک متاثر شخص اور ہجومی بلوہ گر نے اپنے ماضی کو فراموش کرتے ہوئے نئے دوستانہ اور تعاون کے دور کے قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

پولیس کی کارروائی[ترمیم]

2017ء میں راجستھان کے الور ضلع میں فوج اور پولیس کے بھرتی یافتگان کے لیے تربیتی کیمیپ کے افتتاحیہ کی تصویر۔

ہجومی تشدد کے واقعات میں کئی گوشوں سے مختلف ریاستی حکومتوں کی پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ راجستھان میں گائے کے نام پر ہجومی تشدد کے شکار پہلو خان کے مقدمے میں ملزمان نے این ڈی ٹی وی کے صحافی کو بتایا کہ کیسے ان لوگوں نے پہلو خان کو مارا اور یہ بات کیمرے کے سامنے اعتراف جرم کی طرح ریکارڈ بھی ہوئی۔ پھر بھی عدالت میں اس بات کو بطور ثبوت وکیل استغاثہ مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہے۔ [127] اس کی بجائے تمام 6 اعترافی ملزمان کو بری کر دیا۔[128]

اس سے قبل 27 جون 2017ء کو دہلی سے ٹرین میں ہریانہ کے بلبھ گڑھ لیے ٹرین میں سفر کرنے والے ایک حافظ قرآن جنید خان اور ان کے بھائی حسیب خان ہجومی تشدد کا شکار ہوئے۔ اولاً ساتھی مسافروں سے نشستوں پر بحث ہوئی تھی۔ مگر یہ لڑائی طول پکڑی کیونکہ یہ دونوں بھائی عام مسافرین سے الگ دکھنے لگے۔ پھر ہجوم نے دونوں بھائی کو گائے کا گوشت خوار اور مخالف قوم قرار دیا۔ دونوں بھائی کو زخمی کیا گیا اور جنید خان کو چلتی ٹرین سے باہر پھینکا گیا جس کی وجہ جنید کی موت واقع ہو گئی تھی۔ [129] یہ معاملہ قومی سرخیوں کا حصہ بنا اور پولیس اور حکومت نے کافی فعالیت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم جب یہ عدالت میں زیر دوران میں ہوا تو حافظ جنید خان کے معاملہ میں عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کے وکیل نے ہی ملزمان کی مدد کی ہے جس کی وجہ سے ہریانہ کی حکومت، ایڈوکیٹ جنرل کے دفتر اور ریاستی بار کونسل کو ان کے خلاف کار روائی کرنا چاہیے۔ [130]

لوک نیتی اور کامن کاز نامی دو بھارتی غیر سرکاری تنظیموں نے پورے بھارت کی 21 ریاستوں کے 12000 پولیس اہل کاروں کا 2019ء میں ایک سروے لیا جس سے جرائم، فرقہ واریت، ہجومی تشدد اور گائے کے تحفظ جیسے حساس موضوعات پر ان کے تاثرات اور خیالات کو جاننے اور ان کے رویوں کے تجزیے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس سروے کی ایک رپورٹ جس کا عنوان بھارت میں پولیس کارکردگی کا موقف 2019ء (STATUS OF POLICING IN INDIA REPORT 2019) تھا، یہ 27 اگست کو سپریم کورٹ کے سابق جج جے چیلامیسور کے ہاتھوں جاری کی گئی۔ اس میں کئی چونکا دینے والے حقائق کی دریافت موجود تھی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کا ہر دوسرا پولیس اہل کار یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان فطری طور پر جرم کرنے کا میلان رکھتے ہیں۔ گاؤ کشی اور ہجومی تشدد کے تناظر میں یہ قابل غور ہے کہ 35 فی صد پولیس اہل کار یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ ہجوم گاؤ کشی کے "مجرمین" کو سزا دیں گے۔[131] [132] اس تاثر کے اظہار کے بعد ماہرین فعال اور گائے سے جڑے تشدد کی فوری جرم کی کوششوں میں پولیس کی کار روائی کے تشویش میں پڑ گئے کیونکہ یہ محسوس کیا گیا کہ وردی پہنے ہوئے لوگوں کا معتد بہ حصہ اس تشدد کو فطری سمجھتا ہے، مذہبی اقلیتوں پر وہبی طور پر جرم کا میلان رکھنے سے متصف کرتا ہے اور مار پیٹ کو سزا سے تعبیر کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات[ترمیم]

بھارت کے سپریم کورٹ کے سامنے کا منظر

26 جون 2019ء کو سپریم کورٹ ایک مفاد عامہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، انسانی حقوق کمیشن اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا۔ یہ درخواست اینٹی کرپشن کونسل آف انڈیا نامی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور اس میں یہ گزارش کی گئی تھی کہ اسی عدالت کے 2018ء میں ہجومی تشدد اور قتل کو روکنے کی ہدایات پر عمل آوری کی جائے۔ جن ریاستی حکومتوں کے نام نوٹس جاری کیا گیا تھا، ان کے نام اس طرح ہیں:

  • اترپردیش
  • جموں و کشمیر
  • جھارکھنڈ
  • آندھرا پردیش
  • گجرات
  • راجستھان
  • بہار
  • آسام
  • مدھیہ پردیش
  • دہلی

17 جون 2018ء کو اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے احتیاطی، تدبیری اور تعزیری اقدامات کے ضمن میں رہنمایانہ خطوط جاری کیے تھے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ فیصلہ تھا کہ ہجومی قتل اور تشدد "قانونًا سنگین عواقب کو دعوت دے سکتا ہے"۔[112]

مختلف ریاستوں میں ہجومی تشدد کو روکنے کی پہل[ترمیم]

بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں ہجومی تشدد کو، بالخصوص گاؤ کشی سے جڑے تشدد کو روکنے کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان کی تفصیلات ذیل میں درج کی گئی ہے۔

منی پور[ترمیم]

شمال مشرقی بھارت کی ریاست منی پور ہجومی تشدد پر قانون سازی کرنے والی پہلی ریاست بنی۔ اس کے تھوبل ضلع میں اس طرح کا ایک واقعہ پیش آ چکا تھا جو یہاں کے او ملک کے میڈیا میں موضوع گفتگو بن چکا تھا۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں ہجومی تشدد کے خلاف قانون سازی کی نوعیت پورے ملک سے مختلف ہے۔ یہ اس لیے بھی ہے کیونکہ اولاً اس کا تعلق ملک میں تیزی سے بڑھ رہے گائے یا فرقہ پرستی سے یا ملک کی عدلیہ کی پھٹکار سے نہیں ہے اور نہ ہی ریاست میں وسیع پیمانے پر ہجومی تشدد کے پھیلنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس قانون سازی کے محرک چند ایسے واقعات تھے جن میں ریاست کے کچھ افراد متاثر ہوئے تھے۔ ان میں ستمبر 2018ء میں تھوبل ضلع کا ایک واقعہ ہے جس میں ایک شخص کو اس لیے ایک ہجوم نے ہلاک کر دیا تھا کیونکہ وہ ایک اسکوٹر چوری کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ * آفیسرس پلس بھارت کے شہر چینائی میں حالات حاضرہ پر تبصرہ اور بھارت کی حکومتی انتظامی خدمات آئی اے ایس کے امتحانات کی تیاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والا ایک اہم جریدہ ہے۔ اس جریدے میں کئی مؤقت خبریں اور سرخیاں اور تجزیے درج ہوتے ہیں جو اس امتحان کے لیے تیاری کرنے والے امیدواروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اسی جریدے نے اپنے ایک شمارے میں منی پور کے ہجومی قتل مخالف قانون کا تجزیہ کیا۔ چنانچہ اس کے تفصیلی نکات اس طرح درج کیے گئے ہیں:

قانون کی خصوصیات
  1. قانون میں ہجومی تشدد کی تعریف: ہجومی تشدد کی جامع تعریف: ہجومی تشدد کی تعریف جامع ہے۔ اس میں کئی قسم کے نفرت پر مبنی جرائم شامل ہیں۔ وہ اس طرح سے ہے: "ایسا کوئی عمل یا سلسلہ وار جڑے ہوئے تشدد کے اعمال جو مؤقت ہوں یا منصوبہ بند ہوں، جنہیں کوئی ہجوم مذہب، نسل، ذات پات، جنس، مقام پیدائش، زبان، کھانے پینے کی عادتوں، جنسی رجحانوں، سیاسی وابستگی، انسانی گروہ بندی یا کسی اور متعلقہ بنیادوں … پر…"
  2. سپریم کورٹ کی ہدایات کا آئینہ دار: اس قانون میں ایک نوڈل آفیسر کا عہدہ تیار کیا گیا ہے اس طرح کے جرائم کی روک تھام کرے گا۔ اس میں خصوصی کورٹ اور اضافی سزاؤں کا جواز موجود ہے۔
  3. متاثرہ شخص اور گواہ کا تحفظ: اس قانون میں یہ ذمے داری ریاستی حکومت پر عائد کی گئی ہے کہ مثاثرہ شخصوں اور گواہوں کو ہر قسم کی دھمکی، زور زبردستی، لالچ یا تشدد سے بچائے۔
  4. ذمے داری کا بھار: ذمے داری کا بھار سرکاری افسروں پر رکھا گیا ہے کہ وہ ہجومی تشدد کے شکار لوگوں کی برادری کو عناد سے بھرے ماحول سے بچائیں۔
  5. عوامی فسروں کا تحفظ: یہ قانون عوامی افسروں کو سابقہ تحفظ سے ہٹا دیتا ہے۔ اب کسی بھی عوامی افسر پر جرائم کے اندراج کے لیے خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں ہے جو ہجومی تشدد جسے نفرت والے جرائم کو روکنے کی اپنی ذمے داری میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔
تشویش کے پہلو
آفیسرس پلس کے تجزیے کے مطابق نئے قانون میں حسب ذیل پہلو توجہ طلب ہیں:
  1. یہ قانون انفرادی نفرت پر مبنی جرائم کو یکسر انداز کر دیتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے لیے یہ ضروری ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم اجتماعی طور پر انجام پائیں، جس کی تعریف دو یا اس سے زیادہ اشخاص کا ہجومی قتل کے ارادے سے جمع ہونا ہے۔ اس طرح سے کسی فرد واحد کی نفرت کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ کچھ ماہرین کی رائے میں ان جرائم کو ممتاز کرنے والی بات حملہ آوروں کی تعداد نہیں ہے، بلکہ نفرت پر مبنی وہ مقصد ہے۔ اس وجہ سے اس قانون کی گنجائشوں کو ہر نفرت سے ابھرنے والے جرم پر عائد کیا جا سکتا ہے، نہ کہ صرف ہجومی قتل اور اس میں شرکاء کی تعداد کا کچھ دخل نہیں ہے۔
  2. اس قانون میں جنس پر مبنی معاوضے کی بات نہیں کی گئی ہے: کئی نفرت پر مبنی جرائم میں مرد اور عورت کے متاثر ہونے کی نوعیت اور کیفیت مختلف ہو سکتی ہے۔ قانون میں واضح پر معاوضوں کی نوعیت اور صنف نازک کے متاثر ہونے کی کیفیات اور صورتوں کا تفصیلی تذکرہ موجود نہیں ہے۔
مجموعی تجزیہ
حالانکہ کچھ قانونی ماہرین میں منی پور میں نافذ اس قانون پر تشویش پائی جاتی ہے، حکومت منی پور نے اس وقت ایک نیا سنگ میل عبور کیا جب وہ بھارت کی ایسی پہلی ریاست بنی جس میں ہجومی تشدد اور قتل کے خلاف قانون بنایا۔ اگر یہی نظیر کو مرکزی حکومت اور دیگر ریاستی حکومتیں بھی اپنائیں، تو یہ قانون سازی کی کوششیں نفرت پر مبنی جرائم کی روک سکتی ہیں، یہ یقین کروا سکتی ہیں کہ عوامی افسر اپنے دستوری فریضوں اور متاثرین اور ان کے پسماندگان تیئیں وفادار ہیں، جس سے مختلف سماجوں کا تحفظ اور انصاف پر اعتماد بنا رہے گا۔[133]

[134]

منی میں ہجومی قتل کے شکار شخص کا نام فاروق خان تھا۔ وہ پنگل یا اصل منی پوری مسلمانوں کا حصہ تھا۔ تاریخی اعتبار سے یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ منی میں مسلمانوں نے دسویں صدی میں اسلام قبول کیا۔ منی پوری مسلمانوں نے شاہی دور میں یہاں کے حکمرانوں کی کافی خدمت بھی کی تھی اور انہیں شاہی عنایات سے نوازا بھی گیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف مقامی زبانوں اپنی الگ پہچان کے باوجود اپنایا بلکہ کئی منی پوری عورتوں سے شادیاں بھی کی تھی۔ منی پوری زبان میں پنگل کے لفظی معنے طاقت کے ہیں۔ جدید دور 2011ء کی مردم شماری میں پنگل لوگوں کی آبادی دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جو ریاست کی کل آبادی کا 8.4% حصہ ہے۔ تاہم زیادہ راسخ بات یہ تسلیم کی گئی ہے کہ منی پور کے پنگل لوگوں نے سترہویں صدی کے شروع میں اسلام قول کیا تھا۔ ریاست کے غیر مقامیوں کا خیال ہے کہ پنگل لوگ گاڑی چور ہوتے ہیں۔ اس لیے محض شک کی بنا پر قاروق کا قتل کر دیا گیا۔ قاروق کی مار پٹائی اور قتل کا ایک ویڈیو بھی بنایا گیا تھا، جسے سماجی میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے کافی تقسیم کیا گیا تھا۔[135]

پورے بھارت میں شمال مشرقی ریاست منی پور کی قانون سازی ایک تاریخی، مثالی اور یاد گار حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا فوری محرک ریاست کے ایک مسلمان شخص کا قتل تھا، اگر چیکہ یہ قتل اس کی مذہبیبت کی بنا پر نہیں بلکہ اس پر عائد گاڑیوں کے سرقے کا الزام تھا، اس کی بعد میں اس کے اہل خانہ نے تردید کی۔ یہ واقعہ ریاست بھر میں رنچ اور عوامی تنقید کا حصہ بن گیا تھا۔ منی پور میں اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کا اقتدار تھا۔ اس کے باوجود حکومت فوری حرکت میں آ گئی اور قانون سازی کی کار روائی مکمل کرنے میں جٹ گئی۔ یہ ایک ایسا مستحسن اقدام تھا جو سپریم کی ہدایات کے عین مطابق اور ریاست میں تشدد کی نئی قسم کو قدم جمانے سے فوری روکنے کے لیے اشد ضروری تھا۔ اس وجہ سے یہ قانون اسمبلی میں بغیر کسی خاص مزاحمت کے منظور کر لیا گیا۔ یہ قانون اور اس کی دفعات دیگر ریاستوں کے لیے نظیر بن گئے جو ہجومی تشدد کے شکار بھی تھے اور نو خیز مجرمانہ فضا کی فوری بیخ کنی کے لیے کوشاں تھے۔ منی پور کی دیکھا دیکھی مدھیہ پردیش اور راجستھان کی حکومتوں نے بھی ہجومی تشدد کے انسداد کے لیے قوانین بنا دیے، جن کی تفصیلات ذیل کی قطعوں میں درج ہے۔ وہی بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی، جس نے منی پور میں ہجومی تشدد پر اولین قانون سازی کی تھی، وہ آگے چل کر دیگر ریاستوں کی قانون سازی پر شدید تنقید کی۔ اس نے بطور خاص راجستھان کی قانون سازی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایسی قانون سازی کو بی جے پی کے ہمنوا حلقوں نے راجستھان حکومت کا مخالف ہجومی تشدد قانون کو فطرت سے بے رحم، یک گونہ اور مبہم بتایا۔ یہ بھی تنقید کی کہ یہ بہت زیادہ اور یک طرفہ اختیارات پولیس اور سیاست دانوں کو دیتا ہے تاکہ شہریوں اور برادریوں کو نشانہ بنایا جائے، جو غیر ضروری اور عقل سلیم کے منافی ہے۔ اس کی فوری ترمیم یا دستبرداری ضروری قرار دیا گیا۔ وہیں دوسری طرف بی جے پی نے مغربی بنگال میں ممتا بنرجی حکومت کی جانب لائے گئے انسداد دہشت گردی قانون پر نہ تو تائید کی اور نہ تنقید کی، حالانکہ اس قانون سازی کو ریاست کی دیگر جماعتوں نے بھر تائید کر کے سراہا، جن میں بائیں محاذ اور کانگریس شامل تھے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے بی جے پی صدر امیت شاہ کی زیر قیادت بااختیار وزارتی گروپ تشکیل کیا گیا تھا جس کی ذمے داری ایسی تجاویز پیش کرنا تھی جن سے کہ ہجومی تشدد کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم باوثوق ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی مرکزی قانون سازی عمل میں نہیں آ رہی ہے۔ بی جے پی زیر اقتدار دیگر حکومتوں میں اترپردیش کے وزیر اعلٰی یوگی آدتیہ ناتھ ہجومی تشدد کے بارے میں یہ خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ اس مسئلے کو ضرورت سے زیادہ طول دیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ کسی اور بی جے پی زیر اقتدار بھارت کی ریاستی حکومتوں کی جانب سے ہجومی تشدد کی روک تھام کے لیے قانون سازی نہیں کی جائے گی۔

مدھیہ پردیش[ترمیم]

مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ کی زیر قیادت کانگریس حکومت نے ریاست میں ہجومی تشدد کو روکنے کے لیے منی پور کے شانہ بہ شانہ قانون سازی کی۔

16 جولائی 2019ء کو وسط ہند میں واقع ریاست مدھیہ پردیش کی اسمبلی نے مخالف گاؤ کشی ترمیمی قانون 2019ء منظور کیا جس میں گائے کے نام پر تشدد برپا کرنے والوں کو چھ ماہ سے لے کر تین سال تک کی سزا اور 25,000 سے 50,000 روپے تک جرمانے کا جواز رکھا گیا۔ قانون کا مقصد گائے کے تحفظ کے نام پر بڑھتا ہوا تشدد تھا۔

اسی قانون کے ساتھ ساتھ کمل ناتھ کی زیر قیادت موجودہ کانگریسی ریاستی کابینہ نے سابقہ بی جے پی وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی زیر قیادت مخالف گاؤ کشی قانون 2004ء قانون کی پاس کردہ ترمیم کو اپنی منظوری دے دی جس کی رو سے کسی کو بھی ریاست مدھیہ پردیش میں چوپایوں کی نقل و حمل کی اجازت نہیں ہو گی جب کہ متعلقہ ارباب مجاز کی اجازت چوپایوں کو منتقل کیا جا سکے گا۔ [136]

راجستھان[ترمیم]

راجستھان کے وزیر اعلٰی اشوک گہلوٹ نے ریاست میں اور خاص طور الور ضلع میں پیش آنے والے ہجومی تشدد کے واقعات کے پیش نظر قانون سازی کی پہل کی۔

اگست 2019ء میں راجستھان ہجومی تشدد سے تحفظ بل 2019ء کانگریس کی زیر قیادت اشوک گہلوت حکومت نے ریاستی اسمبلی میں منظور کروایا جس کی رو سے ہجوم کے حملے کی صورت میں اگر کسی مظلوم کو سنگین زخم رسد کیے جائیں، تو ایسی صورت میں 10 سال تک قید کا جواز رکھا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ 25,000 روپے سے 3 لاکھ روپے تک کا جرمانے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اگر کوئی مظلوم ہجومی تشدد کی وجہ سے معمولی طور پر زخمی ہو تو اس کے لیے تشدد کرنے والے کو 7 سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی گنجائش ہے۔ بل میں کسی ہجومی تشدد کی سازش کو تیار کرنے کی صورت میں یا اس طرح کے جرم کی مدد کرنے یا ایسا جرم کرنے کی صورت میں بل میں مجرمان کو اسی طرح سزا دینے کی گنجائش موجود ہے جیسے کہ اسی نے فی الواقع اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔[137]

اس بل میں یہ بھی گنجائش دی گئی ہے کہ ریاستی پولیس کے چیف کو کسی انسپیکٹر جنرل کے قد کے شخص کو ریاستی کو آرڈی نیٹر کے طور پر نامزد کر سکتا ہے جو ریاست میں ہجومی تشدد کے واقعات کی روک تھام کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی پولیس سپریٹنڈنٹ ضلعی کو آرڈی نیٹر کا کام کر سکتے ہیں اور ان کی مدد پولیس کے نائب سپریٹنڈنٹ کر سکتے ہیں، جس سے کہ ہجومی تشدد اور قتل کے واقعات کو روکا سکتا ہے۔[137]

اس کی بل کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں کئی دیگر جرائم کی فہرست بھی موجود ہے جو ہجومی تشدد سے متعلق ہیں، جیسے کہ اشتعال انگیز مواد کی تقسیم، نفرت انگیز ماحول کا فروغ اور قانونی طریقۂ کار کو روکنا، جن پر 3 سے 5 سال تک کی جیل کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بل میں معاوضوں کی گنجائش کی بھی صراحت موجود ہے جو متاثرین کے راجستھان متاثرین کے معاوضوں کی اسکیم کی تابع کی گئی ہے۔[137]

اترپردیش[ترمیم]

اتر پردیش کے وزیر اعلٰی یوگی آدتیہ ناتھ نے ہجومی تشدد پر خاص توجہ نہیں دی ہے۔ ان کے بیان کے مطانق ہجومی تشدد کے واقعات کو غیر ضروری طور پر اہمیت دی جا رہی ہے۔ [138]

اترپردیش ریاستی قانون کمیشن نے 128 صفحات پر مشتمل ایک مسودہ تیار کیا ہے جس کا عنوان اترپردیش ہجومی تشدد سے مقابلہ بل 2019ء رکھا گیا ہے۔ یہ ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو 10 جولائی 2019ء کو سونپا گیا تھا۔ مسودے میں ہجومی تشدد کے مجرمان کے لیے سخت سزاؤں کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ان سزاؤں میں حملہ آوروں کے لیے سات سال قید سے لے کر تاحیات قید اور اپنے فرائض میں غفلت برتنے والے پولیس افسران اور ضلعی مجسٹریٹوں کے لیے تین سال قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ یہ تجاویز محض سفارشات کی نوعیت رکھتی ہیں کیونکہ حکومت نے تاحال قانون سازی کے لیے کوئی پہل نہیں کی ہے۔[139]

اتر پردیش کی سابق وزیر اعلٰی ہجومی تشدد کو ایک اہم مسئلہ مانتی ہیں اور سلسلے میں ریاستی قانونی کمیشن کی سفارشات کے مطابق قانون سازی فوری اور ناگزیر سمجھتی ہیں۔

قانون سازی میں تاخیر پر اترپردیش کی سرکردہ حزب اختلاف کی قائد اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے بی جے پی پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت ہجومی تشدد کے موضوع سے بے نیاز ہو چکی ہے اور وہ کمزور عزم والی حکومت ثابت ہو رہی ہے۔ ان حالات میں اترپردیش ریاستی قانون کمیشن کی پہل قابل ستائش ہے۔[140]

دیگر ریاستوں اور ملک بھر میں قانون سازی کا مطالبہ[ترمیم]

ملک کی کئی ریاستوں میں ہجومی تشدد کو لے کر قانون سازی کے کئی مطالبات کیے جا چکے ہیں۔ 12 جولائی 2019ء کو بہار اسمبلی میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے جن میں راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ-لیننسٹ) کے ارکان شامل تھے، اجلاس کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بہار اور پورے ملک میں پھیلے ہجومی تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ مبینہ طور پر اسمبلی کے اندر کے احاطے میں نعرے بازی بھی کی گئی۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر ریاست اور ملک میں ہجومی تشدد کے خلاف قانون ہونا چاہیے۔[141] اسی طرح سے یکم جولائی 2019ء کو کچھ ارکان حزب اختلاف نے مہاراشٹر اسمبلی میں کیا تھا۔[142]

مغربی بنگال[ترمیم]

مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی نے اپنی ریاست میں سپریم کورٹ کی سفارشات کے مطابق ہجومی تشدد کے خلاف قانون سازی کی۔ ان کے تجویز کردہ قانون کو حزب اختلاف کے کانگریسی اور بائیں محاذ کے ارکان کی تائید حاصل ہوئی جبکہ ریاست کی بی جے پی نے مجوزہ قانون کے امکانی غلط استعمال کے حدشے کے تحت تائید یا مخالفت سے گریز کیا۔

30 اگست 2019ء کو مغربی بنگال ریاستی اسمبلی میں ہجومی تشدد کی روک تھام کے لیے بل پیش کیا گیا۔ اس بل کو مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی کی زیر قیادت ترنمول کانگریس نے پیش کیا۔ بل کی تائید کانگریس اور بائیں محاذ کی جماعتوں نے کی۔ تاہم بی جے پی نے خدشے کے تحت کہ اس بل کا سیاسی اغراض کے لیے استحصال ہوگا، تائید یا مخالفت سے احتراز کیا۔ ممتا بنرجی نے صاف کیا کہ یہ بل سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے اور تاسف ظاہر کیا کہ ہجومی تشدد جیسے سنگین معاملے پر مرکزی حکومت نے کوئی قانون سازی نہیں کی۔ اس بل کے تحت زیادہ سے زیادہ سزائے حبس دوام اور ایک لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ تک کے جرمانے عائد ہو سکتے ہیں۔ بل میں ہجومی قتل کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ یہ ایک ہجوم کا تشدد ہے جو "مذہب، نسل، ذات پات، مقام پیدائش، زبان، کھانے پینے کی عادتوں، سیاسی وابستگی، نسلی گروہی وابستگی یا کسی اور بنیاد پر ہو"۔ قانون کے سفارش کی گئی ہے کہ نوڈل آفیسروں کا تعین کیا جائے جو مقامی جاسوسی اداروں کی معلومات کا وقت وقت پر جائزہ لیتے رہیں۔ یہ نوڈل آفیسر کسی انسپکٹر کے عہدے سے کم کا درجہ نہ رکھتا ہو۔ قانون میں عینی گواہوں کے تحفظ اور گواہوں کو کسی بھی دھمکی، زور آوری یا لالچ کو کی اطلاع عدالت کو 24 گھنٹوں کے اندر دے دی جانی چاہیے۔[143]

قانون کے تحت جو لوگ ملزم کی مدد کرتے ہوئے یا اس کے ساتھ مداخت کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں وہ تین سال تک کی سزا اور ایک لاکھ تک کے جرمانے کی سزا پا سکتے ہیں۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ "کسی اشتعال انگیز مواد کی طباعت، اشاعت یا فروغ کسی بھی طریقے سے – دست بدست یا برقی " ایک سال تک کی سزا یا 50,000 روپیے تک کے جرمانے کو دعوت دے سکتی ہے۔ جو لوگ "کسی شخص یا چند اشخاص کے لیے معاندانہ ماجول" تیار کرتے ہیں، وہ لوگ تین سال تک کی سزا اور ایک لاکھ روپیے جرمانہ پا سکتے ہیں۔[143]


بی جے پی کی جانب سے ہجومی تشدد کے خلاف قانون سازی کی مخالفت[ترمیم]

بی جے پی کی راجستھانی شاخ نے ہجومی تشدد کے خلاف قانون سازی کی مخالفت کی تھی۔ پارٹی نے اسے سیلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو اس بل کے حسن و قبح کا تجزیہ کرے گی۔ اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ قانون کوئی ایک مخصوص برادری کو فائدہ پہنچانے کے لیے لایا گیا ہے۔[144]

بی جے پی کی فکری سوچ کی حامل سمجھے جانے والی تنظیم آر ایس ایس[145] سے جڑی ایک ویب سائٹ سوراجیہ میگ[146] نے اس قانون پر یوں تبصرہ کیا:

راجستھان حکومت کا مخالف ہجومی تشدد قانون فطرت سے بے رحم، یک گونہ اور مبہم ہے۔ یہ بہت زیادہ اور یک طرفہ اختیارات پولیس اور سیاست دانوں کو دیتا ہے تاکہ شہریوں اور برادریوں کو نشانہ بنایا جائے، جو غیر ضروری اور عقل سلیم کے منافی ہے۔ اس کی فوری ترمیم یا دستبرداری ضروری ہے۔[147]

بھارت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور راجستھان میں حزب اختلاف کی اصل جماعت بی بے پی کی جانب سے ہجومی تشدد کے خلاف قانون سازی کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارت کے نامور انگریزی زبان کے اخبار دکن ہیرالڈ نے 11 اگست 2019ء کو یہ تبصرہ کیا:

یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ بی جے پی، جو راجستھان میں اصل حزب اختلاف کی پارٹی ہے، اس بل کی مخالفت کی، اور وہ بھی کمزور اور ناقابل فہم بنیادوں پر۔ یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ یہ گنجائش کہ 'دو لوگوں کو ہجوم سمجھا جا سکتا ہے' سے دیگر جرائم کو ہجومی تشدد کے طور پر زمرہ بند کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سچ نہیں ہے کیونکہ اس جرم میں دیگر خصوصیات کا ہونا ضروری ہے جن کی تعریف قانون میں کی گئی ہے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بل کا مقصد ایک برادری کو خوش کرنا ہے۔ مگر یہ بھی ایک غلط دلیل ہے۔ ریاست کو سبھی متاثرین کی حفاظت اور ان کے ساتھ انصاف کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ ایک برادری سے ہوں یا دوسری سے۔ قانون کی مخالفت صرف اس پارٹی کے ہجومی تشدد پر غیر منصفانہ رویے اور اس کی حکومتوں کا ایسے معاملوں میں خراب ریکارڈ کو ظاہر کرتا ہے۔[148]

مذکورہ اخبار ایک اشاعتی گھر کا حصہ ہے۔ یہ کاروباری ادارہ نہ صرف دکن ہیرالڈ کی ملکیت رکھتا ہے، بلکہ پرجا وانی، سُدھا اور میورا کا بھی مالک ہے جن کے قارئین کی مجموعی تعداد 2.8 ملین ہے، جیسا کہ بھارتی قومی قارئین کے سروے 2017ء سے پتہ چلتا ہے۔ [149]

2018ء میں دیے گئے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں انسدادِ ہجومی تشدد کے اقدامات[ترمیم]

2019ء میں دیے گئے احکامات سے قبل 2018ء میں بھی سپریم کورٹ نے ریاستوں کو ہجومی تشدد روکنے کے لیے ضروری اقدام کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ احکامات اگرچہ زیادہ تر ریاستوں میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے، تاہم مغربی بنگال میں پولیس انتظامیہ کے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل نے مراسلہ نمبر 678 مورخہ 18 ستمبر 2018ء میں چند ہدایات جاری کی تھیں جن کی رو سے تمام ضلعی پولیس سپریٹنڈنٹوں اور کمشنریٹ کے کمشنروں کو ہجومی تشدد اور قتل روکنے کے اقدامات کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس سلسلے میں پولیس سپریٹنڈنٹ کو ضلع کا نوڈل آفیسر بھی مقرر کر دیا گیا تھا۔[150]

مہوا موئترا کا فسطائیت کی علامات پر بھارتی پارلیمان میں تقریر اور اس سے جڑا تنازع[ترمیم]

ترنمول کانگریس سے تعلق رکھنے والی بھارتی پارلیمان کی رکن مہوا موئترا
ریاستہائے متحدہ میں مرگ انبوہ یادگار عجائب گھر میں ابتدائی فسطائیت کی علامت سے جڑے ایک پوسٹر کا عکس۔ یہ پوسٹر پر شائع علامات بھارت کی نو منتخب رکن پارلیمان مہوا موئترا کے اولین خطاب کا موضوع رہا جس نے ایک ایک کر کے اپنی تقریر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کیسے نریندر مودی حکومت دھیرے دھیرے فسطائیت کی جانب گامزن ہو رہی ہے۔

25 جون 2019ء کو بھارتی پارلیمان کی سترہویں لوک سبھا کے لیے نو منتخب رکن پارلیمان مہوا موئترا نے حکومت کی جانب سے صدارتی خظاب پر پیش کردہ تحریک تشکر کی مخالفت سے ایک ایسا خطاب کیا جو اس ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے حساب سے کسی بھی بر سر اقتدار جماعت کے لیے سب سے زیادہ تنقیدی جائزے اور عملًا عام جمہوری اور انسانی اقدار سے باہر بتانے والا تھا۔ اس خطبے ریاستہائے متحدہ میں مرگ انبوہ یادگار عجائب گھر میں ابتدائی فسطائیت کی علامت سے جڑے ایک پوسٹر کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ملک جمہوری اقدار کی پاسبانی کے دائروں سے کٹ کر فسطائیت کی جانب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مہوا کی تقریر میں ابھرتی فسطائیت کے سات نکات پر بحث کی گئی تھی، جن میں سے ہر نکتے پر تفصیلی بیان راست اور بالواسطہ طور بیانات تقریر میں اور انٹرنیٹ کی ویب سائٹوں پر موجود ہے۔ تاہم بطور خلاصہ چند باتیں اس طرح ہیں:

  • قومی تانے بانے پر چھانے والی قوم پرستی: اس ضمن میں حد سے زیادہ قوم پرستی اور حب الوطنی کو نشانہ بنایا گیا۔ مہوا نے بطور خاص آسام میں شہریوں کی قومی رجسٹر (این آر سی) کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں وزراء اپنی تعلیمی اسناد نہیں دکھا سکتے ہیں، شہریوں سے جو ملک میں 50-50 سال سے رہ رہے ہیں، اپنی شہریت کو ثابت کرنے کو کہا جا رہا ہے۔
  • حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی عدم پاسداری: مہوا نے جو کچھ اس تعلق سے کہا ہے، وہ بطور خاص بھارت میں ہجومی تشدد کے ابھرتے اور روز بروز بڑھتے واقعات کا تذکرہ کیا۔ مہوا نے یاد دلایا کہ 2014ء سے لے کر 2019ء کے بیچ نفرت پر مبنی جرائم میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں ایسی طاقتیں ہیں جو واقعات کے اعداد و شمار کو مسلسل آگے کر رہی ہیں۔ فسوس کا مقام تو یہ ہے کہ شہریوں کا ہجومی قتل دن کی تیز چاروں طرف پھیلی ہوئی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے راجستھان کے الور میں پہلو خان کی 2017ء میں ہجومی تشدد میں ہوئی موت کا سلسلہ جھارکھنڈ میں ان کی تقریر سے کچھ عرصہ پہلے ہوئی تبریز انصاری کی موت سے جوڑا اور کہا کہ یہ فہرست ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
  • ذرائع ابلاغ پر گرفت: مہوا نے تاسف کا اظہار کیا کہ وزارت اطلاعات و نشریات "120 سے زائد لوگوں کو کام پر رکھتا ہے" صرف اس لیے کہ مخالف حکومت بیان بازی کی نگرانی کرے اور اس پر گرفت لگا سکے۔
  • قومی صیانت کا جنون: مہوا نے قومی حفاظت کے بارے حکومت کی باتوں کو اسی طرح کھوکھلی بتایا جتنی کہ بچوں کو ڈرانے کے لیے ماں باپ کالا بھوت کے فرضی وجود کو تخلیق کرتے ہیں۔ متصلًا انہوں نے تاسف ظاہر کیا کہ کسشمیر میں ملک کے جوانوں کی اموات میں 106 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
  • حکومت اور مذہب کا خلط ملط ہونا: مہوا نے بر سر اقتدار حکومت کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کی کوششوں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایودھیا میں 2.77 ایکڑ زمین میں دلچسپی دکھا رہی ہے جبکہ اس 80 کروڑ ایکڑ سے لاتعلق ہو چکی ہے، جس سے کہ بھارت بنتا ہے۔
  • دانشوروں اور فنون سے منفی رویہ: مہوا نے تاسف کا اظہار کیا کہ تنقید یا ناراضی تو دور کی بات ہے، موجودہ حکومت سوالات کے پوچھے جانے ہی کو پسند نہیں کرتی۔
  • آزادانہ انتخابی نظام کی معدومی: مہوا نے آخر میں تاسف کا اظہار کیا کہ بھارت کا انتخابی کمیشن کئی انتخابی معاملوں میں عیب پوشیوں سے کام لیتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے انتخابات میں 60,000 روپیے خرچ ہوئے ، جس میں سے تقریبًا 50% یا 27,000 کروڑ صرف ایک سیاسی جماعت کی جانب سے خرچ ہوا ہے۔[151]

مہوا موئترا اس تقریر کے علاوہ بھی حکومت کے اقدامات اور عوامی مفادات کی علمبردار رہ چکی ہیں۔ وہ نجی معلومات کے تحفظ کے لیے خاصی فعال رہ چکی ہیں اور انہوں نے اس کے لیے بھارت کے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے حکومت کو اور آدھار کارڈ کے منتظم ادارے یو آئی ڈی اے آئی کو ای میل اور سماجی ذرائع ابلاغ کی باضابطہ نگرانی کے منصوبے سے دست کش ہونا پڑا تھا۔ [152]

زی نیوز سے وابستہ اینکر سدھیر چودھری نے مہوا موئترا کی پہلی تقریر کو ادبی سرقے کے طور پر اپنے خصوصی پروگرام پیش کیا تھا، جس کی وجہ سے کافی تنازع کی کیفیت ہوئی۔ بعد میں انہوں نے معافی بھی چاہی تھی۔ تاہم اس سے مہوا غیر مطمئن ہوئیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سدھیر کے خلاف خصوصی تحریک پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں اسپیکر کی اجازت نہیں ملی۔ بعد میں انہوں نے سدھیر کے خلاف ہتک عزت کا ایک مقدمہ دائر کیا۔

زی نیوز کے ایڈیٹر ان چیف سدھیر چودھری نے ایک خصوصی پروگرام میں مہوا پر الزام عائد کیا کہ مہوا نے فسطائیت کی اپنی تقریر کو امریکی کالم نگار مارٹن لانگ مین کی ایسی ہی تقریر سے چرایا ہے۔ اس کی تردید خود مارٹن لانگ مین نے اپنے ٹویٹر کھاتے پر کر دی اور ایک گالی دیتے ہوئے دنیا بھر کے دائیں محاذ والوں کو ایک جیسا قرار دیا۔ مہوا نے سدھیر چودھری کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ [153]

امیت شاہ کی زیر قیادت بھارت کی مرکزی حکومت کا بااختیار وزارتی گروپ[ترمیم]

امیت شاہ بی جے پی صدر اور بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ ہیں۔

گلف نیوز نے 30 جولائی 2019ء کو دی ہندو اخبار کے حوالے سے یہ خبر دی کہ گزشتہ سال امیت شاہ کی زیر قیادت بااختیار وزارتی گروپ تشکیل کیا گیا تھا جس کی ذمے داری ایسی تجاویز پیش کرنا تھی جن سے کہ ہجومی تشدد کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ گروپ رواں سال بھی اپنا کام جاری رکھے گا۔ تاہم انٹرنیٹ پر شائع اسی مضمون میں گلف نیوز نے کئی بھارتی ٹویٹر صارفین کے پیغامات کے اسکرین شاٹ شائع کیے جن سے حکومت کے اس اقدام کی اثر انگیزی اور موزونیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔[154]

26 اگست 2019ء کو شائع بھارت کے قومی سطح کے اخبار دی ہندو کے مطابق حالانکہ امیت شاہ کی زیر قیادت بھارت کی مرکزی حکومت کا بااختیار وزارتی گروپ کا اجلاس ابھی نہیں ہوا ہے، جس میں ہجومی تشدد سے لڑنے کے لیے اقدامات کی تجاویز کا سجھاؤ دینا ہے، تاہم ایک سرکردہ افسر نے اشارہ کیا ہے کہ ایسے جرائم کے لیے نئی قانون سازی غیر متوقع ہے۔ اسی افسر نے کہا ہے کہ موجودہ قوانین ہجومی تشدد جیسے جرائم سے لڑنے کے لیے کافی ہیں، صرف ان پر "عمل آوری" درکار ہے۔ اس نےٌ اس سلسلے میں تعزیراتی کار روائی کی تکمیل کے لیے پولیس کی تربیت پر بھی زور دیا۔[155]

ہجومی تشدد کا وہ واقعہ جو عالمی توجہ اور احتجاج کی وجہ بنا[ترمیم]

حالانکہ وقتًا فوقتًا بھارت میں ہجومی تشدد سے جڑے واقعات پیش آتے رہے، تاہم عالمی برادری میں کو جس ہجومی تشدد اور قتل کا واقعہ خبروں کا موضوع بنا، وہ 2019ء میں رو نما ہونے والا جواں سال تبریز انصاری کا قتل تھا۔ انصاری کامدیہ گاؤ سے تعلق رکھتا جو جمشیدپور ضلع، جھارکھنڈ کے آدتیہ پور بلاک میں واقع ہے۔ اس کے پڑوسی گاؤں دھاتکادیہ میں جس کی 2011ء کی مردم شماری کے مطابق 135 گھر اور 626 افراد تھے، کے لوگ اسے 17 اور 18 جون کی درمیانی شب دبوچ لیتے ہیں۔ یہ گاؤں والے اسے ایک بجلی کے کھمبے سے باندھ دیتے ہیں اور کافی بے رحمی سے پیٹ دیتے ہیں۔ جے شری رام اور جے ہنومان کے جاپ کے ساتھ اس سے زبر دستی یہ اقرار کروایا جاتا ہے کہ اس نے ایک گاڑی کی چوری کی ہے۔ اس سب کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جاتی ہے۔ زد و کوب 18 گھنٹوں تک جاری رہتی ہے اور مار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ تبریز کا انتقال ہو جاتا ہے۔ جس گاڑی کی چوری کا شاخسانہ اس قضیے کا موجب بنتا ہے وہ بے نمبر ہوتی ہے۔ یہ غیر واضح ہوتا ہے کہ وہ گاؤں کے کس باشندے کی ہے، جس کا واضح ہونا ہی تبریز کو چور قرار دے سکتا ہے۔ تاہم پھر بھی بھیڑ سنگین حد تبریز کو زخمی کرتی ہے۔ اسے پولیس حراست میں لیا جاتا ہے، مگر چار دن تک کوئی طبی امداد نہیں دی جاتی ہے۔ اس طبی امداد کی تاخیر مہلک ثابت ہوتی ہے اور تبریز انتقال کر جاتا ہے۔ یہ نو تشکیل شدہ ریاست میں اپنی نوعیت کا 18 واں واقعہ تھا۔[156]

تبریز انصاری کی عمر اس کی موت کے وقت 24 سال تھی۔ وہ کم عمری میں ہی اپنی ماں کے سائے سے محروم ہو گیا تھا۔ وہ اور اس کی بہن کی دیکھ ریکھ ان کا باپ مقصور انصاری کر رہا تھا۔ بعد میں مقصور نے ایک دوسری شادی ایک ایسی ہندو عورت سے کی تھی جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ 2005ء میں جب تبریز محض 10 سال کا تھا، اس کا باپ ایک جنگل میں اپنے چار ہندو دوست احباب کے ساتھ گیا۔ تاہم دو دن کے بعد مقصور کی لاش دستیاب ہوئی۔ پولیس میں ایک شکایت مقصور کے ساتھیوں کے خلاف درج کی گئی، مگر اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ سب بھی چھ مہینے بعد مردہ پائے گئے۔ عدم پیش رفت کے باعث اس معاملے کو پولیس نے ختم کر دیا۔ 10 سال کی عمر سے تبریز اپنے اور اپنی بہن کا خیال رکھ رہا تھا۔ وہ پونے میں جاکر ویلڈنگ کا کام کر رہا تھا۔ اس کے قتل سے قریب ڈیڑھ ماہ پہلے اس کی شادی شائستہ پروین سے ہوئی۔ وہ اپنی اہلیہ کو لے کر پونے جانا چاہ رہا تھا، جس کے لیے 24 جون کا ریل ٹکٹ بھی بک کر چکا تھا۔ مگر اس سانحے کے بعد اس پورے منصوبے کو پورا نہیں کیا جا سکا۔ مقصور اور تبریز کی موتیں دو متواتر دہوں میں واقع ہوئی ہیں، جس سے گاؤں کے اس انصاری خاندان میں انسانی سانحے کے علاوہ معاشی تکالیف کا بھی دور شروع ہو گیا اور تبریز کی نوبیاہتا بیوہ بن گئی۔[157]

شائستہ پروین کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے وفد نے 50,000 روپیے بطور امداد حوالے کیے۔ ایک مقامی فعالیت پسند عمرو رضا خان خاندان کو 30,000 روپیوں کا تعاون کیا۔[158] دہلی وقف بورڈ کے صدرنشین اور عام آدمی پارٹی کے قانون ساز امانت اللہ نے شائستہ کو 5 لاکھ روپیے کی امداد کی اور ملازمت کی پیش کش کی۔ سی پی آئی ایم نے مثاثرہ کے لیے 25 لاکھ روپیے کی امداد اور خاطیوں کے خلاف سخت کار روائی کا مطالبہ کیا تھا۔ [159] تاہم اس معاملے جھارکھنڈ کی حکومت نے دو لاکھ روپیے ہی کا معاوضہ جاری کیا۔[160] یہ معاضہ بہت ہی حادثاتی اور غیر فطری موتوں کے وقت اعلان کردہ معاوضوں سے کافی کم ہے۔ مثلًا 2016ء میں پڑوسی ریاست بہار کے وزیر اعلٰی نیتیش کمار نے زہریلی شراب کی وجہ سے ہونے والی اموات کے لیے اس سے دگنا، یعنی چار لاکھ روپیے کے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔ [161]

9 ستمبر 2019ء میں اخبارات میں چھپی اطلاعات کے مطابق جھارکھنڈ پولیس نے نے اپنے فرد جرم (چارج شیٹ) سے 11 ملزموں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت قتل کی بات ہٹا دی۔ اس کے پس پردہ آخری دستیاب پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مذکور موت کی بیان کردہ وجہ قرار دی گئی جس جو "قلبی دھڑکن کا رکنا" (“cardiac arrest”) ہے۔ پولیس کی گزشتہ ماہ کا فرد جرم، جو اب منظر عام پر آیا ہے، فرد جرم کو دفعہ 304 کے تحت اندراج کی بات کرتا ہے (قابل سزا انسانوں کی موت جو قتل کے زمرے میں نہیں آتی)۔ اس سے قبل پولیس نے اپنی ایف آئی آر میں قتل کے الزامات عائد کیے تھے جو انصاری کی بیوہ شائستہ کے زبانی بیان پر مبنی تھا۔ اپنے موقف کی تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے سرائے کیلا کار ساوان کے پولیس سُپر اِنٹنڈنٹ نے وجوہ بیان کیے تھے: ایک، انصاری فوری انتقال نہیں کر گیا اور گاؤں والے اس کو مار ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے یہ کہ پوسٹ مارٹم میں قلبی دھڑکن کے رکنے کو موت کی وجہ بتانا اور یہ انکشاف کہ سر سے خون کا بہنا اس معاملے میں جان لیوا نہ ہونا۔ پولیس سُپر اِنٹنڈنٹ نے حالانکہ اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ایک دوسری طبی رائے یہ بھی ہے کہ موت کی وجہ قلبی دھڑکن کے رکنے اور سر سے خون بہنے، دونوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔[162] کئی مبصرین اور صحافت کے ایک گوشے نے پولیس کے اس فیصلے پر تعجب کا اظہار کیا۔ دی لوجیکل انڈین ویب سائٹ نے واضح تبصرہ کیا کہ باوجود اس کے بصری شواہد اور سیکڑوں افراد کا عینی مشاہدہ موجود تھا کہ تبریز کو گھنٹوں مارا پیٹا گیا تھا، تعزیرات ہند کی دفعہ 302 سے معاملہ ہٹا دیا گیا جس میں قتل کی کوشش لکھی ہوتی ہے۔ ویب سائٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ معاملے میں 11 ملزمان اب آزادانہ گھوم پھِر سکتے ہیں۔[163] اس سلسلے میں پولیس کی کار روائی تبریز انصاری کی بیوہ شائستہ نے کہا کہ "میرے شوہر کو ایک ہجوم نے قتل کیا تھا۔ اس سے پہلے یہ پورا معاملہ دفعہ 302 (قتل کی کوشش) کے تحت درج تھا مگر بعد میں یہ دفعہ 304 (قابل سزا اسانی جان کا نقصان) کے تحت انتظامیہ کے اثر کی وجہ سے درج کیا گیا۔" شائستہ کے ایک رشتے دار محمد محبوب نے اس پر پوری کار روائی کو مجرموں کی پردہ پوشی کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ اہل خانہ اس پورے معاملے کی سی بی آئی کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔[164]

سماجی میڈیا پر اس موت کی گفتگو اور اس سے جڑی بحثیں

سماجی میڈیا، بالخصوص فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، ٹک ٹاک وغیرہ پر تبریز انصاری کا معاملہ کافی چھایا رہا ہے۔ کئی صارفین نے اس واقعے پر اپنے گہرے تاسف کا اظہار کیا اور ملک میں بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے بر عکس کچھ حلقوں سے منفی تبصرے بھی گشت کر رہے تھے، جو تبریز کے سماجی پس منظر اور اس الزام پر مبنی تھے کہ تبریز نے دو پہیا گاڑیوں کی چوری کی تھی یا وہ ایسی کوشش میں تھا، حالانکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی خبر نے یہ اس بات پر روشنی ڈالی جس بنا نمبر پلیٹ کی گاڑی کے بارے میں تبریز پر چوری کرنے کا الزام ڈالا گیا تھا، وہ فی الواقع تھی کس کی۔

ٹک ٹاک پر چھانے والے اسٹار مسٹر فیصو 07 کا کھاتہ معلق

ٹک ٹاک پر چھانے والے اسٹار مسٹر فیصو 07 (Mr Faisu 07) کا کھاتہ معلق ہو گیا۔ وہ 24.1 ملین پیرو کاروں کے ساتھ ایک مشہور ٹک ٹاکر ہیں۔ یہ اکاؤنٹ اگست 2019ء میں معلق ہوا۔ اس سے قبل جو جولائی کے مہینے میں سرخیوں میں چھا گئے تھے جب انہوں نے ایک ویڈیو میں تبریز انصاری پر گفتگو کی جو جھارکھنڈ میں ہجومی قتل کی وجہ سے مارے گئے تھے۔ ان کے یہ الفاظ تھے کہ "اگر ان کا خاندان ان لوگوں کا قتل کر دے تو مسلمانوں کو دہشت گرد مت کہنا"۔ اس ویڈیو کو بعد میں حذف بھی کر دیا گیا تھا، مگر تب تک یہ کافی ویرل ہو چکا تھا۔ اس جملے کی نفرت انگیزی کے موضوع ممبئی پولیس کے سینئر انسپکٹر کو شیو سینا کی جانب سے ایک شکایتی خط لکھا گیا کہ یہ ویڈیو تفریق پیدا کرنے والی، اشتعال انگیز اور تشدد پر اکسانے والی ہے۔ شکایت میں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام دونوں کا حوالہ دیا گیا تھا اور فیصل شیخ، حسنین خان، فیض بلوچ، عدنان شیخ اور شادان فاروقی کے خلاف شکایت کی گئی اور ان کے پیرو کاروں کی تعداد بھی فراہم کی گئی تھی۔ جہاں فیصل شیخ اس ٹیم میں 24.1 ملین پیروکاروں سے سب سے آگے بتائے گئے، وہیں شادان شیخ 7.1 ملین پیروکاروں سے اس فہرست میں اخری نمبر پر تھے۔ پولیس سے کی گئی شکایت میں زور دیا گیا کہ یہ ٹک ٹاکر کس طرح ایک نسل کو، غالبًا تبریز انصاری کی آنے والی نسل کو انتقام پر زور دیا جا رہا ہے۔ شکایت کے مد نظر ممبئی پولیس حرکت میں آئی ان ٹک ٹاکروں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔[165]

تبریز کے قاتل کی موت کا جھوٹا ویڈیو واٹس ایپ پر وائرل

سماجی میڈیا واٹس ایپ اور کچھ دیگر چینلوں پر ایک ویڈیو یا کچھ تصاویر وائرل کی گئی ہیں جن میں یہ دعوٰی کیا گیا کہ تبریز انصاری کا ایک کلیدی قاتل پپو منڈل بھی پولیس کے ہاتھوں مار دیا گیا۔ اس موت کو کتے کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سیاہ فام پپو منڈل کی عام تصویر اور مبینہ طور پر زخمی یا گولی مار دیے جانے کے بعد کی تصویر ایک ساتھ ایک ہی فریم میں دکھائے گئے ہیں۔ تاہم قریب سے تجزیے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ زخمی شخص پپو منڈل سے نسبتًا کم سیاہ فام ہے اور صورت میں بھی بہت کم مماثلت ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا جس شخص کے مار دیے جانے کا دعوٰی کیا گیا وہ در حقیقت پپو منڈل تھا ہی نہیں۔ وہ تو درحقیقت پِنکُو کالا تھا، جو جبلپور کا ایک گروہی سرغنہ تھا جسے پولیس کے دعوے کے مطابق چار افراد نے مخاصمت کی بنا پر قتل کر دیا۔ 3 جولائی 2019ء کی پولیس اطلاع کے مطابق پپو منڈل پولیس کی حراست میں ہے اور پولیس اس کے مبینہ طور پر تبریز انصاری کے قتل میں کردار پر تحقیقات اور مناسب کار روائی کر رہی ہے۔[166]

وزیر اعظم کا ہجومی تشدد پر بیان اور اس پر تنقید[ترمیم]

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی

26 جولائی 2019ء کو راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے تبریز انصاری کی موت کی تو مذمت کی مگر بحث کا رخ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے تبصرہ کی تنقید پر مرکوز کیا جس میں جھارکھنڈ کو ہجومی قتل کی فیکٹری قرار دیا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی کو بھی ایک ریاست کی توہین کرنے کا حق نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے ملک کی ہر ریاست میں ہجومی تشدد روکنے کی وکالت کی۔ [167] وزیر اعظم کے بیان پر سماج اور صحافت کے گوشوں سے متعلق کئی لوگوں نے سنجیدہ قرار نہیں دیا۔ ہفتہ وار مین اسٹریم ویکلی ، جلد LVII شمارہ 28، نئی دہلی، 29 جون کے مطابق حالانکہ وزیر اعظم مودی نے بطور خاص کہا ہے کہ 'جھارکھنڈ کا ہجومی قتل ہم سب کے لیے درد ناک ہے، جس میں میں بھی شامل ہوں۔ خاطیوں کو سخت ترین سزا ملنا چاہیے۔' تاہم اس طرح کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں اگر اس کے ساتھ کار روائی نہ کی جائے۔ جہاں تک مودی کا تعلق ہے، اسی طرح کے واقعات پر ان کے بیانات پر کوئی وزن سامنے نہیں آیا کیونکہ یہ زبانی جمع خرچ سے کچھ زیادہ نہیں تھے۔[168]

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد، دکن کی بھارتی پارلیمان میں ترجمان اسد الدین اویسی

حیدرآباد کی لوک سبھا میں نمائندگی کرنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی[169] نے کہا 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے قبل ہی اپنے انتخابی جلسوں میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ نتیجوں کے اعلان کے بعد گائے کے تحفظ کے نام پر ہجومی قتل جاری رہیں گے کیونکہ اس سے جڑی تنظیمیں یہ محسوس کریں گی کہ وہ جیت چکی ہیں اور انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔[170] بھارتی پارلیمان میں ہجومی تشدد پر 2019ء میں بطور خاص جھارکھنڈ واقعے کی روشنی میں انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم دستور ہند کے آگے سجدہ ریز ہو چکے ہیں تو میں انہیں یاد دلانا چاہوں گاکہ دستور کی رو سے زندگی کا حق انسانوں کو حاصل ہے، جانوروں کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم یہ بنیادی بات سمجھ جائیں تو خوف دور ہوگا۔[171]

دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران دیکھے جا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم اس بیان کے بعد 30 جون 2019ء کو دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ مودی حکومت اپنے انتخابی وعدے سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی تکمیل میں ناکام رہی ہے۔ ایضًا انہوں نے راجستھان حکومت پر گایوں کی غیر قانونی منتقلی کے الزام میں مقتول پہلو خان اور اس کے اہل خانہ پر فردِ جرم عائد کرنے پر بھی سخت مذمت کی۔ ان کے مطابق لوگ قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔[172]

ہندی زبان میں وِکاس ترقی کا ہم معنی ہے۔[173]

وزیر اعظم نریندر مودی نے 11 ستمبر 2019ء کو متھرا میں اپنے ایک خطاب میں گائے کے عدم احترام کا الزام لگاتے ہوئے مخالف پارٹیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 'اوم' شبد سنتے ہی کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کے کان میں 'گائے' شبد سنائی دیتا ہے تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو در پردہ گئو رکشکوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے تشدد کے متاثرین سے ہمدردی کی حوصلہ شکنی کے تناظر میں دیکھا گیا۔ مجلس کے قائد سلطان صلاح الدین اویسی نے کہا کہ گائے ہندو بھایئوں کے لیے مقدس ہے لیکن دستور میں زندگی اور یکسانی کا حق انسانوں کو دیا گیا ہے، مجھے امید ہے کہ پی وزیر اعظم یہ سمجھیں گے۔ اس طرح سے اویسی وزیر اعظم سے انسانی جانوں اور سبھی مذاہب کے معتقدین کے احترام پر زور دیے۔ یہاں یہ غور طلب ہے کہ پورے بھارت 2014ء میں بھاجپا کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اگر چیکہ تشدد میں گائے کے احترام اور ان کی متتقلی ایک بڑی وجہ رہی ہے[174]، مگر کچھ جگہوں پر جے شری رام کہنے پر بھی زور دیتے ہوئے زد و کوب کے واقعات بھی رو نما ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا ہے۔ وزیر اعظم کا اوم کے لفظ کے احترام کی بات کہنا عملًا نئے فسادات کے دعوت دینے کے مترادف سمجھا گیا۔ یہ ایک ایسے وقت بھی جاری کردہ بیان ہے جب ایسی خیریں آ رہی ہیں کہ مولویوں کو پولیس کے داروغہ تک کے عہدے پر فائز لوگ بلا وجہ پیٹ پیٹ کر مار رہے ہیں۔[175]

ہجومی تشدد پر مبنی فلموں کی تیاری اور مطبوعات کی اشاعت[ترمیم]

ڈاکیومنٹری فلمیں[ترمیم]

پورے بھارت میں جاری ہجومی تشدد پر کچھ اشخاص نے ڈاکیومنٹری فلمیں بنائی ہیں جن کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں:

  • لِنچستان کی تخلیق: بھارت کے جان لیوا 'گئو رکشک' نیٹ ورک کا پس منظر | دی کوینٹ کی ڈاکیومنٹری (انگریزی: The Making of Lynchistan: Inside India's Deadly 'Gau Raksha' Network – Documentary by The Quint) : دی کوینٹ ہندی اور انگریزی زبانوں میں موجود خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیے کی ویب سائٹ ہے۔ اس کا آغاز جنوری 2015ء میں ہوا فیس بک پر ہوا تھا۔ یہ اسی سال مارچ کے مہینے میں اپنی ایک الگ ویب سائٹ کے طور پر نئی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئی۔[176] 2016ء تک اس کے پاس ادارتی عملے کی تعداد 95 ہوئی اور اس کے مواد کا آدھا حصہ اس کا اپنا اور آدھا سماجی میڈیا اور صحافتی اعلامیوں پر مشتمل تھا۔[177] اپنی انفرادیت بنانے کے لیے دی کوینٹ کئی وائرل اور توجہ طلب ویڈیو اور ڈاکیومنٹری بنا چکی ہے جو عمومًا یوٹیوب پر دستیاب ہوتے ہیں۔ مختلف موضوعات میں سیاست، مزاح، کھیل، غذا، ٹیکنالوجی، عشق اور انسانی تعلقات، شخصیت سازی اور انفرادیت کے پہلو، خواتین کے مسائل، صحت، فیشن، ایل جی بی ٹی اور کئی دیگر موضوعات شامل ہیں۔ ان واقعات کی پیش کشی میں جدید ترین قصہ گوئی کی شکلبندیوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے جیسے کہ بصری حقیقت (Virtual Reality)، ٹائم لیپس، اینی میشن، انفوگرافکس جیسی ٹیکنالوجیوں کا سہارا لیا جانا شامل ہے۔[178]2018ء میں بنائی جانے اس لِنچستان کی تخلیق: بھارت کے جان لیوا 'گئو رکشک' نیٹ ورک کا پس منظر - دی کوینٹ کی ڈاکیومنٹری کا پس منظر ان سرخیوں میں چھانے والے اس وقت تک کے ہجومی تشدد کے 35 قتلوں اور دیگر پر تشدد واقعات کا تجزیہ ہے۔ اس ڈاکیومنٹری میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں ہجومی قتل بھارت میں عام بات بنتی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں کئی چہرے ایسے دکھائے گئے ہیں جو گائے کے تحفظ کو لے کر کافی متشدد ہیں۔ ان کے حساب سے کسی بھی شخص کی گائے کو بچانے کے لیے جان لینا درست ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خواتین بھی اس تشدد کی حمایت کرتی ہیں۔ کچھ جگہوں پر پولیس کا رویہ بھی گئو رکشکوں کے لیے کافی نرم رہا ہے، جس سے یہ تشدد فروغ پا رہا ہے۔ ویڈیو کے مطابق گئو رکشکوں کی جالکاری ایک آزادانہ جالکاری ہے، جس کا حکمران بی جے پی سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ تاہم کچھ بی جے پی کے سیاست دان ان تنظیموں اور افراد سے نرم گوشہ ہیں اور ان کی بالواسطہ مدد کرتے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ گایوں کی نقل و حرکت سے متعلق خبروں کی فوری رسائی کا ذریعہ واٹس ایپ کے گروپ ہیں۔ پورے ملک میں 200-250 سے زیادہ واٹس ایپ کے گروپ کام کر رہے ہیں۔ اگر کسی مقام پر کوئی شخص گائے کو لانے کی خبر دی جاتی ہے تو فورًا یہ لوگ اس گاڑی کو روک دیتے ہیں۔ گاڑی بان سے اس کا نام پوچھتے ہیں۔ اگر نام مسلمان دکھے تو ایسی صورت میں روکنے والے گئو رکشک سیدھے اس کی پٹائی شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کم تعداد میں گئو رکشک ہوں، تو ممکن ہے کہ پکڑا گیا شخص مار کھاکر صرف زخمی ہو اور بچ جائے۔ تاہم زیادہ تعداد میں لوگوں کی موجود کی صورت میں اس شخص کا بچ پانا عملًا مشکل اور موت واقع ہو جا سکتی ہے، جس پر گئو رکشکوں کو کوئی تاسف نہیں ہوتا ہے۔[179]
  • ہر ہفتہ ہفتہ وار دی گارڈئین میں نئے مختصر بین الاقوامی ڈاکیومنٹری قصوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے جو بہترین آزادانہ فلم سازوں کی جانب سے بنائے جاتے ہیں۔[180] ان میں سے ایک 2019ء کی 18 منٹ کی ڈاکیومنٹری فلم جس کا عنوان ہجومی قتل کی گھڑی (انگریزی: The Hour Of Lynching) ہے۔اس کا دورانیہ 18 منٹ ہے۔ یہ ایسی پہلی بھارتی فلم ہے جسے پیولیٹزر سنٹر آن کرائسیس رپورٹنگ (Pulitzer Center on Crisis Reporting) اور فیلڈ آف ویژن (Field of Vision) کے تعاون سے بنایا گیا۔ فلم کی ہدایت امیت مدھیشیا اور شرلی ابراہام نے دی جنہوں نے اس سے قبل کان فلم فیسٹیول میں انعام پانے والی ڈاکیومنٹری سنیما ٹریویلرس (فلمی مسافرین) اور ایک مختصر ڈاکیومنٹری سرچنگ فار سرسوتی (سرسوتی کی تلاش) بنائی جو نیو یارک ٹائمز کے اوپ ڈاکس سیکشن کے لیے تھا، جس میں بھارتی حکومت کی جانب سے ہندی سرزمین پر دیومالائی ندی سرسوتی کی تلاش کے لیے حکومت ہندی کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی۔ہجومی قتل کی گھڑی میں 20 جولائی 2018ء کو 28 سالہ ڈیری کاروباری رہبر خان (Rakbar Khan) کے ہجومی قتل کو دکھایا گیا۔ وہ کچھ گایوں کے ساتھ گھر لوٹ رہا تھا کہ اسے سخت گیر ہندو ہجوم نے موٹر سیکلوں اور ہتھیاروں سے حملہ کر دیا اور وہ انتقال کر گیا۔ فلم کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ رہبر کی بیٹی سہیلہ جو اب بس تیرہ کے آس پاس تھی، قسمت کا نوشتہ قبول کرتے ہوئے تعلیم کو خیرباد کہتی ہے جبکہ اس کی ماں عدت گزار رہی ہے۔ وہ چپ چاپ اٹھ کر گایوں کو میدان میں لے جاتی ہے۔ اس فلم کے دوران میں ہریانہ کے اس گاؤں کے مسلمانوں کے رد عمل کو بھی دکھایا گیا کہ وہاں کہ کچھ مسلمان آدمی ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر حقہ پیتے ہوئے اپنی زندگی اور ملک میں ان کے مستقبل پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک اس خیال کا اظہار کرتا ہے کہ اگر وہ لوگ اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد بتا کر ہلاک کر دیا جائے گا، جس کی ہامی سبھی ہنس کر بھرتے ہیں۔[181][182]
  • ڈاکیومنٹری فلم دی برادر ہوڈ یا برادری (انگریزی: The Brotherhood) ایک ڈاکیومنٹری فلم تھی جسے بھارت میں قائم سنسر بورڈ نے کوئی صداقت نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس کے فلم ساز اور ہدایت کار پنکج پراشر نے اس کے خلاف انڈین سنسر اپیل ٹرائبیونل سے اپیل کی، جس نے 2018ء فلم کو جاری کرنے کی اجازت دی۔ فلم ساز اس بات پر زور دیتے ہیں کے بھارت کے چھوٹے چھوٹے گاؤں اور قصبے میں لوگوں میں مکمل یکجہتی ہے۔ لوگ ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے رسم و رواج اکٹھے مناتے ہیں۔ مگر ان ہی میل ملاپ کے پر فضا ماحول کو یہاں پر سیاست دانوں کی فعالیت اور ایک حقیر ذاتی مقصد براری کی وجہ سے زبردست ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ یہ نمام کوششیں ملک کے اتحاد، شہریوں کے بنیادی حقوق اور دستور کی کار کردگی کے مغائر ہیں۔ یہی اس ڈاکیومنٹری کا کلیدی موضوع ہے۔ پکنج کے واضح کیا کہ اس ڈاکیومنٹری کو ٹاٹا اسکائی اور یوٹیوب پر جاری کیا جاری کر رہے ہیں۔ یہ ڈاکیومنٹری بطور خاص محمد اخلاق سیفی کے قتل سے شروع ہوتی ہے جنہیں 28 ستمبر، 2015ء کو دہلی کے قریب دادری میں جنونی انداز میں گائے کے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے گاؤں والوں کے من یہ شک گڑھ دیا جاتا ہے کہ فی الواقع یہی مذموم کام انجام پا چکا ہے اور دادری کی قسم کے واقعات ملک بھر میں پھیل چکے ہیں۔ [183]
  • کیرلا سے تعلق رکھنے والے ای جے اشفاق اور شاہین احمد نے تہیہ کیا تھا کہ وہ ملک کے ہجومی تشدد پر فلم بنائیں گے۔ اسی کا نتیجہ ڈاکیومنٹری فلم لِنچ نیشن یا ہجومی تشدد کا ملک (انگریزی: Lynch Nation) کی شکل میں 2018ء میں وجود میں آیا۔ اس فلم کے لیے رہنمائی کے لیے ان دو جوانوں نے امیت سین گپتا کو ہموار کیا جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن میں اشقاق کے سابق استاد رہ چکے تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کے دوست فرقان فریدی اور ویشو سیجل شامل ہوئے۔ ڈاکیومنٹری کی تیاری کے لیے ٹیم دادری، الور، لتہار، رام گڑھ، بھرت پور، بلبھ گڑھ، اونا کا سفر طے کی۔ جیسے جیسے یہ ٹیم کئی شمالی ہند کی ریاستوں میں گھوم رہی تھی، ان کی مدد کئی میرے نام پر نہیں مہم اور نفرت کے خلاف متحدہ مہم اور مقامی فعالیت پسندوں اور کئی دوسرے لوگوں نے چندوں کے شکل میں کی۔ اس فلم کے مقصد کے بارے میں اشفاق کا کہنا تھا: "ہم شاید اس فلم کے ذریعے تیزی سے بڑھ رہی نفرت کا مقابلہ نہ کر سکیں، تاہم ہم یہ امید کرتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں ہم لوگوں کے ضمیر کو جھنجوڑ سکیں گے۔ ہم لوگوں کو ان خاندانوں سے جوڑنا چاہتے ہیں جو اپنے عزیز و اقارب کو کھو چکے ہیں اور ان کے درد کو محسوس کر سکیں۔ ہر بار جب ایک پہلو خان، عمار خان یا جنید کا قتل ہوگا، ہم چاہیں گے کہ لوگ یہ محسوس کریں جیسے کہ خود ان کا بھائی گزر چکا ہے۔" اس ڈاکیومنٹری کو کئی گوشوں سے پسندیدگی کی نظروں سے دیکھا گیا ہے اور سراہا بھی گیا ہے۔ چنانچہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے اس فلم کی افتتاحی اسکریننگ کے دوران یہ تاثر کا اظہار کیا کہ: "یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دونوں فلمساز جواں سال مسلمان ہیں، جو بہت ہی اہم اور ضروری ہے۔ یہ مسلمانوں کو اپنی مستحقہ جگہ کی باز یابی کے لیے ضروری ہے، جس کے لیے وہ خود اپنی آواز لگائیں نہ کہ دیگر لوگ ان کی نمائندگی کریں۔"[184]

جن ڈاکیومنٹری فلموں کا جائزہ لیا گیا ہے، ان کی تیاری کے پیچھے افراد اور فلم کی تیاری کا مقصد مختلف رہا ہے۔ لِنچستان کی تخلیق: بھارت کے جان لیوا 'گئو رکشک' نیٹ ورک کا پس منظر ایک ایسی خبروں اور تجزیے کے چینل کی جانب سے تیار کیا گیا ہے جو حالات حاضرہ کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے۔ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کس طرح مکمل عزم اور یقین سے گئو رکشک اپنی متشدد کار روائیوں کے ساتھ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہجومی قتل کی گھڑی کی فلم راست طور پر قتل کے ایک خاندان پر اثر انداز ہونے والی جملہ کیفیات کا جائزہ ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے اسکولی لڑکی تعلیم کو خیر باد کہ کر گھریلو ذمے داریوں کے لیے خود کو تیار کر لینی ہے۔ اس میں گاؤں کے مسلمانوں کی سادہ اور مسخرہ پن سے بھری گفتگو بھارت کے مسلمانوں کی زبوں حالی یا در پردہ خوف زدہ کیفیت کی منظر کشی ہے کہ وہ ظلم کے خلاف کسی بھی طرح کی آواز اٹھانے یا جد و جہد سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ اندیشہ ہے کہ انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کا کام تمام کر دیا جائے گا۔ دی برادر ہوڈ یا برادری چھوٹے چھوٹے قصبوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر تیزی سے پھیلتی نفرت کی آگ کا جائزہ لیا گیا ہے۔لِنچ نیشن یا ہجومی قتل کی ڈاکیومنٹری ملک کے مخلتف کونوں میں ہونے والے قتل کے واقعات کا جائزہ ہے۔ یہ اس بات کا بھی آئینہ دار ہے کہ فلمسازی کی دنیا سے جڑے بھارتی مسلمان خود تیزی سے پھیل رہے قتل و خون کے واقعات کے نارے میں کیا سوچتے ہیں۔

مطبوعات کی اشاعت[ترمیم]

مطبوعات سے مراد وہ مقالات ہیں نامی گرامی جرائد شائع ہوئے اور وہ کتابیں جن میں کہ ہجومی قتل سے جڑی بحثوں کو خاص جگہ دی گئی ہے۔ علمی مقالات عام انشائیوں اور مضامین سے کہیں زیادہ معلوماتی بھی ہوتے ہیں، اس لیے کہ ان میں تحقیق کا پہلو زیادہ ہوتا ہے اور اکثر ان کے لکھاری اس مخصوص شعبۂ علم میں عمیق مطالعہ کر چکے ہیں اور جو نکات رقم کیے جاتے ہیں وہ دلائل اور حتمی حجتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ذیل میں ایسی کچھ مطبوعات کا جائزہ لیا گیا ہے:

کتب

  • دلوں کی تقسیم: بھارت کی سوچ کا بکھراؤ : (انگریزی: Partitions of the Heart: Unmaking the Idea of India): اس کتاب کو ہرش مندر نے لکھا ہے۔ وہ اس کتاب کا آغاز جنید خان کے قتل کے باب سے شروع کرتے ہیں، جس میں متوفی کو وہ اپنا بیٹا بتاتے ہیں۔ گجرات فسادات (2002ء) پر وہ اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں اور بطور خاص گلبرگ سوسائٹی کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ نام نہاد گجرات ماڈل کے ناقد معلوم پڑتے ہیں اور گائے جڑے تشدد کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ وہ گزرے وقت میں جانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، جس میں موجودہ تقسیم اور کڑواہٹ نہ ہو اور صرف ایک بھارت کا نظریہ عوام کے دل و دماغ پر چھا جائے۔ یہ کتاب پنگوئن رینڈم ہاؤز کی جانب سے چھپی ہے۔ [185]
  • ہجومی قتل کے دستاویزات: نفرت کے جرائم کے متاثرین کی داستانیں : (انگریزی: Lynch Files: The Forgotten Saga of Victims of Hate Crime): اس کتاب کو ضیاء السلام نے مختلف ذرائع اور حوالہ جات کو جمع کرتے ہوئے لکھی ہے۔ کتاب میں یہ بحث کی کئی ہے کہ کیا ہجومی تشدد فرقہ وارانہ تشدد کی نئی شکل ہے۔ کئی واقعات کو درج کرتے ہوئے، گایوں کی مبینہ قربانیوں اور ان کے حمل و نقل کے حوالے سے مسلمانوں کو راست نشانہ بنانے پر بحث کی گئی ہے۔ ہمیرپور اور اونا میں ہوئے واقعات کی رو سے دلتوں کے نشانہ بنائے جانے پر بھی بحث کی گئی ہے۔ کتاب میں ہجومی قتل کے بھولے بسرے واقعات کو بھی نمایاں طور پیش کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور اس کے بر عکس نفرت کے پھیلاؤ پر خاص روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے کہ یہ واقعات تیزی پھیلتے جا رہے ہیں۔ کتاب کا پیش لفظ وادگام، گجرات سے گجرات اسمبلی کے رکن جیگنیش میوانی نے لکھا یے اور کتاب کی اشاعت سیج پبلی کیشنز انڈیا کی جانب سے ہوئی ہے۔ [186]


مقالات

  • بھارت میں ہجومی تشدد: واٹس ایپ سماجی میڈیا کا سماجی میڈیا سے سماج دشمن میڈیا بننا (انگریزی: Mob lynching in India: What’s app as social media to ‘anti’ social media): اس مقالے کو سیما اوئکے اور نِدھی دوبے نے جرنل آف ہیومینیٹیز اینڈ سوشیل سائنس ریسرچ کے لیے لکھا۔ یہ دونوں مدھیہ پردیش کے ماکھن لال چترویدی نیشنل یونیورسٹی آف کمیونکیشن اینڈ جرنلزم میں پی ایچ ڈی کی طالبات ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے مقالے کی شروعات میں ہجومی تشدد کی سماجی میڈیا سے قبل اور اس کے بعد کے دور کی زمرہ بندی کی ہے۔ ان کے مطابق سماجی میڈیا کے دور سے قبل سب سے نمایاں پہلا معاملہ 2006ء کا خیر لانجی قتل عام ہے۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کے بھنڈارا ضلع میں ہوا تھا۔ یہ ہجومی تشدد اور قتل کا واقعہ ایک زمینی جھگڑے کی وجہ سے ہوا تھا جس میں کم از کم 50 گاؤں کے لوگ متاثرین کے گھر گھس آئے۔ واقعے میں خاندان کے چار افراد کی جم کر پٹائی ہوتی ہے اور گھر کی اہلیہ اور بیٹی کو برہنہ گھمایا جاتا ہے اور پھر ان سبھی کا قتل کیا جاتا ہے۔ یہ سب لوگ دلت تھے۔ اس واقعہ کے بعد جدید دور کے ہجومی تشدد کے واقعات بکثرت رو نما ہونے لگے ہیں، اگرچیکہ اس تاریخی واقعے کے وقت معاملات صرف مقامی جھگڑے کا نتیجہ ہوا کرتے تھے اور جدید دور میں واقعات کے رو نما ہونے واٹس ایپ اور سماجی میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی نفرت، غلط معلومات اور سب سے اہم لوگوں کا افواہوں سے بھرے پیامات کا بنا سوچے سمجھے اپنے رشتے داروں، دوستوں، ملاقاتیوں اور عوام الناس میں گشت کرانا ہے۔ مقالے کے اختتام پر یہ خواتین پھر سے دہراتی ہیں کہ ہجومی قتل کے واقعات کی سب سے وجہ واٹس ایپ پیاموں کا فارورڈ کیا جانا ہے۔ یہ بھی بات سامنے آئی کہ بالعموم مکرر بھیجے جانے پیامات بالعموم ایسی معلومات کو عام کر رہی ہیں جو بھروسے کے قابل نہیں ہوتی۔ جدید سماجی میڈیا میں فرضی خبر ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ کئی خطرناک ہجومی تشدد کے واقعات کا پس پردہ واٹس ایپ ہی کی خبریں ہیں۔ مطالعے میں یہ سفارش کی گئی کہ اس مسئلے کو ہجومی قتل سے جوڑتے ہوئے سخت قوانین اور ضوابط کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ہجومی قتل کے واقعات شہری اور رئیس طبقوں میں نہیں ہوتے، یہ عمومًا دیہی اور مزدور طبقوں میں ہوا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ بھی سفارش کی گئی کہ اس سماج کے لوگوں کو ایک ٹیکنالوجی کے مضمرات کو سمجھنا چاہیے اور یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ کس طرح کا محفوظ انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔[187]
  • ہجومی تشدد – کیا ہمیں اس پر نئے قانون کی ضرورت ہے؟ (انگریزی: MOB LYNCHING – DO WE NEED A NEW LAW ON IT?): اس مقالے کو شیرین خان اور میور تیجاوت نے لکھا ہے۔ یہ دونوں اندور میں قانون کے طالب علم ہیں۔ مضمون میں متعدد ہجومی قتل کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کا یہ مقولہ نقل کیا گیا ہے جو تحسین پوناوالا بمقابلہ یونین آف انڈیا مقدمے کہا گیا تھا: "سپریم کورٹ کا ایقان ہے کہ پارلیمنٹ ہجومی قتل سے نمٹنے کے لیے ایک نیا قانون بنا سکتا ہے جس سے امکانی ہجومی قاتلوں میں ڈر بیٹھ سکے۔" اس طرح سے ملک کی عدالت علیا اس موضوع پر نئی قانون سازی کا حامی پایا گیا تھا۔ اوپر مذکور مقالے بھارت میں ہجومی تشدد: واٹس ایپ سماجی میڈیا کا سماجی میڈیا سے سماج دشمن میڈیا بننا کی طرح اس مقالے 2006ء کے خیر لانجی قتل عام کو جدید ہجومی قتلوں کے آغاز کے طور پر پیش کیا گیا گیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2006ء کے بعد سے کوئی ہجومی قتلوں کا متواتر سلسلہ ملک میں نہیں دیکھا گیا۔ مگر یہ صورت حال جون 2017ء میں اس وقت بدل گئی جب ملک میں ہجومی قتل کے پانچ واقعات ایک ہی مہینے میں پیش آئے۔ اس سے ملک کے جدید سماج میں بد نظمی اپنے آپ ثابت ہو گئی ہے۔ اس طرح سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ اور ایک ساتھ کم وقت میں ہجومی قتلوں کی بڑھتی تعداد نئی قانون سازی کو دیگر کئی باتوں کی طرح بے حد ضروری ظاہر کرتے ہیں۔ مقالے کے اختتام میں یہ یاد دلا دیا گیا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہے۔ اس میں مسلمان، سکھ، جین، بدھمتی اور مسیحی بھی ہیں۔ یہ ایک سیکیولر ملک ہے اور تنوع میں اتحاد ہی اس کی طاقت ہے۔ [188]
  • ہجومی قتل: نئی قانون سازی یا موجودہ فوجدادی قوانین پر ہی اکتفا کرنا چاہیے؟ (انگریزی: Mob Lynching: Tailoring Legislative Enactments or Fall Back on Existing Criminal Legislations?): اس مضون کو راجندرا سرکاروار نے انٹرنیشنل جرنل آف لا مینیجمنٹ اینڈ ہیومینیٹیز کے لیے لکھا ہے۔ سرکاروار کا تعلق ویسٹ بنگال نیشنل یونیورسٹی آف جوڈیشیل سرویسیز سے ہے۔ اس مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حالانکہ ملک میں ہجومی تشدد سے متعلق ملک میں قوانین کی کمی نہیں ہے، تاہم جس طرح کہ انسانی حقوق کے فعالیت پسند اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے کہا ہے کہ "یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کے قانون ساز اور ارکانِ پارلیمان ملک کے مسلمانوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ " نیز سپریم کورٹ کی واضح ہدایت موجود ہے کہ "پولیس کو ایسے معاملوں میں تعزیرات ہند کی 153 اے کے تحت ایف آئی آر درج کرنا چاہیے۔ فوجداری قوانین کی دفعہ 357 کے تحت معاوضہ کی اسکیم تیار کرنا چاہیے، فاسٹ ٹریک کورٹ کی گنجائش، ایسے معاملوں میں سخت سزا اور ریاست کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ غیر فعال افسروں پر تادیبی کار روائی ہونا چاہیے۔" مقالے میں خاص طور پر قانون کی سطحی عمل آوری پر تنقیدی نظر دوڑائی گئی ہے۔ غالبًا غیر فعال یا سست جو افسروں پر تادیبی کار روائی کے نہ ہونے کی وجہ سے گئو رکشکوں کی شدید پٹائی سے متاثر رہبر خان خان کو ہسپتال لے جانے میں ساڑھے تین گھنٹے کی دیر ہوئی تھی، جو رہبر کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ مقالے کے اختتام پر سرکاروار پھر سے اس بات پر زور دیتے ہیں ہجومی تشدد پر قانون سازی کا یقینًا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ ہدایات کو اگر اس مجوزہ قانون میں شامل کیا جائے تو یہ اچھی شروعات ہو سکتی ہے جس سے ملک بھر میں طاعون کی طرح پھیل رہے ہجومی تشدد کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ [189]

مطبوعہ کتابوں اور مقالات کے مطالعے سے یہ عیاں ہو گیا ہے کہ بھارت کا دانشور طبقہ تشدد اور بالخصوص گائے سے جڑے ہجومی تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے ملک کی سالمیت اور ہمہ مذہبی سماج کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ محققین کی رائے مروجہ قوانین یا ان کے نفاذ کو کڑے بنانے کے حق میں ہے۔ جس کے لیے کسی جدید قانون سازی بھی معاون ہو سکتی ہے۔ کتابوں کے مصنفین تاریخی انداز میں ہجومی تشدد کے واقعات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ان لوگوں نے بھی اپنے گہرے تاسف کا اظہار کیا ہے اور پر امن، ملنسار مذہبًا اور ذات پات کے اعتبار سے روادار ملک کی حمایت کر چکے ہیں۔

شاعری، نعموں، موسیقی کے ذریعے ہجومی تشدد کی وجہ سے متوفی افراد کو خراج عقیدت[ترمیم]

کیفی اعظمی پہلی صف میں دوسرے کھڑے ہیں۔ انہوں نے 1992ء میں ہجومی بھیڑ کی جانب سے بابری مسجد گرائے جانے پر ایک جذباتی نظم دوسرا بن باس لکھی تھی، جو بہت مقبول ہوئی۔

عمر قریشی نے بیسویں صدی کے اردو ادب پر ایک مقالہ لکھا جس کا انگریزی ترجمہ کولمبیا یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ مقالے کے مطابق "جوش ملیح آبادی خود کو ایک سیاسی اور مذہبی انقلابی سمجھا، مگر ان کا زمین دارانہ پس منظر یاد ماضی کی جانب مائل کر دیا...ان شاعری تیزی سے پھیلنے والے قافیوں اور منظر کشی پر مشتمل ہے ... مگر کبھی کبھی استعماری حکمرانی کی ناانصافیوں پر احتجاج اور مذہبی اوپری دکھاوا کبھی کبھی بجا بھی ہو سکتا ہے... جوش کو ان نثری سوانح حیات یادوں کی بارات (1970ء) کے لیے یاد رکھا جائے گا جو اسلوبیاتی شاہ کار تھی، اگر چیکہ یہ پوری طرح حق مبنی نہیں ہے" ۔[190] اس طرح سے حالات اور احتجاجی لب و لہجہ بھارت کے ادب میں تحریک آزادی کے دور سے اثر انداز ہوتا آ رہا ہے۔ اسی طرح سے نسلاً چینی ہونے کے باوجود اردو کے مشہور شاعر شیدا چینی نے مزدور آواز کے عنوان سے ایک نظم لکھ کر 1962ء کی بھارت-چین جنگ میں چین کے کردار کی مخالفت کی تھی اور اپنے احتجاجی لب و لہجے کا اظہار کیا تھا۔[191]

پنجابی گلوکار ربی شیرگل نے 2002ء کے فسادات میں اجتماعی آبرو ریزی کی متاثرہ بلقیس بانو سے یگانگت کے اظہار کے طور پر ایک نغمہ گایا تھا۔

بھارت میں ہجومی تشدد پر بھی وقتًا فوقتًا احتجاج اور تشویش کا اظہار شاعری اور نغموں میں کیا جاتا رہا ہے، جس طرح کہ مطبوعات اور مقالات میں کیا جاتا رہا ہے۔ 6 دسمبر 1992ء کو جب بابری مسجد کا انہدام ایک پر تشدد ہجوم کی جانب سے ہوا تو اردو کے شاعر کیفی اعظمی نے ایک نظم دوسرا بن باس کے عنوان سے لکھی، جس میں اس کار روائی کو ہندو مذہب کی مقدس شخصیت رام کے اس پر صدمے کو بیان کیا گیا ہے جسے رد عمل اور اس کار روائی کے خلاف پھر سے تصوری ملک بدری کا ذکر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ [192] اسی طرح سے 2002ء کے گجرات فسادات بھی کئی شاعروں اور گلو کاروں کے اظہار کا موضوع بنا تھا۔ اس بارے میں پنجابی شاعر ربی شیرگل نے ان فسادات کی ایک متاثرہ بلقیس پر 2008ء میں ایک نغمہ جاری کیا۔ اس نغمے کے لیے گرو دت کے 1957ء کے فلم پیاسا کے کچھ الفاظ کو موجودہ حالات کے سیاق و سباق کے لیے بدل دیا گیا ہے۔ اس نغمے کا عنوان "جنہیں ناز ہے ہند پر، وہ کہاں ہیں" ہے۔ اس نغمے کے الفاظ اس طرح ہیں[193]:

میرا نام بلقیس یعقوب رسول
مجھ سے ہوئی بس اک ہی بھول
کہ جب ڈھونڈتے تھے وہ رام کو
تو میں کھڑی تھی راہ میں
پہلے اک نے پوچھا نہ مجھے کچھ پتہ تھا
دوجے کو بھی میرا یہی جواب تھا
پھر اتنوں نے پوچھا کہ میرا اب سوال ہے
جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں تھے
جنہیں ناز ہے وہ کہاں ہیں
میرا نام شریمان ساتییندرا دوبے
جو کہنا تھا وہ کہہ چکے
اب پڑے ہیں راہ میں
دِل میں لیے اک گولی
بس اتنا قصور کہ ہم نے لکھا تھا
وہ سچ جو ہر کسی کی زُبان تھا
پر سچ یہاں ہو جاتے ہیں زہریلے
جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں تھے
جنہیں ناز ہے وہ کہاں ہیں
مجھے کہتے ہیں انا منجو ناتھ
میں نے دیکھی بھٹکی اک لاش
ضمیر کی بیچ سڑک لکھِمپور کھڑی
آدرش پھنسا جہاں نعروں میں
اور چور بھرے درباروں میں
وہاں موت اخلاق کی ہے اک خبر باسی
جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں تھے
جنہیں ناز ہے وہ کہاں ہیں

ؓ:ماجھا نام ہے نولین کمار

انییس جون انییس بار
انییس انییس انییس انییس
انییس بار
انییس انییس انییس انییس
انییس انییس انییس انییس انییس
انییس انییس انییس انییس
اننییس بار
لوٹو دیہات کھولو بازار
نالاسوپارا اور ویرار
چھینو زمین ہم سے
بھیجو ہمیں پاتال
جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں تھے
جنہیں ناز ہے وہ کہاں ہیں[193]

اس نغمے میں لفظ انا سے مراد بھائی ہے جو کئی جنوبی ہند کی زبانوں میں مستعمل ہے۔ ماجھا لفظ مراٹھی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کے معنے میرا کے ہیں۔ نغمے میں انیسس کے ہندسے پر زور اس وجہ سے دیا جا رہا کیونکہ بلقیس کی اجتماعی آبرو ریزی کے وقت عمر 19 سال تھی۔ اس جرم میں غالبًا مجرمین بھارت کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے تھے۔ [193]

2014ء کے بعد بھی نغموں اور گلوکاری کے ذریعے بھی ہجومی تشدد اور سماجی انتشار پر احتجاج اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تاہم چونکہ اس دور میں انٹرنیٹ اور یوٹیوب بہت عام ہو چکے تھے، اس لیے ان تکنیکوں کا سہارا لیا گیا۔ ذیل کے قطعوں میں ایسی ہی دو کوششوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔

پوجن ساہل کی جانب سے خراج عقیدت[ترمیم]

پوجن ساہل ایک نغمہ نگار بھی ہیں اور بہ جائے خود ایک گلو کار بھی ہیں۔ وہ عمومًا حالات حاضرہ اور موجودہ بھارت کے سماج اور سیاسی پس منظر کو مد نطر رکھتے ہوئے کافی پُر اثر انداز میں نغمے گاتے ہیں اور اکثر ان میں گٹار بھی بجاتے ہیں۔ انہوں نے نغمے کو اپنے جواں سال احتجاجی جذبے کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کی اس مکرر کوششوں کا محرک بھارت کا بد نام زمانہ نیرو مودی اسکام رہا ہے، جس نے مالیے کے محاذ پر ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ حالانکہ تعلیمی اعتبار سے ساہل نے انجینئری کی ڈگری حاصل کی ہے، مگر ان کا شوق درس و تدریس کی جانب زیادہ مائل تھا۔ اسی وجہ سے مارچ 2018ء کی اطلاع کے مطابق وہ اسی تعلیمی پیشے سے منسلک تھے اور ان کی بی ایڈ کی ڈگری زیر تکمیل تھی۔ وہ ایک فعالیت پسند شخص بھی ہیں اور اکثر ملک میں غالب اکثریت سے بر سر اقتدار نریندر مودی حکومت کے اقدامات کے راست یا بالواسطہ ناقد رہے ہیں۔ ان کے متنازع اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہے انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے دو طلبہ کنہیا کمار اور عمر خالد کے ساتھ شہ نشین پر بھی ایک بار اپنی موجودگی درج کی تھی۔ ان دونوں طلبہ پر مخالف ملک سرگرمیوں اور غداری سے بھرے نعروں کا الزام ہے۔ کنہیا کمار نے تو بیگو سرائے سے قد آور بی جے پی رہنما گری راج سنگھ سے کافی زور آور انداز میں مقابلہ بھی کیا اور شکست بھی کھائی تھی۔ اس وجہ سے بھارت کے دائیں محاذ کے بی جے پی حامی قوم پرستوں کی جانب سے سماجی میڈیا ساہل پر کافی مطعون رہے ہیں۔ انہیں "قوم مخالف" اور "پاکستان جاؤ" جیسے تبصروں سے بھی مخاطب کیا جا چکا ہے۔ تاہم ساہل کی کوششوں کو تقویت پہنچانے اور انہیں سراہنے کا کام ان کے گھر والے کرتے آئے ہیں۔[194]

یوٹیوب پر ان کے مشہور نغموں میں کچھ ان کے خود کے لکھے ہوئے ہیں اور کچھ دیگر مشہور نغموں کی یا تو سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے پیروڈی کی گئی ہے یا پھر وہ کبھی کبھی ساحر لدھیانوی اور حبیب جالب جیسی شخصیتوں کے نغموں کو حسب موقع گا چکے ہیں۔ کچھ نغموں کے لکھنے کا کام انہوں نے خود بھی کیا ہے۔ ان کی مشہور پیروڈیوں میں اکشے کمار کی اداکاری والی فلم کا نغمہ "تیری ساری خوشیاں میری ہو گئی" رہا ہے۔ 2019ء کے انتخابی ریالیوں میں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود کو "چوکیدار" قرار دیا تھا۔ اس کے بعد بی جے پی کے تمام بڑے قائدین اور ان کے حامی ٹویٹر پر اپنے نام سے پہلے چوکیدار لگا چکے تھے۔ (مثلًا چوکیدار نریندر مودی، چوکیدار یوگی آدتیہ ناتھ، چوکیدار سشما سوراج، چوکیدار ارون جیٹلی، وغیرہ۔) اس طرح سے عوام میں بھی بی جے پی کے حامی لوگ اپنے ناموں کے آگے چوکیدار لگا چکے تھے۔ اس انتخابی حربے کو بھانپتے ہوئے ساہل نے یوٹیوب پر ایک نغمہ اپلوڈ کیا تھا جو کافی مقبول ہوا۔ انتخابات دوبارہ جیتنے کے بعد ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سب سے پہلے اپنے نام کے آگے سے چوکیدار ہٹایا، پھر وزراء اور پارٹی کے سرکردہ قائدین نے دیکھا دیکھی یہ اقدام کیا۔ سب سے آخر میں ملک کے ان لوگوں نے اپنے نام کے آگے سے چوکیدار ہٹایا جو بی جے پی کے حامی تھے اور اس سے پارٹی اور نریندر مودی سے جذباتی وابستگی رکھ رہے تھے۔ دیگر طنزیہ اور احتجاجی نغموں میں ساہل نے "بھاجپا تیرے راج میں" اور "لو یو مودی جی" (ہم آپ پیار کرتے ہیں مودی جی) رہے ہیں۔[194] ابھی نندن وردھمان کے پاکستان کی جانب سے 2019ء میں ہند پاک تنازع کے دوران اپنی حراست سے چھوڑے جانے پر بھی انہوں نے جنگ ٹالنے پر ایک نغمہ گایا تھا اور جنگ ٹالنے کی وکالت کی۔[195] بھارت میں ہجومی تشدد کے ضمن میں انہوں نے حبیب جالب کا نغمہ "دستور" گاکر یوٹیوب پر اپلوڈ کیا۔ اس کے الفاظ اس طرح ہیں:

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا[196][197]

اس ویڈیو میں ایک اسکارف پہنی مسلمان لڑکی نبیہ خان حالات حاضرہ پر تحت اللفظ ایک نظم سناتی ہے جس میں ہجومی تشدد میں ملک بھر میں مرنے والوں کچھ نام بھی مذکور ہیں اور اس سارے قضیے اور رنج اور مذمت کا اظہار بھی موجود ہے۔[196]

عامر عزیز کی جانب سے خراج عقیدت[ترمیم]

دیگر فنکاروں نے، جنہوں نے نغموں کے ذریعے تشویش اور غصے کا اظہار کیا، ان میں سے ایک عامر عزیز ہیں۔ یہ بنیادی طور پر پٹنہ کے قریب کے رہائشی علاقے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سیول انجینئر ہیں۔ وہ لارسن اینڈ ٹوبرو جیسی کچھ کمپنیوں کے لیے کام بھی کر چکے ہیں۔ تاہم ان کی دلچسپی تمثیلی زندگی، فلمی اور نغموں ترانوں سے زیادہ ہونے لگی، اس وجہ سے وہ دنیائے بینش کا حصہ بن گئے۔ وہ نیٹ فلکس کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ فلم میوزک ٹیچر (2019ء) کا بھی مختصر حصہ رہے، جس میں مانو کول نے بھی کام کیا۔[198]

پہلو خان کی داستان (انگریزی: The Ballad of Pehlu Khan) (ہندی: पहलू ख़ान की दास्तान) اسی طرح عامر کے سیاسی افکار کا آئینہ دار ہے جس طرح سے کہ ان کا اس سے پہلے کا نغمہ بھی رہا ہے۔ یہ نغمہ راجستھان کے ایک ڈیری کسان پہلو خان کے بے رحمانہ قتل کو گئو رکشکوں کی قساوت قلبی، مطلق العنانی، جمہوریت کے خدا خدا کر کے گرتے معیاروں، سماجی عدم مساوات ، بڑھتی فرقہ واریت اور انصاف کے فقدان سے جوڑتا ہے اور یہ گیت اگرچیکہ پورے واقعے کو سرسری طور پر کہنے کی کوشش ہے، مگر اس واقعے کو کئی اسی طرح کے دیگر واقعات سے منطقی طور پر جوڑتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں ایک سیاسی جماعت غالب اکثریت سے بر سر اقتدار ہو چکی ہے، ذرائع ابلاغ عمومًا حکومت کے شانہ بہ شانہ واقعات کو بیان کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں گودی میڈیا کہا جانے لگا، یہ نغمہ در حقیقت امریکی گلوکار بوب ڈیلان کے نغمے ‘The Lonesome Death of Hattie Carroll’ (ہیٹی کیرول کی تنہائی میں موت) کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ اس نغمے کو فلمانے کے دوران ادارت ترون بھاٹیا نے ڈاکیومنٹری فلمساز راہل رائے کی مدد سے کی۔ یہ نغمے کا ویڈیو ساڑھے پانچ منٹ کا ہے۔ اس ویڈیو میں عامر خود اپنی گٹار بجاتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں۔ ویڈیو میں پہلو خان کے حملے سے جڑی ویڈیو کی کچھ تصاویر مسلسل گشت کرتی ہوئی دکھائی پڑتی ہیں۔ اس بارے میں عامر کا کہنا ہے: "اگر اس دور کے درد کو سمجھنے کے لیے کسی کو کوئی استعارے کی ضرورت ہے، تو میرے پاس اس مصرعے سے بہتر کچھ نہیں۔" وہ نغمے کے اس فقرے کی طرف اشارہ کر رہے تھے: "بس خطا اتنی سی تھی کہ یہیں پیدا ہوئے اور مسلمان تھے۔"[198]

گلوکار عامر عزیز نے اپنے یوٹیوب چینل پر پہلو خان کی یاد اور اسی غیر فطری ہجومی تشدد کی وجہ سے ہونے والی اموات کی یاد میں ایک نغمہ اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کیا ہے۔ ان کے چھ ہزار سے زیادہ سب اسکرائبر ہیں اور اور ذیل کے نغمے کو 3 ستمبر 2019ء تک لوگوں نے دیکھا تھا۔ ان میں سے 5,700 سے زیادہ لوگوں نے ویڈیو کو پسند کیا اور محض 83 لوگوں نے ناپسند کیا۔ اس نغمے کے نیچے مذکورہ تاریخ پر 441 تبصرے درج ہیں۔ ان میں سے کچھ اس نغمے کو دلوں کو چیرنے والا قرار دیا جب کہ کچھ نے اس بات پر بھی تاسف کا اظہار کیا کہ کیسے بھارت کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، آئی اے ایس اور ڈاکٹر تک اس جنونی تشدد کو فروغ دے رہے۔ کچھ اور لوگوں اس بات پر تاسف کا ظہار کیا کہ ملک کے بدلتے حالات میں ایک مخصوص مذہب سے وانستگی ہی سب سے بڑی خطا ہو گئی تھی، جس کی بھرپائی وہ لوگ اپنی جان دے کر ادا کر رہے ہیں۔ نغمے کے بول کچھ اس طرح ہیں[199]

بہلو خان بِچارے اِک انسان تھے
عمر 55 کی، رہنے والے ہندُستان کے
اِک دن ایک بھیڑ کے ہاتھوں نوچ نوچ کھائے گئے
میلے سے خرید کے گائے تھے لانے گئے
پہلو پیشے سے ڈیری کسان تھے
بس خطا اتنی سی تھی یہیں پیدا ہوئے
(۔.۔آہا۔.۔آہا۔.۔) مسلمان تھے
لوگ ان گنت موقع پر تب موجود تھے
کچھ ویڈیو بنانے پر مشغول تھے
کچھ ڈر گئے، کچھ ان دیکھا کیے
کچھ خوش ہوئے، کچھ لعنتیں بھیجا کیے
اور باقیوں کو قتل یہ مقبول تھا
ایک تو لوگ تھے لوگوں سے دکھی
خود سے بھی پریشان تھے
پہلو مرتے مرتے چھ لوگوں کا نام لے گئے
مِرا انصاف کرنا آخری پیغام دے گیا۔
پُلِس رات دن تفتیش کرنے لگ گئی
تھانے کا چکر کاٹ جمہوریت تھک گئی۔
ملک آگے بڑھا اور لوگ اپنے کام پہ گئے۔
پہلو قتل ہوتے لوگوں میں محض اِک اور نام تھے
رپورٹ کہتی ہے موقع واردات ملزم کوئی تھی موجود نہیں تھا
پہلو کا بیاں سچ کرے ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں تھا
ہاں، قانون کی اپنی بھی کچھ مجبوریاں ہیں
ظالم سے قربت، مظلوم سے دوریاں ہیں
بے گناہ کوئی بھی یہاں محفوظ نہ تھا
لوگ جانوروں کے محافظ تھے
اور سرحدوں کے پاسباں تھے
اب یہ معاملہ عدالت کے سامنے پڑا ہے
اور کٹگھرے میں سارا ہندوستان کھڑا ہے
ہاں انصاف کرنا عدالتوں کا فرض ہے
ولد پہلو پر ٹسکری کا مقدمہ درج ہے
سنتے ہیں ملزم منتری جی کا خاص پڑا ہے
ویسے تو کٹگھرے میں ہم بھی آپ بھی ہیں
(۔.۔آہا۔.۔آہا۔.۔) وزیر اعظم بھی ہیں
پہلو خان تو بِچارے تدفین ہو گئے
مٹی میں ملے، مِل کے زمین ہو گئے
جو زندہ ہیں، ہاں حالت ان کی خراب ہے
تشنگی کو حاصل سراب ہے
اور اس وقت جو میں آپ کو پہلو کی داستان گا رہا ہوں
وہیں سے آیا ہوں، واپس قبرستان جا رہا ہوں
اس سنسان سڑک پر اک دوسرا پہلو خان کھڑا ہے
آ رہی مصیبتوں سے بے بس انجان کھڑا ہے[199]

اس نغمے کے ترنم کے ساتھ آواز میں نہ صرف یوٹیوب ناظرین موسیقی اور ایک درد بھری داستان اور سماج کی شورش کا شکوہ دیکھتے ہیں، بلکہ وہ پہلو خان کی وہ تصاویر کو بھی دیکھ سکتے ہیں جو اس کے قتل کے دوران میں لیے گئے ویڈیو سے لی گئی ہیں۔ یہ ویڈیو سماجی میڈیا پر کافی وائرل ہو گیا اور سماج کا ایک حلقہ اسے بہ کثرت دوسرے کے ساتھ بانٹ بھی رہا تھا اور مرنے والے شخص کی ایذا رسانی سے محظوظ بھی ہو رہا تھا۔ ویڈیو میں بھارت کی پولیس پر ایک طنز بھی ہے کہ کس طرح متوفی شخص کی نشان دہی اور ثبوت کے طور پر ویڈیو کی موجودگی کے باوجود پولیس خاطیوں کو سزا نہیں دلا پائی۔ مزید یہ کہ پولیس کی جانب داری اور یک گونگی پر بھی اشارہ کیا گیا جس نے کافی تیزی سے مرحوم پہلو خان کے بیٹے (ولد پہلو پر ٹسکری کا مقدمہ درج ہے) پر مقدمہ درج کیا۔ ویڈیو میں گائے کے نام پر مرنے والے کچھ اہم ناموں کی ایک فہرست بھی تاریخ وفات کے حساب سے دکھائی گئی ہے[199]:

نمبر متوفی کا نام گائے کے نام پر قتل کیے جانے کی تاریخ تبصرے اور واقعے کی مزید معلومات
(دیگر آن لائن ذرائع سے ماخوذ)
1 انس، عارف اور ناظم (اتر پردیش) 2 اگست، 2015ء تین لوگ عارف، انس اور ناظم گایوں کو گاڑی میں منتقل کر رہے تھے کہ اتر پریش کے کیمرالا گاؤں میں ایک ہجوم انہیں روک کر ان سے متصادم ہوا تھا۔ اس میں ان تینوں کا قتل ہوا۔ تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق اس واقعے کے ساتھ ساتھ اسی سال گایوں کے ذبح یا ان کی چوری کو بنیاد بناکر ریاست بھر میں کم از کم 17 واقعات پیش آئے تھے۔[200]
2 محمد اخلاق، دادری، اترپردیش 28 ستمبر، 2015ء (مکمل واقعے کے لیے اصل مضمون اور اس قطعے کو دیکھیے۔)

اس واقعے کے تناظر میں سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری نے کہا تھا کہ ایک ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ سبھی شہریوں کی جان کی حفاظت کرے۔ [201]
3 نعمان اختر، ہماچل پردیش 14 اکتوبر 2015ء (مکمل واقعے کے لیے اصل مضمون دیکھیے)
4 مستعین عباس (ہریانہ) 5 مارچ، 1916ء حالانکہ 5-6 مارچ کی درمیانی شب کو ہی غالبًا کا قتل کر دیا گیا تھا، تاہم اس کے تقریبًا ایک مہینے بعد یعنی 2 اپریل کو ان کی لاش کروکشیتر کے میسانہ گاؤں میں موری میں پایا گیا۔ عباس کا خاندان نائی مجرٰی سے تعلق رکھتا ہے۔ مستعین جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے، وہ ہریانہ کے شریف گڑھ سے بیلوں خرید کر لوٹ رہے تھے۔ انہیں گئو رکشا دل کے ارکان نے انہیں راستے میں روکا اور ان پر گولی چلا دی۔ انٹرنیٹ پر 4 ستمبر 2019ء کو دیکھی گئی انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ابھی تک کوئی گرفتاری اس سلسلے میں نہیں کی گئی۔ مستعین کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ چار بچے بھی ہیں۔[202]
5 مظلوم انصاری اور محمد امتیاز خان، جھارکھنڈ 18 مارچ، 2016ء 18 مارچ 2016ء کو 32 سالہ چوپایوں کے کاروباری مظلوم انصاری اور ان تجارتی شریک 11 سالہ امتیاز خان کو گئو رکشکوں کی جانب سے بے رحمی سے مارا گیا اور دونوں کو ایک درخت سے لٹکاکر جھارکھنڈ کے جھابر گاؤں میں پھانسی دے دی گئی۔ اس معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے آٹھ افراد کو سزائے عمر قید کا مستحق قرار دیا۔ سب رنگ کی ویب سائٹ پر 26 دسمبر 2018ء پر دی گئی اطلاع کے مطابق مظلوم اور امتیاز کے رشتے داروں نے ان آٹھ افراد کو ضمانت نہ دینے کی گزارش کی کیونکہ اس سے انہیں جان کا خدشہ ہے۔ مظلوم کی بیوہ سائرہ بی بی نے تاسف کا اظہار کیا کہ نہ تو کوئی سرکاری معاوضہ انہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی رحم دلانہ بنیاد پر ملازمت کی پیش کش کی گئی ہے۔ [203]
6 منہاج انصاری (جھارکھنڈ) 9 اکتوبر، 2016ء (بحوالہ روزنامہ سیاست) منہاج انصاری ایک 22 سالہ نوجوان تھا۔ وہ ایک واٹس ایپ گروپ کا ایڈمن بھی تھا۔ وہ گائے کے گوشت سے متعلق ایک پیام کو لوگوں میں بانٹ رہا تھا۔ اسے کچھ اور لوگوں کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا تھا۔ حالانکہ منہاج کے اور ملاقاتی ایک دن بعد زبردست مار پیٹ اور زدوکوب کے نشانات کے ساتھ چھوڑ دیے گئے تھے، تاہم منہاج کو حراست ہی میں رکھا گیا۔ اس کے خاندان کے ایک رکن کے مطابق اس کی آنکھیں ضرورت کہیں زیادہ کھلی ہوئی تھیں، وہ دراصل بے کار ہو چکی تھیں، اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی گئی تھی، اس کے پاؤں توڑ دیے گئے تھے۔ منہاج ایک سالہ لڑکی کا باپ تھا۔ سیاست اخبار کی اطلاع کے مطابق سب انسپکٹر ہریش پاٹھک کے خلاف ایف آئی آر اس معاملے میں درج کی گئی تھی۔ متوفی کے ورثاء کو دو لاکھ کے معاوضے کی پیش کش کی گئی تھی۔[204]
7 پہلو خان (راجستھان) یکم اپریل، 2017ء مزید معلومات کے لیے عامر خان کے گائے ہوئے نغمے کے الفاظ (جو جدول سے اوپر رقم کیے گئے ہیں) اور اس قطعے کو ملاحظہ فرمایئے۔
8 علیم الدین انصاری (جھارکھنڈ) 29 جون 2017ء ٹانڈ بازار کے نزدیک بھیڑ علیم الدین کو بیف اسمگلر بتا کر زبردست پٹائی کی تھی اور علیم الدین کی ماروتی ویان کو نذر آتش بھی کر دیا گیا تھا ۔ بعد میں اسپتال کو لے جاتے ہوئے علیم الدین کی موت واقع ہو گئی تھی۔

اس کیس میں حکومت کی جانب سے رام گڑھ ایڈیشنل پراسکیوٹر ایس کے شکلا نے کیس کی کارروائی پوری کی۔ریاستی حکومت نے ایک سال میں معاملہ کی سماعت مکمل کرنے کے لیے فاسٹ ٹراک تشکیل دی تھی۔فاسٹ ٹراک عدالت میں تقریبًا 8 مہینوں میں ہی اس کیس سے جڑی سماعت پوری کرلی تھی۔ عدالت نے دیپک مشرا ،چھوٹوں ورما اور سنتوش سنگھ کو اہم ملزم قرار دیا تھا۔ان کے علاوہ بی جے پی لیڈر نیتا نند مہتو، وکی ساؤ ،سکندر رام،کپل ٹھاکر ، روہت ٹھاکر ،راجو کمار ، وکرم پرساد او راتم رام کو بھی قصور وار قرار دیا گیا تھا۔[205]

9 عمر خان (راجستھان) 10 نومبر، 2017ء راجستھان کے الور ضلع کے گووند گڑھ تھانہ علاقہ کے تحت عمر خان قتل معاملے کے چار ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال کیے گئے ہتھیار اور مہندرا بولیرو گاڑی کو ضبط کر لیا ہے، جسے ایف ایس ایل کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نے خوشی رام، روہت آشو، بنٹی اور دشرتھ سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے، جن کے قبضے سے عمر خان کو جس ہتھیار سے گولی مار دی گئی تھی، اس ہتھیار پر قبضہ کیا گیا ہے۔ ملزمان کی طرف سے عمر خان کو بھرت پور ضلع کے گہنکر میں کو گولی مار کر قتل کے بعد بولیرو ٹوکری میں لاش کو پٹک کر الور ضلع کے میں ریلوے ٹریک پر پٹک دیا تھا۔سپرنٹنڈنٹ راہل پرکاش نے کہا کہ عمر خان کے قتل کیس میں 8 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کیس کی تحقیقات میں مصروف ہے۔غورطلب ہے کہ عمر خان، طاہر اور جبار گائے لے کر جا رہے تھے، تبھی مبینہ گورکشکوں کی طرف سے ان کو روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ سب نہیں رکے ۔ انہوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس سے عمر خان کو گولی لگ گئی۔10 نومبر کو عمر خان کے قتل کے بعد ملزمان نے اس کی لاش کو ریلوے ٹریک پر ڈال دیا تھا، جس کی شناخت 12 نومبر کو گھاٹمکا رہائشی علاقے میں عمر خان کے طور پر ہوئی تھی۔[206]
10 محمد قاسم (اترپردیش) 18 جون 2018ء مغربی اترپردیش کے ہاپوڑ میں گاؤ کشی کے الزام میں پیٹ پیٹ کر ایک مسلم نوجوان محمد قاسم کو مار دیا گیا۔ قاسم کی آوازوں کو سن کر اسے بچانے پہنچے ایک بزرگ کسان سمیع الدین پہنچے تھے، جو اتنے زخمی ہوئے انہیں علاج کے لیے ہسپتال جانا پڑا۔ اس معاملے کے ایک کلیدی ملزم کو محض 20 دن میں ہی ضمانت دے دی گئی۔[207] محمد قاسم کے بیٹے نے سپریم کورٹ میں فروری 2019ء میں درخواست دائر کرکے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جانچ اترپردیش کے باہر کی ایس آئی ٹی سے کرائی جائے۔ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔ کورٹ نے اس درخواست کو بھی زخمی بزرگ سمیع الدین کی درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔05 ستمبر، 2018 کو اس تشدد کا شکار سمیع الدین کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملے کی جانچ میرٹھ رینج کی براہ راست نگرانی میں کرنے کا حکم دیا تھا۔ سماعت کے دوران کورٹ نے کہا تھا کہ میرٹھ رینج کے آئی جی ہجومی تشدد پر اس کے حکم کے مطابق کام کریں گے۔ گزشتہ 13 اگست، 2018 کو کورٹ نے میرٹھ رینج کے آئی جی کو ہدایت دی تھی کہ متاثرہ خاندان کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے درج کروانے کا انتظام کریں۔کورٹ نے متاثرہ خاندان کو ضروری سیکورٹی مہیا کرانے کی ہدایت دی تھی۔[208]
11 اکبر خان (راجستھان - بعض اطلاعات کی رو سے یہ نام رہبر خان یا رخبر خان کے طور پر بھی لکھا جا چکا ہے۔) 21 جولائی، 2018ء الور ضلع، راجستھان میں اکبر خان گئو رکشکوں کے تشدد میں بری طرح سے زخمی ہوئے تھے۔ انہیں علاج میں پہنچانے میں پولیس نے کافی تاخیر کی۔ اس کے علاوہ، زندگی کی جدوجہد کر رہے شخص سے لا تعلق ہو گر پولیس اہل کاروں نے چائے کا بریک بھی لیا۔ الور ایچ ایس اسپتال میں نائٹ ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر حسن علی کا کہنا ہے کہ اگر زخمی اکبر خان کو بر وقت اسپتال لے آتے تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس جب اکبر خان کواسپتال لے کر آئی تب تک وہ مرچکا تھا۔اس بات کو راجستھان پولیس کے اعلی عہدیداروں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پولیس سے غلطی ہوئی ہے۔اور یہ بھی کہا کہ اگر پولیس مستعدی سے کام لیتی تو یہ سانحہ روکا جاسکتا تھا اور اکبر خان شاید آج زندہ ہوتا۔[209]

موسیقی جیسے تخلیقی فن کو کسی کے سیاسی اظہار خیال کا ذریعہ بنانا اکثر انٹرنیٹ پر ٹرول کو دعوت دیتا ہے۔ مگر عامر عزیز کے لیے نفرت نئی نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ بردریوں کی بجائے افراد کو نشانہ بنانے کے زیادہ کام میں آتا ہے۔ عامر نے یہ بھی یاد دلایا جنید خان ہجومی تشدد میں ہلاک ہو گیا حالانکہ اس ہلاکت اور اس جیسی دوسری ہلاکتوں کا متاثرہ اس شخصیت کی انٹرنیٹ یا سماجی میڈیا پر موجودگی سے کچھ بھی تعلق نہیں تھا۔ بقول ان کے: "یہ ایک فطری بات ہے کہ اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجودہ بر سر اقتدار حکومت سے متعلق اپنے دل میں خوف کا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ خوف ہر جگہ ہے: انٹرنیٹ پر، سڑکوں پر، بسوں میں اور ٹرینوں میں بھی۔"[210]

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے فارغ طالب عالم کی وائرل نظم[ترمیم]

2019ء میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل 27 سالہ طالب علم نوین چَورے نے بھارت میں ہجومی تشدد پر بہت ہی افسردہ ہو کر ایک طویل ہندی کویتا (نظم) لکھی ہے اور اسے درد بھری آواز میں پیش بھی کیا ہے۔ اس میں انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں ہجومی تشدد اس قدر اور اس درجہ بڑھ گیا ہے کہ کوئی اس پر انگلی اٹھانے سے ڈرتا ہے۔ جو اس طرح سے جرأت کرتا ہے، وہ اپنی انگلی کھو سکتا ہے۔ سماجی میڈیا میں بے حد مقبول ان کی نظم کے چند مصرعے اس طرح ہیں:

پِھر بھی گر کوئی ضد پکڑ لے
"کیا ہوا کس نے کیا ؟"
سوچ كے انگلی اٹھانا
کٹ رہی ہیں انگلیاں
بات کو کچھ یوں گھماانا
نفرتوں کا روگ تھے
دھرم نہ کوئی ذات ان کی
بھیڑ تھی کچھ لوگ تھے

نوین نے اس خیال کا اظہار کیا کہ وہ چاہتے ہیں ملک کے حالات اس قدر خوش گوار انداز میں بدلیں کہ ان کی نظم از کار رفتہ یا قصۂ پارینہ کے طور پر ناموزوں لگے۔ مگر ملک کے موجودہ حالات اور بلوہ گروں کا حاوی اور خوف زدہ کرنے کا اپنا موقف ہی اس نظم کو تقویت بخشتا ہے۔ وہ ہجومی بلوہ گروں کے مقابلے کے لیے ہجوموں سے نجات دہندوں کی بات کرتے ہیں، جس کے لیے پورے سماج کی بے داری اور ہکجہتی کی سخت ضرورت ہے۔[211]

ہجومی تشدد پر بین الاقوامی رد عمل[ترمیم]

عالمی سطح پر منفی رد عمل اور تشویش کا اظہار 2015ء میں دادری میں محمد اخلاق سیفی کی گاؤ کشی کے الزام میں ہجومی تشدد اور قتل کے بعد ہی سے ہونے لگا تھا۔ اس واقعے کے فوراً بعد اس وقت کے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کولمبیا یونیورسٹی میں ایک لیکچر دینے گئے۔ لیکچر کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں ان سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر موصوف نے فراست سے کام لیتے ہوئے اسے ایک باشعور ملک میں رو نما ہونے والا شاذ و نادر واقعہ قرار دینے کی کوشش کی اور اس سنگین جرم کے مکرر رونما ہونے کے امکانات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کیا کہ:

بھارت ایک باشعور سماج ہے۔ ہم کو ان سب واقعات سے اوپر اٹھنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کے لیے کسی بھی طرح کی نیک نامی کا باعث نہیں بنتے۔[212]
بوداپست، مجارستان میں مشرقی یورپ میں قائم اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کا صدر دفتر
  • اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل (United Nations Human Rights Council - UNHRC) نے تبریز انصاری کے نجومی قتل پر خصوصی توجہ اس وقت دی جب بھارت میں مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے ہجومی قتل کو اقوام متحدہ کو معاشی و سماجی کونسل سول سوسائٹی نیٹ ورک (United Nation’s Economic and Social Council Civil Society Network - UNSC) میں پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایک ای میل دہلی میں مقیم صحافی سے فعالیت پسند بننے والے ساکیت گوکھلے کو بھیجا گیا جس میں تبریز انصاری کے ہجومی قتل کی تفصیلات پوچھے گئے تاکہ یکم جولائی 2019ء کو اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے عمومی اجلاس میں بہتر تفہیم کو بروئے کار لائے۔ یہ ای میل اقوام متحدہ کے جنیوا کے صدر دفتر سے گوکھلے کی اس رپورٹ کے جواب میں میں بھیجا گیا تھا جسے گوکھلے نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کو بھیجی تھی۔ اس رپورٹ اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں واقعے پر تشویش سے بھارت کی حکومت پر ایک بین الاقوامی دباؤ پڑ گیا تھا۔ گوکھلے اس موقع پر اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے بھی موضوع بحث بن گئے تھے۔ تاہم گوکھلے نے وضاحت کی وہ کانگریس پارٹی کے ملازمین میں سے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی سیاسی پارٹی سے حکم لے رہے ہیں۔ اگر چیکہ وہ موجودہ حکومت کے متبادل کے طور پر کانگریس کو دیکھتے ہیں، تاہم ان کی تحقیق اور انسانی حقوق کی سرگرمیاں ان کی انفرادی پہل ہے اور وہ ہجومی تشدد کی بڑھتی رفتار سے پریشان ہیں۔ انتخابات کے بعد ہجومی قتل بھارت میں روز مرہ کی بنیاد پر جاری ہے۔[213]
  • اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں ذکر کیا جاتا رہا۔ مگر عالمی برادری میں جس ہجومی تشدد اور قتل کا واقعہ متعدد مباحثوں کا موضوع بنا، وہ 2019ء میں رو نما ہونے والا جواں سال تبریز انصاری کا قتل تھا جس کا تذکرہ اوپر کے قطعے میں کیا جا چکا ہے۔ اس واقعے پر ریاستہائے متحدہ کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے صدرنشین ٹونی پرکینز نے حسب ذیل بیان جاری کیا:
ہم سخت ترین الفاظ میں اس بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہیں جس میں مجرموں نے اطلاعات کے بموجب انصاری سے جبراً ہندو جاپ کروائے اور اسے گھنٹوں مارا۔ انصاری اس خوفناک حملے کے نتیجے میں زخموں کی تاب نہ لا سکا اور انتقال کر گیا۔ ہم حکومت ہند سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ٹھوس اقدامات کرے جن سے اس قسم کے تشدد اور دھمکیوں کا انسداد ہو، انصاری کے قتل کی مکمل تحقیقات کرے اور مقامی پولیس کے ذریعے معاملہ کو نپٹائے۔ عدم احتساب ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مذہبی اقلیتوں کو بغیر کسی سزا کے خوف کے نشانہ بنا سکتے ہیں۔[214]
  • اس واقعے پر نیو یارک ٹائمز نے یہ تبصرہ کیا کہ یہ زدوکوب ملک کی ہندو اکثریت اور ان کی سب سے بڑی مسلمان اقلیت کے درمیان میں تناؤ کا ایک اور اشارہ ہے۔ اس ویڈیو کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ بھی تھی اس میں مار پیٹ کا بہیمانہ عمل دوسری وارداتوں سے کہیں بڑھ کر تھا اور جو اب بھارت میں نسبتاً عام ہو چکا ہے، بلکہ ہجوم کی متواتر کوشش ہے کہ متاثرہ شخص کو وہ نعروں کی جاپ کروائی جائے جو بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اکثر استعمال کیے جاتے ہیں “جے شری رام” اور “جے ہنومان” وغیرہ جو ہندو بھگوانوں سے متعلق ہیں۔[215]
ہیومن رائٹس واچ کا ایک وفد
  • ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ شائع کی جو بھارت کے ان نگراں کار گروپوں پر مرکوز ہے جو اقلیتوں پر گائے کے تحفظ کے نام پر حملوں پر مرکوز ہے۔ یہ 104 صفحات پر مشتمل رپورٹ ہے، جس کا عنوان "بھارت میں گایوں کا پر تشدد تحفظ: نگراں کار گروپوں کے اقلیتوں پر حملے" (“Violent Cow Protection in India: Vigilante Groups Attack Minorities”) ہے۔ اسے 18 فروری 2019ء کو جاری کیا۔ اس رپورٹ میں ان تمام ہجومی قتلوں پر روشنی ڈالی گئی جو ہریانہ، اترپردیش، راجستھام اور جھارکھنڈ میں ہوئے – جنہیں تعداد کی کثرت کی وجہ سے منتخب کیا گیا تھا۔ اس میں کل ملا کر 11 واقعات کا جائزہ لیا گیا جس میں 14 افراد کا انتقال ہوا۔ رپورٹ میں حکومت کے رد عمل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گانگولی نے ان نفرت پر مبنی جرائم کے بارے میں بیان دیا کہ "ہجومی حملوں پر بھارتی پولیس تحقیقات ممکن ہے کہ اقلیتی متاثرین کو ہی مورد الزام ٹھہرائیں کیونکہ وہ حکومت سے روابط رکھنے والے انگراں کاروں کی ہامی بھریں گے۔ حکومت اور قومی افسروں کو اپنے انسانی حقوق کی ذمے داریوں کو نظر انداز کرنے کی بجائے ہجومی قتل کے بارے میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔"[216]
سابق امریکی صدر بارک اوباما کے سیاسی انتخابی ریلی کے دوران
  • 2015ء کے سالانہ قومی دعائیہ ناشتے کے دوران سابق امریکی صدر بارک اوباما نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ مہاتما گاندھی اپنی وطن میں ہو رہے مظالم سے صدمے میں ہوتے جس کی شہرت اس کے ہمہ اوست نظریے میں ہے۔ ان الفاظ تھے:
میشیل اور میں بھارت سے لوٹے ہیں — وہ ناقابل یقین، خوبصورت ملک، جو درخشاں وجودی کثرت سے بھرا ہے — مگر ایک ایس جگہ جہاں پچھلے کچھ سالوں میں سبھی مذاہب کے لوگ، کسی نہ کسی موقع پر، دیگر عقیدے کے لوگوں کی جانب سے نشانہ بنائے گئے ہیں، محض اپنے ورثے اور عقائد کی وجہ سے — عدم رواداری کے وہ اعمال جو گاندھی جو صدمہ پہنچا سکتے تھے، اس شخص کو جس نے اس ملک کی آزادی میں مدد کی۔[217]
اوباما کے مذہبی عدم رواداری پر تبصرے کے بعد نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ ضروری ہو گیا کہ "مودی مذہبی عدم رواداری کے موضوع پر اپنی بہری کر دینے والی خاموشی توڑ دیں۔"[218]

اسی ہجومی تشدد کی زہر فشانی اور مزید تباہ کاری سے متعلق تنبیہ کولمبیا یونیورسٹی میں ہندوستانی نژاد پروفیسر سُدیپتا کوی راج بی بی سی نیوز کو دیے اپنے بیان میں کرتے ہیں کہ "تشدد کی ہر کارروائی جسے آپ کسی احتجاج کے بغیر برداشت کرتے ہیں، وہ اسے آپ کی دہلیز سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔ چونکہ معمولی تشدد کو برداشت کیا جاتا ہے، اسی لیے شدید تشدد ممکن ہو جاتا ہے۔[219]" بی بی سی کے مطابق یہ ایک ایسی تنبیہ ہے جسے بھارت بار بار نظر انداز کر رہا ہے۔[219]

اسی واقعے کی وجہ سے نہ صرف دیوبند، سہارنپور، کولکاتا، ممبئی، دہلی، بھوپال اور بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے،[220] بلکہ یہ احتجاج انگلستان کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کے روبرو بھی ہوئے جو کرکٹ عالمی کپ 2019ء کے مراکز میں سے ایک تھا۔ ریاستہائے متحدہ امریکا میں یہ احتجاج بوسٹن، نیو یارک، ڈیلاس [221] اور شکاگو میں دیکھا گیا۔ [222]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسکرول ڈاٹ ان: مودی کا دور اقتدار - بھارت میں ہجومی تشدد کی بڑھتی لہر کا پس پردہ محرک کیا ہے
  2. "Shocking! Pune couple killed by villagers over black magic suspicion"۔ www.timesnownews.com۔
  3. "3 killed by villagers on sorcery suspicion"۔ The New Indian Express۔
  4. ""They Were Witches": Jharkhand Woman, Daughter Killed Over "Black Magic""۔ NDTV.com۔
  5. "4 lynched in Jharkhand for practicing black magic"۔ انڈیا ٹی وی۔
  6. "14 sensational murders that shook India"۔ ریڈیف۔
  7. "Ankit Saxena's grieving father doesn't allow son's murder to become a communal issue"۔ ویو ہیڈ لائنز ڈاٹ کام۔
  8. "With his multi-faith Iftar in Delhi, Ankit Saxena's father sets an example for these fraught times"۔ اسکرول ڈاٹ ان۔
  9. "Soch badlo papa: BJP MLA's daughter who married Dalit boy makes emotional appeal to dad on live TVtimes"۔ انڈیا ٹوڈے۔
  10. RUBEN BANERJEE فروری 8؛ 1999 ISSUE DATE: فروری 8؛ 1999UPDATED: فروری 27؛ 2013 16:40 Ist۔ "Staines' killing: Murder of Australian missionary and his two sons in Orissa shocks India"۔ India Today۔
  11. "Rape of elderly nun sparks outrage in West Bengal"۔ پتریکا ڈاٹ کام۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-15۔
  12. "Violence Against Christians in 23 States of India"۔ زیڈ ای این آئی ٹی۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-24۔
  13. "India sees rise in public lynchings of Christians"۔ کیتھولک نیوز ایجنسی۔
  14. "Spanish nun who served poor in India for 50 years given 10 days to leave the country"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  15. "Gang-rape in India: An adventure you can get away with?"۔ فرسٹ پوسٹ۔
  16. "16/12 Nirbhaya Rape Case: An Incidence Which Shaken Up Whole Delhi Full Story"۔ انڈین ٹریبیون۔
  17. "Nirbhaya Act"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  18. "Hand over Kathua rape-murder case to CBI: Bhim urges PM"۔ United News of India۔ 14 اپریل 2018۔
  19. "Kathua victim's father says shift trial, Supreme Court seeks J-K govt reply"۔ The Indian Express (انگریزی زبان میں)۔ 2018-04-17۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-04-18۔ “Ordinarily, police is the authority for investigation. A case has to be made out that it (investigation) is not going in the right manner. In the absence of that, as presently advised, we are not entering into that,” the bench told Senior Advocate and National Panthers Party Chief Patron Bhim Singh, who sought to intervene in the matter.
  20. "SC query on plea for trial transfer"۔ The Telegraph (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-04-18۔ The bench, however, made it clear that it would not allow any intervention application after senior advocate and J&K Panthers Party leader Bhim Singh pleaded that the matter be entrusted to an independent agency like the CBI.
  21. "Outrage spreads over eight-year-old's rape"۔ BBC News (انگریزی زبان میں)۔ 13 اپریل 2018۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2018۔
  22. "J&K: Kathua Rape-And-Murder Of 8-Year-Old Girl Was Aimed At Driving Nomads Out: Official"۔ Outlook India۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2018۔
  23. Marwa Eltagouri (اپریل 11, 2018)۔ "An 8-year-old's rape and murder inflames tensions between Hindus and Muslims in India"۔ واشنگٹن پوسٹ (انگریزی زبان میں)۔ ISSN 0190-8286۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اپریل 2018۔
  24. "#JusticeForAsifa: J&K To Make Death Penalty Mandatory For Monsters Who Rape Children"۔ انڈیا ٹائمز۔
  25. Rebel - (admin) (جون 4, 2014)۔ "Mob Violence In Pune Over Facebook Post"۔ The Mutinous Indian – If the deaf are to hear, the sound has to be very loud۔ he Mutinous Indian۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ Administration usually plays Dhritrashtra while mobs indulge in violence and arson. Does making appeals to people to maintain peace complete the duties of the Police ? What else has been done to re-established public confidence ? Why do we tend to go soft on mobs and harsh on individuals ? If Police is not capable enough to handle the situation, why not call in the army and have them impose curfew and conduct flag marches in the city? I am sorry to say, but even Lalu Yadav in Bihar proved better in handling communal tension than the current administration of Maharashtra.
  26. Sanjeev Sabhlok (اکتوبر 23, 2015)۔ "Dr Yadu Singh of Sydney thinks he has a right to incite Indians to bigotry but that I have no right to reform India's governance"۔ sabhlokcity.com۔ sabhlokcity.com۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ I have a right to hold a view, without worrying about what you think. Your commentary against me is despicable and beneath contempt. How dare you call it immoral? How dare you run “Freedom party” for India to fix India’s problems, while sitting in Melbourne? You have some sort of “Messiah” complex! You are out of touch with reality here as well as India.
  27. Sanjeev Sabhlok (اکتوبر 23, 2015)۔ [hthttps://www.sabhlokcity.com/who-am-i/ "Who am I?"]۔ sabhlokcity.com۔ sabhlokcity.com۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ I joined the IAS in 1982 in Haryana cadre. After marriage to a fellow officer I chose to move to Assam cadre. I worked in various capacities, including Deputy Commissioner of Barpeta district, Professor of Management at the Lal Bahadur National Academy of Administration and Commissioner in the Government in the State Government of Meghalaya in the rank of Joint Secretary to the Government of India.
  28. OPINDIA STAFF (جولائی 28, 2019)۔ "Bihar man unleashes his dog on cow, journalist invents Hindu-Muslim angle"۔ OpIndia۔ OpIndia۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ However, journalist Narendra Nath, gave it a communal angle and spread fake information that the matters escalated over rumours that the dog owner was a Muslim.
  29. The Logical Indian Crew Crew (اگست 24, 2008)۔ "From Assam To Tamil Nadu: The Fake WhatsApp Messages Of Child Kidnappers You Forwarded Have Taken Many Lives"۔ The Logical Indian Crew۔ TLI۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ It is just not Assam, the fake videos of child kidnappers have been travelling around on WhatsApp and have led to the death of many others across India. The menace started from Jharkhand and then happened in Andhra Pradesh and Telangana.
  30. Lauren Frayer (جولائی 18, 2018)۔ "Viral WhatsApp Messages Are Triggering Mob Killings In India"۔ این پی آر ڈاٹ او آر جی۔ این پی آر۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اگست 2019۔ Her husband recently was forwarded a video that shows a child's mutilated body. It's unclear where or when the video is from, or whether it has been doctored. A voice implores people to forward it to others, and to stay vigilant — that kidnappers are on the loose.
  31. نیوز 18 رپورٹروں کی ٹیم (جولائی 29, 2018)۔ "Death By WhatsApp"۔ این پی آر ڈاٹ او آر جی۔ این پی آر۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اگست 2019۔ he fatal messages were both in text and in audio. They were in Telugu, Kannada, Tamil, Hindi, Assamese and Gujarati among others.
  32. بیتوا شرما (اگست 4, 2019)۔ "WhatsApp Groups Reveal The Hate Against Muslims In Delhi's Residential Colonies"۔ ہف پوسٹ۔ ہفنگٹن پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ Five years after Narendra Modi first swept to power, and months after his re-election in a polarising general election, anti-Muslim rhetoric has been normalised to point that it is freely shared in Whatsapp groups meant to coordinate the activities of Resident Welfare Association (RWA)، in professional groups set up by work colleagues, and in family groups.
  33. امیت بھردواج (مارچ 17, 2017)۔ "How BJP's IT Cell Waged War And Won In UP"۔ نیوز لانڈری۔ نیوز لانڈری۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 24, 2019۔ The campaign against SP has been intent upon providing ‘proof’ that the Yadav family is anti-Hindu and pro-Muslim. On مارچ 4, UttarDegaUP page launched a direct attack on Chief Minister Akhilesh Yadav. A video posted on the page claimed Yadav sat inside the temple in the way one offers Muslim prayers. As of now, it has 18.9 lakh and over 6,300 comments.
  34. Reuters Editorial (مئی 16, 2008)۔ "Indian village proud after double "honor killing""۔ Reuters۔ The bodies of Sunita Devi (L)، 21, and her partner Jasbir Singh, 22, lie on the ground after they were killed by villagers in an "honour killing" in Ballah village in the northern Indian state of Haryana مئی 9, 2008. Growing economic opportunities for young people and lower castes in Haryana have made "love marriages" more common, experts say, and the violent repression of them has risen in tandem as upper caste Jat men fight to hold on to power, status and property. REUTERS/Stringer
  35. Brittany Bostic (YES Research Assistant) (فروری 20, 2014)۔ "Does Social Media Perpetuate Youth Violence?"۔ Michigan Youth Violence Prevention Center (MI-YVPC)، based at the University of Michigan School of Public Health, one of six National Centers of Excellence in Youth Violence Prevention funded by the Centers for Disease Control and Prevention.۔ Very similar to the recent cyber bullying phenomenon, Twitter, Facebook, and YouTube have become a platform for youth violence. ABC News covered a story where they interviewed a Chicago resident that showed correspondents how sites were used by gang members to promote violence. It showed how gangs used social media sites to make threats, “call out” rival gangs, promote violence and recruit members. This activity led to real “Stomp-Outs”، real shootings, and real deaths.
  36. Wisdomjobs.com Editorial (اگست 12, 2016)۔ "Social Media and its impact on the Youth"۔ Wisdom IT Services India Pvt. Ltd۔ Social media, now a days is leaving a negative impact rather being positive. Most of the youth spend lot of time on the internet to visit and check their single or multiple accounts. This will affect students, youth and productivity of work because of the extreme use of technology. The risks of using social media may also include mental health, cyber bulling, texting and revelation to problematical and unlawful content and privacy violations.
  37. Bharathi Jain (نومبر 5, 2014)۔ "Social media being used to instigate communal riots, Rajnath says"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ The top police officers will also brainstorm on the developing situation in Afghanistan and Pakistan, and its implications on terrorism and law and order situation in India. Issues like left wing extremism, cross border terrorism, activities of Jehadi terror outfit will also figure on the agenda.
  38. India Today Web Desk (جون 4, 2017)۔ "ISIS failed in India despite country's large Muslim population: Rajnath Singh"۔ انڈیا ٹوڈے۔ Singh, who also spoke about the situation in Kashmir and the challenge of Naxalism, said Islamic State (IS or ISIS) has failed to gain a foothold in India despite the country's large Muslim population. "India is the second largest country as far as Muslim population in the world is concerned. I can say with full responsibility tha۔ despite such a large population (of Muslims)، the ISIS has not been able to set foot," Rajnath Singh said.
  39. India Today Web Desk (جولائی 19, 2018)۔ "Rajnath Singh says lynching is a state issue, Opposition walks out"۔ انڈیا ٹوڈے۔ The Opposition today walked out of the Lok Sabha after Union Home Minister Rajnath Singh made a statement saying that mob lynching is a state subject and the local government should take "strict action" to prevent it. The matter was raised in both Houses of Parliament today.
  40. Swartz, Jon (6 اکتوبر 2008ء)۔ "Berkman Center pioneers steer the course of cyberspace – USATODAY.com"۔ USATODAY.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2019۔
  41. Swartz, Jon (27 اگست 2019)۔ "Global Voices"۔ Scribd.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2019۔
  42. ٹنڈن، ادیتی (مختلف مقولات کی تالیف اور مضمون کی نگارش) (8 جولائی 2018)۔ "Real consequences of fake news"۔ ٹریبیون انڈیا کی ویب سائٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2019۔
  43. گلوبل وائسیس سے جڑے مؤلف و قلمکار وشال) (8 جولائی 2019)۔ "Officials blame WhatsApp for spike in mob killings, but Indians say vicious party politics are at fault"۔ گلوبل وائسیس سے جڑے وشال کا اسکرائبڈ ڈاٹ کام پر پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2019۔
  44. "Those who want to eat beef should go to Pak: Mukhtar Abbas Naqvi"۔ ہندوستان ٹائمز۔
  45. "'I eat beef, can somebody stop me?' Rijiju retorts to Naqvi statement"۔ ہندوستان ٹائمز۔
  46. "Goa CM Manohar Parrikar backs beef traders"۔ اکنامک ٹائمز۔
  47. "India BJP leader says Muslims should stop eating beef"۔ بی بی سی نیوز۔
  48. "Cow Vigilantes in India Killed at Least 44 People, Report Finds"۔ بلومبرگ۔
  49. "Dalits thrashed for allegedly skinning dead cow in Gujarat"۔ بنگلور میرر۔
  50. "Christian killed in India for skinning a dead ox"۔ کویت ٹائمز۔
  51. "گئو تنگ واد"۔ ٹویٹر ہیش ٹیگ۔
  52. "گئو تنگ واد"۔ فیس بک ہیش ٹیگ۔
  53. "Victims of Gautankwad: Pehlu Khan"۔ Citizens for Justice and Peace (CJP)۔
  54. "گئو تنگ واد"۔ فیس بک ہیش ٹیگ۔
  55. "How Hindustan is turning into Lynchistan"۔ ڈیلی ہنٹ ویب سائٹ۔
  56. ڈی این اے ویب ٹیم۔ "Alwar: Pehlu Khan, lynched to death by cow vigilantes in 2017, now chargesheeted by Rajasthan police"۔ ڈی این اے انڈیا۔
  57. Scroll Staff۔ "Madhya Pradesh: 16 men forced to chant 'gau mata ki jai' for allegedly transporting cattle illegally"۔ Scroll.in۔
  58. نسخہ محفوظہ فروری 8, 2016, در وے بیک مشین
  59. صبا نقوی Jun 30۔ "From Siya Ram to Jai Shri Ram"۔ ٹریبیون انڈیا۔
  60. Press Trust of India PuneMay 28؛ 2019UPDATED: 28 مئی؛ 2019 18:11 Ist۔ "Pune doctor accosted in Delhi, asked to chant Jai Shri Ram"۔ India Today۔
  61. ABP News Bureau (جون 25, 2019)۔ "Jharkhand mob violence: Beaten, forced to chant 'Jai Shri Ram'، man dies; 11 arrested"۔ www.abplive.in۔
  62. "Violence over 'Jai Shri Ram' in Delhi? Muslim man alleges car attack"۔ The Week۔
  63. ^ ا ب "Rising hate crimes and intolerance can seriously damage economy, warns industrialist Adi Godrej previous order"۔ اسکرول ڈاٹ اِن۔ جولائی 31, 2019۔
  64. "Dalit women stripped, beaten, paraded naked in UP village"۔ انڈیا ٹوڈے۔
  65. "Dalit women inhumanely naked paraded stripped and dragged in streets"۔ ہائٹ پوسٹ۔
  66. "Dalit woman 'stripped, beaten' in Vizag"۔ دی ہندو۔
  67. "Dalit To Stop Dalits From Drinking Water, Endosulfan Added To The Well By Upper Caste"۔ HEEALS۔
  68. "দলিতকে বেঁধে তাঁর গায়ে প্রস্রাব، খাওয়ানো হল মানুষের মল"۔ انڈیا ٹائمز۔
  69. "Dalit Students In Himachal School Made To Sit In Area 'Meant For Horses' To Hear PM's 'Pariksha Pe Charcha'"۔ ہفنگٹن پوسٹ۔
  70. "Dalits Are Still Threatened, Abused, Beaten & Killed For Absurd Reasons. Yes, It's 2018."۔ انڈیا ٹائمز۔
  71. "ہاشم پورہ اور ملیانہ میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی کہانی"۔ بی بی سی اردو)۔
  72. "گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد"۔ بی بی سی اردو)۔
  73. "بھارت: گجرات فسادات میں ملوث 24 افراد قصوروار قرار"۔ وائس آف امریکا)۔
  74. "2004 سے 2017 کے درمیان میں فرقہ وارانہ تشدد میں 1600 سے زیادہ لوگوں کی موت؛ آر ٹی آئی"۔ ایشیا ایکسپریس (روزنامہ)۔
  75. "2004 سے 2017 کے درمیان میں فرقہ وارانہ تشدد میں 1600 سے زیادہ لوگوں کی موت؛ آر ٹی آئی"۔ دی وائر اردو۔
  76. "سال 2007کے فر قہ و ارانہ فسادات کا معاملہ"۔ روزنامہ سیاست۔
  77. "Sonbhadra killings: Before tractors rolled in with guns, pradhan & his men targeted the tillers"۔ انڈین ایکسپریس۔
  78. "Sonbhadra shootout: After Priyanka's return, Yogi Adityanath to visit victims' families"۔ انڈیا ٹوڈے۔
  79. "Gaurakshaks Can't Be Linked With Violence Says RSS Chief"۔ خاص خبر ڈاٹ کام ویڈیو نگار خانہ۔
  80. "RSS chief asks why no uproar over attacks on cow protectors: Mohan Bhagwat says there is a double standard over the violence perpetrated in the cow protection issue"۔ گلف نیوز۔
  81. "The cow and Savarkar: Where the bovine is not divine but the framework is still hardline Hindutva"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  82. J. K. R. Staff (جولائی 26, 2019)۔ "'जो न बोले जय श्री राम، उसको भेजो कब्रिस्तान' गाने पर विवाद، सिंगर गिरफ्तार"۔
  83. "समाज में नफरत फैलाने वाला वीडियो वायरल करने वाले चार धरे गए"۔ Amar Ujala۔
  84. "If a kabristan can be constructed, a shamshaan too should be built: PM Modi"۔ Hindustan Times۔ فروری 20, 2017۔
  85. سب رنگ انڈیاجولائی 7؛ 2018UPDATED: جولائی 8؛ 2018 09:49 Ist۔ "BJP Minister garlands Ramgarh lynching convicts"۔ سب رنگ انڈیا۔
  86. "Victims of Gautankwad: Alimuddin Ansari"۔ نومبر 6, 2017۔
  87. India Today Web Desk New DelhiJuly 6؛ 2018UPDATED: جولائی 6؛ 2018 23:58 Ist۔ "Union minister Jayant Sinha garlands 8 convicted for Ramgarh mob lynching"۔ India Today۔
  88. India Today Web Desk New DelhiJuly 7؛ 2018UPDATED: جولائی 8؛ 2018 09:49 Ist۔ "Yashwant Sinha calls his son 'nalayak' for garlanding 8 men convicted of lynching"۔ India Today۔
  89. "Dadri lynching: Akhlaq murder suspects get jobs at NTPC plant in Dadri | Noida News – Times of India"۔ The Times of India۔
  90. "Dadri lynching: Akhlaq's younger son disturbed by accused being called 'martyr'"۔ ڈی این اے نیوز۔
  91. "Tourism minister Mahesh Sharma visits Dadri lynching accused Ravi Sisodia's village, Twitterati furious"۔ انڈیا ٹوڈے۔
  92. "Dadri lynching: Akhlaq's fridge had mutton, not beef, says UP govt's report"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  93. "Meat in Akhlaq's fridge not beef, but mutton"۔ دکن ہیرالڈ۔
  94. "Meat in Akhlaq's fridge not beef, but mutton"۔ دکن ہیرالڈ۔
  95. "Dadri meat was beef, claims fresh forensic report"۔ دی ہندو۔
  96. "Lok Sabha Elections 2019: Dadri mob lynching accused attends CM Yogi Adityanath's poll rally"۔ ہندوستان ٹائمز۔
  97. "Chargesheet filed against Pehlu Khan's family; case of dairy farmer who was lynched revisited"۔ ٹائمز ناؤ نیوز۔
  98. "Chargesheet filed All 6 accused in Pehlu Khan lynching case acquitted"۔ ریڈیف۔
  99. "Lok Sabha Elections 2019: Dadri mob Lynched by mob denied justice by collective conscience"۔ نیوز 18۔
  100. "The victim of lynching was and always will be a poor"۔ او پی انڈیا۔
  101. "Subodh Kumar, the Cop Who Died in Bulandshahr, Probed Akhlaq Case"۔ دی کوینٹ۔
  102. "बुलंदशहर हिंसा: जमानत पर छूटे आरोपियों का माला पहनाकर हुआ स्वागत، जय श्री राम के लगे नारे، देखें VIDEO"۔ این ڈی ٹی وی۔
  103. "Jharkhand minister asks Cong Muslim MLA to chant 'Jai Shri Ram'"۔ ٹریبیون انڈیا۔
  104. "PEOPLE ARE BEING BEATEN UP IF THEY DO NOT SAY 'JAI SHRI RAM': ASADUDDIN OWAISI"۔ انڈین اعتماد۔
  105. ""Hindustan or Lynchistan? - Ep. 102 – The DeshBhakt with Akash Banerjee""۔ یوٹیوب۔
  106. "In a letter to PM Modi, 49 celebrities raise the issue of rising intolerence in India"۔ newsR۔
  107. "62 celebrities write an open letter to PM Modi against 'selective outrage' and 'false narratives'"۔ Daily Sun۔
  108. "Union Minister Terms Letter Rising 'Mob Lynching' Issue As An Attempt To Destabalise Modi Govt"۔ اے بی پی لائیو۔
  109. "Sadhvi Prachi asks Kanwariyas to boycott Muslim shopkeepers and make way for Hindu employment"۔ نیوز ایکس ڈاٹ کام۔
  110. "Lok Sabha elections 2019: Sangh push to Karnataka BJP campaign"۔ ہندوستان ٹائمز۔
  111. "Letter to PM Narendra Modi: Anurag Kashyap slams Govt, mocks trolls"۔ The Asian Age۔ جولائی 28, 2019۔
  112. ^ ا ب "Mob lynching: SC issues notice in PIL seeking implementation of previous order"۔ لائیو منٹ۔ جولائی 30, 2019۔
  113. "Anurag Kashyap deletes Twitter account; here's why"۔ نیوز بائٹص ایپ ڈاٹ کام۔ جولائی 30, 2019۔
  114. "Blunt talk needed in country today, Infosys co-founder Narayana Murthy says, citing his spat with Sikka previous order"۔ بزنس لائن۔ جولائی 31, 2019۔
  115. "Sign the Petition"۔ Change.org۔
  116. "Mamata Banerjee loses cool as people shout 'Jai Shri Ram' slogans in West Bengal, calls them 'criminals'"۔ زی نیوز۔
  117. "Jai Shri Ram vs Joy Bangla: Desperate Mamata Banerjee Feels Saffron Heat"۔ آؤٹ لک۔
  118. "What actually happened during the Dhulagarh riots?"۔ ڈیلی او۔
  119. "BJP to move NHRC over Dhulagarh riots"۔ The Hindu۔ 21 دسمبر 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2016۔
  120. "Mob Lynching: United Against Hate Launches Helpline For Victims"۔ ہفنگٹن پوسٹ ڈاٹ ان۔
  121. "Jamiat Ulama-i-Hind Holds Aman-Ekta Sammelan to Counter Mob Lynching"۔ روزنامہ کاروان۔
  122. "Activist organises anti-lynching event, Mumbai Police land up at her doorstep"۔ سب رنگ انڈیا۔
  123. "Naseeruddin Shah's Ajmer event cancelled over right-wing protests: Naseeruddin Shah is in the middle of a controversy for his remarks on 'mob violence'. He expressed anxiety over lynching in a video interview with Karwan-e-Mohabbat India."۔ ہندوستان ٹائمز۔
  124. ""How Much More Freedom Do You Want?": Anupam Kher Slams Naseeruddin Shah: Naseeruddin Shah found himself in the centre of a raging controversy after he criticised the manner in which "the death of a cow is being given more importance than the death of a police officer"."۔ این ڈی ٹی وی۔
  125. "In an unlikely friendship, face of 2002 riots fear inaugurates 'Ekta' shop of 'aggressor'"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  126. "Photo Finish"۔ دی ہندو۔
  127. "Why Eye-Witness Video, NDTV Sting Were Dismissed In Pehlu Khan Case"۔ این ڈی ٹی وی۔
  128. "Pehlu Khan lynching case: Acquittals a 'huge disappointment'، says Pehlu's kin"۔ دی ہندو۔
  129. "The Train That 16-Year-Old Junaid Took Is A Horror On Wheels"۔ این ڈی ٹی وی۔
  130. "Junaid Khan lynching case: Judge says govt. lawyer helped the accused, seeks action against him"۔ روزنامہ سیاست۔
  131. "Every Second Cop in India Thinks Muslims Naturally Prone to Crime: Police Survey Report"۔ سکھ سیاست ڈاٹ نیٹ۔
  132. "STATUS OF POLICING IN INDIA REPORT 2019: POLICE ADEQUACY AND WORKING CONDITIONS" (پی‌ڈی‌ایف)۔ غیر سرکاری تنظیم لوک نیتی کی ویب سائٹ پر دستیاب پی ڈی ایف رپورٹ۔
  133. OFFICERS' Pulse (Officers IAS Academy, Chennai) (I S S U E N O . 3 3): 47-48. 2 0 T H J A N U A R Y T O 2 6 T H J A N U A R Y 
  134. "Anti-mob violence bill passed in Manipur"۔ ون انڈیا ڈاٹ کام۔
  135. "Lynching of young Muslim entrepreneur in Manipur last year shows such acts are carefully planned: Khan was accused of being a thief, which fits in with the stereotype of local Manipuri Muslims."۔ اسکرول ڈاٹ ان۔
  136. "Madhya Pradesh passes law against cow vigilantism"۔ انڈیا ٹوڈے۔
  137. ^ ا ب پ "Rajasthan Assembly Passes Anti-Lynching Bill"۔ این ڈی ٹی وی۔
  138. "Adityanath says mob lynching incidents are being given unnecessary importance: The Uttar Pradesh CM said while his government will provide protection to everyone, every individual is expected to respect others' sentiments."۔ اسکرول ڈاٹ اِن۔
  139. "Mob lynching: UP law panel drafts stringent law, proposes seven years to life in jail for attackers"۔ اسکرول ڈاٹ اِن۔
  140. "On UP's Proposed Mob Lynching Law, Mayawati Tweet Attacks BJP & Praises State Panel"۔ انیوز 18۔
  141. "Opposition Demands Enactment of Law Against Mob Lynchings in Bihar"۔ نیوز کلک ڈاٹ اِن۔
  142. "राज्यात मॉब लिंचिंगविरोधी कायदा करा، विरोधकांची विधानसभेत मागणी"۔ اے بی پی ماجھا۔
  143. ^ ا ب "MOB LYNCHING: West Bengal Assembly passes bill against mob lynching, Congress and CPI(M) back legislation"۔ اسکرول ڈاٹ ان۔
  144. "The BJP's opposition to the anti-lynching law in Rajasthan is telling"۔ دی ٹیلی گراف۔
  145. "Relation between RSS and BJP in Rajasthan is telling"۔ الیکشنز ڈاٹ اِن۔
  146. "RSS Vilifying Mamata Banerjee Through Swarajya Magazine to Polarise Bengali Hindus"۔ پیپلز ریویو ڈاٹ اِن۔
  147. "Seven Reasons Why Rajasthan's New Anti-Lynching Law Is Dangerous"۔ سوراج میگ ڈاٹ اِن۔
  148. "Why does BJP not want this law?"۔ دکن ہیرالڈ۔
  149. "One of the best media houses in India"۔ پرنٹرز میسور ڈاٹ کام۔
  150. "Measures to Prevent Mob Violence and Lynching Incidents"۔ ڈبلیو بی ایکسپریس ڈاٹ کام۔
  151. "TMC's Mahua Moitra points out 7 early signs of fascism seen in India in maiden Lok Sabha speechTMC's Mahua Moitra points out 7 early signs of fascism seen in India in maiden Lok Sabha speech"۔ ٰنڈیا ٹوڈے۔
  152. "Mahua Moitra-This Woman Is Stopping Politicians From Snooping In Your Privacy: In a day and age where our online privacy is being encroached upon by businesses and politicians alike, here is one woman who is fighting against it."۔ ہر (خواتین سے متعلق) زندگی ڈاٹ کام۔
  153. "Moitra Files Criminal Defamation Suit Against Zee News' Chaudhary"۔ دی کوینٹ کی ویب سائٹ۔
  154. "India: Amit Shah to head group of ministers to tackle mob lynching"۔ گلف نیوز۔
  155. "New law to curb lynching unlikely"۔ دی ہندو۔
  156. "Why was Tabrez Ansari allowed to die?"۔ ریڈیف۔
  157. "Jharkhand mob lynching: Victim Tabrez Ansari died merely a month and a half after his wedding"۔ فرسٹ پوسٹ ڈاٹ کام۔
  158. "Jharkhand mob lynching: AIMIM gives Rs 50,000 compensation to Tabrez Ansari's kin; appeals Narendra Modi to curb such incidents"۔ فرسٹ پوسٹ ڈاٹ کام۔
  159. "CPI(M) demands Rs 25 lakh compensation for the family of Tabrez Ansari"۔ آؤٹ لک انڈیا ڈاٹ کام۔
  160. "झारखंड सरकार ने माना, Mob Lynching थी तबरेज अंसारी की मौत की वजह Ranchi News"۔ روزنامہ جاگرن کی ویب سائٹ۔
  161. "Gopalganj tragedy victims' kin to get Rs 4 lakh if spurious alcohol claims confirmed: Nitish Kumar"۔ اسکرول ڈاٹ اِن۔
  162. "olice chargesheet drops murder charge against 11 accused in Tabrez killing"۔ ایم ایس این ڈاٹ کام بحوالہ دی انڈین ایکسپریس۔
  163. "11 Accused Of Killing Tabrez Ansari Go Scot-Free, Jharkhand Police Drop Murder Charges"۔ دی لوجیکل انڈین۔
  164. "Tabrez lynching: Murder case couldn't be made, says cop"۔ ریڈیف ڈاٹ کام۔
  165. "ITIKTOK Star Mr Faisu 07 Account was Suspended"۔ ایم آئی ڈاٹ روز بز ڈاٹ کام۔
  166. "Accused in Tabrez Ansari's mob-lynching shot dead? No, video from MP viral"۔ آلٹ نیوز ڈاٹ اِن۔
  167. "Modi breaks silence on mob lynching"۔ اڑیسہ پوسٹ۔
  168. "'We can't turn Hindustan into Lynchistan'"۔ وے بیک مشین پر مین اسٹریم ویکلی کا ذخیرہ شدہ صفحہ۔
  169. "MIM will go national: Asaduddin Owaisi"۔ تلنگانہ ٹوڈے ڈاٹ کام۔
  170. "BJP win will boost lynching: Asaduddin Owaisi"۔ دکن کرانیکل۔
  171. "Asaduddin Owaisi slams PM Modi for statement on minorities"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  172. "Centre mute spectator to mob lynching incidents: Jama Masjid's Shahi Imam"۔ زی نیوز۔
  173. "Vikas मीनिंग : Meaning of Vikas in Hindi – Definition and Translation"۔ ہِن کھوج ہندی انگریزی آن لائن لغت۔
  174. "गाय पर गरमाई सियासत: पीएम मोदी के बयान पर लेफ्ट, कांग्रेस और ओवैसी का पलटवार"۔ نو بھارت ٹائمز۔
  175. "11 सितंबर मुसलमानों से जुड़ी ख़बरों का बुलेटिन, देखिए 5 खबरें"۔ دھاکڑ خبر۔
  176. "The Quint hails YouTube, Facebook success | Ratings/Measurement | News | Rapid TV News"۔ www.rapidtvnews.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-14۔
  177. "Inside The Quint: The Indian media start-up getting news to younger audiences on mobile | Media news"۔ www.journalism.co.uk۔ 2016-07-27۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-14۔
  178. دی کوینٹ یوٹیوب ٹیم۔ "دی کوینٹ کا تعارف جیسا کہ یوٹیوب پر مذکور ہے"۔ یوٹیوب۔
  179. دی کوینٹ یوٹیوب ٹیم۔ ""The Making of Lynchistan: Inside India's Deadly 'Gau Raksha' Network – Documentary by The Quint""۔ یوٹیوب۔
  180. "The Guardian documentary"۔ ہفتہ وار دی گارڈئین۔
  181. "The Hour of Lynching; Takes A Close Look At A Murder Spurred By India's Cow Politics; Silverscreen.in"۔ سیلور اسکرین ڈاٹ اِن۔
  182. "Watch: A Documentary On The Realities Of Mob Lynching In India"۔ ہوم گرون ڈاٹ کو ڈاٹ اِن۔
  183. "'The Brotherhood' Documentary Film Based On Mob Lynching Cases Will Be Released On اگست 15"۔ ٹین نیوز ڈاٹ اِن۔
  184. "Lynch Nation: A documentary that makes you confront lynch mob survivors"۔ سب رنگ انڈیا ڈاٹ اِن۔
  185. Mander, Harsh Partitions of the Heart: Unmaking the Idea of India گوگل کتب پر
  186. Salam, Ziya Us Lynch Files: The Forgotten Saga of Victims of Hate Crime گوگل کتب پر
  187. Uikey، Seema; Dubey، Nidhi (September) (PDF). 4 (published September 2018). pp. 35-40. آئی ایس ایس این 2455-2070. http://www.socialsciencejournal.in/download/524/4-5-15-673.pdf 
  188. Khan، Shireen; Tejawat، Mayur. (PDF)JUS Imperator 2 (1): 1-15. September 2018. آئی ایس ایس این 2456-9666. http://journal.jusimperator.org/wp-content/uploads/2018/10/SHIREEN-KHAN-MAYUR-TEJAWAT.pdf 
  189. Sakarwar، Rajendra. (انگریزی میں)International Journal of Law Management & Humanities 1 (3). آئی ایس ایس این 2581-5369 
  190. "TWENTIETH-CENTURY URDU LITERATURE: Omar Qureshi" (پی‌ڈی‌ایف)۔ کولمبیا یونیورسٹی کی ویب سائٹ۔
  191. "Slice of China in Urdu couplets - 74-year-old Chinese enthralls admirers with his romantic ghazals"۔ دی ٹیلی گراف انڈیا کی ویب سائٹ۔
  192. "dusra ban-bas KAIFI AZMI"۔ ریختہ ڈاٹ کام کی ویب سائٹ۔
  193. ^ ا ب پ "Jinhe Naaz Hai Hind Par Wo Kahan Hai"۔ Knowledgehub.co.in۔
  194. ^ ا ب "I create songs to make a difference: Poojan Sahil"۔ Series Socio-Political Website (showcasing artist and their sociopolitical talents and philosophy)۔
  195. "#SayNoToWar: As Abhinandan Returns to India, This Poet Reminds Us to Keep Striving for Peace"۔ Live wire website)۔
  196. ^ ا ب "Voices Against Lynching - Song and Poem - Dastoor – Habib Jalib - Ft. Poetry by Nabiya Khan"۔ Youtube۔
  197. "دستور: حبیب جالب"۔ Rekhta.org website۔
  198. ^ ا ب "Why should I have to make all the effort to look secular? asks Aamir Aziz"۔ دی ہندو۔
  199. ^ ا ب پ "Ballad of Pehlu Khan/ पहलू ख़ान की दास्तान / پہلو خان کی داستان/ by Aamir Aziz"۔ یوٹیوب۔
  200. "Cow slaughter has kept volatile western UP boiling for years"۔ ہندوستان ٹائمز۔
  201. "State must protect citizens, says Hamid Ansari after UP lynching"۔ ہندوستان ٹائمز۔
  202. "Uttar Pradesh cattle transporter's murder is family's mystery"۔ انڈین ایکسپریس۔
  203. "Latehar Lynching: Victims' families afraid of being targeted after HC order"۔ سب رنگ۔
  204. "Minhaj Ansari shared beef message on WhatsApp, succumbs to custodial torture"۔ روزنامہ سیاست اخبار کے وثائق۔
  205. "علیم الدین انصاری قتل کا معاملہ"۔ روزنامہ سیاست اخبار کے وثائق۔
  206. "راجستھان: الور میں عمر خان کے قتل کے الزام میں ہتھیارکے ساتھ چارگؤرکشک گرفتار"۔ ساہل آن لائن ڈاٹ نیٹ (اردو ایڈیشن)۔
  207. "ہاپوڑ میں گؤ کشی کی افواہ پر قتل کا معاملہ : کلیدی ملزم کو محض ۲۰ ؍ دن میں ضمانت مل گئی"۔ اخبار سیاست کے وثائق۔
  208. "ہاپوڑ لنچنگ کیس: قاسم کا بیٹا پہنچا سپریم کورٹ، اتر پردیش حکومت سے مانگا گیا جواب"۔ عالمی ٹائمز ڈاٹ کام۔
  209. "الور ہجومی تشدد واقعہ : پولیس نے کیا اپنی لاپرواہی کا اعتراف"۔ اخبار سیاست کے وثائق۔
  210. "'It's like I am reading the news to remind people': Aamir Aziz on his song 'Ballad of Pehlu Khan'"۔ اسکرول ڈاٹ ان۔
  211. "'It's This Powerful Poem Narrates the Anatomy of Mob Lynchings in India"۔ دی کوینٹ۔
  212. "BJP not to miss any opportunity eulogising mob lynching"۔ نیوز ڈی۔
  213. "United Nations Seeks Report On Tabrez Ansari Lynching From India: As mob lynching and hate crimes against Muslims and Dalits in India got highlighted at UNSC, UNHRC takes cognizance on report of Tabrez Ansari's lynching."۔ نیوز کلک ڈاٹ اِن۔
  214. "USCIRF Statement on Mob Lynching of Muslim Man in India"۔ ریاستہائے متحدہ امریکا کا کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی۔
  215. "Forced to Chant Hindu Slogans, Muslim Man Is Beaten to Death in India"۔ نیو یارک ٹائمز۔
  216. "India: Vigilante 'Cow Protection' Groups Attack Minorities: Authorities Should End Communal Rhetoric, Prosecute Assailants"۔ ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ۔
  217. "Obama smacks down India for religious intolerance, says Gandhi would have been shocked"۔ ٹائمز آف انڈیا۔
  218. "After Obama's shots, NYT asks Modi to break his silence"۔ انڈیا ٹوڈے۔
  219. ^ ا ب "Is India descending into mob rule?"۔ بی بی سی نیوز۔
  220. "From Indian Cities to Boston, Protests to Condemn Lynching Of Tabrez Continue"۔ نیوز کلک۔
  221. "Protests in India and abroad against 'lynching'"۔ نیشنل ہیرالڈ۔
  222. "Protests in India and abroad against 'lynching'"۔ سب رنگ۔

بیرونی روابط[ترمیم]