حذیفہ بن یمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(حذیفہ بن یمانی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حذیفہ بن الیمان کی کنیت عبدالله ہے، آپ کی والد کا نام جبل ہے، لقب یمان آپ نے 35 میں مدائن میں وفات پائی۔حضرت عثمان کی شہادت کے چالیس دن بعد(مرقات) بار بار حضرت عمر پوچھا کرتے تھے، اے حذیفہ! تم مجھ کو تو منافقوں میں سے نہیں پاتے ہو؟ میرے اندر کوئی نفاق تو نہیں؟ فرمایا ہرگز نہیں، مگر تمہارے دسترخوان پر چند کھانے ہوتے ہیں۔ تحقیق کی تو ایک انڈے کی زردی سفیدی الگ الگ پکائی گئی تھی۔[1]راز دارِ رسول حضرت حذیفہ بن یمانؓ

”تم چاہو تو مہاجرین میں شامل ہو جاؤ او راگر چاہو تو انصار میں شمولیت اختیار کر لو، تمہیں اختیار ہے دونوں میں سے جو بھی پسند ہو ،ا پنالو“۔

یہ ہیں وہ الفاظ جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان سے اس وقت فرمائے تھے جب وہ پہلے پہل دربارِ رسالت مآب میں حاضر ہوئے ،آپ رضی الله عنہ کے والد گرامی حضرت یمان  مکی تھے اور قبیلہ بنی عیس سے تعلق رکھتے تھے، جب آفتاب اسلام جزیرہ نمائے عرب پر ضوفگن ہوا تو حضرت یمان بنوعبس کے دس افراد پر مشتمل اس وفد کے ایک رُکن تھے، جس نے بارگاہِ نبوت میں باریاب ہو کر اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا، یہ واقعہ ہجرت نبوی سے پہلے کا ہے، اسی طرح حضرت حذیفہ اپنی اصل کے اعتبار سے مکی اور پیدائش وپرورش کے لحاظ سے مدنی تھے، ان کی پرورش ایک مسلم گھرانے میں ایسے والدین کی آغوش میں ہوئی تھی جو ابتدا ہی میں اسلام کے ٹھنڈے اور خوش گوار سائے میں آگئے تھے اسی طرح حضرت حذیفہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے دیدار سے مشرف ہونے سے قبل ہی دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ آپ رسول پاک صلی الله علیہ وسلم کی ملاقات کے بے حد مشتاق تھے، اسلام لانے کے بعد سے وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے حالات وواقعات اور اوصاف کے متعلق لوگوں سے برابر پوچھتے رہے اور ان کے دل میں آتش شوقِ دید اور زیارت ہمیشہ بھڑکی رہتی تھی، آخر کار سمندر شوق پر سوار وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے مدینہ جا پہنچے اور بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے ہی دریافت کیا۔

”الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم! میں مہاجر ہوں یا انصاری!“

تم چاہو تو مہاجرین میں شامل ہو جاؤ او راگر چاہو تو انصار میں شامل ہو جاؤ، تمہیں اختیار ہے دونوں میں سے جو بھی پسند ہو اپنالو“ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم! میں انصاری ہوں“۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے فیصلہ کُن لہجے میں کہا، جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو حضرت حذیفہ نے حضورپاک صلی الله علیہ وسلم کی محبت اختیار کر لی، وہ سائے کی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ لگے رہتے تھے، جنگ اُحد میں حضرت حذیفہ او ران کے والد حضرت یمان دونوں شریک تھے، تاہم اختتام جنگ میں حضرت یمان جام شہادت نوش فرما گئے، وقت تیزی سے گزر رہا تھا، حضرت حذیفہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہنے گے۔

رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ وہ صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین کی صلاحیتوں کو بھانپ کر ان کے اندر پوشیدہ اور مخفی صلاحیتوں سے ان کے حسب استعداد کام لیا کرتے تھے آپ صلی الله علیہ وسلم نے جب اس پہلو سے حضرت حذیفہ کو جانچا تو ان کے اندر تین اعلیٰ ترین اور غیر معمولی خوبیوں کا انکشاف ہوا، ایک تو غیر معمولی ذہانت، جس سے کام لے کر وہ مشکل سے مشکل مسائل کو بہ آسانی حل کر لیا کرتے۔ دوسری زود فہمی او رحاضر دماغی، جس کے ذریعے وہ بہت جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ جاتے اور تیسری چیز تھی راز داری ، جس پر وہ سختی سے کاربند تھے۔

مدینے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور مسلمانوں کے سامنے سب سے مشکل او ران کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ یہ تھا کہ یہودیوں او ران کے ہم خیال وہم مشرب مشرکین میں منافقین کا ایک گروہ موجود تھا، جو اپنی گھناؤنی سازشوں او رمکروہ ریشہ دوانیوں کے ذریعہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور مسلمانوں کی راہ میں طرح طرح کی مشکلات کھڑی کرتا رہتاتھا، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ کو ان تمام منافقوں کے ناموں سے آگاہ کر دیا تھا اور یہ ایک راز تھا جس سے حضرت حذیفہ کے سوا کسی دوسرے کو مطلع نہیں کیا گیا تھا اور یہ خدمت ان کے سپرد کی تھی کہ وہ ان منافقین کی سرگرمیوں او ران کی حرکات وسکنات پر برابر نظر رکھیں او ران کی طرف سے پیش آنے والے خطرات کا سدباب اور تدارک کریں۔ اسی وجہ سے حضرت حذیفہ ”راز داررسول الله صلی الله علیہ وسلم “کے لقب سے مشہور ہو گئے۔

یوں تو رسول پاک صلی الله علیہ وسلم مختلف مواقع پر بہت سی اہم اور نازک ذمہ داریوں کی ادائیگی میں حضرت حذیفہ کا تعاون حاصل کرتے رہتے تھے، لیکن سب سے مشکل اور خطرناک ذمہ داری، جس میں ان کی ذہانت، زود فہمی اور راز داری کا زبردست امتحان تھا، اس وقت ان کے حوالے کی گئی تھی جب غزوہ خندق کے موقع پر دشمن نے ہر طرف سے مسلمانوں کا محاصرہ کر رکھا تھا او رمحاصرے کے طول پکڑ جانے کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانیاں اپنی انتہاکو پہنچ گئی تھیں، یہاں تک کہ آنکھیں پتھر ا گئیں اور کلیجے منھ کو آنے لگے، مسلمانوں کی تو یہ حالت تھی۔ لیکن قریش او ران کے حلیف مشرک قبائل کی حالت بھی اس سخت گھڑی میں مسلمانوں سے بہتر نہیں تھی ، ان کے قدم ڈگمگا گئے، خدائے تعالی نے ان کے اوپر تیز آندھی کا عذاب مسلط کر دیا تھا، جس سے ان کے خیمے اُلٹ گئے ، دیگیں اُوندھی ہو گئیں اور ان کے چولہے بجھ گئے، ہوا کے تیز جھکڑوں نے ان کے چہروں پر کنکریوں کی بوچھاڑ کر دی او ران کی آنکھوں اورناک کو گردوغبار سے بھر دیا۔

جنگ کے ان نازک اور فیصلہ کُن لمحات میں جو فریق گھبرا کر صبروثبات کا دامن ہاتھوں سے چھوڑ دیتا ہے، وہ خائب وخاسر اور ناکام ونا مراد رہتا ہے اور وہ فریق جو ضبط ووتحمل سے کام لیتا ہے اور فریق مخالف کے راہ فرار اختیار کرنے کے بعد تک محاذ پر ڈٹا رہتا ہے ، فتح مند او رکامران ہوتا ہے اورایسے لمحات میں جو جنگ کے انجام پر تو فیصلہ کن طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، برتری اسی فریق کو حاصل ہوتی ہے جو فریق ثانی کے حالات سے مکمل طور پر آگاہی حاصل کرکے اپنے مؤقف کا تعین کرتا اور جنگ کو ترتیب دیتا ہے، اس لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو حضرت حذیفہ کی صلاحیتوں اور ان کے تجربات سے کام لینے کی ضرورت محسوس ہوئی اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے طے کیا کہ کوئی آخری اور فیصلہ کن قدم اٹھانے سے پہلے ان کو رات کی تاریکی میں دشمن کے کیمپ میں بھیج کر دشمن کے حالات نوٹ کیے جائیں تاکہ حالات سے آگاہی ہو جائے۔ تن تنہا دشمن کے کیمپ جانا موت کے منھ میں جانے کے مترادف تھا، لیکن جذبہ اطاعت وفرماں برداری کی رہ نمائی میں حضرت حذیفہ نے اس مہم کو کس طرح سر انجام دیا اس کو انہوں نے خود اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا:

”اس رات ہم لوگ صفیں باندھے محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے، ابوسفیان ( جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) او ران کے ساتھی مشرکین ہم سے بالائی جانب صف آرا تھے اور بنو قریظہ کے یہودی ہم سے نشیب کی طرف تھے۔ وہ رات ، ظلمت، ٹھنڈک اور ہواؤں کیشدت کے لحاظ سے محاصرے کی شدید ترین رات تھی ، ہوائیں اس طرح گرج رہی تھیں جیسے وہ کانوں کے پردے پھاڑ ڈالیں گی اور تاریکی کا یہ عالم تھا کہ ہمیں اپنے ہاتھ نہیں دکھائی دیتے تھے، ایسی سخت گھڑی میں منافقین رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اپنے اپنے گھر لوٹ جانے کی اجازت مانگنے لگے۔ وہ کہتے کہ ” ہمارے مکانات دشمن کے سامنے کھلے پڑے ہیں“۔ حالاں کہ دراصل وہ کھلے ہوئے نہ تھے ۔ تو منافقین میں سے جو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے جانے کی اجازت مانگتا، آپ صلی الله علیہ وسلم اسے اجازت مرحمت فرما دیتے، یہاں تک کہ محاذ پر صرف تقریباً تین سو آدمی رہ گئے ، اس وقت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور ایک ایک کرکے ہم میں سے ہر شخص کے پاس تشریف لائے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم میری طرف بھی آئے، اس وقت ٹھنڈک سے بچاؤ کے لیے میرے پاس اپنی اہلیہ کی ایک ہلکی سی چادر تھی، جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم میرے قریب آئے، میں زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا ”کون ہے؟“ ”حذیفہ“ میں نے جواب دیا۔

”حذیفہ؟“ میں فاقے اور سردی کی شدت کے مارے زمین کی طرف سمٹ گیا اور بولا”ہاں اے الله کے رسول! میں حذیفہ ہوں، حذیفہ بن یمان“۔ آپ صلی الله علیہ وسلم مجھ سے اور قریب آگئے اورسرگوشی کے انداز میں فرمایا:” تم چپکے سے دشمن کے کیمپ میں جاؤ اور اس کے حالات معلوم کرکے مجھے آگاہ کرو۔“ حکم سن کر انتہائی خوف اور سخت ٹھنڈک کے باوجود میں نے موت کی وادی کی طرف قدم اُٹھا دیے اور آپ کی زبان مبارک سے میرے لیے دعا کے الفاظ نکلے۔

”اللھم احفظہ من بین یدیہ، ومن خلفہ، وعن یمینہ، وعن شمالہ، وعن فوقہ وتحتہ“․

”خدایا اس کی حفاظت فرما، اس کے سامنے سے، اس کے پیچھے سے، اس کے دائیں سے، اس کے بائیں سے، اس کے اوپر سے او راس کے نیچے سے۔“ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دعا کے یہ الفاظ ابھی ختم بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ الله تعالیٰ نے میرے دل سے خوف اور میرے جسم سے ٹھنڈک کے اثرات کو زائل کر دیا، جب میں جانے کے لیے مڑا تو رسول پاک صلی الله علیہ وسلم نے مجھے پکارا او رفرمایا” حذیفہ! دیکھو ان کے کیمپ میں پہنچ کر کوئی اقدام مت کرنا۔“ میں نے کہا بہت اچھا او رخاموشی کے ساتھ تاریکی کے پردے میں چلتا ہوا مشرکین کے لشکر میں پہنچ گیا او ران کے درمیان اس طرح مکمل مل گیا گویا انہی کا میں ایک فرد ہوں ، میرے پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ابو سفیان ان کے درمیان تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوا۔ اس نے کہا ” قریش کے لوگو! میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں، مگر مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں یہ بات محمد صلی الله علیہ وسلم تک نہ پہنچ جائے۔ اس لیے تم میں سے ہر شخص اپنے بغل والے کو اچھی طرح سے دیکھ لے۔“

حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے آدمی کا ہاتھ پکڑا او راس سے پوچھا کہ ”تم کون ہو ؟“ اس نے کہا فلاں بن فلاں اورپھر ابوسفیان نے تقریر کا سلسلہ آگے بڑھایا۔”قریش کے لوگو! اب تمہارے لیے مزید یہاں ٹھہرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی، تم دیکھ ہی رہے ہو کہ ہمارے جانور ہلاک ہو رہے ہیں، بنو قریظہ کے یہودی ہم سے کنارہ کش ہو چکے ہیں اور تندوتیز ہواؤں کے ہاتھوں جن پر یشانیوں اور مصیبتوں کاسامنا ہمیں کرنا پڑ رہا ہے ، ان کا بھی مشاہدہ تم کر رہے ہو۔ اس لیے اب بہتر یہی ہے کہ سب یہاں سے کُوچ کر چلو۔ میں خود بھی واپس جارہا ہوں“۔ یہ کہہ کر وہ اپنے اُونٹ کے پاس آیا، اس کے گھٹنے سے بندھی ہوئی رسی کھولی اور اس پر سوار ہو گیا پھر اسے ایک کوڑا رسید کر دیا، اُونٹ اُچھل کر کھڑا ہو گیا او راپنے سوا ر کو لے کر روانہ ہو گیا۔

اگر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے واپسی سے پہلے مجھے کسی اقدام سے روک نہ دیا ہوتا تو اس وقت تیرمارکر ابو سفیان کو قتل کر ڈالنا میرے لیے بہت آسان تھا۔ اس کے بعد جب میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آیا، خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ازواج مطہرات میں سے کسی کی چادر اوڑھے نماز میں مشغول تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو اپنے قریب بلایا، میں جاکر آپ صلی الله علیہ وسلم کے قدموں میں بیٹھ گیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کنارہ مجھ پر ڈال دیا، میں نے دشمن کے کیمپ کی پوری رپورٹ خدمت اقدس میں پیش کر دی، جسے سن کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم بہت خوش ہوئے، اس پر الله کی تعریف کی اور اس کا شکرادا کیا۔“

حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ زندگی بھر منافقین سے متعلق رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے رازوں کے امین رہے۔ خلفائے راشدین منافقوں کے متعلق ہمیشہ ان کی طرف رجوع کرتے رہے، حضرت عمر بن خطاب کا تو یہ حال تھا کہ جب بھی کسی مسلمان کا انتقال ہوتا تو وہ لوگوں سے دریافت فرماتے کہ حذیفہ اس کی نماز جنازہ میں شریک ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہوتا تو وہ بھی شریک جنازہ ہو جاتے، بصورت دیگر انہیں اس کے مومن مخلص ہونے میں شک ہو جاتا اور نماز جنازہ نہ پڑھتے۔

الله جل شانہ نے تمام صحابہ کو انفرادی خصوصیات وبے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا، آج ہماری زندگیوں میں بے چینی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ان ہستیوں کے حالات وواقعات کو نہیں پڑھا، جو ہمہ وقت آپ صلی الله علیہ وسلم کے قول وفعل کو ہم تک پہنچانے والے ہیں، رب کریم ہمیں ان کی زندگیوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے صورٌ من حیاة الصحابہ، ص:254)

حضرت حذیفہ بن الیمانؓ آرمینیا کے محاذ پر جہاد میں مصروف تھے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگوں میں قرآن کریم کی قراء توں میں اختلاف ہورہا ہے۔ چنانچہ مدینہ طیبہ واپس آتے ہی انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت عثمانؓ کے پاس آئے اور خدمت میں حاضر ہوکر پوری صورت حال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خلیفہ سے کہا کہ قبل اس کے کہ یہ امت کتاب اللہ کے بارے میں یہود و نصاریٰ کی طرح اختلاف کا شکار ہوجائے آپ اس اختلاف کا علاج فرما لیں۔ انہوں نے مزید کہا ''کہ میں آرمینیا کے محاذ پر جہاد میں مصروف تھا کہ میں نے دیکھا کہ شام کے رہنے والے لوگ اُبی بن کعبؓ کی قرأت میں پڑھتے ہیں جواہل عراق نے نہیں سنی تھی۔ اس بنا پر وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں۔18

اس سلسلے میں علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: 19 ''إن حذیفة قدم من غزوة فلم یدخل في بیته حتی أتی عثمان رضی اللہ عنه فقال یا أمیرالمؤمنین أدرک الناس قال وما ذاك قال غزوت أرمینیة فإذا أھل الشام یقرءون بقراءة أبي ابن کعب رضی اللہ عنه فیأتون بمالم یسمع أھل العراق وإذا أھل العراق یقرءون بقراءة عبداللہ ابن مسعود فیأتون بمالم یسمعه أھل الشان فیکفر بعضھم بعضاً'' ''حضرت حذیفہؓ کی ایک غزوہ سے واپسی ہوئی تو واپسی پر وہ اپنے گھر میں داخل نہیں ہوئے تاآنکہ حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیرالمؤمنین! لوگوں کی خبر لیجئے۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہا میں لڑائی کے سلسلے میں آرمینیا گیا ہوا تھا وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ اہل شام ابی بن کعب کی قرات میں پڑھتےہیں جسے اہل عراق نےنہیں سنا ہوا تھا اور اہل عراق عبداللہ بن مسعودؓ کی قرات میں پڑھتے ہیں جسے اہل شام نے نہیں سنا اس اختلاف کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں۔'' حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کا واقعہ بخاری شریف میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ''حضرت حذیفہ بن الیمانؓ حضرت عثمانؓ کے پاس آذربائیجان کے معرکے کے بعد حاضر ہوئے اور انہیں قرآت قرآن میں باہمی اختلاف نے بہت پریشان کیا تھا۔ حذیفہ نے حضرت عثمانؓ سے کہا اے امیرالمؤمنین! اُمت کی خبر لیجئے قبل اس کے کہ وہ اپنی کتاب میں یہود و نصاریٰ کی طرح اختلاف کرنے لگیں۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے حضرت حفصہؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس قرآن مجید کے نوشتے اور صحیفے بھیج دیں، ہم انہیں نقل کرلیں گے اور ایک مصحف کی شکل میں جمع کرلیں گے پھر انہیں آپ کی طرف لوٹا دیں گے۔ حضرت حفصہؓ نے وہ صحیفے حضرت عثمانؓ کے پاس بھیج دیئے۔ حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابتؓ، عبداللہ بن زبیرؓ، سعد بن العاصؓ اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کو متعین فرمایا کہ وہ ان صحائف کو ایک مصحف میں نقل کریں۔ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور حضرت عثمانؓ نے جماعت قریش کے تینوں کاتبوں کو فرمایا کہ جب تم اور زید بن ثابتؓ میں قرآن کریم کی کسی آیت کے لکھنے میں اختلاف ہو تو پھر اسے لغت قریش میں لکھنا کیونکہ قرآن مجید لغت قریش میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ ان حضرات نے اسی پر عمل کیا۔ یہاں تک کہ جب یہ حضرات ان صحائف کونقل کرچکے تو حضرت عثمانؓ نے ان اصل صحائف کو حضرت حفصہؓ کے پاس واپس لوٹا دیا اور ہر علاقے میں ایک ایک نقل شدہ مصحف ارسال کردیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ ان کے علاوہ جو مجموعے اور صحیفے لوگوں کے پاس لکھے ہوئے موجود ہوں ان کو جلا دیا جائے۔''20 حضرت عثمانؓ بھی شاید خود اس خطرے سے آگاہ تھے۔ انہیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ خود مدینہ طیبہ کے اندر ایسے واقعات پیش آئے کہ جب مختلف صحابہ کرامؓ کے شاگرد اکٹھے ہوئے تو اختلاف کی سی ایک کیفیت پیدا ہورہی تھی۔21 ' جب حضرت حذیفہ نے بھی اسی قسم کی  اطلاع دی تو آپ نے فوراً اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی وقت حضرت عثمانؓ نے جلیل القدر صحابہؓ کو جمع کیا اور ان سے اس سلسلے میں مشورہ کیا اور فرمایا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ میری قرات تمہاری قرات سے بہتر ہے اور یہ بات کفر تک پہنچ سکی ہے۔ لہٰذا آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ صحابہ کرامؓ نے حضرت عثمانؓ سے یہی پوچھا کہ آپ نے کیا سوچا ہے؟ حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ میرے رائے یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو ایک یقینی مصحف پر جمع کردیں تاکہ کوئی اختلاف اور افتراق باقی نہ رہے۔ صحابہ نے اس رائے کو پسند کیا اور حضرت عثمان کی رائے کی تائید کی چنانچہ حضرت عثمانؓ نے اسی وقت لوگوں کو جمع کیا اور خطبہ ارشاد فرمایا: 22

''أنتم عندي تختلفون فیه و تلحنون، فمن ذاتی عن من أھل الأمصار أشد فیه اختلافاً وأشد لحمنا، اجتمعوا بأصحاب محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاکتبوا الناس إماماً''

''تم لوگ مدینہ میں میرے قریب رہتے ہوئے قرآن کریم کی قراتوں کے بارے میں ایک دوسرے کی تکذیب اور ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہو۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ مجھ سے دور ہیں وہ تو اور زیادہ تکذیب اور اختلاف کرتے ہوں گے۔ لہٰذا تم لوگ مل کر ایک نسخہ ایسا تیار کرو جو سب کے لیے واجب الاقتداء ہو۔''[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ 448نعیمی کتب خانہ گجرات